رسسوں سے تحلقات
اور
ان ےج وی
مولانا سی جال الین عمری
ہرہت مضامجین
تن ام
آغازشی
آ؟ ے لعلقات اوران کے احکام
مانداٹی تعلقات (صن سلو کک بی ہریات)
شا لی بین ورتم رے
امان سے ریم اور ہھرردٹی مطحلوب ے
صل دک کی ابمیت اود ا کی ہریت
یلم والدین کے سراتھ ون ساوک
یسل رشدداریں ےا حاقات
عام انساٹیٰ تعلقات (ن سلو کک تمونی ہایات)
رسلم قیدربیں کے ات وحن سلویک
جم خ٣ پڑدییوں کے ساتجھ تعالقات
ملرانوں ےمتحلقفض ہدایات میں خی رسس بھی دفخل ہیں
ٹی سلوں پرفر جکرنابھی خداکی راہ یش انفاقی ے
محارین او رمحاربین کے درمیان فری
ذمیوں کے ساتھونن سوک
محار بے توم سے انسالی تعاقات
۳۴۴
معاشری تعلقات
معاشر گرب کےگبحض پل
خذراؤو ںکی علت وع مت
اشیام یں ال علت ے
یمک بای اک ہے
خی لک زا اعم
خی سل کی تا رکردہ خزائی اشیاء
یسل کا ذبچہ
غی لم کے بین
خی رسلم کےپڑے
سا نعلقات
خی سمل مکوسلا مکرنا
خی سک رکودمادیا
پیک کا دعا کا جواب
مم ست ارام
غی لوم ہمان رھنا
غی سل مکی عیاات
مم ۶7 کے جنازہکا اترام
رسای یکین
جنازہ ٹیس شرکت
خی رسلل مزب کی قبرکی زیارت
خی س۱ل مکی نیت
ازرواگی لعلقات
ال شرک سے ازدواہگی تعقا کی ممانعت
دودسحابہ شش ال پیک درآم کی مالیش
کتامیات سے مکاح کا جواز
اعاط پنریردے
کاروہاری نعلقات
خی سم کے کاروباری موق
کاروبار یش خرکت
اجثرت پھ یر سے یا خدمت
یح مسائل کی میں وو
ایر 7 رسلا مکا 2
یسل مکوسلا مرن ےکی عمانعت
عمانع تکی وعیت
یسل مکوسلا مکرن ےکا وت
سای نقاضوں کے تحت غی سل مکوسلا مکا جواز
تالیف قب کے لے سا مک یکنکش
ملمائوں اور خی رسلموں کےمشس مع اکوسلام
یم کے کے سلام کا جواب
می رس کے سلا کا جوا بکس رح دیا جاے؟
سلا مر نے بیس بکبو دی شارت اود ا کا جواب
جواب میں ناز با الفاظ کے استا لکی عمانعت
اس
سلام کے مال میں ذبی او رم ٹ یکا فرقیق
یسل مکوسلام کے لیے مناسب الفاظ
غلاصہ بث
٢۔ مسر میں خی سس کا داخلہ
مسورعرام میں مشرکی نکوداخلہکی اجاز ت نیل سے
کیا حددوق ای مم چا
ما مساجد میں خی رسلم دافل ہوکتا ے
تاف کے نویک مم می ی سلمف یام یں جانا
مرک سےخجس ہون ےکا مفہوم
صچ می عداات اور اس میں خی رسل مکی حاضری
َ- جم لم سے حانف کا چادلہ
رسول الیکا شابا نتم سےتان فکا تادلہ
بودی کور کی ضحوت قبو لک
ایک حدی ث کا ۳م
۴۔ فی سل مکی شبادت
سی ہی تکاگم
کیا خی مل مکواہ ہسکتا ہے
کیاصرف ال لِکتا بک یکوای مجر ہے
ال ل تاب سے اوہ وگ غی ملسو ںک یگواہ یبھی مت ر سے
کیا ملا نکی عد رم موجودی میں خی سس مگواہ ہوں گے؟
خی رسل مکی شہادت صرف عالت سف ریس قائل قبول ہوگی
یت کے مہو مکی سمت
بح مس نماز کے بح لی جا ۓگی؟
کیا سورة مان کی ہے یات مضسوغ ہیں؟
رس مکی شہادت نی ررسلم کےقی میں
یسل مکی شہادت کے مت ہو ن ےکی شرط
ھی لات می یسل مک شادرتقو لک جا ے
موجودہ عالات پر ایک نظر
اے٢
اسلائی ریاست اور ا میں غیرمملموں سے وق کےا
اسلائی ریاصت
الاگی ریاست کے بن رنما اصول
عدل دالصا فکا تام
لم نک پان
اسلام اور دنگر نراہپ
اٹ کاب کے ساتھھ اسلا مکا روىے
اداورانں کے اکا 1
اسلام فساداورخول ریزکی کےخلاف ے
اسلا مکا اور ہیک
ان تیچ حاصصل ۓے
اسلام خدا تی کے لی ےآ زادکی چابتاے
مین عرب نے مسلمانو ںکوعقید ہکی آ زادئینیں دی
۹ےا
میدگکا اسلائی ریاسصت بر جارحعا نول کا ج اب دا 1 ۲۰٢٢
مان کعبہ پرمشرلا نک ناجاتز قضہ ۲۰۰۵٢
مکی ن_عرب کا 2 ۲١
اسسلائی ریاستکا دفاغ ا رجحغظا ضروری ے ۲۰۸
جنگ کے1داب 2
زمیوں سےکموق ۵
ذ یک تحرف ۲۸
زمی ےق وق ۲۲٢
ان طافت "٣
زی کا ق اسان رے ۲۲٢
ڈئیکی دیت ۲۲٢
ذگی کے ما للکی حاظطت ۲۳۳٢
ریاتی امورییں ذمیو ںکی خدبات ۲۳۵
پک میں غی لو ںکی شرکت ۳۸
ال یت میں خی رسلو ںکا صہ ۲۲۳
کی رہ ۲۲۵
زمیو ںکی عبادتگاہیں پاقی رم ںگا ۲۴۷
گیازیوں کی نی عباد تگاہی ںی ر کیا ں؟ ۲۹
اسلائی ریاست اور ٹن الاڈوائی تعاقات ۲۵۱
جنگ ایک عائ یکیفیت ۲۵۱
عداو ت ضخ بلق ے ۲۰۴۳
منتان کے اظکام ۲۵۳
معاہرا تکا اترام
عہدننی پر وید
معاہد کشم ہو جا ۓگا؟
بض ین الا ای ضاہرے
گی قیری ںکاجادل
جوقوم جنگ نک رے اس سے جنگ نکی جاۓے
فی رسلموں سے عدمنتلقی کے اکا مکا یں منظر
گن عالات ہیں بیراتکام دبے گۓ؟
2 ان ردے اوران کےعزائم
اعداء وین سے عد یت نکی ہرامت
یہوں اصارگی اور مزا تینک اگردار
کاسیے
حخرت حاطب من ای بلع کا واقعہ
مکی نکی گنی اور چہادکا نم
الد اور سو لک محبت ہرحبت پر طال بآ جاے
خی رجانب داروں کے ساتی تن سلویک
عدمٹتلقی کے ذی لکی لت اصطلاحات
ران کامفہوم
اس
مووذت ارح
۲٦
0ط
1ھ
ل2
اھ
٢ےے
۲٢ے
٢۲۹
زان رم میں قوی کو یکس : ایگ ہبہ ایک تیب اود ایک زبان
ہولۓ والوں ہشقل ہوئی تھیں۔ اہر سےتھوڈزے بہت افراد ہوتےبھی فا نکی یت
اٹ یی ہوئی۔ ا نکوکوئی باعزت مقام نہ حاصل ہوتا۔ ایک قو مکا دوسرکی قوم سے رابطہ
پھ یکم ہی ہونا۔ لیکن اتندادز مانہ کے ساھھ اس می تید کی کی شرو ہوئی اود لیک سے
زیاروثوموں رمشقل شر ےنیل پانے ول لا ا رر
اور اسلائی ریاس ت کا قامگل یس آیا تو اس کےآغاز بی می پریین سے نعل بیہودی
ال ےآپ نے معابد ہکیا۔ ال معاہدہکی روس ان پری نر یآزادی ح۔اص٣ لتی
اوروہ ریاست کے فا او رحفظا یں برابر کے شریک تے۔
اعلائی اقترا رکا دائرہ جب وب ہوا تق مخت مال کک بڑکی بڑی آبادیں
نے اسلا مکی صاف ستھرکی تقلیمات اورمسلرانوں سےسن سلوک سے متاثر ہوکر بی
اعلا مکو نے سے لگایا اور ا لک اطاعت قبو لک رکی۔ ال کے باوجود ان ماک میں در
راہب کے انۓ وا ل ےبھی حصب سای موجودرے۔ اسلام نے میں اپنے نہب پ4
لکی آ زادکی دکی اوران کے شی تقو کی تاط تکی۔
اس وت ری دنا خخلف اسیا ب کی وجہ سے مل ای کگنیری معاشرہ
(۷ب۷٥٥ا٥ہ9 ۳۱۳۲۵۱) مس یل بی 7 لک یش ای انل یک مہب یا
1 نان ہو لے والے دک اکژیت ے بہال 2 دوسرے نہب اور
طبع چھارم ر
دوصرکی زبان ہوے وا لے بھی پا جاتے ہیں۔ دوگو افلیت جس ہیں ,لین از روے
وستورا نکوسماوی جوقی عاصل ہیں ۔آ ج کےکنیری معاششر ےکا یمسلمہ اصولی ےک
یتو ںکوٹھی برابر سےمتقوق حاصل ہوں گے۔ اس سے انوٹی طود پ انان سکیا جانا
سوال ىہ ہےکہ اس مک لے میس اسلا مکا موف کیا ہے؟ ین عماکک میں اسلام
کے مانۓے والے 1شریت میس ہیں اور بااخقیار ہیںہ وہا کی آفگیتوں کے ساتھ اہ ںکا کیا
رویہ ہوگا اود جہاں الام کے ماتۓ وانے اخفلیت ٹیس ہیں۔ اکشریت کے ساتھ ان کے
نی پک کیا فوحیت ہوگی؟ ہی سوالی مس ما مک سے تلق بھی ےہ جہاں مسلمان کشریت
میس ہیں اور اس اتعلق مفرب مکوں ے بھی ہےہ جہاں لم آبادی افلیت ٹس ہے۔
ہندوستزان جیسے ملک کے لیے ہیےسوال نماض ازعی تکا حائل سے٠ چہاں مصلانو ںی مار
ایک بزرارسال پرگچیگی ہہوٹی سے او رآ نج بھی دہ مرن شاریی کے لیا سےتقرباچودہ یصر
ںہ ج بک خودمسلمافو ںکا اپٹی آ بادی سےمتحلق اندازہ ال ے زیادہ ے۔
بی ای کم مضبع ہے۔ قر٠ن رعریت ڈن ط2 تل ررطا ظز
ہے۔ ہمارے تر علاء وشفقین نے اس طرح کے مشترک معاشرے میں الام کے
بات والوں اور نہ ماہنئۓ والوں کےتقوت پر اي عالات ہے پیٹ ی نظ ضحیل سے نٹ
گیا ہے۔ اس سے اسلام کے موق فک کے میس مددلتی سے۔
موجودہ دور یس ىہ م ضوع ال لی بھی کاٹی ابعیت انقتیا کیا گیا ےک گن
خالف علق اسلا مکی اس طرح تقموب بی کرت می ںگویا کہ دہ اپنے مان والوں کے
علاوہ دوسرو لکوگرون زولٰٰ اور واجب ال تراردیتا سے اور ال ٹس رواداریی اوران
کو بر داش تکرنے کا جذ ہیں ہے۔ اک رح جب اسلائی ریاست یا اعلام کے
ام علومت کا ر٢1 ہے و اں رید ہخور وگکر اور کٹ شی سک مہ جذالی لئے
اخقزیارکیا جانا ےک ہآ جع کے دور یس اسلائی افکار ونظریات نا قائل قبول ہیں اور دہ جدید
زماند کے سای اتی تقاضو ںک یق لنھی ںکرتے۔ اسلام کے بارے ٹل الن خیالات
۳ طبع چھارم
سےا کا قیم یافنۃ طبقہ برک طرں حاثّب۔ اس کے ج یچ اسلام ے عراوت او رخصب
کے سا بڑکی حدتک اسلائی نلیمات سے ناوداقفیت اور ب ےنب ریچھککارف رما ے۔
پیشی نظ کاب می سکیش لک یکئی ےک غی رملموں ے عام تعاقات اور
اسلائی ریاست یں ان کےتقوق بر تن رحوالوں کے ساجح گنک کی جا اورجن مال
کو پرف تقید بنایا جانا سے ان کے سلسلے میں اسلا مکی خحلیمات وضاحت کے ساتھ
ما ۔انداز بیانع رڈ وف ات ارم شی افقیا رکیاگیا ہے۔امید ہے ال
سے اسلام کے موق فکو بہت رط ربیقہ سے اور اجیگے ماحول میس تچھا جا ےگا ادا کیک
توب سام آ کےگی۔ یہ م وضو موجودہ عالات یل اام گیا سے اود جدی ھی ال
لی ےکنا بکوقدرکی ڈگاہ سے دیکھامگیا اود ائلملم نے ا کی طرف وج ہکی۔ یگ ال کا
اض وکرم ے۔ دی رر کی ھ وستائ لک سفن ے۔گتض دوستو ںکا اصرار سے
ک ہکا بکاگریزی تجصمہہو۔ ا سک یکوشٹش ہوری ے۔
بیکناب اس سے تل ادا اشن وتصیف اسلائی ع٦ یگڑھ سے دو مرج شال
وی ے۔ ا سکی تسریی اشاعت مرکز ی ککتبہ اسلائی پیلشرذہنخی دی سے ہوگی۔ اب
گی بارس قرنظ رمای کے بعد م رکز یمکتہ اسلائی جبلشرز ہی سے زیادہاظام شال
ہوری ے۔ اس میں حصب معمول برادم ڈ اکر رشی الاسلام ندوئ یکا تداون حاصسل دا
ے۔ اللد تال ا نکؤششو ںکوقبول فرماۓ اور اج مآ خرت سے واڑے۔
جلال الرین ری
قب مر ۶۰۱۳ء
آغازیشن
انساٹی تاقات کا منلہ اع کا سب سے اہم اود ناک متلہ ہے۔ ال کی
ایت اورنزاکیت ال وقت اور بڑھ جال سے ج بکہسماع میں خخلف اذکار ونظریات اور
عقاو راہب کے مان وانے سساتھ رت بوںہ ا کا عرہ حیات اور ا نکی تہ یب
و محاشرت ایک دهھرے ۓےالت ہہو۔ ال صورت عال نم و زیادقءح نی اور
اانصائی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں اور عدل و انصاف اورجخو کی ادائجگی می ںککری
تفقبات, ال ری رہخحانات اورسا .کی عوائل رکاوٹ کم 71 ہیں۔ اس پر قابہ پانا ہر
مب اور صا سا کی اوشن ضرورت ے۔
انسمانی تعلقا تک اخلاقی اورقانون سے رشتہ جڑا ہوا ے۔ اغلاتی کا ہرف ان
تعلقا کوبت اورخ سکوار ننا ہے۔ قانون ال لیے ےک آعیں چائز عدودمیش رکے
اد لاق سے اتراف اورتھاوزکی اجازت نہدے۔ اخاتی اور قاون اپتا رش اداکریی
ترما عکوان وامان اورسو نکی دوات عیب ہہوگیء ورنہ جنگ لکا راع ہوگا تقو پابال
ہیں کے اورطاقت ور ک ےلم اور یرہ دقی ےکم زورک اور بابلا تے رہیں گے
دنیا نے الفت دمحبت کے پھولکھلے بھی د سے میں اورنل وخون اور فتنہ و
فمادک یکشت خزا کا بھی مشاہ ہکیا ہے۔ خداکی اںزڈن پر طبقا تکا تسا ھی ۷
ے اوران کے دریمیان اتاد و انا بھی ماماگیا ہے علم وزیادلی اور اتمصا لکی یز وتتر
0
۳ آغازِ سخن
آنصیاں بھی بی اور عرل و انصاف اور ایار 2397 ہے خی لکوار مناظ ربھی نے
کے نے ان
يہ ایک تقیقت ےک خرہ بکی روں وک اود خدا تی ے۔ وہ انا نکو
اخلاقی اورتقائو نکا پابند بناتا ہے۔ ال لیے انسائی نعلقا تکومہتر اورخش یگُوار بناے اور
عدل دانصاف کے قام یس ا کی ضردرت سے الیا نی ںکیا چاسکنا۔ لان امو کہ دنا
کے ٹیل ت خاہب سے بروں مفتور ہوئی پچ کی اور بے جان ریم نے ا لگا جلہ
نے فی۔ اھوں نے بی صلاحح تکھود کہ زمانہکی رفمار اورتقیر پذرعالات می زندگی کے
رہ ممائل اوران کے تاضوں کا ساتھھ رےۓگیل۔ ان کےا رك اور جا روپے نے
دن اکو ان سے بے زار ادف کر دیا۔ ا کا تفہ یلیل کہ رہب سے رہ نمائی کا عقام
نمیا اور وہ انما نکی زندگی تک محدود ہوکر ر گیا 7 ال بی کا
موضوع ب نگیا اور اجشمای امور و معاللات ال سےآزادقرار پائے۔ ہدوہ پیل مغرب
نے اپایا اود اس کے زی اث مشرقی ن بھی جھا سے قیو لکرلیا۔
ان وقت دسرے نراہب 7ے ہیں۔ البت ىہ ایک نتقیقت سے
کہاسلام کے پارے می ا رو یکواخیا رک رن ےک یکوئی معقول وین نمی جن الف
اسباب وعوائل کے تحت دنر نراہب کے مقالے میس اسلام کے ساتھ زیاد مخت رش
اتارک یگئی۔ اسے اس طر بن کیا میا جیے دہ آ نع کے مہب سان کا انیس بن
سیا۔ ا سکا فروغ نوع انسالٰی کے لیے انچالی حبا ہکن ہے۔ ا لکی جار ء نوع انسالی پہ
ض۳ وزادل کی مان سے۔ اسں کے دو پپہلو ہیں: یں کاتحلق رر .- ے اور دوسر ےکا
رات ے۔
کہا جانا ےکہ اسلا مل دگی پیند ہے اورفرد کے اندد می رجھان ارتا
ي وہ دبصرے نہب کے مات اورخالف نظ رک والوں ےق ع تلق اعم
دینا سے اور اپ مان والو ںکو ان سب افراد سےکاٹ دیتا سے جال سے اشتلاف
آغازِ سخن ۵
رکنے ہیں۔لیکن مہ ایک بے بیاد اعترئش ہے۔ اسلا مکی وائش تیمات ا کی قردید
ری ہیں۔ وہ فی رسلموں سے عام انال اور الال روالیا بھی نع نی ںکرہتا۔ یس
کےساقحد دہ بیچیننی چاہتاہملما نکی دوسرےگردہ می ںضم ہوجائیں۔ اس کے لیے
ال نے پجوحدو٣مقر رک رکے ہیں۔ ان حدودی ممقولیت سے اپکا نی ںکیا جاسکتا سی
پااصول 007 ات کے لے ا نکی امیت اق 1 سیت ا لک دی ان
یں ے۔
اسللائی ریاست کے پارے مل لور ےلم اں میں سارےتقوق صارائوں
کوحاصل ہوں کے اور غی سم جنیادی انسالی بک سے محردم ہوں گے۔ عالا لکہ
املائی ریاس تکا متقصمدقرآن کے الفاظطا می اھر پالمعروف وٹچیعن انکر (ا یج ) اور
عدل دانصا فکا قام ہے۔ (لیدید:۲۵) دہ ہرانسان کے جائز اورفط بی عقو قکی حضاظت
گی ذمہدار ے۔
الع خیالات ے کے ناواقفیت اور لی کے ساتھ بہت سے مارکنی عوائل
کارفرما ہیں۔ ان یں اسلا مکی برقرئیکونلیم نہکرن ےکی مفیاتہ اسلا مکی سربلندی اور
فان ررواگی کا نوف اور کسی بت پگوارا نہک رن ےکا جزبہ اورملمانوں کے ساتھ
تحصب اور عداوت تیے محرکات شال ہیں۔ ال وچہ سے اسلا م گا 7ھ
تقلیما تکو نک کوٹ و نیس ہوفیء الہ یں کرنے اور اسلا مکو پھ اجک شحل
یکر ن ےکی تر ری ہہوٹی رنقی ہیں۔
انس سکوئی شی ککیی ںکہ یں پپرے روب میس مسلمافو ںک یکوتای کا بھی بڑا
ضُ ے۔ یں نے موجودہ دور میں لف مسائل کے لے میں خی رمسلموں کے سام
ایی و غن: رکا نف وٹ کر ےکر کو و کے
ہوٹی چا ے۔مسلمانوں اور خی رسسلموں کے درمیان رواب یا یک ی جیا ا ںکا ایک بڑا سبب
ہے۔ دوفوں یس طویگی عرصہ سے ایک طر کا دود اود اب پیا جانا ہے۔ ایک
۸ آغازِسخن
دومرے ہے موق فکو ھتہ کے لیے مس ٹھنڈے ماحو لک ضرورت سے ا ںک یگ لہ
فقدان رہا ہے اس لیے بدکانیاں پید اہول اورنٹ وم پالی ری ہیں۔
اں ناک اود اہم سے میس اسلام کے موق فکو ابی طرح ینہ کے لے
حض بنیادی پانو ںکو بی نظ ررکنا ہوگا:
ا- یہاں اں سے بث نو سکہ دنا کے راہب میں کا رو ل تی اور
أثراری ند ی تک محدودے اور کے دائرے میں اجنا گی مسا لبھی ہآ تے ہیں۔ البعظ
اسلا مکی عدکک یہ بات ہالل وائ س ےک وہ ایک جائم اورگل وین اورحقیدہ وی ل کا
ایک م روط نظام ہے۔ اس نے ائں دق کاحنات اوراں میں انما نکی ہشیت کے تحلقی
صرف معقبو ما خقیدہ نیس دیاہ ہا کی فیاد پچ انسا نکیا زندگ یکو ایک خاص رن عطا
کیا ہے۔ وہ عبادات کے ذریے الد تعالی ے انسان تلق جوڑتا اور اسے اخمکام مخ
سے اور اخلاق اور نقاپون بی اس کے اکا مکا اسے پابن بنانا ہے۔ نماندانعء معائشردہ
ریاست خی لی اور ٹین الاقوائی تتعلقجات سب اس کے دائرہ مم ل1 جاتے ہیں۔زندگی 1
کول یگوشہ ا لک یگرفت سے آ زادنیں ہے۔ ال کے ا موقف ے اختلاف ت کیا
جاسکنا سے من ال ے یعا لک نہ ہوا کہ وہ انفرادکی زند تک اپنے آ پکوسحیٹ
نے۔ وہ محدرود نرببی تک مخالف سے یس میس خدا اور قیص رک ےتقوق اٹک ہوں۔
۲۔ اسلام ایک عالی دن ہے۔ دہ دا کا آخ ری پقام ے؛ جوانمانو ںکودیاو
خر تک کامما ی کی راہ دکھاتا ے۔ ال کا خطاب سب انسانوں سے اود اع کے بھی
طقات سے سے
اھ الس انی رو الہ الیم (اے )کب دوک اے لوکوا می تم س بک
جَمیعل الَذِیْٰ لَه ملک السّموتِ لف الک ول ہیں۔ وہ ادج ک١
وَالازُ ض (۱۶اف:۸٥٥) آسانول اورزٹن پراقتزارے۔
ٹس دی نکا خطاب دنیا کے تمام انسانوں اور ان کے تمام طبقات سے وہ جھ
آغازِ سخن ےا
ال ححقثیت سے سامےآ نم ۓکہ وہ سمارے عال مکی فلاںَ ونچا تکا ذرلو(ے وی
طبقہ ےآفرت اور عراو تکا یں ےس اہ ورٹ ا ںکا خطاب رود ہوگر رہ جااۓے
گا۔ وہ نظریات جوخلف طقات ےا نکش پیداکرۓ اور ایگ کے ذرۓے
دوسر ےکا اتحصا لکرتے مہیںہ ان می ںعموٹی ان لنییس ہہوئیء وہ ایک کے لے شش
ہہوۓے ہیں ذ دصسرے کے لیے ال قبو لیس ہہوتے۔
۳ الام نے اپنے عقیدے اود رکوعا مکر نے کے لے جب رداکراہ کے تام
طریقو ںکو ردکر دیا ہے۔ النا می سے ہ رط ریقہ ال کے نزدیک ناجائز اورمموغ ے۔
ال کے لیے اس نے صرف وت لن کی را ہی ری ہے۔ دہ اپنی بات ول کے
ساتھ ی کرتا ہے اود اسے قبول یا ردکرن ےک یدگ آ زادیی دیتا ے۔ اس نے صرو
بات کے ساتھ اپتا ام دوسروں کک چان او رالفت اورمزاحم تکوعزم ووصل اور
ھت ے پر داش تکرن کاگم دیڑے:
و اضبز لی تھا یوک وَ ہرم جو بجھ یےکہدرسے ہیں ا پرعبرکرداورا نک
مَجْرَاجَمِیْأ (المزہل:*ا) ای ضر مھوڑ وو
ای نے باد با دکہاککہ یراہ تفود درز رکا تقاض اکر ہے۔ اکا دن سچھوۓ
نہ ہاۓے:
فاضفخ عنم و کل سناام فسزت ان سے دگزر یھ اود سلام کے انکر بہت
َغلَمُوُْوُہ (الزحرف:۸۹) جلد(ابنا انام ) معلوم ہوجا ۓگا_
ایک بل ارادے:
صْنَح الكُّفحَ الَْمبْلہ ان نیک ان سے اچھی رع درکزر یج ۔تجھارا رپ وی
ُوَ ال لْعلیْمْہ (الجر:۸۹۰۸۵) سے جھ پیداجھ یکرت ہے اور باخمرکھی ے۔
اکی نے اپنے ماثئے والو کا مخ لی میا نکی ے:
وَ الْكَاظِمِیْنَ العیْط و العَافِیْنَ عَن دہ خحصہ کے پا جانے وائے اور لوگوں سے
الس (آ عمران:٣۳۴) ورگ زرکرنے وائنے ہیں۔
٢۸ آغازِ سخن
اں نے بای تک ےکہ بات یت میلہ دگوت یس اور اپنے کل مل
ایا ردیایارکیا جاۓ جس سے بدترین وش نکی بھی بن یتم ہوجائے اود وہ دوستو ںکی
صف می ںآ جاۓے۔(مم ا جرة:"۳۵۸۳)
کیا ان وائع مات کے بح دجھ یکہا جاسکتا ےک اسلام ہے مخالفو ںکو
برواش تنج سکرتا اور ان سے جن کک زبان یں با تکرتا اود این خقیدہ ان پہ بہ ججر
مل ا/تاے؟
۴۔ الام چچے ِل سے خرا اور رسو یکو اے اور خڑل وی ے ان گی
اطاع تک نام ہے۔ ہہ نز جرد اکراہ سےنیی پدا ہولی۔ جہاں جب رد اکراہ ہوا دہال
ایا اور اسلا کا اظہارت ہہوچاۓ گاء ِا تیتے میں بے ایا ننٹل بللہ نفاقی ہگا۔
قرآن یر نے نفات یکو و یکا رو لپ و اٹزا اور را اور ول کے ساتجھ وع وک اور
فر بکھاے:
وَ مِنْ الَاسِ مَنْ يَقُوْل امنَا بالله وَ لوگوں میں ض ووبھی ہیں ج کے ہی کہم
اللہ اور آخرت کے ون پر ایھاان لے آ تے
عالا لک دہ ہرز موک نکیل ہں_ وہ دظوکا رے
۱ ت ۱ رسے ہیں الکو اور ان لوگو ںکو جھ مان والے
يَْدَعُوَٰ ال انفْسَهُم وَمَا يیَشْخْزوْن ہیں ووصرف اپنے آ پکو دوک دے رے
فی فُلْيِهم مَُرَضْ فَرَافَعُمْ الله ہیں اور ا مو ںی ںکر رہے ہیں۔ ان ے
یں و ا6ھ وم
دردناک عراب ہہوگا اش و کی وجہ سے جو
ولو۸-) رہل ے یں۔
اں ن کہا کہ منانقنکا دئی ایام ہوگا جو دا کے مک ری نکیا سے :
اي الله جامع الْمُطقِیْنَ وَالْكفِرِیْنَ فی ہے کک اللہ تعالی مناتوں اورکافرو ںک چم
جَهَم جَمِيْگان (النساء:۱۴۰) مس میک جاہ کرو ےگا۔
بالیْرُم لاجر و ما مُم بِمُْمِییْنہ
يُْيغُوْن الله و الَدِیَْ مُا وم
۔ تقو
یحدبونہ
آغازِ سخن
ایک ارہ اع کے انا مکا کر ان الفاظ یل ہے
ا الملفقی فی الزکب السْفلِ من بے کک منلقین جم کے سب سے یچ
ار : (النساء:۵٢ )۱ در شی ہوں گے_
قرآن یر نے منلقن بر ہنی مخ متقیری ہے اود ان کی ہنی لیتیء
خورتیء می٠ بلکنہ بن کونا ںکیا ہے اور اسلام کے خلاف ا کی سازشولکا پردہ
چا ککیا سے اورملمانو ںکو ان سے ہوشیار رب ےکا تاکی دک ہے کیا اس کے بعد بے
تی مائی ےک وہ ا جا تکو پپن دکر ےگا کہ ا لکی عفوں میں مزانق نک اضاذ
با چلا جائے؟ کیا دہ الما ریہ اختیا کر ےگا کہ سحاع شس نفا یکا آبیارگا ہو اور وہ
فروغ پاتا چلا جاے؟ اسلام اگ بب رو اکراہ کے موتف میس ہونو بھ یکس یکو یمان اور اسلام
بر مجیو نی ںکرسماء اں لی ےک اں سے نفا قکی را ھی ے۔ دنا کاکوئی عقیرہ اورکرئی
رفا قکو برواش یں متا کیا اسعلام بی اش کے ائیرنے اور پروان پچ سغ کے مواٹحج
فراہ مکرےگا؟
اسلائی دیاست کے ذکر کے ساتھ بیسوال اج رآ ےک ١ میں خی سلموں
کیا حقیت ہوگ؟ ان کے تقو قکیا ہوں گے؟ اور ان کے ساق ھک سض ما سلوک روا
رکھا جا ۓےگا؟ اس بل می بھی لیتض باتیں ٹین ررزنی اپ :
-١ اسلائی ریاست انسا نک عم دای کی کہ الل تال یک عم ران کی یاد ہ
وجودشآلی ہے۔ اس میس اقترا رکا عرکز اللہ تعال کی ذات ہولی سے کوگی فرد یاگرویا
ور افرا و و کے تے اللہ تما ی کی کتاب اور ال کے رسو لی کا سنت کے مطالقی
ریاست انا م چلال ہے۔ یں می عالات وظروف کے فاظ سے نے و ای نبھی بجنحع
ہیں گے اون رای بھی لاڈ کیا جانی سکیا ءئیگن برسب بج ھکزاب وسنت کے عدود
کے اندد ہوگا۔ ال سے پاہ مکل یکس یکواجازت نہ ہوگیا-
۴- اسلائی دیاس تک ہاگ ڈورفطربی طود پر ان لوگوں کے پا مس ہہوگی جو
٢۲ آغاز سخن
قرآن و عدیث پر ایمان رکنے ہیں اور سے ممللل تکی اسااس شی مکرتے ہیں۔ جن
لیکو ںکااں پہایمان یں سے ان بر نہ ا لک ذمددارگ ڈالی اتی ے اور تہ وہ اے
غل دلی سے چلا کت ہیں نان ریاست یس یں خدا اور اس کے رسو لکی بناہ حاصسل
ہوی۔ اسلائی تانو نکی رو سے ان کے بنیادی وق محفوظط ہوں گے ۔کسی بھی فرد یا
جماع تکوا وق پر وست درز یکی اجازت نہ ہوگی۔ اننظائی امور ٹیس عکومت ا نکی
خدمات سے ذاکدہ اٹھائتی ے۔
۳ اسلائی رہاست میس غی رمسلمو ںکی حیقیت اور ال سے تعالقات کا ہے
قانو بپپلو ےلکن عام زندگی می تقانون ے زیادہ ای روی اہمی تکا عائل ہوتا
ے۔ اسلام نے معلقات میں صدافت اور را ہت ازئ گا پاندا او رھوۓ اورگر و
فریب سے اجقنا بکاعم دیا سے نخوت و انبا رکی مک ہاش اور ناک سار کا مان
پر کیا ےہ درشت مزاگی اورشدت کے مقاٹے یس نی اور راخ تکو بین دکیا ےہ خی و
غشب پرقابو پانے 7 و پرواش تکا رو ایا رکرنےۓ 1 رایت 1 ے۔ افظام مس
حد سے ؟ کے نہ بڑ ھن اورحفو و درگزر ےکام لے اور برائی کا بل بھلائی سے دی ےکا
ترغیب دی ےش راورفتنہ وفاد گے سے اور ہرعال مل عزل دالصاف تام ر ےک
27 ےب ہہایات الگل عام بپیس_ان تلق ماع مسلمانوں سےکیں ےگوہ
صرف اپے تعلقات میں ان کا اتزا مکریں۔ اس معاعلہ بش اسلام نے ایوں اور
غیروں میں فر ق نیو سکیا ہے۔ ایک ملا ن کا ربا نک کسی بھی رہب وعقیدہ کے
ان وائے سے ہو تق کی جائی ےکہ دہ ان کا پابند رہ ےگا۔ جس سا می ان
اخلاقیا تک فہاں روای ہو وہاں فطرکی طور نلم و زیادلی کے امکانا تکم ہن نت
ہوۓے بے ان کے اور اگ ربھ یکس یک طرف ۳ ماط قرم اشے نو اون ا ںکی
راہ ٹیل رکاوٹ ب۲ نک کھڑرا ہوگا اور اپنا فنش انجام دےگا-
۴۔ اسلائی ریاست کے ذکر کے ساتھ چہادکا ذکر اس رح مر جانا سے
٢۲۱ آغاز
جیے ا ںکا مقعر وجود یا اولین رف ملانوں وٹ ر رسلسوں کے خغلاف ص ف۹1 راکرنا اور
چہاد کے نام 7 ووں ری نکی کا بازارگ مکنا ہے۔ عالا لکہ شس طر دنا کا ہر
ریس تکو جنگ سے سابقہ شی لآ سکتا ہے ای رح اسلائی ریاس تکوجھی چھادکرن و کتا
ہے۔ اسے اس کےتضپقی پیں منظرمیس اور اسلا مکی زیادہ وب او رعموٹی تحلیما کی رن
دیکنا جا ہے۔ وہ ایی جن گنیس ہے وڈ وخوں ریدکی اود انسانو ںکوگکوم بنانے
کم دای کا خا کا یل کے ل ےکا جا یہ بکہ اس لگ کے چچچہ پل
اخلاقیہ عدل و انصاف پہ نی قانونء وت ولغ کا خلصانہ جذبہ اور انسانوں کے ساتھ
یخوا کی تنا او رآرزوموج زن ہوئی ہے۔ چا جاسکا 0 جنگ دوسری جگوں
ےکتنی لف ہوگی اود یں کے ککتے انیٹ ےرات سان ےآ نیس گے؟
آ تندمصفجات میں غیسلموں سے تعلقا تک بج ٹ بھی ہے اوران کےمقر
کچھ ان ہو ہیں۔ تعلقات ٹیل نخاندای سم گیء معاشرکیء ماش یکئی طر کے نتعاقات
زی پحھ ٹآۓ ہیں ۔گعض اخالی مال میں شش راج ت کا موقف داش رن ےک یکیشش
ک اکا ہے۔ ال سے ان تعلقات پ مزید رش تی ہے۔ تعاقات اورحقوقی قرد اور
ریاست وفوں ہی ےت ہیںء ہہ تعلقات می نشی پپلوطااب ہے موق کا رشن
رات سے تڑ جات ہے۔ ریاس تک بجٹ میں غی رسل مکی حیثیت اود اس کےحوق
عیان ہو ہیں۔ کل ذیی ٹس چھاد اود اس کے اظکام پننیل سے رشن ڈا یگئی سے
ار ان الاقوائی تعلقات کے سکس میس اسلام کے موق کی وضاح تک یگئی ہے۔آخری
ضنیات میں فغیرمسلموں سے مدعتلق کے احکام د ہدیا تکا میں منظربیان ہواے-
تاب ٹیش اصلا ق رآن وعدی ٹکو بیاد بنا گیا ہے۔ ا نکیا شرں ونفیرمیں
معن علاء اور شاران سے استتفاد ہکیا گیا سے۔ بت ضفقی مال میں فقہاء کے خیالات
تفیل سے زی بج ٹ 1ے ہیں۔ ایک شال ىی ہوکتا کہ اس رع کے مراکل میں
صف دہ راۓ یا نکی انی چاے ج ےکن والا کی تا ہو اود تھے اس کے نزدیک
۲ آغازِ سخن
تع حاصل ہوہ اس لے تحصیلات سے زجن اب نچسو ںکرتا ے-
بین تھا اور سا نبھی۔ لیکن جن حضری کی نقبی ذرہ نکر وہ اں
ہے مل ین ہوسکے تے۔ ان کے سا دوسریی رانمی ں بھی ہوتیں_ وم بس وچ 2
تےکہ اس بحت میں انی رجمان کے تخت مخالف رای ںکونظ راندا زکر دیاگیا ہے۔ ال
لے ضروریمسوں ہوا ملف راپوں کے تقابگی مطالعہ کے بعد کسی رال ۓےکوت پیا دی
جاے۔ پھر ےک ہج کا دورتاہگی مطالع ہکا دور ے۔ دنا کے ہرم وضو کیاء ننس میں فقہ
بھی شال ہے نقابی مطال کیا جانا ہے۔ جدی لی تمزیخات اود اسا نیو پییاز یش می
طرییقہافقیارکیا جاراے۔
ایک بات بب یکی جانتی ےک لتض فقہاء کے خیلات سے غی رس م
جوارتین نو می ںکرں گے ہیں لیے ا نکا وک ہیں بونا جاہیے۔ے با تگگ بہت
زیادہوز ٹل ے۔ ال لیک مطائعۃ نذاہب اب ام ور ہا ہے۔ ہمادے دیٹی اود
فی لیر سے مسلران علاء بی نہیں نی رسلم اصوا .عم بھی راف إں۔ ود نتی
اخلافات آە: نقلہ نظ ر جانا چائیں گے۔ اں لیے ان کے لفاط سے بھی
مناسب اورمقول طریقہ بی ےکہ زی پٹ مکل می نشی آرا کا جز ےک کے بتایا
جاۓے کہم جودہ حالات می کر اورموزوں رال ۓکیا ے؟ اوز ےگ یاد ہت
عاصل ہے؟ یہاں ایک یکیشٹش رجی ہےءنیان ا سکیشش می سکوگی ایی را ےنیس اغقیار
گی ہے جو بے دیل ہواور ےس فکی لکل مان حاصل تہو-
فتہاءکی رالیں سی بھی سے اور یبھی ہت یبھی ے اور ارکشادگی
بھی۔ جن مال میں فقہا کی رای خت اور بے کیک معلوم ہوئی ہیں یی خی رسلموں
ےکی خدمات لے با لف معاللات ٹس ان پہ اختا وکا لہ یں اس وت کے
عالا تکی رشن جس دیهنا اہ ورنہآئیں رف تقید ہنی جاسکتا ے۔
اسلام کے دوبراول یا ا ںک ابتدائی صدییں یس جومالک ت بجءۓ باججاں
آغازِ سخن ۳
تن دوجو تکامیاب دی دہا لک اکشریت دین کے1 خیش میں کت یگئی۔ اس میں
از مھ رہ عراقی: شام او افریقہ و جیا کےجنن مماتک شائل ہیں۔ یہاں خی رسلم جے
بھی تو بھوئی یىی افلیت ٹس تے۔ ان عماتک مل اور اس وفت کے حالات کے تحت
لی اداروں میں می رسلمو ںکی شرکت مایا نیس ہے اورفقہاء کے ہاں اس طر کی
نمی ں بھی ملتی ہی گی نظام: اس کے دفاغ اور طفاظت کے لیے ا نکی خدما تک
چندال ضرور تیں ہے۔ ا کا مطلب مہ ہ ےکمہ ان کے یل نظ ایک اڑسی ملللت سے
جس میں مسلمان اپے تقام دی وخارتی اموریش خو یل ہیں او یل کسی دوسر ےکی
اعیاع نی جی بوضصورت عال الن مال کک نہیں تی جہاں اقترا ر “انوں ے
پاتھ مل ہہونے کے پاوجود وہ افلیت یش اور غی رسلم اکثریت میں ہویں۔ یہاں ا٣ ر
مکلت سے یں میحد ہنیس رکھا چاسکنء یں شریک سیے بخی راس کا چلا ناشن نہ ہوگا۔
ا صورت میس با نشی را ۓے بھی خللف ہوگی۔
موجودہ دور یں مخلف سای اور سای عوائل کے ٹج میں منترک ساح وجود
یش ہر ہے ہیں او رکنش اس با تکی ہورہی ےک ایس اتظام کی میس شیک رہیں.
یس الیک تھلک نررکھا جا اود ا نکی صلاعیتول سے فائتدہ اٹھایا جائۓے_
محا مات میس خی رسلموں پراخاد او عدم اخنادکی بجت میں خال ہوتا ےکہ
ال وق کی پیری دنا کی صورت حا کا تھی بڑا ہل دہا ہے۔ اسسلائی جار کے ایتائی
دور ٹیں مسلمان ٹیٴ ایملہ دبٹی اور اخلاتی اتبار سے دوسروں سے برتھ تھے ان کے اندر
خدا کا خوف تھاء اخلاقی بلند تی٠ دہ معاملات کے صاف اورکھمرے تہ الن پ اخادکیا
جاسکتا تھا اورکیا جانا تھا۔ اس کے بنگس اع کے اد دگر دک دا یں اشا یگراوٹ اور
پت یی ء افراد اور اقوام اپنا اختادکھو نیہ راست بازگیاہ دیامت داباشت اور ابا ے
عہ می خ میا ںکم زور ہو شی ان عالات ٹس ہے سال بہرعالی پیدا ہت تا ک۔
ملران اپ معامطات گل دوسرول 4 ماعدک اخضمادک رت یں؟ حضرات ہے
م۲۴ آغازِ سخن
اے الفرادی نتانظرے دیکھا کہ افرادک اود خلط ہ رر کے ہہوتے ہیں ہ ان کے
مت قکوکی عموبی فصلہ ورست نہ ہوگا ننس حرات نے اسے بر حیقیت نیت توم دیھا اور
عموئی را ما مکیا۔
اب صورت حال بد لگئی ے۔ مسلمانوں کے اند تق اود خدا تی گا
یزیت شتم ہوچگی ےہ ان کا اخلاقی اتیاز اتی نیس رہاء پےھھض پلونؤں سے ا ن کا
معیار دوسروں سے ڈروت ے۔ معاملات میں دوسرے الع سے زیادہروسہ کے توائل جھے
جات ہیں اوران برمسلمانوں سے زیادہ اعخقا کیا جانا ے۔ ریصورت حال لت قریم
راییں پرنظرفانی کا تقاضاکرلی ے۔
خی لسوں اوران کےتقوق کے ذیل ٹیں دار الاسلامء دار ارب اوردار الاءان
سی پٹیں بھی پر جاتی ہیں۔ یہ اصطلائیں قرآن وحدیٹ یس اتعا لیس ہوئی ہیں٠
پگ فا ۓکرام نے اسلائی نقطۂ نظ رےحلل ف مم لی ککی حیثیت وا کرنے کے لیے
کی ہیں۔ ان کے نزدیک داد الاسلام وہ سے جہاں اسلائی احکام تاذ ہوں اور
ملمان الین داما نکی ند یگزاررے ہیں اورمسلممان ہون ےکی وج سے آھجیںگ یتم
کا خوف اورخطرہ نہ لاخ ہو دا الھرب وہ سے جہا ںکفروشر ککا خلیہ ہو او اکا مکفرو
شک جاریی ہوں۔ داد الاسلام اور دارافھرب کے درمیان ا نکا محاہرہ ہوتھ وہ دار ان
ہوگا۔ ان سب کے امام مخلف ہیں٠ اں وقت دنا کا کول کلک دار الاسلام ہوے اور
اں کے تقاۓ پیر ےکرے کا وگ ی نی سک را سے ای طرع اں نےکصی مل" ککو
دارالھرب قرار در ےکر ا سے اعلال نک بی لک رکھاہے۔ دتیا کے یی ت ھماکک جن
الوای معاہرولں بس بندھے ہوۓ ہیں۔ بے عالات ال مضوں پر ازس رو ور وگ رک
مطال کرت ہیں۔
مل مان کی از روۓ شر ذمہ داری ےکم وہ غیرملموں کے بای
و قکی طفاط تکریہ ان کے عدود میس آُھیں اپنے عقیرے اود نہب پگ لک
آغازِ سخن ۲٥۵
آزای ہدہ آھییں نرتی کے موا تع فرم ہول اور ان برکسی یتم 7 اورنیادلی 1
تقا لوسر باب گئے
ملمان جہاں افلیت یس ہیں وہ دوطرع کے عالات سےگمزر رہے ہیں۔
خی جم بی عمالک میں وہ فیادی توق کک سے محردم ہیں۔ یں اپنے دین و ابا نکو
بچانا شوار ہو را ہے۔ وہ اپ وجودو بقا کی چک لڑ رے یں۔ ج ہورگ مالک میں بڑی
عحرکک بیادکی حقوق یں عاصل ہیںء گی چان دبال اورزت و آبر وکا خحذلا لا ہوا
ہے عقیدہ اورعباد تک آزادیی محر ہہ دہ آ زادئی سے نماز اور روزے پر لک ر سیت
یہ زۃ ک ام چل کت یہر یس ابازت ےہ ساہ کا خی اور نکی
آ پادکاری اضف مک یھت ہیہ جعہ اورعیربین کے قیا مکی اگھیں اجانت سے عاظی قافن
یا طلاقیء وراشتء ولف اور ہبہ یی معاملات بی اسلائی تقانون ان پ ناف ہھتاے
وودٹی اور ویو یتعلیم ک6 2 مرن اود دق مداالں اور ویو یتملیم کے ادارے تا مککرنے
کا رھت ہیں۔ ہندوستان تیے لک میں ازروۓ دسور ایس مماوبی موق حاصسل
ہیں اود دہعکومت بش باب کے شریک ہیں۔ بڑگا بات کہ ورگ عمائتک بی آھیں
اپنے دی نک لن کی اجازت عائل ہے۔ وہ اسے عا مر سے ہیں۔ جس ملک کے یہ
عالات ہوں اسے وہ کو ڑیل کت دین پش لکرتے ہوۓ لوت نے کے جوموا تع
نیس فراہم ہیں ان سے اُشیں فائدہ اٹھانا ہوگا۔ ظاہر سے برصورت عال دار اھرب یا
دارالاسلا مک یٹنیس سے ۔صسی مبودٹی مل ککو نہذ دار الاسلا مہا جاسکتا ہے اود نہ ال بر
دارافھر کا اطلاتی تا ۓے۔ دار الاسلام کی طرع یہاں غیرسلموں سےجحو ق کا سوال
نی پیدا بتاہ اس ل کہ ادوۓ وسور یں بای حخوق عاصل ہیں۔ یہاں ان
سے تعاقا کی نوحی تکھی وہنیں ہی ور یوں کے ساتھ ہوئی ہے۔ چھبوریی لی کک
ایک آ زاد کرلی مل ککہنا ای زیادہ 3 ہہوگا۔ ملا نکی جقثیت یہاںل ازروۓ وستور
دوسرے ش ریو لک رر ایک پان آزاد شر یکی ہے۔ ابی حیثیت ے غیرملموں
۲٢ آغازِ سخن
سے اس کے لعاقات استوار ہوں سے اورغی لم یں سے نعاقات قا مر یی 2
یں برادرعمزی ڈاکر: ری الاسلام ندوئی 1 شک رگ زار ہوں کہ اھوں نے ری
تنا بک نجہ سے پروف رین کگیء مضماشن اور غ کی فبرست تیادکی او رکتاب ٹیل
جن سلم شخصیا ت کا ذک ہآ یا ہے ان کا اشاری ھت بکیا۔ یہ اشاریہ اید ہے ا لکتّاب
کے بھی اور اس نوع کی دوس ریم٦ یکزابوں کے ل بھی مفید غابت ہوگا۔ ال تال
جزاۓ شردے۔ میں نے ان تمام چچڑوں برای کنظر ڈالی ی ے اں ے اوجوننش
اؤروگڑاش کا امکان ے۔ ال ینان ود یی غدمت 7 اور ان شاء ال یآ تترہ
سک کرد جا ےگی۔
ادا ی ے دعا ےک یہ اوراتی آں کے وی نکو یک ےکا ذرلچه خابت موںلء
اں کے بندو ںکو ان ے زیادہ ے زیادہ ذاندہ لت نل 27 سے وہ میں
شرف قولیت سے نوازےلخزشوں سے درگزرفرماے اور بییشہ اپ سای عاصفت مل
رتے۔ انَه سمیع قریب مجیب۔
جلال الین
۷ر اکحست ۱۹۹۸ء
مو انان
اور ان ام
۹
میں ے لعاقات
الا مکی تقصوی جن مخلف پھلووں سے اگاڑنے پکییی رن ےکی مسصسل
کیٹش ہوئی رٹتی ہے ان میس خی رسلموں سے تعلقات کا پبد بہت جی نمیاں اود خائس
ابی ت کا عائل ہے ۔کہا جانا ےکہ اسلام انفرادیت پیند ےہ وو مسلرانوں میں علیج گی
کے جذبات ابھارتا ے وو آھیں دصریں ےکا اور الیک تھل٣ ککرتا ےء وہ اچوں اور
غیبرویں کے درمیان انتا زبروست فرقی پی دا کرتا ہ ےکہ خیروں کے ساتھ عام اضال
تعلقات کا بھی روادا ریس بوتاء وہ اخلاقی کا دریں ضروردیتا ہلان اس کاتعلقی بے
اۓ والوں سے ےء دومروں ئل سے ولیک اسلام کے وائرہ سآ انی آیھیں
وہ باہم اتی ردیاخقیارکرن ےکینیم دیتا ےلان ا دائرہ سے پاہرا کی تھلہمات
2 بل جانا ہے اود دہ ایک دوسرکی بی شل می ہمارے سان ا ہے۔ بیشحل
با بھ اک ہے۔ ال یس عحب تک ہک ہنفرت و عداوت اور نکی کا ہت اور دشقی
نمایاں ہے ۔کہا جات ےکہ اسلام اپنے ماتنے والوں کا جو ماع بناتا ایرجنس رح کی
ذڈٹی تزریی تکرتا نے اکن سے ال نکیا اپن مان سے ازخودمخاصست شروں بوعای ے
اور دہ ہ مماذ پر ان ے سر پیکارنظظرآے ٹیں۔
الا مکی ا خودسا خۃد تقو کا عقیقت ےک یتح ق نہیں ہے۔ بیشن ذہتوں
گا پیراداء ے وہیا نا دای تکا شکار ہیں یا دوسرو ںکوفرجب اور وکا دینا چاتے ہیں-
۲ خاندانی تعلقات
اس می شکوئی شح ک نی سکہ اسلامء ملمانو ںکو باہم ال اخلاقی رویہ اختیار
کرن ےکا عم دا ہے آئیس ایک دوسر ےکا بھائی قرار وا ے ان ے ئم اخال اور
تاد وی مقر رکرتا ہہ ان کے درمیان تعاون و تاص رکا جذبہ بیدا رکرتا سے اور
ئن ایک اقام ہیات د ےکر اعت جا ہے۔ ایں کے ساتھ یر تقیقت بھی
فرا مو لکھیں ہوئی چاپےکہ اسلام نے اس ام تکو ایک اع نصب اشن دیا ہے وہ یے
کہ وہ دنا یش خداۓ داعد کے دی نکی عم بردار بی نکر اٹھ, انمانو ںکوا نکی دنا اور
خر تک لا کا پیقام دے دنا می خی کو عا مکرےہ چھلائو کو پچھیلاے اور برائوں
کومٹائے۔ ال دین کے بارے میس بی تورکس قررمتحکہ خج ےک وہ انسائوں کے
رلوں می ںگرورت اورفرے پیھاتا ہہ ھی ایک دسر ےکا 7ف او وشن بناتا ہے
اوران کے تعلقات میں پگاڑ اورفسادکا ذریعہ با ے۔ ۶
خرد کا نام جنوں رکھھ دیا جنوں کا خرد
آ تمدوصفات مس خیمنکیوں سے نلعلقات کے پارے شی اسلائی تقل مات
کی و رتضحیل سے ین یکا جا ری ہیں۔ مہ ال با تکا شموت ڈراہ مکرلی ہیں
نے مسلانوں وور خی رمسلموں کے درمیان اجنبی تکی دیوارننی سکھڑ یکی ہےه بکنہ ان
تعلقا تکو دہ ایک سای معاشری اور معاگی ضرور یگگتا رفس نے نی
رشع اور ماندا تلق ہو اسے دہ اص اعمیت دبا ہے۔ بیتلمات صاف تال می ںکہ
اسلام 29 سے قائم رت ے ہہوۓ اورالں کے امیا مکی پرںطب پابفد یکا ہے
دوسرے اہب کے افراد سے انچائی شریفانہ رواابا ر کے جاسکتے ہیں اور ر کے جانے
چائل_ دی داری کے منائی یں برا ںکی ہدایت کے مطالتی کے
لے ا کی ق رٹیل راقم سےمخون ال ایمان کے بابھی تعلقات مب موجود سے مطبوم
ماہنامہزنگی نو خی دی جنوری ۱۹۸۹ء
۳
اندا ی تعلقات
(حصن سلو کی خصوضی بدایات)
الد تاٹی رگن ورٹیم ے
اسلام نے ال تال کا جونقمور دیا ہے اس یس ا ںکا کن درم جون نمایالں
ہے۔ ان ںکا وت قرآن مجر کےآناز بی میں سورة فاتجہ سے ماما ہے۔ ان کا ایر یھت
پر یکانحات پہ ہرآن بک دبا ہے۔ ای سے ا ںکا وجودقائم ہےء رگوش عالم میس اس
کی بجعت کےآ ار ہو بدا ہیں۔ انمان ایق دا زندگی میس اور زندگی کے ہرلحہ می ال
ک ما ءکرکتا ے۔
انان لکن کم اور ہھرروی مطلوب ے
اسام چاہتا سےکہ انسا ن ھی رم تکا کن اں کے انررجت, القتء
تقاونء درد 2 خوارکی کے جن بات وبزان ہوں۔ ال ںکی سیرت دکردار سے دقم دی
کا مظاہرہ ہوہ ا کا سن سنک دی اور شقاوت ے اک ہو دہ اپ ابناو مومع کے سساتھ
,( 0 0 727 ای زا ۓےکرتا سے اور ے وہ انی تام
مم زورییں کے پاوجودشب و روز رہ در تا رتا ے۔ وہ پرعال گل عرل وانصاف
پر تام ےك و عروان رے ال کا دای واج وار ت ہو ال و 0 07
صفت ای جاے دہ جذبات کے ؟ وی ٹیل 2آ ۓ اورغصہ پرقالو رھ
عرو تا تکا دای چھوڑے اور معاشرہ می محبت اور رص تکی خوشمبو چھیااتا رے:
رس خاندانی تعلّقات
وَ توَاضَوْابالطیْر و توَاصَوٰابالْرحمَ ج ایک دسر ےکوص رک تاکیدرکرتے ہیں اورمم
(البلدےا) کھان ےک ماکیدکرتے ہیں۔
صلئرگ یک ابمیت اور ال لک ہدایمت
نمانی تعلقات کے اجک مکا پہلا قم صلہ بی ہے۔ ا کاتعلق خولی رشتوں
سے ے۔ الام نے اع رشتو ںکو بہت اہمیت دئی ے۔ ان کی تلیما ت کا ایک انم
پپلو ہہ ےک انسانوں کے ورمیان فطربی طور پر جو رش اور ناٹ ہیں ا نکا اترام ہو
ان سے ؟بخر اورغؤ یوار تعاقات بہوںء ان کے توق پچیانے جایں اورااع کے ساتھ
ظلم دزیادئی سے ازازکیا جاے۔ اکر انسان کا اپنے قرجب تربین وائرہ یں بت رسلویک
ہوتو تع ےکہ وٹ تر دائرہ می ل بھی ا ں کا رو یحبت د اخوت اور ہمدددگی کا ہوگا اور
پدے محاشرہ پر اں کے خیچ سکوار اثرات عرتب ہوں گے لان اگ رقرابت دا ری
انان 2 و برک نار ہونےگیں تو جن افراد ے ا کا دو رکا واسطہ ے وہ اںکی
زہاوتوں سٹون نیں رہ سے جع بات یہ ےکر صلء دی کے اخ رحبتہ شرافت اور
عدل و انصاف پ ما مجاشرہ کا تو نی ںکیا جاسکتا۔ اسلام کے نزدیک انان کے
قرایت دار ااں کےحسن سوہ ناونع اور ہبدردگی کے سب سے تید خی ں۔ اللہ
ےت بنرے ان کےمقوقی سے ناش ل نہیں وج٤
َلَذِيَْ يُوْقُوْنَ بعهِ الله وَلَ ینهصونَ جو اللہ سے سے گے عبدکو پور اکرتے میں اور
لاہ وَالَاِیْنَ يَعصلوْنَ ما کسر اس کے عم دکونئیس نوڑتے اور جو ان رشتو ںکو
ال ب ان يُوصَل وَیَحْشُوْن رَبَهُم و جوڑتے ہیں, جن کے جوڑن کا الد ن عم دیا
يَحَافُوْنَ سُوءَ الُحسَابہ ہے اود اپنے رب سے ڈرتے ہیں اود مردے
ا 0 صا بکا تھی خوف لاق رہتاے۔
اش تعالی سے ای اور دیادار انمانو ںکا عال اگل دشرا ہھتا ے۔ ان گا
زنڑی ان ۷ صفات ے عاری ہولّٗ ے اور وەفمادثی الائش مچاۓ ھد ہیں:
خاندانی تعلّقات 2
و الِّيْنَ یَقُصُوْنَ عَفهْد الله مِنْ 'َغد جو لیک اش سے سے گے عہ ہکو مضبوط بنانۓے
مِیّْاقه و يَفْطعُوْنَ ما اَمَرَ الله بہ ان کے بعد تڑ ڈالے ہیں اور جن رشتو ںکو ایر
ْصل و بُفيِوْن فی الْض نے جوڑنےکاعم دیا ہے ای سکاٹ ڈالے ہیں
أولیک کہم اللغن و لم سوہ اورزین ہش ضاد مات ہیں۔ سی لیک ہیں
الارِہ جن بپراعنت ہے اوران کے لیے آضرت میں
(د:۲۵) برا نام ے۔
اعلام نے معاشرہ کے فلا کی بیاد عدل و اسان+قرابت واروں کے موی
کی ادائگی رف ومگرات اہم وعددان ے اتتاب 77 ہے۔ ان ای اق ار کے
فی مزب سماع کاتسورھ نیو سکیا جاسکتا:
ا الله أرُ بالنڈلِ وَاللإخسان و بے شک اتال عدل داصانکاگم وچ ے
ِيَاء ذِی الْقُرلی و بھی ین اورقراہت دارو ںکو (ا کا 3 ) ديۓکا_ اور وہ
الْفَحْمْاءِ وَ المْکر و لبعْي َعْظكُمْ 6ت ےش اون سے ہکم اود شی یت
لعلكُم تَدَکُرزْوْہ و تھیں شصیح تکرتا ہہ شای کہ تم ضشیحت
(خل:0۹۰) حوص لکرو
غی سم والدین کے ساتی صن سوک
قرایت اور رشت دای گی یاد والدین ہہوتے ہیں۔ اس وجہ سے قرآن یر
نے والدین کے ساتحو صن سلو فک خاص تاکیی دکی ہے اس می ںگوکہ غی مل بھی
آتے ہیں ہکن خی رسلم والدی نکی طرف س ےگ جارعانہ رد ین اخ کیا جاسکتا ہے
اورنزوگِ ق رآن کے وفت مسلران وجوان ای ردیہ سے دوچار تے۔ ال صورت عال ش
اندیشہ تھا کہ ملمان اولاد پر اں کا ڑل ہو اور وہ رم دانع کے سات ھکوئی
(۱) نیل کے لے ملاحظہ ہو رام کی کتاب اسلام میس خدمت ملق کا نوز باب 'خدمت کے ہے
سخ ہیں“
۳٣ خاندانی تعلقات
ا مناسب سلو فک رشیٹھیںہ بن یے دای تک یگ یکعقیدہ ہرز برقم ہے مال باپ
ارت حید کے متقابلہ میں نشرک وکف کی وثوت دمیں اود اس بر اصرارکرنے لیس تو ا نکی
بات نا ال قبول ہوگی اود ووکسی عال میں مانی جا ۓےگی ؛ یکن ا نکی زیادتوں کے
پاوجود ان کے دنیوکی حقوقی ادا سے چاتیں کے اور و بھی نظ انداز شہ ہوں گے۔
ارشاد ے:
ووَصَیعا السا الہ ححعَلنة ئن نے ان نکواپے ول ن کات بی کا
زع وڈ اضف شا سرپ یا ری
ان اشُکرْلیٰٗ و لوالدیُک إلیٗ کا دودح تو میس گہ اس لے ہم نے
المَصِیْرُہ وَ ان ججااک لی غ اسے جحی تک یکرت راچ یشک راداکرواوراپے
مرکو رای اس
- تَلفھما وَضاحِبهَا فی الڈنطا بیس رے جس تچ ےعمنہیں ہے نو ا نکی
مَغْرُوْفاہ بات شہ ماع اود اع کے ساتھ محروف کے
(تران: ۱۵۰۱۴) مطابق انا مارک
ا نآ بات شل صاف طور 2 ای تک اٹ ےک والدین کے سا تج چاے وہ
منٹرک بج یکیوں نہ ہوںہ صن سلو ککیا جا ےگا۔ ان کے نشرک وکفرکی وجہ ےا مم
کی برسلوکی روا نہ ہوگی۔ علامہ اہوکر جص ا ککتے ہی ںکہ الد تھا نے ون جَامَدک' الع
(اگر وہ تھھ پر دا1 ڈالی سک میرے ساتشری کفککرے جن سکا تھے نہیں ے) کچ
الفاظ سے وائ کر ویا ےکن سلو کا پگ رسسلم والرین اور خی رکم والدین دونول
ہی کے لیے ہے۔ پھر مف راک رکہ ضاجبمما فی ایا مَدْ( وا ٹیس ان کے ساتھ
معروف کے مطابق برتا و رکھو) ا ںح مکوموکداو تح مکر دیا ہے۔
اس کے تانونی پہاوو ںکا دکرکرتے ہو ےکھت ہی ںک' اس سے یہ با تلق
ےکم پاپ اکر اولا کو یکردے تو اآں سے (شریعت 2 عام ضابلہ کے مطالق)
خاندانی تعلّقات و ۲٥
قصائ نیل لیا جا ۓگاء وہ ال پر تبھت لگا ذ ال بہ عدنئیل چاریی ہوگیء اولاد کے
قرخ سی عم دای پر اسے قی نی لکیا جات ےگا اور ہک دالد بن تا ہول ذذ ا کا نان
ولفقہ اولاد پر واجب ہوگاء ال لے کہ مہ سارک چچزگ محروف کے ساتھ برتا1 می آ لی
یں اود اس کے خلاف اقدام اس کے منائی ہوگا لہ
نٹ کا گیا ےک ہآ دی کے والدبین چا سے مسلمان ہہوں یا کافرء ا کا زان و
انراں پر واجب ہے۔ ا لک نل ید گنا ےک اللد تعالی نے کافر وال دی کے
اق بھی پت بیس محرو کی پابندی اعم دیا ہے۔ اکا تحاضا ان الفاظ یں بین ہوا
ے: ”لیس من المعروف ان یعیش فی نعم الله تعالٰی و یت رکھما جوع“ػن
کی 2 اورسحری یں ےکآ دٹی خود و ا شی تموں سے فاکدہ اھاتا رے اور
والرِٗ یکو وکا مرن بھوڑ وٹ
علامہ تر ا ںیت کے ذیل می سککھت ہیں:
والأایة دلیل علی صلۂ الابوین آیت دٹیلی ہے یں نوس
کومامسھ ےک
کان فقیرین وإلانة الشول والدعاء کفگو یں ماطلت برتی جائےگی اود اعلامکی
الی الاسلام برفق٘ طرف :ری سے بجی دثوت دی جا ۓےگی۔
رسول اش کیک نے بھی مرک والد بن کے ساتنسن سلو کک ہرایت فرمائی
ہے۔ ا ںکا شھوت حضرت اساء بنت الوم کے ش پور واقتعہ سے ملا بیض۔ے
نز یں ںی عدییبہ کے بعد جب الکن اکم ہوگیا) میرک ماںء جھ
022 جج سے لن نی یں نے رسول الل لگ سے ددیاف تکیا کہ وہ 2
0 جصاصیہ اجکام القرآن: ۳/ ٣۳٣۴۔ اعادیث سے ان تام ثکا تکی تا ہولی ے۔
گے ہما ع ۲ص ۴۲۵ء ۴۲۴۔ نیز ملاحظہ ہواسلام میں غرم نل ق کا تو رص ۳ہ
2 قریء الام لاحم لترآن: ٣۳ /۵×
ا نک نامقتیلہ تھا۔حضرت او نے جاہلیت کے زہانہ مس طلاقی دے دئیتھی۔ نے اباری:ہ/ ٠+
۳٦ خاندانی تعلّقات
سے پت تع ل ےک کی ہیں کیا مل ان تق بفرقی رولف ضا ہوں؟ آپ
نے فرمایا: اپتی ماں کے ساتھ صل دک یکر و
ات اور روا مت سے معلوم ہنا ےک وہ طو رت قگوم, یم راورن ا یت٠یں,
لان رت امام نے میں س موس اجازت دٌۓ اور ا ن کاخ قول
کرنے سے ائکارکر دیا اور رسول الله سے دریاف تکرایا تق آپ نے الن سس ےکہاکہ
وہ ا ن کات زقو لکرش اوراگۓ گھ رھ یآ نے وی
اما دوگ فرماتے ہیں:
فیە جواز صلة القریب المیشرک ا حدیث سےمشرک رش دار کے ساتھ صل
رک یکا خوت تا یت
علامخظاث نکیا ے:
فیہ ان الرحم الکافرة توصل من ۳ × اتا جار
۱ یں مال دئبرہ ذرلیٴصل ر/
المال کما ت ۓ ٦
اھ توصل جا ۓ گی جیما رسلم رشنہ کے سات کی جا ی
اط و صحبط من ڑج ےس سے ہے تح کیا جاتا ےک کافر
نفقة الاب الکافر والام الکافرۃ ڈ2 پاپ اورکافر ما ںکا نفقہ واجب ے, چاے اولاد
ان کان الولد مسلما“ ”وب
یھ رٹ داروں ے لعاقات
قرژن مجید نے والدین ہے ساتھ رشنہ داروں کے حقو قکبھی بیان سیے خیں
ایر ان کے۔ اتی سن سلو کک پار پاد کیرک ے۔ اعادیث میں بھی ان کے ساتھ
لے ای ناب ابیۃء باب الد لکش کین لم کاب الہ باب نل احۃ کی الاق رین
نیل الاوطار:۷/٦٭۱ء ے٭ا موال مند ات وئیرہ
0 و
3 این تجر حٌنالبارل :۵ / ۲۳٣
خاندانی تعلّقات ۳2
صن سلو کا سم ہے۔ اکن پیل اورغی رس م رشع دار وفوں ہی آتے ہیں۔حض
تال اظکام می ان کے درمیان فرقی ے٠ مجن تن سلوک اور تاون اور ہھدردگی کے
یرس رشن دار تن قرادردیے گے ہیں۔ یہاں بی ایک مانوی فرقي وشاحف
گی جاری ے۔
قرآن ید نے ودراشت کے سلسے میس می قانون بیا نکیا ےک ہآ دیی کے خولی
رشتہ دار ھی ال کے وارث ہوکتے ہہ خی ررش دار وارٹ نی ہوسگتے۔ ورغا میا اس نے
ینکر دیاے:
و گل جَعَلتَ مَوَالیَ مِمًا ترک ہم نے برایک کے ےہ جو جھ دالرین اور
الَاللان وَالفْرَبُوْنْہ قرابت داد مچھوڑ جائیںء اس کے وارٹ مقر
(اف,,:۳٣۳) کروۓے ہیں۔
اسلائی تقافون ورات میس دی ن کا گی انبا رکیا گیا ہے۔ ا نک 7 سےسلم
ای سلم ایک دصرے کے وار یں ہوسکنے۔ ایک ملا نکی دراخ کان یں کے
مسلمان قرابت داروں ب یکو ہے۔ غی سم قرابت دار ال کے وار ثکیں نہویں گے
ای طرع خی رسل مکی دداخت کا می اس کے غیرسلم رشنہ داروں ب یکو حول ہیگا۔
ملمان رشتہ دار ال سےمحردم رےگا۔ رسول نکی داش عدیث ے:
لَ یرٹ المسلم الکافر و َ مسلمان نہ کاف رکا اور نےکاف رمسلمرا نکیا وارٹ
الکافر المسلم“ ہیگا۔
ورات کے بک اصول ہیں اود رشن داروں کے درممیان ایک ترتیب ے۔ ای
ا سے وہ وراشت کےجن دار ہوں گے:
وا الام بَضهُمْ لی ب]ض اہررش دا لک دسرے کے زیادوتی داد ہیں
ا بفاگءکتاب ال ؛ باب امیا سلم خر لم کاب اطرنل۔ ہس مض|و کنل سے لیے
ملاحظہ ہو جصائء اعکام القرآن: ۱۴۲۳۰۱۴۲/۳۔ نوویء شرع مسلم: ج ء جزم ااءض ۰,۵۳ ۵۳۔
شوکایء نل الاوطار: ۱۹۳-۱۹۳/1
۲۸ خاندانی تعلّقات
فی کاب اللہ ان اللة بل شی ال کے نون س۔ بے کک اللہ ہرز م
عَلِیْمْہ (الانقال:ھے) بگتاے۔
ىہ بات صرف وراش تک عدکک ہے۔ ال سے ہہ ٹف کر جو رش دار اورخومیش و
اقارب وار ث نیل ہیں ءآدی ا نکی ممداورتاو نک رگا ہے اور اس ےکنا چا ہے دقتِ
ضرورت ان کیج می وی تبھ یکی جات ہے:
وَ الو ارام بَعْصْهُمْ ول ببكُضْ اور ال دک کاب میس رشتۃ دار ایک دوسرے کے
فی کاب اللہ بن الوم وَ زیادوقریب ہیں دصرے اٹل ایان اورممات ین
المْهَاجرِینَ ا ان تَفضسلوا الیی سے۔گ مر بیکرت اپنے رفیقوں کے سات کرت
اولِیَاءِکم مُغرُوْفا کان لیک فی بھلا یکر چاہو کرت ب۶۔ پاش گل تاب
اکب مَسْطُورزا (۸ب٠۷) مںکھابواے۔
سوال بد ےگ گیا خی وارٹ سل عزیزیں اورقرابت دارو ںکی رح یرم
رشن دارو ںکی کی وی جانکق ے اوران کے لے یی تک نات ے؟ فتہاءسلف ہج
ال کا جواب اشبات میس دیا سے اسے وہ جائ لے ہیں۔ ا لک جیادسورة اذا بک
بی نکورہ بالا آ یت ے۔
حضرت عبد اوڈر بن ڑکا بیان ےک ام اون حضرت ص فی نے اپنے ایک
وی عز ہز کے لیے وی تک یھی
حفر ت کر تکی ایک روایت میں بہمیں ہ سک یتفیل ملق ے۔ وہب کہ
رت صفیننے انا ایک مکان ححضرت معاو کو یک لاکھ میس روش تکیا۔ آھوں نے
ایک عزیز سہ جو بیہودگی تھا ہکھا: گرم اعلام لے کے تو میرے وارث ہہوچا گے
کین یں نے ال نکی با نیس مانی۔ پچ انھوں نے اس کے نام وی تکردیی۔یجش
یں کے بیان کے مطابق دع تمیں جزا رای
ہے شس ش شش ہر و کی ہہ دو رہ گیٹ
ا داری ءکناپ الوصایاء پاب الوصی لابل الذ مہ ۵۱2/۳ ایل اور روایت ٹل دہ یچودگ ٹر ات دارل
کا ذکر ہے۔ ابوعبیکتاب الاموال ۔گل ۵۳۳ عبر الرزاقی:معقف:٦/ ۳٣
خاندانی تعلّقات ۲۹
انی سکئے میں
تجُوْزْوصیةالمسلم للنصرائی' ملا :فرل یکوجی تگرکتاے-
ائن جرت گے می ںکہ یس نے حخرت عطاء بن الی راع سے سور؟ اتزاب
کا آ یت کےا نرہ ا ان لوا لی آؤایا عم مر دگربیکہتم اپ ادیا ۶
کے ساتھ لئ یکرد) کے بارے جس ددیاف کیا کہ ال سکیا مراد ہے؟ فرمایا: عطاء
اور" شی ماد ہے۔ می ن کہا ہکیادونشٹی جو ایک مع اپ کاخ رقرابت دارککرا
ہے؟ آھوں ن ےکہا: ہااں۔ زندگی بیس وہ ج اسے دیتا ہے اور اپینے بعد اس کے لیے جو
ای تکرتا کے
ححفرت او سے اس نق ہک یشرع ان لفاط نل ہوئی ہے
ال ان یکون لک ذو قرابة لیس ہاں ا لک اجازت ےک تہاراکوئی قرابت دار
علی دینک فتوصی لہ بالشیء ہو وج کا دین تہارا دن شہ ہو اورتم انل کے
ولیک فی الدسب و لیس ولیک لے یی تتکرو۔ دہ رش کے لاظ ےتہارا ول
فی الدین ہےہ دین کے اط سے وٹ نہیں ے۔
خرت سن کی ن ےبھی ا کی بھی تش رع کی سے
مھ من نیہ کے می ںکہ ب آیت اس سلسلے شس نازل ہوئی ےک مان
ہودئی اورٹھرال یکو وی تکرسکتا سے بی
صلی یں وقت ضرورت فرش دینا اورقرابت دا مجبور ہوتذ قرتض موائ گر
دنا گی شائل ے۔
بد اش جن مدان نے حضرت میا سے و بچھا کہ می را ایک مشرک رشن دارمیرا
عقرب ہے ۔کیا فرش میں چھوڑ دوں؟ ھوں ن ےکھا: ال پوڑ دو اور ال کے ساتد
ا عبدالرزاقی: معن :+ / ٢ ٣۳ حال۔القہۃهك۴۸۸۷٣۳۳ سم
الہ عانق:+/ ۳۳ ٣٣
گ_ قرٹھیء البائح لاجام القرآن:٣۷/۱٣۱
7 خاندانی تعلّقات
صل بر یکروط
اسلام چاہتا ےک نیلم رشن داروں کے سا سای تعاقات ر کے جامیں
اور ان کے سا تح محبت+ پدردی اور ناو کا روب اخقیارکیا جاے۔ ا لکا ایک ذدہ گے
الف دینا ہے۔ ا ںکا شبوتڑیں حطر تع کے ایک واقے ے لا ے۔ واقع ہے رے
کہ رسول اکر جک نے حفر تع کو ایک رنٹی جوڑا طو رج بھی حضرت عمڑنے عض
کیاکہ ریشم کے استعالی سے آپ نے (مرددںکذائ فرااتے؛ ری ھکس نے
عطا ہوا ہے؟ آپ نے فرماا: یرال ےکی ہےکستم اسے پچوہ بلہ ال لیے ےک
کی اەرکام بن لا کرئی درا ذاکرہ اھ3 خر ت گر نے بے جوڑا اپنے ایک (اخاٰ)
پواٹ یکو جومشرک تےتذہم جج دبات
اس حدیث کے ذیل می امام وو فرماتے ہیں:
و فی ھٰذا کل دلیل لجواز صلة یں سب می ول ہے ائں بات کک کر
قرایت واروں کی صلہ ری اور ان کے ساتھ
حن سلوک جائتز ے۔ اس می لکغا کو ہریہ اور
جواز الھدیة الی الکفار تج کین کا جوا زبھی موجودے-
امام این گُ نے اں مضو ہتعیل سے پچ ٹکیا ےک خی سم رش دار
نادار ہو وکیا ا کا خیش حال ملمان بر واجب ہے؟ ال میں اور وراخت می سکیا فرتیق
ے؟ ووفرماۓے ہیں: اخلاف دن تک پاوجودثرایت داروں پبراناتی کے واجب ہہوئے
کی وی ق۲ نکی آ یت ہس می مرک والدبین کے بارے می کہا گیا وَصَاجِبهُمَا
فی الڈزی معز (ان کے ساتعھ دنا یس محرو فکا معامل کرو می نت اسان سے اور
الاقارب الکفار والاحسان الیھم و
نوف ےک ال باپ اور رشع دار انچالی ضرورت من اور فاق زرم ہول اور اولاد
لے ابوعبیکتآب الاموال ,گل ۵۳۲۳
٢ جخاری تاب الہیدء باب الھدیة للمش رکین۔ مسلمء کتاب اللباسء باب تحریم
استعمالء آنیة الذھب و الفضة الخ
ع ووی شر ملم: بٴ۵ بجز ۱۳,ص ۳۹
خاندانی تعلّقات 2
نل حال ہونے کے پاوجدا نکوس می کے عال بیس بچھوڑ دے۔ اود تعالیٰ نے صل
م اعم دیا ہے اونٹع رک مکی نز تکی ہے حدیت میں ے: لأَ دحل اْجنة قاط
خمث(سلمل( شع رت مکرنے والا جنت می دا لیس ہوگا)۔ برصائء ری کے خلاف ہے
کہ ایک مسلمان صاحب حشیت ہونے کے باوجود النا یم سم رشن دارول پ انفاتی نہ
کرے جوکھوکے پیا سے اورل اس کے متا ہیں ۔آ گے فرماتے ہیں :
و صلة الرحم واجبة و ان کانت صلہ گی داجعب ہے جس سے بعک ہے
۰ چا دہکاف رق کیوں نہ ہو۔ اس کے لیے اں
گار للا ار لاواضل شے "این اورصلہز یکرنے وال ےکا ابا دہینی۔
بض لوگوں نے انفا یکو وراشت پر قیا کیا ےک مصلمان او رکافر ایک
وومرے کے وار یں ہوتےء ای طرع ان کا نف ہکھی لاز میں ہنا چاہچ۔ علامہ
ابن تھفرماتے من یتاج نہیں ہے۔ میرا ٹکیا نیادنضرت ومایت او روالات
ہے۔ این کے رخلاف نف قکاتحلق صلی اورثرابت کےکم وت سے ہے۔ علم ایمان
کی وجہ سے قرابت دار کے دییوگی توق سا یں ہہوتے_
الدتعال یک فان گر
واغمْڈوا اللہ وَلَ موا بہ شا و ال عاد تکرو او اس کے ساتح دی چک
الوالیْن اِساناً و بی القرٰی و شریک نکرہ اور والدین کے ساتھ اصان کا
ایعْمی و الْمَسلكیْنِ و الْجَارِ ذٰیٔ روب افقیا زگرہ اور رایت داروںء شھوں,ء
لی وَ اجار الب وَ الصاجب میفوں:قرایت وائے ہم سای انی ہم سا
بالجَنْب وَابْن السبِيْلِ وم مَلگٹْ اور ساد ٹن وانے جم ساب اور سافروں اور
آیمالگم (الضہاء:۳۷) نلاموں کے سا تی تن سلو ککرو_
اس آبیت میں جن لوگوں کے اتی ون سلو کا عم سے ا ن کا تن واجب
ہے چاے دہ کافر بی کیوں نہ ہوں۔ ال سے قراہت دارو ںکو غار نٹ لکیا جاسکا۔
لے اجکام ائل الزم,جلد ۳ء۹۱۷ ے۔ ۹۳ے
ارگ خاندانی تعلّقات
صاع کا سب سےہمایاں پہلوضرورت پرانای یب
۳ رکم والین اورقر اہت داروں ےل قد ببرعال ہوتاہے۔ اسلام نے
ان کے زا می تیم دی ہے۔ ان کے دکھ درد یل کام آنےء الع نے جو یگوار
نعلقات رگۓ اوران کے س ات رتسصن سلو کی ہا تکی ہے نین جلی ساکع لکیاگیاہ
اگوہ رن سے پھیرن ےک یکوش شک ری اور ال تال کی صحصیت اود ال سے بخاو تی
راہ پر نے چاتا چاہیں تا نکی اطاع تک بت بای کی جا ۓگ اور دی نکی سربلندی
کی راہ میس ماقم ہوں نو ا نکا متقاي ہج کیا جا ۓگاءننن ان کے دنیدکی عق ادا سے
جات رہیں گےہ ان می سکوتای نہ ہوگی-
ا
۴۳
عام انما ی تعاقات
( صن سلوںکیعموی بدایات)
0ی ےک ہق رن مجید نے غی رسلم والدین کے ساتمی رصن سلو کا
الفافوصرع عم دا ہے۔ ای طر غی سم رشن داربھی ازروۓ شرع حن سلویک کے
تن ہیں۔ ان کے تانونی حوق بھی ہیں_ جن خی رسلموں سے خون اور رشن اتاق
میں ہہ ان کےسلسلے می ںکموٹی ہدایات ہیںہ جن میں لم اور خی لم دوفوں شائل
ہیں تن اخلاقی ہدایات ملمانو ںکوخطا بکر کے د کی ہیں ہلان ان ہدایات پل
مسلمافو ںکی طرج خی رسلموں کے سللے می ںبھی ہوگاء دفٰوں کے سا ھ الک الک ریہ
ٹس افقیا کیا جاۓ گا۔ خائص بات ب کہ غی رمسلموں سے ساق ون سلوک کے ذیل
میں پچ شبہا تکور شع جھ یکیایا ہے۔ ذبل یس ان پیلک ںکی وضاح تک یکوشش کی
جا گی۔
قرآن مجید می والدین اود قرایت داروں کے علاوہ جیوںء مکینوںء
پڈییوںء مسمافروں اور نماموں کے سراتی سن سلو کا مم دیاگھیا سے اوران کے ساتھ
یر اخلاتی سلو کی مذم تک یگئی ےن مہ عا مگم ے۔ اس لیے صن سلوک ان بش
سے ہرایک کے ساتحمطلوب ہے۔ یں میں سسلم اور غی سس مکاکوئی فر ق نہیں ہے جس
تتحیل ہے لے رکھی جا رام کی کتاب اسلام مم خدمت علق کا تھور باب 'خدمت کے
نی ہیں
7 عام انسانی تعلقات
کسی کے ساقھ ھی خی راخلاتی ردیہاخقیا کیا جات ےگا دہ خی راسلائی ریہ ہنگا-
ق رن یی دکی ا نعموئی تعلیمات میس قیریوں کے سات رصن سلو کبھی ہے۔
ا ںکانعل فرداورریاست دفوں سے ے۔ یس می جگی مات اورسابی خزاکمتی بھی
شال ہوجائی ہیں, ین اں کے پاوجودمسلرائوں نے ان کے ساتھ جو مبذب اورشریفانہ
روم اخقیارکیا ال سے سای ا نعموٹی تعلیدا تک و مچھا جاسکتا ہے
خی رسسلم قیربیں کے اتی صن سوک
انان جب خدا او رآخر تکوفرامش لکر با سے تو اس کے پاتھوں اپنے بی
یس دوسرے انسانوں 22 رہ پااے۔ مم زورولء ناواروںء تیموں اور
صینوں ر2 ڈھائنے اوران کےحقوقی برصت درا زک یکر گت ےس پ بات قرآن
مر یں متعددمقامدات 7 سے اں کے بمخلاف غدا کے کیک پٹرو یکا گروار وہ
ان الفاظ مل ان اتا بے
و یُطِمُوْنَ الطْعَامَ لی حُبّه مِسْکیْتاً اور وہ کھاناکھاا ۓ یہ ا کی خوائش اورطلب
و ری ریری و وریو عھ سم موان
ےو 7 "۷بت ہمت تسجیں صرف الل کی رضا کے لی ےکا
و لللارا کک ید ےر کرت رک
شگوراہ ہیں۔ یی فو اپنے رب سے اس دع کے عذاب
(الدھر:۱۰-۸) کا ڈر سے جوخت مصییبت دالا اورطویل ہہگا۔
مواشرہ ک ےکم زور افرا دکوکھا ا کھلاناء خدا کے کیک بندوں کے مو یکردارکی
ایک علامت ہے۔ اس سے ا نکی پور زندگی کار مھا چاسکتا ہے۔ یہاں ای
پہلوڑرے ا ںکا زگ رکیا گیا ے۔ مطلب کہ دم زوا نو ہے سہارا نیش چچھوڑتےء
مال کےطور بر ملاحظہہو۔ سور اف ر: ے1۹-۱ءسورۃ ال :ےا ءسورۃ الردثر: ۴۴۔ ا کی پیر
تفصیل کے لے ملاحظہ ہورقم کا مقالہشکم زور۔ اسلام کے سایہ می مطبوص ماہ نام زنرگیا رام ہیں
احستتا وم۱۹۸
عام انسانی تعلقات ۵"
مکلات میس ان کےکا مآ تے ہیںہ ا عکوکھلاتے پلاتے اود ا نکی ہرطرح سے یدد
کرتے ہیں اود ا نکی ضروریا کو اپٹی ضروریات برمقدیم رکنے ہیں۔
یہاں قیوں اور یتوں کے ساتھ قیرییں کا بھی دذکر ے۔ ا کا ىہ بیہاو
بہت ام ےکم اوزیینں چاے اپنے ہوں یا پراے ان کاتعل کسی بھی قوم اور طبقہ
سے ہو ا نکی ہےکسی اورمظلو کا اساس پایا جاتا ہے۔ می اتا ںآ دئی کے اندد ان
سے ہندددگی کے جذ بات ابھارتا ے۔ وہ انی ح دمرے پا خِکرے ایل بددکا ببرعال
کی جھتا ے۔صرف شض القلب اورخوونش انسان دی ان چذیا تکو دہا کت ےد
جن قیربیں کا معالمہاں لف ہے۔ دہ سای جم تھے جاتے ہیںء ان کے ساتحد
ہعدددگ کا دہ جزہ عام عالات میں مفقود ہوا ے جوکسی میم ملین کے سال میس پایا
جانا ہے۔ ای وجہ سے قیریوں کے ساتھ دنا یش بہت بی براسلوک ہوتا رہا ےء میں
سخت سے مخت اہی دئی جالی یہ دہ کا لکٹھریوں مس پڈے پڑےشقم ہوجاتے
جھہ باہر لکل فو پاتھوں یس ڈکڑہاں اور پبروں میس ہیڑیاں ہہونی یہ ا نکی ضردریات
گی کی وی مین صور تن وگیں بسا اوقات کیک پر ان کاگزارہ بہوتا تھا۔ ان
عالات ٹل اسلام نے اپنے مان والوں کے اندد قیدیوں کے بجرم اورگناہ گار ہہونے
سے زیادہ ان کے مان اد ہزنندقی کے مجن بے ےکا جذ ہہ ابھارا-
بہآیت سرة دہ رگ ہے۔ عام طود پر علاء نے اسے مدکی قرار دیا ےی
حفرت عبد او بن عبائء مقائل کی اود می بن سلاام نے اس ےگ کہا ہے۔ ا یکا
انار سورہ کے این سے وٹ ہے ۔ ملیہ کے اصفاپ ۶وت اور زررس تم ینوں اور
بیسوں کے سات" ٹس شقاوت اور بے دی کا سلو ککرتے تہ قیرییں کے ساتھ ا ن کا
سلوک اس سمل ف نیس رہا ہوگا۔ اسلام نے اس پپدے دوہ پر تقیدکی اور انٹر کے
تیک بندو ںکیتحری فک یکہ دیعلم و جور ک ےچک مس سے ہہوئے قیریو ںکو اتی محبت اور
تن لوک سے راحت پاٹچا رہے ہیں۔ یہ بات جس لی منظ می سک یکئی سے اور ملا
۴۲" عام انسانی تعلقات
جوصورت حا لتھی اس میں سلینء ٹیم اور قیری مسلمانوں سے زیادہ خی رسلم ہی تھے کی
دور می شسگومسلمان ببہ تھوڑی تقداد ٹیس تھے ,لیکن ا نکی نوم ام رکر سان ۓآ زی
ان یم زوروں کے ساتھ ا نکا ردیہ ہدددگء بت اور انمان دو کا ے-
مشپور جا بی مفس تمہ نے اسر سے خلام عرادلیا سے
خلا بھی ایک طر کی قید ہی ہے۔ ق رآن ید نے بند خلائ یکونوڑنے
اور خلامو ںکو 1 زا در نک یح بک شرو ع کی او ترغیب و نشی سے ذریتہ اے
آکے بڑعایا۔
مین جس جب اسلائی ریاست تائم ہوئی نو الد کے ان کیک بندوں نے
قیربیں کے ۔اتھ جس صن سلوک کا مظاہر ٥کیا ا کی مثال پر سای جار یی
ہی ںکریق۔
اس بج ٹکو1 کے بڑھانے سے پیل می دک لی سک اسر سے ا لیت میں
سخ م کے قیدی مراد ہیں؟
ہرریاست ٹج فاص اعم کے ترائم کے ارطکاب پر اپنے ش ریو ںکوقی و بن دک
زا دق ہے۔ بیش کی یا گگی قوی ہیں۔ ریاست عالتہ جنگ میں ہوے کن کے افراد
بھی قیری ہناے جاتے ہیں۔ یں غیرگی قیر کہا جاسکنا ہے۔ ا ںآیت کے یل مٹش
دوٰوں طر حکی رانھیںکتقی ہیں يے
حفرت عبالشد بن عبا اف مات ہیں:
الاسیر من اہل الٗشرک یکون فی امیر وہ ہے جس انل مشرکین سے ہے جھ
ایدیھم. ملمانوں کے اھ میں (قیری)ے۔
بج یی رفاو اورسعید بن جھیڑرن ےکی ہے۔حفرت اد کے ہیں:
ا ای نک رففیر: م/ ۵ہ
ف۷ این جزرففیر: جزمء ۲۹ ءک ۱۳۰۰۱٢۲۹
عام انسانی تعلقات ۓ|
لقد امر اللہ بالسری ان یحسن ال تعال ی نے قیربیں سے ۔اتی صن سو کا
الیھم و ان اسراہم یومئذ ہل گم دیاے اور اں دور شش ان کے قیری انل
الش وک شک ہی ہوتے تے۔
این جرع کتے میں:
لم یکن الاسیر یومٹذ الا من اس زانہ میں دی مرلین ہی میں ے
المشر کین۔ ہبوت تھے۔
علامہالوعبید ا قوّ لوف لک کے فرماتے ہیں:
یرید ان الله تعالٰی قد حمد علی ان کا مطلب ہہ ےک اللتاٹیٰ نے مشرکی نکو
اطعام المشر کین کھلانے پرتتری فکی ے۔
خرت عطاء جن الی ربا ککتے ہی ںک سیر ال قبلہ (ملمان) اور خی ال
تر ر) دونوں بی ہوسکۓ یں۔
امام ری نے اسے ایک جا ققول قفرار دیا ہے۔ ال کے بعدفرمات ہیں:
مرک قد یکوکھاناکھطانا بھی اتال سے قرب ت کا ذربیہ ےہ امت ا پر خر فل
صلدقات ےکی بل صدقات سے ہوگا بت
امام این جبطج رٹکیا می راے ہے۔ دہفرماتے ہی ںک ای کا لفظ عام
نت دو یھی ہکا سے جھ جنگ می سگرقوار متا ہے اور ائل لہ مل ے بھی وس
ہہ نج ےکی جم ش گر رکیا گیا وہ یہاں کیک بندو ںک تتری فک یگئی ہ ےک وہ
س ای ضا اودال سےتقرب کے لیے اود جذ ہرم سے ھی سکھلاتے ہیں۔
نے یسی۔ یہ بات قیام کک کے لیے سے
7 تقریء الا لاجام الترآن:۱۲۹/۱۹
٣ اوئبی ںکتاب الاعوال:گ ۳۴۳ھ۵۔
کا ترٹیء ایام لاحام الترآن:۹/۱۹٣۱
گج ائن بی .فیر: جزم ۲۹,ص۰١ ۳
۴۸ عام انسانی تعلقات
علامہ اکر جصائص سک می ںکہ یہالں اسر سے مراوسنشٹرک قیدی ہیں۔ ا نکی
ول یہ ےک ملران قیرعکوی الاطلاق سی نی سکہا جاا۔ اس کے بحدفرماتے ہیں
کذایترے وبا تا ےکہ یر یکوکھا نا کھلاناء انڈد س ےکر بکا ذریچہ ے۔آییت
کے الفاظ سے بظاہر ب بھی معلوم ہونا ےک ہمشرک قیدبیں پر ہرطرع کے اسوالي
صدقات صرف سے جاسکتے ہیں ہن (جلی اہ پیہگزر چکا) ہمادے اصحا بک رائے
بو ےلہال ے ووصدقا ت گا ہیں,ءجن کے صصو لک رن ےکامن حا مکو سے
رسول اکم جک اور صحا کرام نے قیربیں کے ساتھ جوسلو ککیا وہ ان
تق ما تک اممکی وت ے۔
نک بدد می مشرکین کےست دی مارے گے اورستر ہی قرکی بنائۓے گئى
رسول الد نے قرب ںکوصحا کر کے ورمیا نی مکر دہا اونمیحت فرب کہ ان کے
ساتھ اچھا سلو کیا جا ےی ای پل ضط ہوا ا ں کا ذائی تُر تر مصعب
بی یڑ کے بھائی ابوعزی بی نگمی رکی زبالی سن :
وہ ال چک میں نفر بن عارث کے بح د مرن کم بردار تے۔فرماۓے
ہیس اہی ںبجض انار کے حوال ےکی گیا۔ رسول وٹ یق ھکی نشح ت کا ان پر بی اث تھا
01 دشا مکھانے کے وقت بج روئ یکھاا تۓے اورخو چو رک ھکر رہ جاتے۔ ان مل
ےکس یکوروٹی کا ای کگڑا بھی اتا نو مھ دے دیتاء اسے پاتحھ نہ لگاتا تھا اں سے بے
ے امام القرآن: ۳۰ہ
گ بخارگی کاب المغازیی۔ این بشام ٹس س ےک قیدی ستاون تے ان میس شی ت کا نام متام
کر ے۔ این ہشام ۳۷2-۳۷۴/۳ تو نگ تنداد می اورگھی اخلافات ہیں٠ بار گا
روایت جع اورممتر ے۔ ملاحظہ ہو ای نکر ال لسیرة النبویة ۲۵۷/۳ء ۳۷۳
٣ اوردی نے یک زورسی روا یت نف لک ےک مھاجرین ٹس سے سات افراد نے بددگا
قید بی ںک یکفاات کا بویچھا اٹھایا تھا۔ ان کے نام ىہ ہیں ۔ حظرات الوکرہ عمرہ می ز ہبہ عبد الین
بن حوف, سعیر بن العاک اور الو تبیرہ 7 7 ماردء النکت والعیون: 27
نار کے سلس ےک خی ل نظ ر ےن ںکگزری۔
عام انسانی تعلقات ۴
ش نس یمسوں ہو تی
بی جنگ بدد کے قرو ںکا ذکہ ہے۔ اود قیدییں کے سات دبھی بی مہرب اور
شریفانہ روم انقتیارکیا گیا خر ت سن لص فرماتے ہیں:
کان رسول الله صلی الله عليہ ول اش کچ کے پا قیدی ایا جاتا 5 آپ
وسلم بڑتی بالاسیر فیدفعہ الی رگ ان کے جال ۔ردیتے اود فرماتے
بعض المسلمین فیقول احسن کہ اس کے ساتھ اچھا سلو ککرے۔ یہ قیری
اليہ فیکون عندہ الیومین والغلائة اس کے پا دو تین دن رہتا اور وو مسلیان ال
فیوثرہ علی نفس“ کی ضرودا تکو اتی ضروریات پت بی رتا تھا
ہن در کے قیریوں بی کے ساسل ہکا واقعہ ےک حخرتجڑنے رسول الڈ چا
سےعر سکیا کہ اجازت جوف بی کیل بن عمرد کے اگے داعت نذڑ دوں ء تاکہ ا ںیک
نہان پاہرنھل ہے اور وم ران آپ کے خلاف اپ خطابت کا مظاہرہ نکر ے۔
آپ نے ارشادف ایک ہاگمر میس (اس طر کی ) زا دوں و الد تعالی بھےبھی مزا دے
کا ہے ءکوکہ یس نا ہوں۔ ایک اود روایت میس ہے :گنن ہ ےک یکل دکسی ایی
حیأیت میں ہو جوتقہارے لیے ناگوارنہ ہوں
اں مس شک نیو کہ موجودہ دور میں گی قیربیں اور قد نانوں سم تخلق
قوا ین موجود ہیں اور اصلاعات ہوئی یہ گی قیربوں کے بارے میس بھی بت چنا دی
اصول لیم سے جاتے ہیں ہین ایک تا نکا چا زیادردے اف ٹم ہے دوسرے بے
گان اعلاعات او قوانین کاتھلق ریاست سے ہے ام ان سے خی تلق ات
ہیںہ آگیں ان یں ان سے وگ ی نہیں پر اہولی۔ اسلام نے دیاست کے ساتھھ اس کے ایک
ایک فرد یس قیرییں سے ہجدددکی کے جذبات پیدا یے۔ اس کے تج میں جارں نے ہے
3 ان ہشام : سیرة ا:۲ /۰۲۷۵۷ء۲۵ گے ننششریہ الکخافمن ال التر ل :۱۹۷/7
جو ابع ہشام سیرة افی:۲۷۰/۲,٣۷٣
۵۰ عام انسانی تعلقات
کیارنامہ دیکھا کہ جوقوم اسلام کے مات والوں سے بمصر پیا یی اور جھ یں نینج تر
اور ما کے دد پگ ال کے افراد چپ میران جک سےگرقار ہوک 1 ۓ نو انھوں
نے خود ملیف اٹھاکر ان قی یو ںکو راحت پپچائیء خود چھوکے رہے ا ری سوک یکھاکر
پھجیں ابچھا کھلا یا پا یا ا نکی ضروریا تکو اپٹی ضرددیات پر عقمم رکھا۔ ال نکیا بے سار
خدمت بے لوٹ اور ہے غف تیاء دہ نام ونمونیں جات ےہ آھیںکسی صلی تنا نہ
تھی۔ ان کے ساس صرف الل دک رضا ایآ لک خی ٹوو یتھی۔ وہ جو پچےکرتے جے
ای کے لی ےکر ےج
اس رع الام نے تا یا کہ خی رگی اور ھنوں کے صف سےگرفار ہوئے
وانے قیری بھی بترسلویک سے سخ ہیں٠ ان کے ساتھ غیمر انسالی دومہ اخقیارکرنا اور
یں ذہنی اذیت پپٹیانا ناروا ہے۔ وہ کون ہیں مان انسان ہیں۔ جب دہ اپنے موق
اص٥ لکرنے می آ زاونیں ہیں نے ان سے انسالی وق کا ازام ہارا فرش ے۔
راس تکو یو بھی ےک گر اس کے مفادا تکونقصان کی ےکا خطرہ شہ ہوق ریہ لے
کر پا بقیرفدیہ کے آھی ںآ زا دکردے۔ رسب بای اسلام کے توائینا جک کا کیک
حصہ ہیں۔ ان سے دنیانے بک و کے ٹین الاقوائی اصول وآ داب ککھے اور بہ تک
اصلاحا تگیں۔ ا ںکی خی ل کا ہرمو ٹج نمیں ے۔ یہاں نذ وین کے قیرییں کے ساتھ
سجن سلوک کا ذکر ہورہا ےج 07 الام کلم وی اور کا ای نمودریں ے
مان والواں نے می ںکیا۔
یض لوگوں نے سورٗ وہ رکی زی پٹ آ یت کاتعلق مسلمان قیرییں بھی
جوڑا ہے ظاہر سے 2 پان اور خی گی قیرہیں کے ساتی صن سلو کا جونھونہ
ڑکیا میا ے.مسلران قیدبیں کے سللے یں اس سے ببتررویہ یک ف کا جاقی
ہے۔حفرت اڈ کے ہیں:
کان اسیرھم یومئذ المشرک و اس ووقت ان کے قیدری مشرک تچ (ان ے
عام انسانی تعلقات ا۵
ہے ا سمی وت
(اور ا ںکی ضردریا تکا خیال رکھو)۔
ام ا بیس نے قیدربیں کےسللے میں اص یتفصبیل سے بج کی ے۔
فرزیاتے ہ سکس ینف کو وفق و راد دی وف ری 2 سگرفارکیا جا ت
و صاحبحثیت نے ای گے ال تھے ان پچ کیا جاے من ناوار ے اور
زندہ رہ ےکا ساما ننجی لکرسکتا تق اس پر صد کیا جائےء یا بیت المال سے ال رصرف
کیا جائےہ دفول ہی صوریں انی کی چ اتی ہیں سن میرے نزد یک پہندیدہ بات
ےکہ ہبیت المال ا یکا خر برداش تک.رے_
زیدفرماتے ہی ںکہ جب ایک مرک قید یکوکھلانا پلانا اود ال کے ساتھ
صن سلو ککرن ضروری ہے تو ملا نمی می یا گناہ کا انا بکر ٹیھے فو سے نوک
سے مرنے کے لی ےکسے بھوڑا جاسکتا ے؟
ملمان غافاء* قی یں کےکھانے پنٹیے اورسردیگری یں ان کےلپا س کان م
کیاکرتے تھے سب سے پل تحت می بن الی الاب نے عراقی یل اود پل رحضرت
معادیڈنے شام یں اس پل لکیا۔
ای کے بعد امام ابو ایسف نے قیر او ںکی اصلا ںکی تھاویز جی کی ہیں
اعلا مکی رو ہے ے گی قیدر یں کے ساتق بھی اورشرکی قیرییں کے سراتھ
بھی کبتر سے کہت لوک ہو۔ اسلائی جا رن ابی کا شموت فراہ مکرتی رہی ہے۔ اس کے
لیے جوقواعد وضواببا بنائے جائیں ٠ ان می رو کادفرا ہوٹی جچاے۔
یم ۶ پڑبیوں کے ساتھ نعلقات
اسلا مکی مموئی لیا تکو ھن کے لیے ایک اودمال خی رسلم پڑھییوں سے
ا این جتربیطبری فی : زم ۷۹ء صشص۳۰۔ زتشریء اللاف: ۱۹۷/۳
۳ الو لیف کتاب الفراعءض ۱۵۱-۱٢۹
۵۳ عام انسانی تعلقات
نعلقاتکی ے۔
انمان کا مم سب سے قرج تلق جس کے پڑوں سے ب تا ے۔ تلق جتا
مضبوطا ہو وہ اتا بی سکون اور نمیا سی ںکرتا ہے۔ اکر یکو بین بہوکہ پڑی الں
کے لیے خطر:نڑیں سے اس سے اس ےکوئی مقصان اورگزن نیس یکاہ بکمہ ا کیا جان
مال اورعمزت وآ بر و تفوظ رے 77 لم دراحت ٹیل شریک
ہکا و وہ بک س لی اورول تھی کے ساتج ھکاروہار حیات ین اق نے دراری او ارتا
ے, ورتہ وہ خّت رٹوار یں سےگزرےگا۔ اسلام نے انسا نک مبرین پڑ دی نی ےکی
تم ری ہے۔ ول ا پچ کا ااشادے:
من کان یومن باللہ والیوم ااخخر جوف اللداورآخرت پر ایمان رکتا ے اے
فلا یؤذ از اپنے پڑو یکواذی نیس باٹپالی چاے-
رت ایوذرخفارک ککتے ہی کہ مر ےحبوب ( یك )نے ججھ سے ”اکر کے
ات فبایا کہ جب سالن ہکات پا بڑھا د اود اپنے پڈیییوں بس سے جس سےگحم
ضرورت ہوا مین سے پکھ ا ےکگ روۓ
پڑدہیوںکی خرضت اور الع سے ترصن سلو بک یتعلیم عام ہبے۔ اس کے
تح ملمان پڑو یکی طرح خی رسلم پڑ و بھی ہیں۔
ایک عری صطرت عبد الد جن عر کے پان برا ہوئی و ای کے
گھردالوں سے ایک سے دو بار ددیاف تکیا کہ ہمارے فلال بیودگی پڑڈیکواس یی سے
پیا ہے؟ اس لی ےک رسول الل پچ نے فما کہ نل جے پڑیں کے سللے ٹس
اس فدرتاکیدرکرتے تےکہ مھے خیال ہہت تھاکہ دہ اسے وارث نہ بناد یک
ال حدیث کے جھوانے سے علامہ رشید رضا مکی کے ہیں:
لے الودادءکناب الادبء جاب ٹین الوار
سی مس کاب البروالصاندء باب الوصیۃ با ار والاصان الیہ
و الوداؤد کاب الادبء باب ٹم الجوار
عام انسانی تعلقات ۵۳
هٰذا دلیل علی ان ابن عمر فھم من یہ ای با تک دیل ےک عخرت عبد ال بین گڑ
الوصایا المطلقة فی الجسار اتھا نے پڑیں کے اون ساوک کے سلسلے ہیس جھ
کت کے ملق کید کی ہیں ان سے کچھ اکہان میش
تشمل رو و ر مسلم اورخی سکم دونوں شائل ہیں۔ خر تعپد الڈ
ناھیک بفھمہ و علمە* بن گڑکاعلم وٹ ھا رے لی ےکائی حاچاے۔
ال کے بعد پڑ بیو ںکا من بیا نکرتے ہو کھت ہیں:
و من الاحسان الی الجار الاھداء پڑڑی کے ساقونن لوک می ببھی شئل
نے ہد او رکف دیا جائۓ ەکھانے بی بلایا
جا اود ملاقات اورعیادت کے ذر لیے ا کی
بالزیارۃ والعیادۃ“ مکی یک جائی رےد
قرآن یرش پڑد یی 1 'الجار الجنب' تال ٗی ہے۔ لیت علاء
نے اس سے بہودگی اورنھرانی مراد لیے ہیں۔ ال جوانے سے عم ق ری سکتے ہیں :
فالوصاۃ بالجار ما مور بھا مندوبب پڑوی کے ساتحد صن سلوک کا عم ہے۔ ہے
الیھا کان او کافرا٣ .موی رت
و یا کاٹر-
آاں ۓ ضاف وا ہےکہ اسلا مکی اخلاقی لے عام ہیںء ان )تق
صصرف ملانوں ےکیں ہے۔ان ہ۰ل جس طر اسلام کے مات والوں کے ساتھ
ہک ای طر وگر زاہب والوں کے سات بھی ہہوگا_
مارانوں تلق بہدایات می فی لی بھی 7 ہیں
:. قرآن دحدی ٹک بہ تک تقلمات وہ ہیںہ جوسلم معاشرہ کے ٹیش نظ دی
4 گیں۔ان ین بنا گیا ےک ہ ایک مسلما ن کا ووسرےملمان کے سات ھکیا رو ہونا
جا ہے؟ مین منوئ لاظ سے یہ عام ہدایات ہیںہ ان سے خیرم خارج نیس ہیں۔
الیه و دعوته الی الطعام و تعاهدہ
ا رشید رضاتفیرامنار:۷/۵٭ ہعلق
۶ قرٹیء الا لاحام الترآن: ۱۸۳/۵
۵٥ عام انسانی تعلقات
ایک ملا نکو دوسرے مسلران کے ساتھ جوسلو ککرنا چا ہے ودی سلوک خی رسللم کے
سات بھی ال کا ہونا جاجۓے۔ وینوں کے سللے میں وو ایک روۓ وہ اخیارگی سک کا_
اس طر کی ددایک تقایماتکا یہاں ذک کیا جا رہااے۔
من اصہ امام بفار یی الاب امفردہ طب رای اورقابقی میں ححضرت عبد ال جن
مس موی ردایت ےک رسول اللہ نے ارشادفمایا:
اجیبوا الداعی ولاً ترڈوا الھدیة ہجوت دتے وال ےکی وت قو لکرو پر یکو
ولاً تضربوا المسلمین۔ وایں م تکرو اوسلمانو ںکوزو وکوب ص تکرو_
فحیت اور پر قول کر نے کے بج ھآ داب ہیں۔ ییہاں ا ن کا ذک یں ہے۔
1نی نقرہ سے ' ول تضربو المسلمین' علامہ مناوئی ا لک شرح یش فرماتے ہیں:
مسلرانو ںکومت ماروسواۓ ال ک ےک ان 27 عد لان مآجاے اکا کی پتادب
کرلی ڈڑے۔ ان کے ساتھ اطف دوعحب ت کا معالل کرو۔ می رسول اڈ می کا اسوہ تھا۔
آپ ےکی ام یا لام یا ون یکو اپنے تہ سےلبھینیں مارا گی سے قریب تر
روبہ ہہ ےک تقو و ورگزر سےکام لیا جائے۔ملما نکو بلا وجہمارنا گنا ٥کیرہ ہے۔ ال
کے بحدفرماتے مہیں:
و التعبیر بالمسلم غالبی فمن للە ملمان کا کہ اب صورت عال (م
0 معاشرہ) کے ٹیش نظ رہ ودنہ انسلائی دیاصت
ذمة او عھد معتبر یحرم ضربۂ میں جوزی سے پا جس کسام مم رعہرو
تعدا پان ہے نان اسے مارنا بھی ترام ہے۔
کسی مسلم پا خی مل مکو زد وکو بکرن خلط اخلاقا تک ایک مثال ہے۔ ای
سے اس حدیث یش کیاکی ےئ بات ہہ ہ ےک بھی غلاخلاقی رو ےک اسلام
نے اجاز تنڑیں دی ے۔ ایک ملا نکا جو رویہ ہونا چایے ال کا اندازہ ایک دوسری
عدیث ے ہا ے۔
مناوبی فیض القدمر شر الا ال :۱ / ۱۷٦
عام انسانی تعلقات ۵۵
این ماجرکی ردایت ے_
اذا استشار احدکم انحا٥ فلیشر عليہ خم بس سےشصی سے ا کا بھائی مشور ہکرے تو
سے( ج) مشورورے۔
علادہ مناوگی فرماتے ہی کہا ںکا مطلب ىہ ےک کوئی ملمان اپنے مسلمان
بھائی ےکی دٹی معاملہ یش مخوروطل بکرے و جو بات ای کےجق میس بہت ہواس یکا
مفورہ دے ورن حر یث مل ۲1 س ےکا کے سا تع ضیانت ہیگی۔ یں لیے جرخوای
انم ہے۔اں کے بعدفرماتے ہیں:
ذکر الاخ غالبیء فلو استشار ذمی بھائ کا ذکر اب صورت عال (مسلم معاشرہ)
کان کنالک'“ کی بنا بر ہے۔ اگ رکوئی ذئی مشودءکرے تو ا یکا
بھی یکم ہے۔
اں تقیقت سے انا نی سکیا جاسکتا کہ اسلام نے غیرسلمسوں سے رپا حا
سےایںئئع نی کیا ہے۔ مینقیہ بکمہ ا کیا ہایت ہہ ہےکہ ان کے سادحبتہ
ہعدردگی اود مر خوائی کا ردب ایا رکیا جائےہ ان سے خو لی رشن ہوتذ ا یکا اترا مکیا
جائۓےء برمثیت انسان ان کےتقوق ادا کے جاہیں۔ وقت ضمرورت ا نکی خدص تکرنا
اوران کے دک درد شی کامآ نا ال کے نز دیک ایک بین یدوشل اورکارقذاب ہے۔ ال
سللے میں اک بج ذہن یتحفیات تھ نو اسلام نے امیس رٹکیا ہے اود یتم کے ہیف و
شکو بائی رٹنگیں دیاے۔
ا ار خر جکرنا بھی خداکی راہ شش انفاقی ے
خرن ید نے ال خیا لگا اصلا کی کہ انفاقی صرف مسلمانوں پر ہونا
پاہینے۔ ای نے وا کیا کہ خی رسلموں کے کے دددٹ شکام آ نا اور ا نکی بی دوکرن
ھی راو دا انفاقی ہیکی لن رت ے۔
لے مناوئی: فی الق ٢٤۵/١:
۵۲ عام انسانی تعلقات
سور٤ بقرہ یش ایک مہ راو خدا یس انفاق کا ذکر ےه ا لکی ترغیب سے
اخلائ اور نے نشی کے ساتھ خر کرنے اود نام ونمود اود ریا کاری سے شچ کا کید
سے کلک گے ہرط یق ے انفاققکاگم سے نما طور پان لوگو کی طرف نوج رکرنے
کی ہدایت سے جو وست سوال درا زی سکرتے۔ (1 مت۹۱٢۲٢ك۲2) تن ا نتفعیلات
ہے بے یش ا کفآی ت لی ثت جو قابل ور ے او رہمارے مم ضورع سے الس کا خاضصل
تلق ے۔ الشاد ے:
سس غلیک ہمد ہم ون اللة (اے تا ) آپ پان کو ایت ہشن دیے
نی من با وَما فقو و خی گاف کس ے۔ ابد الل تھے چاتاے
فی و وق کی ری ہہایت سے نوازتا ہے۔تم جوکھی مال انی راہ
اقیم بَ یں : کت میں خر جکروگے اس کا فدہ تم ہ یکو یچ گا۔
وو اللہ وس تنفقذا من خی وش (د یھی تم اولکی رضا یک لیے خر جکرتے
لَيْكُمْ وَايْمْ لأَنْطْلموزَہ - ہو تم جھ ما لبھی خر کرت وا کا بدا بدلہ
(ۃ٠:۷٢٢) شھیں دبا جا گا انار ت نی ند ہوگی۔
ىآ یت یہا ںکیوں آئی ہے؟ ہں کا صل مضمون س ےکی تلق ہے؟ اس
پارے می فی میں تنعددروایا تلق ہیں ان ٹیش ےنت مہ میں۔
حضرتکبر الد :نکیا گی روایت ے کہ رسول الد پک 71 بہدایت یی اسان
جھ پحرصدقہ و خی را تکریں وہ مسلمانوں پرکریں۔ ال پہ بےآیمت نازل ہوئیٔ
ایک ردایت میس ا عمائح تکی وجکھی بیان ہوئی ے۔ سعید بین جم کے
ہی ںکہ ذمیوں میں جو حاجت مند ہوتے مسلمان ان پر انفا یکیاکاۓے تے۔ جب
مسلمرانوں بی بیں حاجت مندو ںکی حرادزیاد: مَّۃ آپ نے فررایا:
لا تتصدقوا الإ علی امل دینکم اپنے ہم رہب لوگیں ہی برقم صدقہ دشرا تکرو-
اں پر ایت ازل ہوئی اور ان لوگں بھی خر کر ےکا اجازت گی
ای نکی تی لترآن اعئم:١ / ٣٣۶۴۳٣۲۳
عام انسانی تعلقات ے۵
چو دائرٗ الام سے باہر ہیں
حخرت عبد ال بن عمائ کیا ایگ اور ددابیت ہے۔ فرماتے ہیں: انصار کے
رش ہنوقریظہ اور ہنونر سے تے۔ انصادر ان پچ اپنا مال خر خککرنے سے اتضزازکرتے
تھے ا نکی خوائیش لت یک وہ اسلام نے 2 ان پر خر کیا جائے۔ اس پ ىآ یمت
نازل ہوئی
یرایت تال ےکہبیں منظرمیں پبود اوران سے لعاقا ت تھے لو با ایت
نے ہہای تک یکہ ان کے ادا ربھی سن سلوک سے سجن ہیں اور ان بھی انغاتی ہونا
جاپے لچ دسری روابات مل ان پیں منظر کے س اتی مش ری نکا زکر ے۔
رت عبد الد بن عبا تی کا ان ےک رسول ال شڈ ش رین پہ انفاتی
نی فرمایاکرتے تے۔ ال پر بے یت نازل ہہوگَیى
بی بات صحاب ہکرام نے پااے یں مھ یک یگئی ےکہ وہ اپنے مرک
قرابت داروں پر خر تی لکرتے تے۔ اس پر مب ےآیت نازل ہوگی اود ا لک اجازت
یں درد یگ یی
صرت ارہ ایک عموی بات بیا نکراے یں سیل ایل یکل ے لق
حا .کر اخ نے ددیاپف تکیا کہ جو لوگ جمارے ہم خج ب نیس ہیں کیا ان پہ انف کیا
جاسکنا ہے؟ اس پر سیآ یت ازل ول2
اعلا می شس عططرں برطرف سےخالفت پر یھی اوراں کے ماتئۓ وا لے
شس طرں ہدوت مکا نثانہ ناۓ چا رے تہ اس کےغلاف مسلرانوں کے اندد رتمل
قرٹیء الاب لاحام لترآن: ۳٣٣/۳
ابع جر یہ جام البیا نگن تاد لآى القرآن ۰۱۸۸/۵.ئن ہریر
۳ ان 77ي:۵/ء۵۸
۷ تی , ٹن اکب یی : ۴ /۱۹۱ء نیز ائن جریءحوالہسالقی
ش ان :۵۸۸/۵
۵۸ عام انسانی تعلقات
کا پایا جانا غیبرفطرکی نہ تھا۔ ان کے ول بھی ہرسوال ائلرتا ہوگا کہ الع کے خویش و
اقارب اور دور ونزدیک کے لیک آخ اس دی نکی مخالض تکیو ںکر ر سے ہیں جس بس
س بک صلاحع دفلاح کا سامان ہے؟ بھی ہی سو چچتے ہوں گ ےکہ ان لوکوں کے ساتھد
کیوں ہددد کی جاۓ اود مشکلات بل ا نک مدکی جا جو زندگی جر ہمارے راتۓے
مس کان بچجھاتے ور الو کک یکرتے رے امھگ بیرضیال آ ا ہوگا کہ ان شمنالن دی
کے سان تاد نکاکوئی اہج وڈا ب بھی ے پانیں؟ بھی بر خوائشل موح زن ہوئی ہوگی
کہکائش یہ ایمان لےآآتے اور بم اپنا سب پہالن ہہ ھا کردیے۔ اد رکا دوابات
ان س بکیفیا کی ت یما کرک ہیں۔
قرآن ید نے انفاقی اود اس کے تنقاضو ںکو بی نکرتے ہو اس جذ ہکا
بھی اصلا نکی ہے 0 ھت صعرف اپنے ہم خرہب افراد ہیں اور
ان ہی کے سات ومن سلوک ون جا ہے ال ن ےکہاکہ انسانو کی خدص تک راہ شش
عقیدہ و خیال اور دین و رہب کے اختلا فک رکاوٹ نیل جتا جا ہے۔ ہونخصس
ضرورت مر سے ای نک مددکرنا دٹی اور اظای فی سے چاے و لم ہو پا خی لم
مشرک ہو یا اث کاب رشن دار ہو یا خی ررشت دار ۔آد یک پر خوائئش یا اصرا رک لوک
ایمان لےے؟ می نو ان کےساترحسن سلو ککیا جاۓ تن یی ہے۔ اس لی ےک ایمان
کا معاملہ اید کے پا یں ہے۔ جس کے اندرطلب صادی 0 جال ہے اسے وہ ای
دوات سے وازتا ہے۔آ وی بیسو کر انسانو ںکی خدصت اور فلا و بیود سک ےکا مکرتا
چلا جا ۓےکہ ا کا اج وٹ اب اللہ نے چاہ و تفونز ہے اورک وہ ال کےکا مآ ےگا۔
اں پپرے ٹیں منظر کے سات ھآ یت اق ؤہکےالزلا تک ویر ہے جواسلام
کےکرداد پہ سے جاتے ہیں۔
ال سے پلیہ ىہ ردابی تگزر گی سےکہ اس آیت کے ندول کے بعد
رسول ال چا نے فی سم ہرفرداور ہرطلبقہ برصدقہ دشر تی ہدایت فریا دید
عام انسانی تعلقات ۵۹
یك سی روایت کے الفاظ ہہ شیں:
فامر بالصدقۃ بعدھا علی کل من ال آیت کے بعدآپ نےعم دیا کی ھی
سالک من کل دین دین کا مات والاتم سے سوا لکرے تو اس بے
تروارت
ال ملس کی ایک اور رواہت ے:
تصدقوا علی اھل الادیان ام الک نذاہب پرصدق وخرا تک-
حخرت سعید بن یب کے ہی ںکہرسول اول یھ نے ایک بیبود یگھرانے
برصد ہکیا تھا جھ بعدیٹ سکھی جاری ربا
ا لآ یت کے سا وباتیق سے بن شکرتے ہوے علا مقر ھی کت ہیں:
ہھٰذا الکلام متصل بذ کر الصدقات بآ یت صدقات کے دک سے گی ہوئی سے ۔گویا
فکانہ بیّن فی جواز الصدقة عحلی اس یں وا کیا گیا ےک لان پرصدت
المش ر کین گرنا چائڑے۔
یں پٹ کاتعلقی متلہ کے اخلاقی پہلو سے ہے۔آ ئےء اب ڈرا اس نت
اد؛قافوٹی ررغ پرگی ایک نظ ڈال ٹی جائۓے۔سوال نیہ ہ ےک ایک مسلمان اپے ما لکاکتتا
او رکون سا جع غیرمسلموںکی مدداور ا نکی فلا و بمپود ک ےکا موں میں خر کا پ
ایرکین سا حص خر نج نی سکرکا؟
اسلائی شریعت یس صدقات دوطر کے ہہوتے ہیں۔ ایک وہ جوف اور
واجب ہیں اور دوسرے وہ جن نکی نوکیت فرض یا واج بکی یں ہے لیکن انلدی رشا
کے لیے کیے جات ہیں۔ فرش صصدقات میس سب سے پپیلے زکوۃ کا سوال سان :ا
رواہ این ای شعن سعید بین تی رم رسلا (نصب الرایۃ لاحاد یٹ الہدلی: ۲ /۳۹۸)
ابوعبید کاب الا موالل ءص ۵۴۳ نصب الرلی: ۳۹۸/۲
۷ قرٹی الام لاجام التآن: ٣٣ |٣
کی مخ ک) ہہ
٦۰ عام انسانی تعلقات
ے۔ رکوہ اکا ایک خاصس مقدار یا نضاب ر7 ہوئی ے۔ےصااب ثضاب
مسلمانوں سے لی ای سے او نین رات میں خریب مسلمانو ںکی فلا د ہہبود رز
کی عائی ہے۔علمہابن قرا می کت ہیں:
ال بات پہ امم ت کا ایححاغ سےکہ اصوالل زکوۃ نی رم بیرف نیں ہوں
2 دوسرے صدقات کے پارے میں فمقہاء کے ورییان اخلاف ے۔
صدقزفط رمفمان اللبارک کےنح ہہونے پر پرصاحب حیثیت با فق تن یکا رو
سے بہرصاحب نصاب ممسلمان پر واجب ہوتا ہے۔ بیرصدقہ اسے اپتی رف سے اود اٹ
ا اولا دی طرف ے ا داکرنا ضروری بہت
صدقدفط کے پارے مل امام مالک امام انی اور امام اتد ویر :کا صلک
رر سم ش ے لپذا اسے زکو؟ ب یکی طرج صلمرانوں 4مف ؛نا
جایے؛لیان امام ابد یہ ذمیوں پرکھی ال کےصر فکو جائز نے ہیں ۔عمرد بن میمونء
عمرد بن شرشمیل اورعرہ ہعداٹی کے بارے شل ۴1 ےک فطر ہک کش ے وہ رانہوں
الومحسرہ سکیتے ہی ںکہلیک ان کے پاش صد قد فط رش کرتےء دہ پیرا کا پودایا
ا لکا ایک تصہراہہو ںکودیے تھے
ففنٹی می سکہاکیا ہے:
ولاً یجوز ان یدفع ال زکوۃ ای ذمی می ذ یکو زکوۃ دنا جائزنیں ہے۔ ال کے
و یدفع الیہ ما سوی ڈلک ھن علادہ دسرے صلقات اسے دبے جات
الصدقة“ ہیں۔
این قّراب أضُی: ۱۰۷/۳ ے٭۱
٢ ابوعبیدںکتاب الا موا لح ۵۴۳۔ یز مطاحظہ ہو این ق راب ایم / ۳۱٣۵۳٣۶۴
٣ ابوعبی کاب الاموال ,گ ۵۲۳
٠" بڑاپ جا گ۱۸۵
عام انسانی تعلقات ا٦
فطرہ کے بارے می ںکہاگیا ے:
و یژدی المسلم الفطرۃ عن عبدہ مصلمان اپے ا فلا مکی طرف ےکی فطرہ
الکافرے اد اکر ےگا جکافر ے۔
علامہااگر صا نے ف ہت یکی ت بھا یکرت ہو ق رکون می دکی لس
آیاتکا الد دیا ہے۔فرماتے ہی ںکہ ان سے معلوم ہوتا ےکر صدرقات مشرکیان ربھی
سیےے جاسکے ہیں ہکان اعادیث سے خابت س ےک زکو ۃ کی تمام میں اں سے سخ ہیں۔
رسول ا شأ یق کا ارشاد ہے: ” ججھے نمھمارے اصحاب شروت سے زکوق وصو لکرنے اور
تہادرے اصحاب عاجت پر اسے لوٹا د نے کا عم ہے اکی وجہ سے امام ابوحفی_فماتے
ینک جن صلدقات کے جو لکن کات امام با ریاس تکو ہے وہ ذمیوں پرصر فی
ہو کت ء ان کے علادہ دوسرے تھام عصدقات ذمیو ںکو دیے جات ہیںہ بے نز رکا
صدقہءملطیوں کےکغار ہکا صدقہء یا صدقہ فطر۔ امام الو لسف فرماتے ہی سک صدقات
واج نی رسلسوں رص ف نی سے جاستے۔ اسے اھوں نے زکوۃ پر قیا کیا سے
ال سے انداذہ ہوتا ےکہ ہمارے فقہاء کے ہاں اس ملے می ںکوئی ومعت
ہے اورانھوں ن کت یکنپکئش ری ے۔
زکۃ ایک تیوٹی ی مد سے جوال تھا کی راہ جش خر نکی ای ے۔ دیگر
صدرقات واج کی تعدادشھی بہ تتھوڑی ہے ان سے ہ فکر انسانو کی خدصتءتتعاون
اور ہدردگی گی بہت س یش یں ہیں۔ الام ان س بک تیب دبا اورتٹ لی پھاکتا
ہے۔ ان کے ذر ہی مسلرائوں کے ساتھ خر مسلموں کوگھی فاندہ ہیا جاسکتا ے اور وہ
ای سے فائدہ اٹھا گت ہإں-
بلابیہ نا ٢ش۱۸۹۔ اس پر جن اعادیٹ سے است'لا لگیا گیا سے ا نکی صت وفعں ہمعلی
بجٹ کے لیے ملاحظہ ہونصب الریۃ: رح ۳,ض -٣١٢ ۱۴م
٣ جصاگ, احام القرآن:ے ۵۲۸۰۵۳۲
٣ عام انسانی تعلقات
مارجین اور شی رمحارین ہے درمیان فرتی
جولوک اسلام کے ظا کر ول سے اختلاف رکھت ہیں وہ دوطرحں کے روے
انا رک رت ہیں۔ ایک رورہ عداوت او خاصم تکا ہوگا۔ وومسلمانو ںیک وآ زادیی اوران و
کون سے ربے شددیں اور اسلائ ریاست ے ال نک جنگ جار ۶- درا رد یآزادگء
حری گر ول وو زلم و زیادئی سے اجقنا ب کا ہہوگا۔ اسلام نے الع دطٰوں روییں کے
درمیان فر قکیا وہ پیلےگروہ ے عام انال برررگ اور نغاون سےٹ نع نکی ںکرتاء
الہ موالات اور رازدارانہتعلقات سے اتزا زکاعم دیتا ےہکیوںکہ نز نکوقویت
چان سے رمع _د جہاں تک دسر ےگردہ تلق سے اں کے ساتح ونس ن
سلول, تواون اور بدرد یکا ببرعال اجازت ے۔اں نے ا کے کس کنا ری
سور مع یل بے بات وضاحت کے نات کس یکئی
ا ينْهَكُم الله غن الَدِيْنَ لم بقَمِلزْكُمْ ےپ ےکھیں رتا کم
رو یں,ر ۔ پر وت و ۓے ےر إلع لوگوں کے ع ام ٣ سلول اور عدل و
ى ال و کم مو ہشن پرںپر ور جو ٹر ے بی ے
ِا رکم ا توم و فص لوا نے میں یک نہی کی او یں تھارے
لَيْھم 3 الله جب الْمفْيِطِیْنَہ گھروں ےکی کالما۔ اد تعالیٰ انصاففک۷ر نے
نما ينََكُم الله غَن الَلِیْنَ قِيلوُکم والو ںکو پن رتا ےتالد تال تق یں یں
و یں
و ظھَرُوا عغلی رد ان جن ککی اورسحی ںتھار ےگھروں سے الا اور
وْ مم ون مموََيكم الیک ہم تھارے اخراج می ایک دصر ےک مددکیہ ج
الْلِمُروَہ ( :۹۸) مخ ان سد قکرے دی الم ے۔
200 7 پین غی رملموں سے عد تلق کے اکا مکا پیں مظلز کے یل میں آ گے
آری ٤ے۔
٢ ا ںکا مفرم می ےکن لوگیں ن تھا رےساق لم وزیادثی نی کی اور (اقی حاشی ا مم پ
عام انسانی تعلقات ٣
ا لآ یت می وہکون لوگ مراو میں ہجخھوں نے مسلرائوں 7 نال نہیں
گی اود اس طر کا اندام مرن والو ںکا سات نہیں دیا؟ اں کے جواب میں سلف ے
حصب پیل رائیں لق یں :
١ ضر تہصن بعری اورالوصارَ کا ان ےکہ ى ےآیت ہوخحزاصہ منومث
م نکحب کنانہ مزیبنہ او دگرب کےلصض دنگ رقاتل تلق انل ہونیں, ہنھوں بے
ہول الد ا س ےکک ری کہ دہ آپ کے جن کی ں کر کے او رآپ کے
خلا ف کس یی دی ںکر سی کے
۴ٹ حرات کا خیالل ہ ےکہ ال مم ہنو اشھم کے ان افرا دی طرف
اشارہ ہے جو ان لوگوں بی شژائ لکیں تہ جخھوں نے رسول ارڈ رمک کہ ے اعجرت
ریو کیا تھا۔ ان بی یش رت عبا بھی ہیں۔
۳۔ حر ت عبد ابد بن زبیزفرماتے ہی ںکہ یت خی رسلی عورقوں اور بوں
ےعلق ہے۔(اس کہا نکا ہہک ےکوئ تع ق نہیں ہوتا)
صل فک ا نتر جحات می سکوئی نضاوننٹس ہے بکنہ ان میس سے ہ رت کسی
خائص پپہل کو وا کر دی ہے۔ الن س بکوساسئے رکنے سےحسب ذیل تارج پک ہیں :
اسلائی ریاس کا جن تبیلوں,توموں اورگگوں کے وشتی معاہرہ بہوگاء
رش پا ز6) ظ لم کرنے والو ں کا سات ٹنیس دیا ان کے سات رکھارا رو عدل و انصاف پر بی
بنا جا بیے۔ یہ بات االصای کیا ہو کہ یں بھی شنو ںکی صف مس رکھا جائۓ اود وووں کے
سا بکماں سلوک روا رکھا جائے۔ ال کا ایک اورمغپوم این ۶ری بھی نے یا نکیا ے۔ وہ کچ
ی کہ قط سے عراد یہاں عد لنیل ہےہ چلال کےسنی حصہکےبھی آتے ہیں۔ بی ھی ا یعاد
ہیں۔ مطلب ہہ ےک تن سلوک اور صلہ رش یکی خاطر اپنے اموا لکا ایک حصہ ان پر خر کرد اں
یی ےکہ جہاں جک عدل کا تلق ہے دہ عحارب اور خی رمحارب سب کے ساتھ واجب ہے۔ النا کے
الفاظ إں: و تقسطوا الیھم ای تعطوھم قسطا من اموالکم و لیس یرید بہ من العدل فان
العدل واجب فی من قاتل و فی من لم یقاتل ۔اظام القرآن: ۲۴۰/۳
لے چیہ روں المعالیٰء جزء ۴۸ء ھے۔ نیز مطاحظہ مو راز فی ,گیر: ۸/ ۱۳٣٣۴
ث٥ عام انسانی تعلقات
ان کے ساتھ عدل و انصاف اور روادارگی بی کا ضی٠ بللہ مو اصان کا رو اختیا کیا
جاک ے۔
جوقوم اسلائی ریاست سے بصر پکار ہے اس می بھی ایی ےگروہ اور طبقات
ہوسکتے ہیںء جن کے ول میں اسلائی ریاست سے تم یفانہ جذ بات شہ ہوں اور جھ اسلام
اورمسلرائوں سے ببددردیی رن ہویں۔ الع ہے ساتح بھی کر تحلقات رکئے اور تخاونع
اور پھرردگ یکا روب اخقیارکرنے میںکوئی جال یں ے۔
ای رح محارب توم ہے وہ افرادہ جھ جک میں حص نہیں نے سیت (ہیے
عوریںہ پچ ایر مور ویرہ) ان کے ساتھ وہ روب اخقیا لکل کیا جا ےگا جھ مسر جنگ
افراد کے سا ھکیا جاتا ہے بلہ وہ ہھدددگی اوراطف دحبت کے خی ہویں گے۔
علامہ ابع ج میرک ا ںآ یت کے ذیل میں سلف عےخلف اقوا لق لکرنے
کے پو رک ہی سکہ ںی ہت اور نوجیرا نع رات ن ےکا سے جتھوں ن کہا ۓے
یی مھی دین وعلت کے وہ افراد جھ برس جک نہ ہوںء ان کے سا عدل و انصاف
اورنسن سلو ککیا جاۓ گ۔ اس یس ای کگروہ اور ووم۔ ےگردہ کے ورمیان ڈرث یی گیا
جا ۓ گا ی تکومنسوغ بھی ںکھا جاسکتاء ال کہ ای جرب میں ےسیا سے
قرایت اور رشن دارگی و یا نہ ہو ال انی اور پچھلائی وع اور ناجائ کل کے
بشرطبکہ اس سے مسلمانو ںکاکوئی راز ان بر ن کل با ساز وسا مال ضب کے ذریے یں
تقویتے نہ پٹیاکی جاے۔
زمیوں کے ات رح ن سلوں
ال لآیت ے يہ ا تدلا لگ کیا گیا ےک ہذگا اور7 لی کے درمیان ایک
کان کے روہ یل فرتی ہوگا۔ ذھی اسلائی ریاس تکا شی بہوتا ہے اود اسے ایک رب
این جر تی رخ قرگیء جزء ۶,۲۸ك۱٣
عام انسانی تعلقات ف6
کا معاہرۃ ان م۔صل بنا ہے۔ اں کے اجکام 7 بی کے احکام ےےمخلف ہیں۔ذگی ے
دکھ درو میں کامآنا اور مشکلات ٹل ںی ۸ دنا اک الا ٹیر ے۔ علامہ
ایک جصائ کے میں:
”آت کے الفاظ اَنْ تَبَزوْهُمْ و تَفْيِطُوا ِلیهمم مم عموم ےجنس سے
معلوم بہوتا ےکہ ذمیو ںکوصدقات دیے جاستے ہیںہ اس لی ےکہ ا ن کا خمار ان لوگوں
نک ہے جو ہم سے تک ہیںء الہ اں سے 7 ل یکوصدقات دی کی حمانعت
ھن ہے(اسں کہ ریاست سے دوحالت ینک میں ے)۔“*
محار ب توم سے السا ی نعلقات
کی قوم سے عالت جنگ کے می نہیں ہی کہ ال سے عام انمالیٰ
تعاقا ت بھی نہر ھے جامیں اور عبت ٹیل ال کے ساتھ ہعدددگی نہک جائے اور ا ںکی
تحلیف پرخوٹی منائی جاے۔ رسول اول یکا اسوہ ىہ اتا ےک وشن اکر ناک عالات
سےگڑدرہا ہے اور معاٹی ا افو کا برریں ) ین ےو اس کے ساتھ نماون ہونا
جا ہے۔ امام حف مات ہیں:
تل ما ذٹ یک ممددکرنے می سکوئی حر ج نیس ہے کہ کے لوک ق مس بتڑا
ہو گے تو رسول الل چک نے ابو فان جن قرب اورعغوان بن امیہ کے پا 3 7
در مکچنواۓ ء اک دہ کہ کے ضرورت مندوں اور ختاجوں ٹ یس یز رن نے
ریدفرماتے ہیں:
”صلءدکی ہرہب مشش پیندیدہ ہے۔ دوسرو ںکو ری یکنا مکارم اخلاقی ٹل
ار ہوتا ہے ا
لے علامہ ابدگر جصائش کے الفاظ ہے ٹیں: 'ان تبروھم و تقسطوا الیھم' عموم فی جواز دفع
الصدقات الی اھل الذمة: اذ لیس ھم من اھل قتالناء فیه البھی عن الصدقة علی اھل
الحرب. امام الترآن: ۳/ء۵۳۔ نز مماحظہ ہو: روں العالیء 1ء ۲۸ء۶ك۵ے_ زیوں
کےکموقی نل بجٹآٴ 1ری ےن رد ات ری الدر تار: ۹/۳
٦
معاشری علقات
موجودہ دور یل انسا نکی ضردریات زندگی کا دئرہ بہت دی دن ہوتا چل گیا
ہے اوران بی بڑاتوے آگیاہے۔آ نکی تی رف ماد تر تی کے ساقھ ان یں روز بروز
اضافہ :یکا امکان ے۔ ا ں کا تتیہ یہ ےکی صحقءشبر ما علاقہ ہی کے ل نہیں
بڑے سے بڑے کلک کے لم ےبھی ان ضروریات کےسللے میں خودشیل ہونا وشوار ہو رپا
نان کے لیے ایک علاق کو دوسرے علاقہ سے اود ایک مل ککو ووسرے ملک سے مد
ینی اتی ے۔ اس طرح درآمد بہآھ ہرم کک ضرورت گنی مب ایگ تناک
کک میس تیار ہوی ےه دوسرا ملک اس کے لیے منڈی فراہ مکرتا ہے۔ جن نزو ںکا
ضرورت ہے پا ج یں لا زم حجیات من 1 ہیں ا نکی پیراوار اور چاری 7 خائش
قوم ما مل ککی اجارہ داریننیں ہے۔ ھی ںکوئی بھی ملک تا رک یکا ہے اور جہاں جھ اسم
کی ضرورت ہو فراہ مکر تا بض اس کے ساتھ شی ااقوائی حالات او رآ و رش تک
سولتوں نے قوموں اورملگو کور بکر دیا سے کی لک کے افرادکا دوصرے ملک میں
سی مر ت کک قیام بللہ دہاں جاک رآباد ہو جانا بھی نک نکیل رہ لن عالات مل ایک
ملمان کے سامئے ان اشیاء کے استعمال کا سوال <٦ ےنیس غی رسلم تا رکرے
ہیں۔ اس وقت اص طور پر غمەا اور لباس اور ان کے متعلقات ز رہ بث ہیں۔ الن با
کے ڈیل می سیت سوالات پرکنگوکی جا ۓگیا۔
معاشرتی تعلقات سا
محاشرت عرب کےطعحض پہلو
زا او رپا کا بے اور محاشثرت سے ڑا ہواے۔ دا 1 برقم 1
رح مشرکین عر بک بھی خفاس تیب اود معاشر ت جیا عم د رداع ےہ ا نکی
خیش نز اتی تھیں, ا نکیا تار کا ابنا ایک طریقہ تھا۔ خی سے مواتع پرتقریبات اور
گل ں کا رواج تھا اور پرتق یب کا الیک نام تھا
ول اللہ عر بک ای تہذ یب اود محاشرت میس پیدا ہوئۓ ساب کر
بھی اک ملک اود اکی تیب ےئل تھا ںآ پک ابر آپ کے صا کر کی فزاء
لا ء رک ن بن اور معاشرت ود تھی جو ئل عر بکیھی۔
فرائؤ نکی علّت ۶غ
ى ایگ قیقت ہ ےکہ انسان اپئی ا کے لیے جن اشیا ہکا استعا لکرتا سے
خرہ بک دنیائٹش ا نکی علت وحمت کا سوال بڑا اہم رہا ہے۔ لجض چچزیی ایک
لے نف تق یبا ت کا ذکر یہاں نامناسب نہ ہوگا:
|2 ولیہ لیا کے بعدکیتقریںب۔
۳یق کی پیرئل پر سانتقیی د نکی گیت-
۳ اعذار: ختنہ کے موتح 7 جانے والی وگوت_
۳۔ النقید : دہ وت جوسفر سے ب عافیت دا چی 7 جائۓے۔
۵- الوکیرہذ مکا نکی تی کی خی می سکیا جانے والی زثوت-
٦-الجفلی: کو عام۔
سے۔ النقری: نگوت ائل_
شوت کے لیے جوکھانا تارکیا جانا اسے الما دب کہا جات
ماحظہہو: اوعمراتم بن مھ ین مبد ال الاندریء العقد الفریدہ جھٹ امت العرب۔ ۹۴-۴۹۰/۷ء
متعلقہ الفاظکی وضاحت اررح کے سے سان اع ب بھی بکھی ماق ے۔ ان تقرییات میں سے
سکورسول کرم پچ نے بای رکھا۔ یں لیے آھھیں سن ت کا ورج ماگل ے۔
۸ معاشرتی تعلقات
رہب میں جائز اددمباع ہیں ق دجسرے رہب می ددمھنوغ اورترا مھ یگئی ہیں ال
عر ب بھی اشیاءکی علت وقزمت کے انل ت ےمان ا سکی بیادزیادہ تر مشرکا زفورات
اورادہام وخرافات پتی۔ اسلام نے ان کے ال تسورا کی اصلاع کا او دکہا کی
کو علال یا تام قرار دن کا صرف ال تعال یکو حاصل ہے:(ال:۱۱۹) جس کے
ساقحد ال نے بیکھی تایاکہ اللہ تھالی ن ےکن چزو ںکوترام قرار دیا ہے سورة انا می
سورت ہے۔ ال میں مشرکین کے غحلط رسوم و روا اور نمی خیالات یل ے مر
تقد ہے۔ ای بی ارشادے:
قلْ اج فی ما آؤجی ای کبہدوکہ بجھ پر جو وی آئی ہے اس می لس یکھانے
1 طاعم بُطُعَمْةُ ا ان وائے پر جھ چنزی یک ددکھاتا ہے مج کول جزعام
سم علی تر ×5 نیس پاتا سوا اس کےکہ دہ مردار ارتا ہوا خون
یُگُوْنَ مَیعةَ او وَماً مُسْفُوْحاً آؤْ ہو ا خ کا گزشتہ اں لیے / دہ اپاگ ےہ یا
یم جنیر 0 رس آؤ فنقا ا فق ہوک اور ؤ۲ رت وقت نی رالل کا نام
اَل ِغِيْرٍ الله ب فَمنٍ اضْطُرٌ 7 ا ہے
ات کےکھانے پر مجبورہوجاۓ اور وو عد سے
٢ رو ولا اج ِ رَبُک عَقُورَ بہوی شکرے و تہارارب ہڈا معاف
رَّحِیْم (الانعام:۱۳۵) کے والا اور پڑ اریم ے۔
ںآ یت میں ہص وہ نی مرا قرارد یگئی ہیں یں ال عرب علال تحت
اور ے لف استعا لکرتے تے۔ ان سے عااو شض اور یو ںکی حم تبھی ق رآ ن و
حدیث سے خابت ہے۔ جیسے شر ا بکی مت (لرائدۃ:۹۰۸۰۹۰) یہاں ا سک تضحی لکی
قررت لان سے
ہہ سس سہ سس سش سس لمج ہو
لی اس سل کی مزی فیلات کے لے ملاحظہ ہو رام کی کاب ضصحت و مرش اور اسلائی معلمات
ض١٠ا۔ا٭۔
و 00۵4 ا را چو ںکومام قرار دا گی سے اورکن یڑ کی
حرمت میں فقہاء کے ورمیان اخلاف ہے اورکن چزوں می ںکراہت لی عالی ےآن ای تخیل
سے لے ریکھی جاے ریہ الا لا ام القرآن: : ے/۵٥۱۳۳-۱
معاشرتی تعلقات 9۹
اشیاء نع گل عّت ے
اشیاءکی عّت وقرمت کے سلسلے بس اصولی بات ہہ س ےکہ اشیاء یس اصل
علّت ہے ترامصرف دی اشیاء ہیں نشی ا اوراس کے رسولی نے عام قراردیاے۔
ایک ملمان ان سے لازا اتزا نکر ےگا۔ ال کے علادہ سارک یز علال ہیںء آجں
وہ استعا لک کت ے۔مام وعلالی کے اس فرقی کے ساتھ وو شس محاشرہ کا فرد ے اور
جہاں ا لکی نٹ ونما ہوئی ہے دہا کی نخذا ا کی ا ہوگی اوددہ ہا گی چاتۓگا اور
جس ماحول مج بھی ر ےگا مناسبِ حال اود اپئی بین کی نما استعا لکھرےگا۔ جو
یں وو خووکھا سکیا سے دہ دوسرو ںکوھ یکا سکتا ے اوران کے سماتھ الن چچریں کے
کھانے پٹ میں ش ری کبھی ہکا ہے۔ اس میں سکم اود خی رسسل مک بھی فر یں ے۔
عطال چیزریں نی سم تیارکہیں تو ا نکی خرید وفروشت اس کے لے جائز ہوگی۔
ابآ یئ اس موضوع کےٹیض پھلوو ں کا اسلائی تحلیما تک ررڑنی می کسی
تل ے مطال دکیا جاۓ-
فی رمک بای اک ہے
لی ال تال کی بہت بڑئی علال اور پاک نقت ے۔ ہر چاندارکی حیا ت کا
کیپ دادو ماد ہے۔ برقت سب کے لے ہے۔ بہت سے لیک انسانوں کے درمیان
ذات بات اودرنگ بس لکی یاد ہرفرتکرۓ ٹیں۔-ان کے نزدیک اگ کو یخص, نے
ہکم تر ذا تکا یت ہیںہ پا یکو ہاتھ لگا دے فو وہ نا پک ہو جاتا ہے اور ا کا اسقمال
ان کے سے ممموںع چاتا ہے۔ اسسلا مکا نقلہنظر یہ ےک 0 اصلاً اگ ےکی فرد
کے پاقح لگانے سے دہ نپا ککیں ہو جاتا۔ دہ نا پاک ال وقت ہوتا ہے ج بک ال
یشک یجن اور اپاگ ڑل آمش جاے۔ چنتاں چہ رسول اکرم پگ اود انرام
نے فی ملسو ںکا پا کھانۓے پیٹنے :یک حبادا ت کک کے لے استعا لکیا ے۔
ٰ۰ معاشرتی تعلقات
حطر تعمران بضغ ایک سفرککا واقعہ بیا نکر تے ہی نکر دات ٹیل جم نے
ایک تہ پڑاڈ ڈالا۔ جع س بک آک ھگ کگئی۔ نماز ضا ہوکئی۔ فورا بعد میں ادا یگئی۔
ہادے پائں نیش کا تھا۔ خدید یا ںگا وو یت رسول ال پلک نے بیجھ
سوارول کے ساتھ بے الیکا علاشل میں ھیا۔ جب ہم 7 دیکھا کہ ای کعورت 0
سے بھرے ہوئے دو منکک اپنی ابشنی پہ لیے جا ری ہے۔ ہم نے ال ے ددیاق تکیا
گی ا یکہاںل کت لت اں ت ےکہا: قریب میں بای نی ہے۔ یس اپنے ٹیل ے
ایک دان اور ایک را تکا فاصلہ ٹ ےکر کے پائی ارت ہوں۔ ال نے بتاک دہ ایگ ہیوہ
عورت سے اور ال کے چھوے بچھونے یم چے ہیں۔ یم اسے نےکر رسول اکرم پل
1 خرمت مل چے ۔آپ ےمم پاٹ یکو نٹھایگیا۔آپ نے مک پردست مارک
رکھا۔تھوڑا سا پا ل ےکر اس پگ یگی۔ ال کے بح دآ پکا پیمیخزہ دیھن می ںآ ناک ہم
ایس افراد تہ ہم سب نے ال سے پان پیا اود ہمادے پال جو گچھوٹے بپڑے بن
تھے سب بجر لیے۔ ایک صاح بکونس لکا عاجدتتھی۔ یں اس کے کے پالی دیاگیا۔
اس کے پاوجود یں مسویں ہو رہ تھاکہ مفک اس فررجھرے ہو ہی ںکہ چٹ جا رہے
یں ۔آپ نے ایںعورت سے فرمایا: یھو ہم ان ےتھارا ا یم نی کیا ہے۔ گل رآپ
ےم سے ہم لوکیں 2ت ت٦ ہوئی زولٰ ےککڑے او رمچوریں انت ان آنپانے
ال سےکہا: جاک ىہ اپ یو ںگوکھاا2۔ اس نے اپ قیل میم کر پورا واق سنایا 9
سب لوگ اسلام ے1 کے
خر تع کے بارے مل روایمت ےک آیھوں نے غام کے سفریں ایک
رای عورت کےگحھ مس ےگرم پالی نےکر وضسوکیای
٦ فا ءکتاب لمفازیہ باب علابات لوق فی اسم سم تاب الساجدومواشع ا3ہ باب تخاء
الفایت و ابا بتجچیلہ ۔ تقاصضی شوکال یکچہ ہیں : خبت نی ا تسین نمی اللہ علیہ یلم تقضا م٢ن مزادۃ
مٹرک_ خُل الاوطار:۱/٢۲ بخاری کاب الوضوہ باب وضو الرل مم امرآند۔ فرٹھی نے
و لی سے حوالہ ے ہس واق ہک تفصی ل نف لکی ے۔ الپائ لاجام الترآن: ۳ / ٣۵۰۰۳
معاشرتی تعلقات اے
امام ای نے اں روای کو ہی ںففُ کیا ہس ےک رت عھرنے ایک تصراٹی
عودت کےکھٹڑے سے پائی نےکر وم وکیا
حافظ اکن رف رباتے ہی کہ یہ ئل با تک دیل ہ ےک اب لکتاب کے پا
کو و یل میس سے بی رکہ دوک کا ای ے استعا لکیا جاستا ہے۔ امام شانی
نے ہی ں گر مرک مے ال سے فضوکرنے می کوئی حرج یں ہے۔ دہ اگ ابی
عبات کے لے ضسدکرتا ہو ال کے چے ہد پالی سےبھی ضوکیا اتا ہے۔ اں
اکر نین طور پر رمعلو معلوم ہوک الس ےن ضوگی ن ہلا
یسل کی :زا کا عم
اب خذائو کو مج ۔ انا نکی خذائی لکئی رکا چزی شائل ہیں
ہے کی قد تک رف سے اسے جار شدہشگل مل ہت یں۔
یے یگل اودرمیدوے۔ اس می انسا نکا نل صرف زدااعت نچ رکاری اید آب ماشی دظیرہ
گا حدتک رتا ہے ۔یض ارقات ابرعت کےبھی ہی چزیی حا ہوپائی ہیں .ھن
اگ رکوئی خی سم بیدا تا ہے ال کے جھاز مم لکوئی الا ف نہیں ے۔ جس طرح
صلمانکی پیدادار جائز ہے ای رع یرس مکی پ پیداداریی جائز ہے۔ یع مگیہوںء
چادل اور در مزائی اجناںکا ے۔
۲ 7 0)
یں کر پاناہ ای لیے لن شل اپٹی جسمانی حالت: راع اور معدہ کی رعایت رے
مناسب تن مک کے اسقھا لکرتا ہے۔ اکا کے لیے دوگہویں سےآ ٹا تی رکرتا اور ہے
یئل پاتا ہے یا دانوں نے لی کا کر ااتتتما لکرتا ہے۔ اگر بر شریا ت کل
3 این تجرہ بن البارق:۱/ ۲۹۹
۶ این تجرہ الباری:/ ۲۹۹
بت معاشرتی تعلقات
یلم ایام دے و ملمان کے لیے ان سے فائدہ اٹھانا از ہے۔ اگ رکوئی ای سے
فاندہ اٹھانا نہ چا ےل بقول مار تی ہا لک اطیاط ہوگیء جواز برعال 7 ر ےگا
۳ جانو رکا مگوش ت بھی انسا نکی خذا یس شال رہا ہے۔ اسلا مکی رو سے
علال جانو رکا گوش تکھایا جاستا ے۔ آپ 3ں ازفا تتقرب اور ار تکا پہلوگی
شائل ہو چاتا ہے۔ ال پہ بج ٹ آ گآ ددی ے۔
فی رسکی تما رکردہ مال اشیاء
فیرمسلموںی تالکردہ علال مومات استما لکی پاعنی ٹیں۔ اعادمٹ ے
ال کا جوازثابت ے:
خر تعبد ابد جن جرف رماتے ہی ںکہ رسول اللہ پچ کی خدرمت میں نی کاگگڑا
یں کیاگیا۔آپ نے چھرکی طلب فرمالٗء الل کا نام نےکر اس ےت ع کیا او رتماول ف اباب
تی رجماز یل تیا نیس ہہونی شیء ہشام وظیرہ ےآ تی تی
خرت عبد او بین مقق لف ماتے ہی ںک ہف زوۂ خی ریس ججھے ہج لی ےھر ہوا
ایک جراب (چڑے کا تھیلا)ما۔ جس نے اسے اپنے پا ںکفوظاکر لیا اہی کسی
ون دوںگا۔ امۓ 22 لٹ کے دیکھا ۲ یل ایل جا ر رے تج
ال عدیث کے یل میس امام نووئی فرماتتے ہ ںک رٹل ہے اس با تک
کہ ود کے ذجچ کی جچہلی کا اتال مسلمانوں کے لیے جائز ہے۔ مالکیہ اودرحتابلہ بش
سےئیس عفرا کی دائے ىہ ہ ےکم چو کہ لی کبود کے لے حرام تھی ء اس لیے ان
لے قری: الا لاحام لقترآن:١اےے
ابودا ود ناب الالعمت:ء باب فی انل این ۱
سر تاضی شوکانی رسول الل یک کے تیر کے استعال کے بارے میں فرماتے ہیں۔ اکل من الجین
احلوب من بلاد النصاریٰ کما اخرجه احمد و ابوداؤد من حدیث ابن عمرء مل الاوطار:ا/٢۲
گے جفارگا ءکتاب الذ با داصیدء باب ذبائ اٹل اکتاب و شحومھا عن الجرب وئیریم۔
مم کاب الجہادہ باب جواز الاک من طعام الخقیۃ ٹی دار احرب۔
معاشرتی تعلقات ٣
کے ذچہ ےی ہوئی لی ہمارے لے بھی جرام ہوگیء نیشن امام مالک: امام الو طیذہہ
نام شاتق اور جمہور علاء ال کے جواز کے قائل ہیں ق رن مجید ےبھی ا ںکی تائیر
ہوئی ےے
جرل یکوکفوط رے اوراے ال استعال ہانے کے لیے و ہکوگی نہکوگی طریقہ
افیارکرۓ رے ہیں کت یل بن کی وی وخی رءکو تا کیا جاسا ہب
غی سل مکی دنوت قبو لکی جاعتی سے
ڈو اورتق ریما ہر معاشرتکا ایک لاٹ جزء ہیں۔ ال سے خی میں شرلت
ہوئی ےتعلقات استوار ہوتے ہیں اورقریت بلق ہے۔ اسلام نے ال کی تیب دی
نطب ایک ےلان ووسرے مسلرا نکو وت دے لو سے قو لکرنا پندیرہ ے,ء باوج
اسے رڈی ںکرنا جا سے
نی رم کے ساتح بی یکھانا با با ے۔ وفقت ضمرورت اسے وت دگی
جات سے اور ا کی وت تو لکی جات ہے۔ جس معاشرہ می لف نراہب کے
اہن والے رت ہولں وہال اں طر کی کرلؤں اورنتقرییبا تکی ابھیت بڑھ عالی ےت
ال سے دبٹی اود مکی بہت سے فانندے اٹھاۓ جاستے ہیں-
قرآن ید نے ا لکتتاب کے بارے یں فرمیا:
وَ ام الب ٹوا اکب جل ؛ن لوک ں کا کھانا ج٠ نکوتناب دی یک تہارے
لّكُمْ وَطَعَامکُمْ حر لم لیے علال سے اور تمہارا کھانا ان کے لیے
(ر:۵) علال ے۔
حافظ ای کش رفرماتے ہی سک تہاراذچچ ان کے لیے علالل ہے کا ایک مغ ہوم
گی ے اودا ی7ی ۔ضصل ےکر جس ططر تم ا نکا ہی ےکھاسکت ہو ای رح تم
7 فو ی, شرع سم" بج ء جزء رص ۱۰۳۲ء ۳٣۱۰ء یز طاحظہ ہو۔ تھی ء اٹائع لاحام القرآن:١/ےے
ملاحظہ ہو: رام ک یکتاب ”صحمت وعرض اور اسلائی تحلیمات' ص۹٦۱
َ معاشرتی تعلقات
یں اپاپ کھلا نے ہوہ ا کی عمافع تنئیں ےل
رسول اش کک نے فی رسلھسوں کی حوت قبول فرمائی ےج ری : ای
زوایت ے:
ان یھودیا دعا النبی ڈٹیٹے الی ححبز ایک بہودی نے نی کو ہک روئی اور براودار
شعیر و اھالة سنخة فاجابہّ“ چ لی (یا تل )کی دجوت دی۔آپ نے قول
فرائی۔
روابات سے ثابت ہ کہ جنگ خر کے شتم ہونے کے بععد ایک کروی
قورت نےآپ گے پا مرکا کا گوش تکپجایایا آ پک جو تکیء الں میں زہرتھا۔
آپ نےلقمہ سے ھی اس کوک دیا۔ ال کے باوجود ا لکا ا آپ پر ہوا۔آپ کے
اتی حفرت بش رن برائ کا ای سے انتقال ہوکیا؟
رسول اڈ٥لی اللہ علیہ بیلم نے خی رسلموں کےکھانے بے کا اہتنا بھی
فریاے۔
قب نیف کے وف دکوہ جو ابی اسلا میس لایا تھا آ پا نے مس گی میں
تھہرایا۔ حطرت خاللد بن سعیڈاں ک ےکھان انم فرماتے تھ۔ وفذدر سے لیک حضرت
ال ےکھانے سے پہی ہکھانا نی سکھاتے ےت
لے ای نکی تی القرآن اعلم: ٣۰/٢
۲ سیر اص: ٢۰۸٢٠٢۳
رکا کتاب المغازیہ جاب الشاۃ اتی تہ مت الباری: ے/ے۴۹۔ واق ہک یتضحیل اور
روایات کےاخلافات کے لیے بھی جاۓ: اب یرہ لس ة امتوی: ۳/ ۳۹۳۔۰۱٣ ۴۔ نیز طاحظہ ہو
رام کا مضمونتحائ فکی اتی اود سای ابیت سہ مائی تحقیقات اسلائی۔ جنوری- ارچ ۱۹۹۷ء
یلین نے بی نشرائی کے سساتجد بعد میس اسلام قجو لکرلیا۔ ابن ہشام: ۳/ ۱۹۳-ے۱۹۔
ای نکر السیر ة النوی: ۳/ ۵۷-۵۴
معاشرتی تعلقات ۵ے
می رسلم کا زیچ
جانو رکا گوشت پییشہ سے انسا نکی خذا می شائل رہا ہے۔ اسلام نے علال
جانو رکاگوش تکھان ےکا احجازت دی ہے۔ اس کے ساتھ نشیس بھی ہیں :
-١ علال چانورگگی مدار ت۔ ہوه چا دوشتی مموت مر ہوہ یا گلا گھو نیہ یا
جو ٹکھانے سے اکا بلنر مقام ہس ےگزے با دوسرے جانور کے سبینگ مارے او رملہ
زی نے مےے لن نکی موق وا ہوئی ۶ (الاکر٣:۳)
۴ اسے ذ٣ کیا جاۓ اور اللہ کے نام پکیا جائے۔ ریا نکہامرتے جے
کہ یتیب بات ےکرشس جانورکو اید نے مارا سے دودت ناچائز سے اور جے انسان ذن
کرے وہ علال اود جائھز ے۔ قرآن نے اس ناصتقول اعت راخ کو ورخور اطتنا نی ں مھا
ال کہا کہ الد کے نام پر جھ جافور ذ ہداس کےکھانے میں تل ف نمی ہون چا ہبے۔
ارشاد ے:
فُکُلڑا مِما ذُکر اسم اللہ علیہ نی مم ےک |م کا
شعئوۃ ا و_ے ور ہر ضوع ہے ال رگم ا کی زابات سز لقن رکچ ہو
ا ا ا 29ک ا ا
دو مھا و اسم ال شیک کیا ج بک اذا ضعیل سے رہ
فصل لکم ما حَرّم عَلَيْكُمْ یی تاد ہیں جو ااں نے تم پا مکی ہیں۔
(الانعام: )۱۱۹۰۱۸ (ان ہی ڈپیکیل ے)۔
۳ جو جاور الف کا نام لیے مقر ڈع کیا جائۓ ال کا کھانا ترام ہے۔
چال چڈآن نے صراح تک ے:
ول اٹلا نا کم بیڈکر امم ال جس جانوربر ون کے وقت) اکا امج لیا
عَلَيْه وَإنَه لَفْسُق (الاضمام۳۱٥) گیا اسے م تکھا5۔ بے تک ىیفنقی ہے۔
۴ای وجہ سے جو جافور خی رالند کے نام سے ذ کیا جائۓء یھ ہت برست
ویش بوں کے نام س ےک ری ہیں یا استھانوں پر جانو رکا چڑھادا چڑھالی ٹیںء اں کا
٦ے معاشرتی تعلقات
کھانا عرام ہے:
انَمَا خوّم عَلَیكُمْ 2-77 أُمِل پہِ تم برا مک یا گیا ہے ...اود دہ جانور جے الد کے
ِعِيْرٍ الله ( ت3 ء۳ھا) سای دصر ےکا نام نےکر وخ کیا جاۓ۔
مکی نع ب کی سان شریعت کے پابن نیس تے۔ اھوں نے نرہب کے
نام پر علال وترام کے پھنوخودساختدط ربق اخقیا کر ر کے تے۔ مردارک ککھا جات اور
ذ کرت نے دبئی داپتانؤں کے نام پرکرتے۔ ال لیے اسلام نے مشرکین کے 3ہک
مسلمانوں کے لیے عرام قرار دیا۔ اس کے برخلاف اب لِکتاب خدا اود وگی و رسال تکو
اصولی طود پر مات اورال' کے نام پر ذف کرت تے۔ اس لیے ان کے ذ ہی کوعلال قرار
د اگیا۔ چناں چراشادے:
اليْمَ أجل لم الظیث و عنام آ خجھارے لے تمام اک چنزیں علا لکردی
الین أھوا الب جا لم و گئیں اوران او ں ۷اکھا: بھی تہارے لے
طَعَامُکكُمْ 0 علال ہے ج نکوکتاب دی گی اورتہاراکھانا ان
(امامر۵:3) کے ےکی عال ے۔
آیت میں طعاعم کا لفط آیا ہے جس کےمتیکھانے کے ہیں۔ ا می سک
موم پایا جانا سے؛لین ححضرت عبد الد جن عیائ نف مات می کہ اس سے ذہ مراد ےيل
بی بات متمددتا ان سے مردی ہے۔حافظ ای نکی رفرماتے ہی سک علا کا اجماغ ےک
ال یکا ب کا ذبیرمسلرانوں کے لیے علال ہے ال لی ےک وہ خی راللد کے نام سے ذ زا
کوترا مین ہیں اود ال ھی کے نام سے کرت ہیں ںی
علامہابکن رش سے ہی سک علاءکا اع ےکہ ائ لکتا بکا ذ بج ال ے۔
تخصیلات میں .شض باتوں میں انفاقی سے اورلھض میں اختلا فی
لے امام بخاری فرماتے ہیں: قالل ان عبا: طعامھم ذبائحھم۔ بخارگ ءکتاب ال با الصیر
و ای نکش تیر القرکآن اتتم: ۱۹/۲
2
ین سے لے دکھی جاۓ بدایے پر :۱۲۷/۶ اورااں ے1 گۓگے۔
معاشرتی تعلقات 2
ححخرت عبد ال بن گا ليِکتما بکی عورتوں سے یا کو زاین دکرتے جھےہ
ین ں کے باوجوداان کے ذججہ کے استعال می ںکوئی مر ج نی مھ ںکرتے سے
علامہنووئی فرماتے ہیں: ائ ليکتتاب کے ذجنہ کے عطال ہہونے پر امماغ ے۔
صرف شیع عفرا تکو ال سے اختلاف کے ںی فقہاۓ احناف نے اس معاملہ یش ذئی
یرترب یکا بھی فر کی سکیا ہے۔ ان کے نذدی کفکتالی چاہے ذمی جو ما مہ ا ںکا ذبچ
لال سیت
ایک سال یہ ےکہ فصاری بھی حر تک علیہ الام کے نام براوریگیکی
نیہ کے نام پرجھی جافدر ذ کرت ہیں۔ بیبود (کا ایک فرقہ) حضرت عنم کے نام
رذ کرتا ہے۔ اس رع کے ذج کا کیاگم ے؟
صلف میس بہت سے لوگو کا خیال ہ ےکہجئیں ال سے بج تما سک دس
کےناع سے ذ کر رے ہیں۔ اش تا ی ان کے عقاکد و اخمال ے وائثف ہے ال
کے باوجود جب اس نے ا ن کا ہہ علا لیا ہے نو اسے علال ہنا جاے ۔کہا جانا سے
کہ ی ابگرام میں رت الو ورداءً اور عہادہ بن صام ےکی راےۓ ہے۔ جائنین میں
جخرت عطاءہ زہریء رب بشٹعی اورکحو بھی اسی کے ئل ہیں لیکن حضرت کل ححضرت
عائٹڈاورجخرت عبد الد جن گمڑکی دا ىہ س ےکہ بیبود و نصارگی اکر الد کے سواسی
دوسرے کے نام بے جانورز عحکریں یہ ہمارے لیے عال نہ ہوگا۔ اس ل ک ہق رآن
نے صاف طود پر ال چاو رکوترام قرار دیا ہے اود ال کےکھان ےکی عمائص تکی سے جو
الد کے نام پیر زع نکیا گیا و (الانعام:۱٢۱) جالتان میں حطر ت سن لصریی اور طا و ںکی
بھی بی راے ےتا
0 جضاصء اام القرآن:۱ /۳۹۰۷
7 فووبی:؛شرں مسلمء جل د ”ء جزء ٣اءض ۱۰١
ابئ عابد یہ رد اتا ری الدر الا :/ ۳۵۸
7 وی شر مسلمء جلد ”٣ء جز ٣ اص ۰۲ء ۱۰۳۔ قرطیء البائمع لاحکام القرآن: ۷ے
۸> معاشرتی تعلقات
بظاہ ری ری را کاب وسنت سے (یادہ قرب اور معلوم ہوتی نے
ں ملہ بیس اختلاف ےک کوئی ملما نس یکتالی سے جافور ذ ںکرائے تو
یہ زیچ جائز ہوگا با نہ ہھگا۔ امام مالک سے جواز اور عدم جواز دوفوں رح کے اقوال لے
ہیں مجن لوگیں نے اسے ناجائ کہا سے ا نکیا دیل ىہ ےکہ ذ یچ کے علالی ہونے کے
لیے خبیت رط ہے۔ ایک مسلمان اس خبیت سے جانود ذ رتا ےکہ اسسلائی شرائا کے
مطااق جانوذ کم دہا ہے دہ ال لیے اکا ذ جج علال ہے۔ اس رک نی ت تال
کی نیس ہہوٹیء جن لوکوں نے اسے جچائزتقرار دیا سے ایھوں نے ریش لیج نی سکی۔ ان
کی رٹل یر ےل ہ لق نے الع کے ذیی کو علال قرار دیا سے ہذا وومسلما نکی طرف
سے ا معاملہ ٹل ناب تگگ یکر ا ےے
احاف کے نز دی کسی مسلما ن کا کتالی ے چاور وع اناو سے لیکن
زجطال ہوا
۳ سر کے بین
جھ بقع غی رسلم افراد یاکھپفیاں تیارکرنی ہیں ا نکی خر ید وفروشت یا استعال
کے میا ہونے می ںکوگی ش یں ہے۔ البن جھ مین ان کے استعال بی بہوں ان کے
بپارے مل عوال یہ ےکا کا استم لچ ہے انھس؟ اکر ےو یں کے ساتھ بیج
شرائط ہیں پاننیں؟ ا ںکا جواب متحدداحادىیث می متا ے_
حفرت ابو لق با نکرتے ہی سک م نے ول الل یک سے ودیافت
کیا کہ ہم لیگ اپیے علاتے ٹیل رت ہیں جہاں ائ لکتاب ہیں کیا جم ان کے بین
کھانے کے لے استعا لکر سے ہیں؟ آب پل نے ارشادف مایا :
فان وجدتم غیراپیتجہم فلا تاکلوہا و اگ یں ان کے بمتتوں کےعلادہ دوسرے بن
اءن رش بری ائچر : /٢ ء٢۱
ا
ہراپ: ٣۲۲۸/٢
معاشرتی تعلقات ۹ے
ان لم تجدوا فاغسلوہا ثم کلوا تیب ہوں تو ان کے بتنوں شی زکھا لین اگر
فبھال تاب نہ ہوں قایس دقولد پچ ران می ںکھا
حرت ابوشلر ہی سے مدکی ایک روایت میں ال لکتتاب کے ساتجھ ہیں کا
بھی وک رت ہے۔حضرت ابوھا فرماتے ہی ںکدرش نے رسول ال جک سے عم لکیا:
انا اھل سفر نمرٌ بالیھود و النصاری م (حیضہ) سفر مس رجے والے لنک ہیں۔
جار اگزر کہوں نصارگی اور یں کے علاتوں 7ے
الم فلا نجد غیر ا یتھم قال
والمجوس جریم بوتا ہے۔ ہمارے پاس ان کے بتتوں کے علاوہ
فان لم تجدوا غیرھا فاغسلوها دسرے 7 ہہوتے (ابی صصورت می ںکیا
بالماء ٹم کلوا فیھا واشربوا* کا جاے؟) آپ نے فمای: اکر ان کے میں
کے علاوہ دوسرے می نہ ہوں و تم آگیں پل
سے (لولوہ بج ران می سکھا ٤ اور ہو
ایک اورردایت یل رے؟
سٹل رسول الله صلی الله عليه و رسول اللیة سے ہیں سےکھانا پلانے کے بتتوں
سلّم عن قسدور المجوس فقسال کے بارے مس او چھا کیا ہآپ نے فرا یا کہ
انقوہا غغسلا و اطبخوا فیھاگ ایس جوکہ ا ککرلو اور ران می شکھاا پا
حخرت ابوشل شف کی مذکودہ پل ردیات سے معلوم ہوا ےک یلم
چاے وہ ال تاب ہہوں یا یں اور بت پرست کے استعالی بن الں وقت
استعال سے جانے چائیل ج بک دوسرے بن تاب نہ ہوں اور استعال سے پیے
7-و- صا فک رلینا چا ہے ضزے فلن یی 51 اور رواہت سے ا ںکا 7
سا ےآ ہے۔ اس روایت می ا نک سوال ان الفاظہ می پل ہوا ے:
لے بفادک ءکتاب الصید 27 باب صید القویں۔ سم تاب الصیر 27 باب الصید
2 2-9-2
سج ترفرکیاء ابواب الصیدء باب ماجاء مالبنل کن صیر الکلب وہ لا گل
تر گہ اواب السیر جاب ماجاء فی آمی امش کی
۸۰ معاشرتی تعلقات
انا نجاور اھل الکتاب وھم ھم اٹل کاب کے پڑ یں ٹس رج ہیں اور وہ
یطبخون فی قدورهم رس نا وت سیب
ا کتیں مم شراب بے ہیں (کیا یہ لن ہم
یشربون فی انیتھم الخمر اعت لک رد یں؟)
ال کے جواب می لآپ نے فرمایا:
ان وجدتم غیرھا فکلوا فیھا و اگ یں ان بنتوں کے علادہ دوسرے بن
دعقیاب ہوں تو تم ان بی می لکھا اور یے۔ اگر
دوسرے پن نہ ہیں تق آئیں پالی سے دوکر
صاف/و۔
ای ہۓ قاف ڈان ےکہ ہا کاب با غیرسلموں کے بن ببیتو ںکا عم
ےئنتیں و ترام اود نا پاک چو کے پلانے اورکھانے پینے کے لیے اتا لکرتے
تھے۔ جو جن ان چیزوں کے لے استعال نہ ہوںء ان کے بارے میں میم نہ ہوا کہ
امام کے ساجھ اک صا فکر کے بدرچ مجبوریی استا لکیا جا ال سے ایگ بات
بک یالھتی س ےکہ بھی طرح جودینے کے بعد ہرطرح کے بین استعال سیے جاسکتے
ہیں حفرت جا کے ہی ںکہ ہم لیک رسول الل یچ کے ساتھ غزدات ٹیس شریک
ہوتے تھے مشرکین کےکھانے پنے کے جو وشن اتآ تےء یں اسقعا لکرتے تے۔
آپ نے ا پرکوئی اعترا یں ف رمیا
ایک ردایت میں ےک یم نھیں دوک استعا لکر یکرت ت
امام نو فرماۓ ہیں: رت ابوتھل گی رواہت میں خی سم جن ہیں میسن
زی کاگوشت پکاتے ما شراب بے ہیںہ ان کے استعال سے کر دوسرے بن موجود
نہوں تو ہش کیا گیا ہے کیو یک ای می ںکراہ ری مؤں ہوئی ے۔ انا کے علاوو گر
برع فقتہاء کے نزد یک دھونے سے پک ہوجاتے ہیں۔ ان می ںکوئ یکراہت اق میں
اشربوا و ان لم تجدوا غیرھا
فارحضوھا بالماء“
0 اودائو کاب الاععممتء باب فی استعا لآ می ال اکتاب
۴ الودادحوالہسالقی ٣ این شر ال پاری:۹/ ٦٢۳۴
معاشرتی تعلقات ۸
ری ۔آوٹی کے پاش اود بین موجود ہوں تو بھی میں وہ استعا لکرسکتا سے
علامہ قرٹھی کے ہی کہ خی رسلم کے برتو ںکو استعا لکرنے سے پل آھیں
نے اورٹجض صودتوں میں پا یکھو لک آھیں صا فکرن ےکی ہدایت ال لیے ےک
دوخجاسات سے چچتے یں ہیں اور مردارکھاتے ہیں۔ دو اخیر پچانے میں بن می
کے ہوں نے ان کے اشرا تآ کے ہیں۔ دڑونے اور صا فکرنے کے بعد ان کے استعال
سکوگی مرج نہیں سے اشر ےکم نکی سونے اور چاندی کے تہ ہو ا زی رک یکھال
سے نہ بے ہویں (یے سیئر ویرہ) حضرت عبد الش جن عباکفرماتے می ںکضرورت
اود ہیی ناج یا لے کے ہوں تو نہیں دھودیا جاے اونٹی کے بہوں و اس میں 0
پانے کے بعد چو دیا جائے۔ امام مالک فرماتے ہی سک جھ بن دوکھانا پکانے کے لیے
تی٠ بللہ دسر ضرہدیات کے لے استعا لکرتے ہی بھی بوے بخیر استعال
گے می سکوئی مرج نہیں کت
فلا فی زا وی یرس کے مجن سے طہارت (اتام وضو
خسل) اص٦ لک جاے اودا کا پک ما نا پاک ہونا داش نہ ہو اکر خی مل اتل ق کسی
الککاقوم سے ہے جس کے فددیک اس رشن کے استعالی سےکوئی ای جذہہ یا نین
اس نہیں ہے نز نمی طود پر طہار تک ہوجائۓے گی ءلین اکر اس کاتلقکسی یی قوم
سے ہے شس کے نزدیک اس تی کے استعال می ںکوئی دی چذیہ یا نل پیا جاتا
سے نو اں صورت یس بھی جج مسلک می ےک طہارت ہوجائۓگیا۔ امام اوزاگیء
وریہ ؛ امام ااوعیذ امام شانی اید ان کے اصححاب اس برت نی کے استتعال می ںکوئی جرح
نیش یت این منز رک پر کرام رادان جن راہوہے کے علاوہ بج ےکئیں معلوم
نی ن بھی اسے نان دکیا ہوط
0 نوویء شر مسلمء جلد۵ جزء ۹۳ء۔-۸۰
ك1 قرطی, اباح لاحّام القرآن:٦/ ۸ے
مپنیء ۶ التاری: ۳۹۱/۲
۸۲ معاشرتی تعلقات
0227
غی سک جکمروں با ان کےکارغانوں کے تار :کرد ہکپٹڑ ےکا استحال بالاقاتیق
از ے۔ الب ان ہے استعال شد ہپڑوں کے بارے میں علا کے یہاں پیل
می ے۔
علامہ اب فا شی ککتے ہی ںکہ ای يِکتاب کے استعال شد ہمکپڑڑے جیے
عمامہءطیلمان (وہ چادر جولپاس کے اوپعپا کی رح اوح جائی ہے) یا بن کے اوپہ
کے حصہ میس استعال ہونے وال ےکپٹڑے ىہ استعال سے جا سے ہیں۔ الب جم کے
لے حصہ کے لیے جکپڑے استعال ہہوتے ہیں ان سے اجتزراز اوٹی ہے۔ ال ل ےک یہ
لک عبات ۴ لیے طہار تکا خالگیں رھت الو نطاب کت ہی سکہ اگل طہارت
گر جبک کک کپڑے کے نا پاک ہون کا شموت نہ ہوہ اسے پاک بیکجھنا چا ےم
خی ای لکتاب: جوسیوں اور بت پیسقول کے بنتقول او رکپڑروں کے بارے
یس ابو نطاب کت کہا نکا عم مبھی ا کاب بی کا ہے۔م]شنی ان کے پڑرے اور
07 اک بے جانیں کے اور ا کا استعال جائز ہوگاء جب مک کک ان ےجس ہوے
کا لقن نہ ہو۔ بی امام شا یکا ملک ے۔
یکو اکم ہہ پڑے ج یسل کرت ہیں دہ اک
ہیںہ ان می نماز بڑھی جات ہے۔ رہول ارم اورحاہ کرش مہ یسپٹڑے اسقعوال
کرۓے تے۔فتماءکی عام را می سے
نی رملموں سے معاشرتی روالیا ےلحیضس اور پہلؤ ںکیء سابتی نعلقات گے
مت داضت + وگ گا۔
1
ابن قراب. :۱۷/۱
حالہسابئن ءگ ۱۱١
م۸۳
سمابکی نعلقات
معاشری نعلقات کے زیل ہی ںکھانےء ےِْ او رپا ں کا 1 ے۔ انا
نعلقات کا دائرہ بہت و ہے۔ اگ نعلقات کے شت الں ےلححض اور پہلوو ںکی
ویضاد تک یکوش شک جا ۓگی۔-
فی سمل مکوسلا مکرنا
اعادیث می سلا مکو روا د ےکا عم ہے۔ (یادہ ظ علاء کے نز دیک ای ںی کا
علق مسلرانوں سے ہے, ا لے غین رس مکوسلا کی سکیا چاسکتا ریا نت حضرات سے
نز دیک سلام ایک طر کی دھاے۔ یدع غی رس مکوچھی دىی جانتی ےل
یسل مکودما ریا
عخرت ال کی ردایت ہ ےک رسول الیگ نے ایک بیہودئی سے پٹ ےکی
کوئی زط بکی۔ اس نے وہ شی کی نے آپ نے اسے دھا د یکہ الل تا میں
ین کل ر ےہ چناں چہمرتے وق ت کک ال کے بال سیاہ رس ں٘
علآمہ بٹوئی ال روای ت کی مزیرتخحیل بیانکراے ہوۓ کت ہی کہ اٹل
کتا بکودعا دی می لکوی حرج نیل ہےه اس کہ ددایت سآ ہےکہ كیک
و و کا
٣۹۲ /٠:ںیھ/ءقازرلاربع ٢
کروی نے رسول الد یکو دودھ دو مک شو ںیکیا ۔آپ نے اے دعا دیکہ اللر لے
نین کل نادے۔ چتاں چہاں تھے ای ساہ ہوگئ۔ وونوے 27 کے ریت زترہ
ران اس کے پالوں میں سفیدر یی ںآ کی
27 گی دعا کا جواب
221 کے بعد ائمد ول کے عم سےکہ تن والا رْحَبُک الله“
کھیے۔ ا کا مطلب سے اود تھا یتم پر رعت ناز لکہرے۔ عدیت می ںآ ےک ود
آ پکی اس میں زبرڑقی یکن تھے تاکہ زان مبارک سے ان کےعن میس یہ دعامے
الفاظ ادا ولآ پ یرحمکم ال کے الما تو ان کے سے استعا لنہیں فرماتے جھے
اہنۃ یھدیکم الله و یصلح بالک م۲ہاکرتے تےے گی دعا ے اور ا کا مطلب
ے الد یں ہدایت سےلدازے اورتہارے عالا تکونھی ککردے_
ال سے داع ےک غی رسس مکو اس کے مناسب عال دعا دگی چاحتقی ہے۔ یہ
اعلا مکی ال اخلاقی تحلیمات اور وع انساٹی ہے ساتھھ اس کے شش ریفانہ دو یکا فطری
تقاضا ے۔
غی رس کا اکرام
سن سلیں کا تلق ای مد ین ا اظاق جج- نت گی ے۔
خی رسلموں سے۔ اتی صن سلوک میں ریبھی داشل ےک ان کے ساتھ بات چچیت مُلء
لے جلے اور تعاقات میں الإ اخلا کا مظاہرہ ہو۔ ان بیس جو ساگی اور معاشرلی اط
سے نمس ضیفقبی تکا ماک ہو اس کے مطای اسےعزت و ا را مکا مقام دبا جائۓے-
قاضی اسائیل بن اسحا قکی غخدمت میس ایک ذی کیا ھوں نے ا کی
لے بفوی: شرب الت:۱۴/ ٢٢
اإودا٤د اپ الادبء باب کیف يُشمّت الذمی۔ ترمذی ابواب الاستیذانء باب
کیف یشمت العاطس
سماجی تعلّقات ۸۵
تنظیم وق کی حاضرین مجس سےلہ نے اس پر اگوارت ا انہارکیا تق تقاضی اس ئل
نے سود مق کی آ یت۸ کا حوالہ دیالے
مطلب مک یف رآن مجید نے ذمیوں اور خی رمحار ین کے ساتی سن لوک سے
مخ ہی ںکیا ہے۔ بر اترام ای صن سلوک میں واھل ے_
ایک سال ہہ ےک ملما نکی ذئی کے اترام می سکھڑا بھی ہوسکنا سے یا
نھیں؟ علامدعز الدین لام نے اسے ناجائز قرار دیا ہے۔ البظہ نہکھٹرا ہونے می سی
بڑے ضررکا خطرہ ہوقو فرماتے ہی سک ہکھرا ہونے مھ کوئی حر جع نڑیں ے۔
علماء احناف می ابن دہپان ا کا ایک شبت پپبلو عیا نکرتے ہیں ان کے
زدیک ذئی کا اسلا مکی طرف رجقان ہو قیا مک ناش ہے ۔ لن لوگوں نے ہرد
ملح تکو بی حیشیت دی ےںِ
ںم کے مان لک ایم اس سوال سے چڑ دا گیا ےم مسلمان جب
براقا ہوں تو ا کا ذمیوں کے ساتہ ج اقت اٹ شریک نی ہیں کیا روہ ہونا چاپیےہ
ین اکر اسے اسلا مکی عام اخلاتی نلمات اور انوں اور غیبروں کے ساتی رن سلویک
او گی اوہ احسا نکی ہدایا تا رشن مس دیکھا جا ذ انل سے زیادہ وع یس منظر
مل ان فور وگکر ہیکت ے۔ ۱
یسل مکوم ہمان رکھنا
اں سے پیل حخرت اسا کا واقت ہگمزر چکا ےک ا نکیا مشرک واللد ہمہ سے
7 7ھ لاشیء ان سے میں نو ھا تبھ یکتھیں نیت اساٹ
نے رسول الچ کی اجانزت سے میں اپ نے گھ ریا اود ان کی دم تگی۔ ال
عدیث کے ذیل می علامشوکای کھت ہیں:
لے ان الحر بی ماگیء اعکام القرآن: ٣۔ ا لآی تکا حوالہ پیگزر چکا ے۔
آلویء روں المعا یء ب77 ء ۲۸ ۶۴ص۲۵
۸٦ سماجی تعلّقات
فیہ دلیل علیٰ جواز قبول ہدیة اس شش اس با تک دیل ےکٹر کک رے
المشرک کما دلت علی یں قو کیا جاکتا ہے جیناکر ال باب مل جھ
×۹ جچوتد ۱ عدشی ںگزر گی ہیں ان سے ثابت تا ے۔
الاحادیث السالفة و علی جواز
۱ اس عدیث می اس ام رکا جوا زبھی موجود ے
انزاله منازل المسلمین* کہ مشر کفکوملافوں سک ےگھروں میس کہ ایا
اتا ے۔
سای تقاضوں مج ایک اہم ضا بھی ےک ۔کوگ شش پیر ہوق ا کی
عیادت اوخ مگیر یکا جا اور اس سے عحبت اور ہجھدردگی کا اظہا کیا جائے۔ اسلاام نے
ملیف کی عیاد تکی خیب دی ہے اور اسے بہت بڑا کالذاب بتایا سے
اعادیث سے خی رسل مکی عیاد تکا بھی خھوت متا ہے۔ رسول الد 02
رس نیس خی رسسکم اشفا سکی عیاد کی ہے۔ حضرت ال نکیا روایت ہ ےک ہآپ
ہبجار کےای کی کی عیادت کے لی ےتشریف لے گے (اس دودان یل ) ای سے
کہا اے مامول! آپ لت نہ ا اللہ “کا اقرار تھے اس تن ےکہاکہ یس ماموں ہوں یا
پچ ؟ آپ نے فرمایا: نیہ ماموں ہیں (ال ل ےک ہآ پکی والدہ حضرت؟ مہ کاتھلق
رین سے تھا) اس نےکہ اک کیا لا الله ا الله کا قرارمیرےتؾخ میں ہر ہوا ؟ آپ
نے فرمیا: ال
حبریت 2 یی روایت ےک ایک پبہودگی لڑکا ۶,773 مت
2 شوکانی, نل الاوطار: ے۷ فی مل مکو نے د کا وت حرج کے اں واقعنہر ےکی ثٌ
ہے ج اس سے پیل گر چا ہےکہ آنھوں نے رشنہ کے ایک منشرک بھائ یکو ایک اد جو ول
ال پچن نے میں دیتی, تے میتی _ اس موضوں بر ستفل بآ کےآری ے۔
2 تفحبیل سے لے ماظہ ہورتم ک کاب صححت وعرس اور اسسڈائی نلیا ص۵٣۹-۳۷٣۳۷
۲۹۸ می راصر: ۳/ ۱۵۲۰ء ۱۵۳ء ٣
سماجی تعلقات 2ن
کیا کتا تھا۔ دہ بنا ہوا قذ آپ ا لکی عیادت کے لے ےتشریف نے گئے۔ اس کے
رہانے ٹیشھے۔ اس س کہ اکم اسلام ل ے37 ال نے اپنے با پک رف دیگھاء جھ
ال کےقریب ہی موجودتھا۔ اس ت ےکہا: الد القاحم صلی الد علیہ یلم )کی بات مان لو
چنال چ وہ الام نے آیا۔ نی مال ہالں سے ب کت ہوۓ مک ےک ال کا شمگر ہی ےک
ای نے ال پیےکوج نم سے بی می
ان ردایات سے مین اور یہودگی عیاد ت کا تھوت ملا ے۔ اسلا مکا 22
کنا تو شمرخوانی کا تقاضا ہے۔آ1دی جےنعن بج ےگا اسے دہ ہرعال بیس یی رن ےکی
یئ کر ےمان فا نے سول 2 یگ ان ا ہ سے بہ شابہ تکیا ےکم
ٹیسلو ںکی عیادت اورتحزیت چائززےہ اس مس ازروئے شر عکوئی رکاو ٹنمیس ہے۔
رت عطاء بن الی ربا کے ہی ںککوئی خی رسلم چیار ہوجاۓ تو یں کے
ملمان رش دا رک ا ںکی عیاد تکرکی چاہے:
ان کانت قرابة قریبة بین مسلمم و اگ رملمان اورکافر کے درمیان قرجی رش داری
کافر فلیعد المسلم الکافر“ ہے ملا نکوکاف کی عیاد ت کر چاہے۔
می سے قرابت اور رشتہ دارکی ہو ال کےتقوق زیادہ ہیں ہلان بمعیاات
کے لے شر نیس ہے۔ یہ ایک دینیہ اخاقیء بلمہ انان تقاضا ےه جے گرا ہونا
چایے۔سلمان بن موی کے ہیں:
نعود بنی النصاریٰ و ان لم قکن تم لوگ نصارٹ کی اولادکی عیاد تکرتے ہیں
بیننا و بینھم قرابة ارچک ہمادرے اور ان کے درمیان قراہت
ٹین ے۔
ما بخادگا کاب الجنائزء باب اذا م ائسی ات اق مصنف عبدارزاق: ۲٢۲/۷ مس ای مفہوم
گا ایگ روایت ہے۔ اس می لکہا گیا ےک ہآ پکا ایگ یبودی پڑوی تھاء جو اخلاتی ور پر براندھا۔
آپ نے ا لکی عیاد تکا۔ پل رابرد کنل بیان ہوقی ہے لکن ہے یکول دوصرا وا ہو-
عبدارزاقء اح عیں:۳۵/۷۹ حول ہانق:۳/۷
۸۸ سماجی تعلّقات
تی میس عموئی انداز م سکہا کیا ے:
و لا باُس بعیادة الیھودی و یبودگی اود نصرالٰی کی عیادت می لکوئی رج نیں
التصرانی لالہ نوع بر فی حقھم و ہے اں لیےکہ ران کت جس ایک طر
ما نھیناعن ڈلک' کی بلئی اورصن سلوک ہے۔ ای سے کی
می کی سکیا کیاے۔
درختار ٹل س ےک ہیں بات پر اتمانً ےکہ ذن یک عیادت جائز ہے وی
کی عیاد تکویھ جج قول کے مطابتی جات قراردیاگیا سے
یم سو کے جناز ےکا ا7رام
حضرت ہل ین یڈ اورٹش بن سعزقادسب ٹل تھے۔ ایک جنازہگزرا تو وہ
کھڑے ہو گئے۔ الع س کہا گیاکہ ریذن یکا جنازہ تھا۔ ایھوں نے جواب دیا: ای رح
رسول الچ ایک مج ہتثریف فرما تھے۔ آپ کے سام سے جنازہگزرا تق آپ
کھڑے ہوگئے۔ عون کیا عگیاکہ ہہ یہد کا جناذہ تھا آپ نے فراا کیا داش
نان )نین ۓا ایک ددایت جس ےک ہرآپ نے فا موت سے ای کناٹ
ہوتی ہے( کاعلق سلم با خی سلم یں ہے ٣)
اں حدیث ے دو پاتیں معلوم ہوئی یں : ایگ بک یگ انما نکی صوت
ایک الم اک حاد ہے۔ ال سے موک نکواپٹی موت بادآ کی سے اود ووعرت حاص لکرتا
بہے۔ دوک کی بات کہ اسلاگا ریاست میں غیرمسلم تھی روگنین اور ال و گے دن
می مرا مآ زادئی سے انعام دے کتے ہیں کی
ظ بخاری ءکناب الہناتزء باب من قام لہنازۃ الیبودی مل وناب انا باب القیا از
مر علاء نےککھا ےک مسلمائوں اور ذمیوں کے ریقوں میس ذرتی ہوتا چا بے اودا نکی تٹ رون
سے اوقا تکھی مخلف ہونے چاگیں۔ ال حریت ےلت علاء کے بقول الع اہتتھادا تک دی
ہولی ہے۔عافط این تجرفرباتے ہیں۔و استدل بحدیث الباب عاٰی جواز (اتی گے سخ پ)
سماجی تعلّقات ۸۹
کافر واللد ین یا زیو ںکا اتال بہوجاۓ و ملران اولاوضرورت پران بے
کفن ؤ یکافض مر گی رسول اکرم یہ کے پا حضرت ابوطااب بیار ہوئے نَ آپ
نے ا نکی عیادت فرمائی اجب انتقال ہوا تذ حضرت گل نے آ پکو ا لکی اطلاع دی۔
بش رک نک رآپ رو ےت ایآ روایت گل ےک آپ ال نکی مخفر تک دا گی
کرت رہہ بعد بیس جب اللدتعالی نے اس سے فرمایا نو رک گے
حفر تک نے ددیاف تکیا کہ ای ںکون نکرےگا؟ آپ نے فرمایا: چا٤ٗ
اپ با پکو ؤ نکرو۔ پھر او رکوئی کام سے افیرسید سے میرے پا ں57 می لگیاء آگیں
نکاس او رآ پک خدمت میں مایا اون ے 21 دیا اور دعا دی۔ ای
دا کہاں کے میس ےس وسیاہ اونٹ (دئا جانکی دوات) گی پنرگیں؟
فی لم ےکس اورتزفی نکوتض فتقہاء نے جائز قرار دیا ے اور“ و
رف ال صصورت یل ا لک اجازت دئی ےہ ج بک ا لکی ت فی ن کانظم نہ ہو
مصع رکتتے ہی ںکہ میرے ساتھ بیبودیی یا نھراٹی ہوہ اس کا اتال ہوجاۓ اور
( لے سخ بت) اخراج جنائز اھل الذمة تھارا غیر متمیزة عن جنائز المسلمین۔ اشار
الیٰ الک الزین بن المنیرقال و الزامھم بمخالفة رسوم المسلمین وقع اجتھادًا من
الائمة۔ بج الباری: ۱۸۱/۳
ا مصنف کر الرزاتی:۳۷/۷
این سد لطیقات الب رکی: ا / ۴۳ء ۱۲۴۔ مین کے لیے دعواے مففر کی عمائدت سور) تب
آیت ۳اا یی آلی ے۔
فعض روایات می نل اورکف ن کا بھی وکر سے تفصیل کے لے ملاحظہ ہو زیلعی ءنصب الرلی:
۸۱۲۰۸ء۲
ابودا ود ءکتاب الجنائزہ باب الرشل یھوت لہ قریب* مشرک نکی ہکتاب الطمارۃء باب ال من
موارا انرک تاب الہناتزہ باب مواراۃ امش رک۔ من ابر: ۴۷/۴ ۔ حدیث نر ے۸۰
ے۰ ۔ تی اص رح رش اکر
۹۰ سماجی تعلّقات
ان کے ایی رہب ممں ےگنن ایا نہ ہو جھ اسے و نکر کے ت میں اے نی
کرو ںگاء اسے ورندو ںکوکھانے کے لےکہیں یموڑ رو گا
فقییٹی بج سکہاگمیا ےک مسلمانوں کے درمیا نی کاف رکا انتقال ہوجائے ت
برل ”لسن کے اور ؤی نکی سکرس گے چا وہ ا ن کا ترجی رش رار ہی
کیوں مہ ہوہ الا کہ اسے اڈ نکرنے وا اکوئی نہ ہو۔ (اس صصورت میں مسلران اے ون
کیردیکی گے ) می امام مال ککی رائۓ ہے۔لیگن ابو فص ری کے ہی ںکرملران
کے لیے اپنے کافرقربی رشن دارکینل دینا اود ڈ نکرنا از ہے۔ می دا گی انام اد
سے نقول ہے۔ اام شاف یکا صلک بی سے
علامہ ابوبکر جصاص کت ہہ کہ جمارے علاء (احناف) ن ےکہا سےک رکا
مسلمان کےکافر مال با پکا اتال بہو جا و و دےگاء جناز ہکا ساتھ رے
گا ادرؤ نکر ےگاء اں ل ےک ان کے ساتد مروف کے مطابق صن سلو ککا جوم دیا
گیا ہے مال یل شائل سے
ہدائی یش فور لک عبارت ے:
و اذا مات الکافر و لہ ولی مسلم سی کافرک اتال ہوجاے اورمسلمان ا کا وی ہو
فانہ یفسلہ و یکفنہ و یدنہ دواےل د ےک اودا سکنن اورتری نکر ےگا۔
ا عبراارزاق,مصیف:۲/۹٣
ْ ابع راب انف ی: ۳ ہم
ور اعکام القرآن:۳۷/۲٣
گے صاحب باب کا اندازخت ہے قرو یکی ععہار تکی شر یس فرماتے ہی ںکہ جیے اپا کپڑا
جو یا جانا ہے اس رب ناپاگ ہکم لا پہ پان بہادےگا۔کفن اود ن یس حن کیا رغایت ہو٠
بل بچھوٹا ساگڑ ھا کھودا جا ۓگاء می تکو ای ککپڑڑے می لپی فک اس میس ڈال دیا جا ےگا اود تی ری
سے ڈھک دیا جا گا۔ ہدایہ: ا /۱۹۴-۱۹۱۔ اس میں مکی کہ غی رس ل مکی نیشن امسلائی ش اعت
کے مطاب نیس ہوگی ملین مسلما نکی بھی وجہ سے ا لکی نشی نکررہا ہوتھ ا میں میت کے ارام
کا پپلو ہمارے خیل مس بہرعا لحوظط رہن چا ہے۔
سماجی تعلّقات ۹۱
یہ ال صورت ٹل سے ج بک ملا نکوکسی خی رسسلم رشن دارکی یٹ گنن
کرٹ پڑے۔ اکر ال کے ائل خرجب اپنے طریقہ پر لکری ت مان 0
ححدتک شیک ہوگاء جس حدتک شرلمت اجازت دے۔
چنازہ ہیں خلت
خی رسلم سے خونی رشن با اورکوئی قرہ علق ہوتے اس کے جنازہ میں شک تکی
بھی اجازت ے۔
مشمپور اب یضجحو کی ردایت ےک رسول الپ نے اپنے بتچاااوطااب کے
جنازہ میس شرک تکیتھ۔ کنار ےکنارے ےہ ا نکی نما جناز دننیس پپڑی۔ فرمایا:
”رشن ن ےآ پکو ہجھ سے جوڑ دیا ہے۔ اللتھا یآ پک جزاۓ خردے۔“ ا نکی قب پہ
آ پکیڑےکیں ہو ےہ
امامٹعی کے می ںکرحارت بن ا رہب ہک دالدہ نحرا ی فی ں- ا نکا اتقال
ہوا ت2 (مھش) صعحابہ نے ان کے جناز کی مشالج تکی ی
عطاء بن ال ربا کے ہیں:
ان کانت قرابة قریبة ہین مسلمم و اگرقرھی رشن داربی ےملمان اورکافر کے درمیان
کافر فلیتبع جنازتہ“ یلما نکوکافر کے جنازہ کے یچچ چلنا چا ے۔
غی رس کے جناز ویش رت ہو یں باتک اقیاکری ہوسا نکا اتیاز
اقی رس انسای تھکقی اور درد کا انکہارجھی ہو اور یہ با گی دامع ہ کہ اسلام کے
علادہ سی بھی دی نکو دہع نیس بھتا۔ اس کے لےخللف صورس انقارکی جات ہیں۔
ابووانل کے ہی ںنکہمیری ما لکا اتقال ہوا۔ وہ نھرایتیں۔ میں نے رت
ہایت پر اایطال بکی نشی نک یی اود بعد ٹس ا سکی اطلاع دئی۔ اس سے معلوم ہو ہےآپ اٹل
شریککیں ہوئے۔ بردوایت ال سےنلف ہے۔
ہو مصنف عبدالرزق:۷/ ۳۷ سس لاق
۹۲ سماجی تعلّقات
عمر سے ا ںکا ذک رکیا تق فرمابا: جب ال کا جنازہ رواشہ ہو تم سواریی پر گےآ کے چلو_
الام اص بین پل ال کے حوالہ سے کے ہی ںک یی یہد یا نھراٰی کا اتقال
ہوجاۓ و ا ںکی مسلزان اولاد سار پر جنازہ کے1 گے گے اود ڈن کے وقت والئ
بہوجاۓے
حخرت عبد اللہ بن عم سے ای کن نے دریاف تکیا کہ میرئی ما ں کا اتقال
ہوکیا ہے۔ دخ نھرا ہی تی ۔کیا میں ا کی نشین میس شریک ہوکتا ہوں؟ نھوں نے
جواب دیاکہ جنازہ کے آ کے لوہ ال ل ےت (د یی اط سے ) اس کے سات نہیں ہوںے
قمادہ کے ہی ںکہمسلا نکافر کے جنازہ کے یہ ےگا او رکنارے رہ ےگا
ان سےقری ب یں ہوگاج
خی رسک میت کے ائل رہب موجودہوں فو دہ اپنے ربق پگ لکریسی گے۔
یا کا نم تن ہے۔ ال می لکوئی رکاو ٹنیس ڈالی جا ۓےگی۔مسلمان رشن دارصرف
جنازہ یں شریک ہوگا-۔
خمالد بین عبد الیل تس رب یک ماں کا انقال ہوا۔ وہ نصراشیتھیں۔ خالد نے رش
کے پادریو ںکوطل بکیا او رکہا کہ ا کی یٹ وٹین میس وط یقہ اخقیا کرو ج بایٹاہوں
کی لڑکیوں کے لے اخقیارکرتے ہہ اس لی ےکہ اس کاتتل نکھی پادشاہو ںکی اولادے
تھا رگ ری گوروں ے پاددلوں ای ہدایت کے مطابق اہی ں تل دیا ادرجھیٹ ر وٹین
گی۔ جنازہ جب چلا و خالد اپٹی سار پ4 ےہ نمیاں اشخات بھی ساتھ تھے ۔کنزارے
کنارے 4ے رے۔فپرتک یچ و انی سوارکی کا رح صوڑا اور وائیں ہو گے ۔کہا: ہے
ہمارٹی ماں کے ساتج 7 خریی سلوک سے جب مک رسے ہیں۔ اس کے ساتھ بھی بتا کیہ
ان ققرا امفی: ۳+/م
مصنف بر ارزاق:٦/ے ٣
حالہسابنی
سماجی تعلقات 9۳
2 عب ال بن الو زکریا نے فی ماں کے ساتھ میچی ط ریہ اتقیا کیا تھا۔ ان کا خارشام
کی نمایاں تحصیات یس ہتا تھا۔ بڑے عابد وزاہر اور فتیہ تے_
حول (نا بی )کے بارے می سنا ہ ےک دوکھی بی پگ لکرتے حم
جنازہ کےآ کے با یچ چلناء درمیان جس با کنارے پچلناء سواری پر یا ٌ
چنا ان مس سے ہرای کک یش معلوم ہوتی الہ ای ےس یھی موق پرا ً
تخیں اور نفرادی تکوکھو ینا بج نہیں لت انا فی رک ہوۓے دی حالات اب
اط سے خود فیصلہکرسکتا ہے۔ ال سے بہرحال اتا بات عابت ےک وقت ضرورت غیم
مل کے جنازہ میس ریت زاردانڑیں ے۔
غمی رس عزب کی قب رکی زیارت
کافر ماں باپ ما تقربچی عزیز کے انال کے بح اکر ا نکی یادآجائے تو دی
ا نک تر گی جاستا ہے۔حفرت ابد ہیی روایت س ےک رسول اشک نے اپنی
والدہ (حضرتآ منہ )کی قبرکی زیارت فرمائی 2 پکی آکھوں ےآ نسورواں ہو گئ_
ععابکرام ساتھ تھے دہ جیا رہ بڑے۔آپ نے فراا: یس نے اپنے رب سے اپ
ماں کے لے استغفار ریا اجازت ماگ لکن جھے ا لک اجاز تل گی یش نے ا نکی
قب رکی زیار تک اجازت طل بک تے اجازت دے دئ یگ ۔تم لیک قبروں کی زیارت
رین سے مو تکی یادتازہ ہوئی سے
ای حدبیث کے ذیل میس امام نووی فرماتے ہیں:
فیہ جواز زیارۃ المشرکین ھی اس سے شرکی نکی ا نکی زندگی بش زیارت
الحیوۃ و قبورہم بعد الوفاۃ لِنهُ اذا اور ملاقات اور مرنے کے بعد ا نکی تو ری
لم ءکتاب الجذائزہ باب اسخمذ ان ال رب فی زیارۃ قبرامہ۔ ابد داد کاب الجنائزہ ہاب لا
زیارۃ القور۔
۹۰۳ سماجی تعلّقات
جازت زیارتھم بعد الوفاۃ ففی زیار تکا جواز تا ےه اس لس کہ جب ا نکیا
الحیوٰة اولی.“ زیارت ا نکیا وفات کے بعد جائز ہے تو زندگی
میں پدرچالٰیٰ جات ہوئی چایے۔
سک تریں
کی کے ع زی وقری ب کا اتال ہو ا ںکا ون سےکہ ا لک تحزی تک
جاے اورال کے ساتھ ہھدرد یکا نظہار ہو ینس طرب ملا نکیا تحزی تک ال تج
خی لک بھی تحزی تک جانی چا ہیے۔ ایک ماق تقاضا بھی سے اور اسل مکیالیم کے
ین مطاب بھی۔ الہتہ اس مو تے پےکوئی ای بات زبان سےنمی ں کھت چابے ج ایک
ملران کے عقیرہ کےغلاف ہو-۔
امام ابد بیسف فرماتے ہی ںکہ یس نے امام ابوخفیفہ سے ددیاف تکیاکہ یہودگا
ا رای کی اولاد با قرابیت دارکا اتقال ہوجاے نے کی ےتحزی تکیا جائے؟ فرمایا: ای
رح کے:
”الل تعالی نے موت اپی ہرخلوق کے لی ےہکھھ دئی ہے (ااں س ےکس یکو
ریلگار یں ) ہار دعا ےکر موت: جھ ہماری نگاہوں انل ے ج بآ لو
خی کے ساتآے۔ انا لہ وَ الہ امو جومصعیب تآکی سے ا برض رکرو اللد
تا یتھاری تنداد نگھیاۓ (تجھاریپل می ںکی نہ ہو
ناماو پیسف فرمات ہی ںکرحفرتجسن بصر کے پا ایک تھرالی تا اور
1 پکیئیاس میں بی کرت تھا۔ جب ا لکا اتال ہوا انھوں نے ال کے بھائی سے
تحزری کی فر میا: تم بر جومعیب تآئی سے اتا یجس ا ںکا دہ نو اب عطاکمرے
جوتہارے ہم نہب لوگو ںکوعطاکمتا ہے۔ مو کو ہھم سب کے لے بر ت کا باعث
لے نووی: شر مسلم: ۳ء جء ٣۵
٣ ابو بیس ف تاب الفراعءض ۲۱٢
سماجی تعلقات ۹0۵
بنا اور وو موجبپ یرہوج سکا ہم اننظھارکرمیں۔ جومصلب تآ کی ہے اس پرصب رکا دامن
شچھوڑو۔
اس رع تحزی ت کا نصرف م کہ جواز ہے ب کہا گیا ہ ےک کا یرود یا
جڑی کے پچ کا انتقال ہوجاۓ نے اس کےمسلمان پڑد یکو ا سکی تحزی کرک ی چاہے اور
کنا چا ےک اللہ تال آ پکو ال کا بہت ابچھا اشن عطا فرمائۓ او آپ کے عالات
کور بنا ےی
ىہ ہے ان ددیےکا ایک جھلک -ے غیرسلموں کےسلسلے میس اپنان ےکی قرآن
وعدیث ن تعلیم 10 ہے اور سک تقانوٹی اور اغلاقی قثیت سے ہمارے علاء وفقہاء
نے بج ٹکیا ے۔
لا ابو یف کاب الخ را ؛كص۴۱۶۔ اس طرح کے مناسب الفا طاشن اور اصاب سے بھی منقول
ہیں۔ ملاحظہ ہو: ابع قراب :۰ ۴۸۷/۳,ے ٣۸
۶ ای عابرنہ رداتاریگی الدد اار۵ ۳٣۱/
ازدواگی نعلقات
تض لو یکبکعت ہی سک خی سلسوں اورمسلرانوں کے تعلقا کو ہر اورمضبویا
بنانے کا ایک طریقہ بیگگیا ےک الن کے درمیان شادیی بیاہ کے رشت تقائم نہویںء امہ
ہیں میں جو تی دوری اور بای سے ودشم ہو اور وہ ایک دامرے کے شر اور
تیب سےقریب ہوں اود اسے افقتیارکیھیں۔ اسلام اس اندازکگ رکا الف ہے۔ ال
کے نذدیک جن نراہب کے عقائمد اورتظریات میں جذیادکی اختلاف سے ان کے ماتنۓ
والوں کا ازدواٹی رشتوں میں ضڑل ہوناج نہیں ےت ان رشتو ںکو ائں نے بمیشہ
2 ےش کر دڑے۔
الام کے اس موقف پر ایک اخترائش یوکیا جاسکتا ےک اس نے غیرسلموں
کے س اون سعلوک اور ہھدددی یک یلیم دک سے ان کے ساتج ماش اورساگی تعاقات
کو چائز قرار دی ے لف امور ومہائل یس ان سے تعاو نکو روا رکھا سے تو پچ رشرادی
اہ کے معالے یل ا جخت روہ کے لیے وجہ جوا ہکیا ہے؟ کیا یا لک موی تحلیمات
ناوط رزگ ل نہیں ہے ؟کیا اس ےتخصبعناد اور دورگی ٹہ پیا ہوگی؟
نب يہ ہ ےکہ بیگ غام خیالی ےکہ ٹن لی یا ین لمذ اہب
ریہ ہیں۔ اں طرع کے فی افاات سے قرب ٹنیس چھدا
یا نیادکی ضرورت ہے۔ اگ جذبات سے ہہ فک رفو رکیا جاۓ و
ازدواجی تعلّقات ے۹
میں ہوک اسلا مک موتف ممقول اور رڈ لبھی ہے او یبھی۔ سے نے کے ہے
شض بذیادی پان ںکو ٹین ل نظ ررکنا ہوگا_
ازرواگی زدی بیس عورت اور مرد کے ورمیان الفت دمح تک فضا کا پایا جانا
ضروری ہے۔ بیفضا وی اود ہگائی ود پنئیہ بل تل اود پامیدار ہونی ای٠ تاکہ وہ
مل ہم لک کھ اور خاندا نکی بہت نی رک ریس اود اسےچی رخ د ےگیں۔
ضس اونوا کسی 02 چی با جیا جب کےجحت ازدواگی رشن
قائم ہو جاتا ہے لیکن اں مس احکام اود پائیداری نیس ہوتی۔ اس طرحع کے رت
اودکی اور نا کائی 2 ہوجاتے ہیں۔مخرب ال بھ ینک تجرب سےگژررہا ا ہے۔ خی یگوار
ازدوای زندگی ای وقتہشکن ہے ج بک میال ہیوئی کے مان عبت کا مضبوط رشن پایا
جاۓ اود اس ےکم زورکرنے والےعوائل اور مزارع و اخا کو اچھارنے وانے اسباب شہ
پاۓے جائمیںہ ودنہ دفو ںکی زندگی نغیائی او لی الجھنو ں کا شیار ہوگی اود وہ کسوئی کے
ساتھ ازدواگی ند یک مقاصر پرےۃ یں گے دی و بہب اور گقیرہ کا
اخلاف بای اخلاف ے جوزنف یکا رن می نکر ہے۔ اس اختلا فکومیاں وی
کا نازک رشن زیادہ وو ں کک برداش ت نمو نکرکتا۔ دی سور ٹسل ےگا اوراں کے ٹون ۓ
سے خاندا نکا بدا شی رازہ نر جا ۓ گا۔ پیکوئی مسجمولی فقصا نیہ بلہ بہت بڑانتصان
ہے٤ جو پورے معائشرہکواٹھانا پڈڑےگا۔
یح ای مشالی بھی دکی جانتی ہیں جن یس میاں جیوکی نے نربی اختلاف
ئ2 پاودجد شی لگوار زندگ یگزاری اور الع کے لعلقات می سکوئی خرالی نہیں یھ یکی۔
حیقت ب ہےکہ ی وہ رش ہیں ون میں طرفین مس س ےکک کاکوگی عقیدہ اور ہب
رم ۔ اگمر ہوتا ھی ہے و ا ںکی حیثیت ایک بے جان روای تک ہوٹی ہے۔ ال
ےگل بھی کوئی بجی نہیں ہوئی۔ جب طرفین کا ذلن نرہب اور ال کے تقاضوں
سے خالی ہو ائں پل کرنے یا نکر ےک سوال ہینیں پیدا ہتتا۔ الہنتد نت سک اکوئی
۹۸ ازدواجی تعلقات
عقیرہ و زہب سے اود ا لیصحت وصراقت بر ووممئین ےو ا ںکی فطی خواپٹل
ہوگی او ہوٹی اہ ےکہ ا لکا شریک حیا تھی ای عقیدہ اورک رکا حائل ہو ف یقن بل
عقید ہکا اختلاف خاندالی زندگ یکوسکون سے محر مکرسکا ے۔
آ وئےء اس متلہ بر خالصشل اسلای نقاہنظر سے بھی خو رکیا چاۓے اور دیعا
جال ۓےکہ ال سکیا انھعنیں اود مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اس کے لیے اس کے موی
زج اور اس کے اغلاقی اور قا نی تاضو ںکوسائۓ رکھنا ہوگا۔ ای سے ا ں کا وف
ھا جاسکتا ہے۔
اسلام خائ مکی محاشرت وجود ں لان چاہتا ہف اع لے لیے ای نے
طہارت اود پاکی صفائی: ہلا اود بش تع ےمتملزپخصسعلی ام دبے ہیں لج
یرس اس کے نز دیک علال اورطیب ہیں تو یھ چزیں قرام اورناپاک ہیںء رشن داروں
کے درمیان ال نے مم اود نام او رترب اود دو رکا فرقی رکھا سے اود ای جیاد پہ ان
سے شادگ یہ تباب اور عم تباب کے اعکام بین سے ہیں۔ ای طرع پیرگشٹی سے
نےکر مو تکک خوڑی 7 سے تمام مواتحع کے لے ا لک ہدایات ہیں۔ ان س ب کا
تلق پراو راست یا پالواسطہ غائدای زنڑگی و چپولم فدرم برعورت اور مرد کے
پام تحاون کا مطال ہکرت ہ٠یں۔ اس کے خر وہ تیب اور محاشرت وجود یش یں
تی جو اسلا مکومطلوب ے۔ بغ بات ہہ سےکہ ال تاون کے بقیر اسلام کے
ذیادکی تھا پیر ےکیں ہوکت اور نمازہ روزوہ ری اور زکوۃ تی عبادا تکی کگیء جو
پپرے دن 17 فیاد یں, پاندنً مک ہیں ہے۔ ایھان اورعقییرہ کے اختلاف کے ساتھ
اس راہ یب رپ تھاو نکی فو نی ںکی انی
اسام چامتاے کہ ازدوا یتحلق کے تییہ میں جو اولاد ہووہ ”ذف طَيبَة ہو
اور ایی سے دوس یس لتک نخدا کا دنہ اس عبت اوأعکت اود ا کی عبادت دالطاعت
کا جز ہل ہنا رے۔ ىا وق ت لگن سے ج بک والدین کے لوب رو ایمان
ازدواجی تعلّقات ۹۹
سے سار ہولںء ا نکی شب وروزکی زندگی تی ای اورغد یک گی وایردد
شعوری طور پر اں با تک یکیشت کی کہ اولاد کے اندد اللہ تال کی عحبادت اود اس کے
ا]کا مکی اطاع تکا جذبہ پیرا ہو اود پروان چڑ ھھہ دٹی یت سے ال کا سم مشار ہو
اور وہ دی نکو ا لۓے می کے ٹٹا رما یکن کن اف عالی مل ال ے وست
برداد ہونے کے سے آمادہ نہ ہو۔ ىہ یز ماں ان پکی نکی او کل بدجر چا:ی
ہے۔ اختلاف دین کے ساتھ یم انجامفییں پاکتی۔ ماں با پک نی اولاد کے لیے
ضونہ ہوئی ہے۔ نون تر ای دقت ہوتا ے ج بکہ دو لکا سصت سر بھی ہواور
دہ اکا پرگام ز نگ رہیں۔ ماں باپ اکر بے دین ما دین سے پیےنھقی ہوں تو اولاد
دیع دار بی نکرنیں اگ ستی_
اسلام جس ازدوگرپل کو نہیں لی مکرتا ا کی یاد یوق اور مہ دارییں
ک سوا ل تھی رم ا ہے یا ے۔ ج بکوئی عورت اسلائی او نکی رورے
کی گیا وگ اور وہ ا ں کا زی کین ہے و دونوں کے ممقوق اور ذمہ داریالں از خود تم
+وعالی ہیں۔عورت نہ لو اپ موک مطال کرکن ے اور نہ مد کے مطالبا تک اتیل
اس کے سے ازبی ہوگی۔ ا صلی کے نیہ میس جو اولاد ہوگی دوگھی اپنے نان ولفظ
قیم وزبیت کے الو توق ےگخرم ہوگیہ اع کے دریان قاوی وراشت نا یں
ہہوگا۔ ال 22-2 بات سس ]جا ئزتلقی پرگورت اور ویوں پا سای
ریاست بب عدشری نافذ ہھگی۔
الک شرک ے ازدواگی تعلقا تکی مانعت
مشرلین سے ازدواگی تعلقات کے بارے مس قرآن یر نے ص ج٤ الفاظ
یں مانع تکی ے۔ چاں چالشادے:
ولا تنکوا اش کت خختی هن نرک ہورں سے ناں متکرہج بگ کک
ا
ازدواجی تعلّقات
وَلمَة مُوْمنَةُ غَيْو من مُضر کو و لو 5 وت بے
مرک ععورت سے یھر سےا چوەم 9ا٭
اَعْجَيتکُم لہ ٹنکخوا 1
و لَمُِرِکْنَ گے اور رین جب کک ابان ند نے1 می
تی يُومنُوْا وَ لَعَبْد مُؤينْ عَيْرْمَنْ اغ سے اپنی عوقو ل کا تاب ص تکرو اور مکی
مُعْرَک 7 لٌْ َغجََکُم الیک فلام (7زاد) مرک سے مبتر سے چاسے وہ
>ْغونَإِلی الَارِ و اللهيَُْواِلی الج یں پیند یکیوں نہ آے۔ ہلگ نا رتنم
٠ ۱ 7 کی طرف بات ہیں اور اللہ اپ اذن سے
و َمَغْفْرَةِ يإِنہ و یی لہ س جنت اور مخفر تک وقلت دا سے اود اپ
عم َعَدُگُرُوْوَّہ اکا کول بھو لکرلوگو ںکو بیا نکمتا ے۰ کہ
(الت٣٢۱٢٣) ووشییحت حاص لکریں۔
اں زیت میں مسلانو ںکومشرک عورنوں سے ہکا ںکمرنے سے اورمسلمان
عودتو لکوت کین کے نیا میں دینے سے صافض کیا گیا ےک کوئی مش رک ہاگ رین و
گل ء صاحب ثژوت ورائلیصب ونسب دالی ہے نے بھی اس کے متا یہ میس ایک مسلران
انی مبتر ہے خواہ اسے ان یں سے ٹیش تر یں عاصل نہ ہوں۔ ای رح ایک
مرک کے مقابلہ می مملمان غلام ابچھا ےه چامے ماد لحاط سے وومشرک ےکم تر
یکیوں تہ ہو
زیت کے خر میں مسلرانوں اورمٹ رین کے درمیان مناححت کے عدم جواز
کی وجہ با نکرد گئ ہے۔ دہ ب ےک شرک اورۃحید دو متضادتصورات ہیں۔ دفو لگ
رائیں دا ہیں۔مٹ رن دیین شر ککی رف لوگو ںکو بلا رسے ہیںء اسلام تذحیدرکی گوت
دیتا ہے۔ ال کے خذدیک شر ک کا راست مات یکا راستتہ سے ج جن م تک السا نکو اتا سے
اور الام سے دنا اورآخر تکی کامیاپی وابست ہے عورت اور مرد کے درمیان جہاں
عخقید ہکا رز بردست فرق بایا جاۓ وہل ازدوائی زندگی کامیا بنجیش ہوکتی۔ میاں ہوک
جس سے ای ککی زندگی مشرکانتصورات پر جنی ہو اود دوسر!تذحی دی راہ یہ چلنا جا سے تذ
قرم ظم رضام ہوگا اورک کا 2 اورسکون ہاقی نیس رہ کگا_
ازدواجی تعلّقات 8
وی پان وکیا کے سض نون 2ز
سے پپیلے نازل ہوگی۔ اس بی سکہا گیا لک ہککہ یس جومملمان عورتی ںکغار کے میا میں
یں دہ بپال ے ار کر کے دینج انیس ہیں ددبارہ مہ تق ان لی کہ ان
کے ازدداہگی ر تشم ہو گے ہیں
ارادے:
لا ھن جل لم ول ہم يک لن مان مورتی نان کافروں کے لی عال ہیں
(ا:٭۱) اورنہ و ہکاف مردان مسلمان عورتقوں کے لے_۔
ال نرہ کے تحت حافظہ ای نیک کھت ہیں:
ہلذہ الایة ہی الشی حرمت می آیت سے جس نے ملمان عورتوں کے
المسلمات علی المشرکین و قل مشرلین ے یا ئکوترام قرار ا۔آ از اسلام
کان جائزا فی ابتداء دوین ان مس شر ککا موہ سے شاو یکرنا چائز تھا
یعزوج المشرک المؤمنة *
علام شی فرباتے ہیں: لا ہن جا لم جملہاسسیہ ہے۔ ع رب قواعد کے
ابا سے ا کا مفہوم لا ےکہ جدائی ات ہے اور ج ناں ہو گے یں وو
ہوگے۔ ول ہم عفن مل فعلیہ سے جس سےمعلوم ہیا ےکر اب ستقبل
بھی ان سے نا جائزنیں ہے۔ بھی ہوکنا ہےکہ بیگرارحرمت اوزقی ع تلق پر
زوردسیے اود اسےم وک دکرنے کے لے ہوں
ای آیت میں رگ بھی دیا گیا سان انی کر بیو لی ںکو(ج کرش 7
ا ال آی تکا ایک خاش یں منظر ہے اور اس سےمتحلق یحض انی مباحٹ ہں۔ ا نک آقخیل
کے لے ملاحظہ: شخحقیقات اسلائی کے نی مباحی کا مفمون 8غ رمسلموں ے ازدواگی تعاقاے
ضصض:۱۰٣١۳۔
ای نکی رتفیر: ٣۵۱/٣
٣ آلوق, روں الع ٰء 7ء ۲۸ءگلے
۰۳ ازدواجی تعلقات
ریتیں) سچھوڑدیں:
ولائمیگڑا بضم الكوَافِر کافرورنز ںکواپنے نا یش مت رو کےکھو_
(ك:“)
اامٹئی اس کے یل میں فرماتے ہیں:
و کان الکفار یتزوجون المسلمات کغار مسلران عوزٹوں سے اور مسلان مشرک
والمسلمون یتزوجون المشرکات عو نوں ے نا ںکرتے تے۔ ال آیت مل
ٹم نسخ ذلک فی ہذہ الایطے سے مضو گر داگیاد
علامہابن جرمطبریآ یت کے ا فقر ہک یتشریع می سککھنت ہیں :
ہہٰذا تھی من الله ملموھنین حن ا می الثہتقال کی طرف سے می نکرشرک
الاقدام علی نکاح الدسساء ررآؤں ےہ بھ بہت پست یں ار کا
المشرکات من اہل الاوثان وا مر اقدامکرنے سے کیا گیا سے اور ا نکوکچھوڑ
لھن بفراقھن.“ د نے کامگم دیاگیاہے۔
دو یساب میں ال 7 27 شالیں
اںگم رتس طر ئل ہواا ںکا کر امام نزہرکی ان الفاط ۲ کرت ہیں:
فطلق المومنون حین انزلت ہذہ جب ےآ یت نازل ہوگی ق ممانول نے پر
الْأیة کل امرأة کافرة کانت تحت ال کافرعور تکوہ جوان میں سےگصی کے عقد
رجل منھم* ہنی طلاق دے دگی۔
اعم کے نے کے بعد حر ت جم نے اپنی دومشرک ویو ںکوہ جککہ دی
قریٹی الپائ لاحام القرآن: ٦۵/۱۸
ابین جرمرطری,فیر: جزء ۲۸ ص ے٣
حالہ سای
ازدواجی تعلّقات ٣ٗ
سی می طلاتی دے دئی۔ ان یل سے ایک قریبہ بت ابد امیتیء جس کا فیا
جخرت معاویڈ سے ہواء جو ال وق تک اسلا یل لاۓ تھے دوسرکی ا مکلوم بن تعمرد
بن جرول الف زائی تی ,جس سے ائی کے ناندان کے ای ٹس ویدیم بن عذرلینہ جن نائم
نے شھاد یکر یت
رت عیاض ی تفم نے انی چیئی ام انم بنت ابوسفیا نکو لات دئی۔ ان
سے عبد ایر بن عخثا نشی نے شاو یک ری
حضرت طلمہ بن عبید ال نے اروگ بتت ری ہکوطلاقی دی۔ بعد مل ہے اسلام
لاجیں اود ہجثر تکر کے ید بی ہیں قوذ رت ال رین صعید بین الحائش سے ال کا کا
وت
جوملمان عورقس بجر تکر کے ہنیس اورجضن کے شوہ رکافر تھے ان سے الن
کا ازدواگی رشیتخ ہوگیا:
سبیعد نت الارث الاسلمی رولیات مل آ تا ےک عدیٹے مل معابر٤ 28 1
کنابت یے ہیل ہوئی وو خدمت میں یں تو ان کے شوہ ربھیء جن کا نام سافر
مخزوٹی بای بن الراہب تھا پک گے او رکہا کہ میرک بیو یکو وائی کیہ اس لی کہ
محاہد کی شرائا ٹس ہہ داشل ہے اود اھ یکاہ تکی روشتائی خن ک بھی نیس ہوئی ے۔
یں کے بعدسورء مق کی آیت نازل ہولئی اور نقول زششریی معاہرہ میس جو اجمال تھا سے
ال نے حول دیا ۔آپ نے ئیں وائی لنٹ میا مرینہ یس ال نکی شادی رت گڑ
ا بفاد ءکتاب الشروطہ باب الشروط فی الجہاد والصالۃ مع ائل افھرب۔ این ہشام سیرة الٰی:
۳ے ۰ء طبریء جا رڈ الرل والملوک: ۲ / ٥٦ اس سلس کی مزی نیل کے لے ملاحظہ ہو۔
الباری:۹/۹
بفاری ءکتاب الطلاقیء باب نیا من ال من امش مات وخدن .۔ این مبد اہر الاستجاب قْ
اسماء الاصسحاب ٦ی پائض الاصایبۃ لان جر: ٣٣۵/۳
۰ این رہ الباری: ۴۱۹/۹ قرطیء ایاج لاحام الترآن: ٦٦/۱۸
٣ ازدواجی تعلّقات
رش ٹم
امیمہ یقت اش اسلام لانے کے بعد یہ اپ کافرخہ رصان گن دعراب اور
طریکی ردایت کے مطابشی ثابت بین دعدا 05ہو رسول الد مک
نے اس رش کشخ کر سےسل بن فیف ے ان کا نا ںکر ویاء جن سے النع کے
صاحب زاد ےکر اللہ م نہہل ہإں۔ روایت مجن ےک سور مق ہکا آیت ان ے
سلسلے میں نازل ہوئیب
طر کی بس اورخوا تی ن کا بھی کر متا سےئیان ان سے تما تصبلات
اختلاف ہے اس لیے یہاں ا ن کا ذک کی کیا جا ربا ےب
کنابیات سے ن کا کا جواز<٠
یہاں ایک سوال مہ ےک اسلاام نے شادیی بیاہ کے معاممہ میس قام خراہ بکو
ایک عف ٹیل رکھا ہے باان می فر قکیا ہے؟ ا کا جواب بی س ےک الام اس معاملہ
میں ابی کاب اود یر ال لکتاب کے درمیان فر قکتا ہے جناں چہ جہاں ال نے
مشرکین سے اردواہگی تعلقات رکھنے سے عکیا ہے دہیں ا٣ کاب گورنوں کے فا کن
ا نششری, الکشاف ؛۳/ ۹۳۔قرضیء ایا لا ام القرآن: ٦٦/۱۸ این تر الباری: ۵ -۳٣۸/
الاصابۃ ٹیر |صول*: ۳۲۵/۳ ۱ .._
طبری تفیہ جزم ۷۸ ضس ۴٣۔ این مر بن الباری: ۵ /۳۴۸۔ علامہ این اخیر اس واق انل
کرنے کے بعدکھت ہی ںکہ ریچ نیس ےہ ال لی ےک امیہہ بعت بش رکات٥قی انصار کے نماندان بن
عحرد جوف سے تھا اور بیت ماج ر بن کےسلملے یس نازل ہوگی۔ اسد الاب : ے /۲۵۔حافظہ این جم
نے ال کا ہہ جواب دیا ےکہ ہوکنا سے امیمہ بعت بش کے شوہر انصار سے علق نہ ہویںہ وہ ا کو
ٹف کر کے لے گے ہوں اود روہ وہاں سے مدبی ہآگی ہوں۔ الاصلی یمر صوی.: م/٣۲۳
کہ این مر الباری:۸/۵٣۳
مج تمایات سے ناپ کے مل 7 نے اپے متقال“غی رسلموں ے ازدواگی تعلقات ٹل
تقیل سے بم کی ہے۔ ملاحظہ ہو تحقیقجات اسلائی کےنفی مباحث۔ یہاں ال کا خلاصہ
شی کیا جارہاے۔
ازدواجی تعلّقات ۵
جائزقراردیا ہے۔ چناں چسورۂ ماندہ مل الشادرے:
.... و المخضصث بن المذمنتِ و (فھادے سے علال ہیں) ال ایمان بش
اقدحت ہ آقسن آزٹ یں اوران یں پر
: والیح عورکیںتعھیں تم سے ےناب دک کیہ
الکي من کم ! فا آتیْتَمُوهْن ...تس صن ۲
الرتقق تضبران کا ھت یں ںو زرل وا جن ڈق
و سیت اما پ مَنْ يَفر رکرو (یادرکھو) جوف ایما نک اڈگارکردے ال
بالإمان فقذ خبط عَمَلَهُ وَھُوَ فی کا مل رائیگال گیا اور وہ آخرت مل نتصان
الأجرَة من الْحبِرِیْن0 (الماھ۵) اٹھاے ولا ہگا_۔
ا کا صاف مطلب بہ ےک ایک مسلمان شس رب ریف ملا نعورت
سے فیا عک رسک ہے ای رح شری فکتابیہ س ےگ نیا ںکرنا اس کے لیے جائتز ہے۔
ا لکی وجہ بظاہر یہ ےک ملمانوں اور ائ کاب کے درمیان قائ دکا ہڑگی درک
اشتراک پایا جانا ہےہ دہ خداکو مات ہیںہ اصولا و حید بھی قوائل ہیںہ وقی ورساات
کیم را ہیں ٠خت اور وہاں 171 جاوزا کا بھی تصور رک ہیں۔ النع کے عقاد
بیس اترا بھی ے> - ال کے پاوجودا نک یکوئی عورت می ملمان کے جال زعقد یش
ے تذ دونوں اس طرع کی دوری نی مس ںکرمیں گے جس طر کی دور کسی مشرک
محورت سے مس لان کے کا کی ورت ین 0 بابک کے
سال ہے ےک ہکیا ا یکتاب مشرکین کے زمرے می نہیں کے ؟ کیا ان
کے انددسی نکی وی تکا شر کننیس پیا جاتا یا کہ دہ ہر کے رگ ے پاک
ہیں؟ اگ ران می بھی شرک ےو پچ رسورہ ماکدہ کے مکی نوعی تکیا ے؟
رت ععبد اد بن عحبائ فرماتے ہی ںکہ پپیلے سورٗ انقرہ شش مشریات سے
اح کی عمانح تک یگاء پچگرسورۂ ماد وک آیت کے ذدیجہ ال لکنا بکو اس سے سی
اہ محصنا تکا تر جم پاوم اک داسکن کو رج سکیاگیاہے۔ ال کےسعفی آ زادعورقوں کے بھی لے گئے ہیں۔
1 ازدواجی تعلّقات
کیا گیا
سی بات متعددجاتن ن ےکی ے۔ علآم این جرمیطریق ان آرام سینئتل
کرنے کے بحدفرماتے ہی ںکہسودہ انقرہ میس جن مشرکیا تکا ذکر سے اس میں اب لکتاب
کی عو سننیں ہیں ان سے نیا ںکو اللہ تعالی نے چائز قرار دیا ہے۔ می حضرت
قاو سےمقول ے اودا کی عاصسل کے
ران ید نے ا کا بک عودتوں سے ہکا ں کا اجازت دی ے۔ ا لک
اجاز ت نیش دی ہ ےک ہکوئی مسلمان عورت ال ل کاب میں سےصسی کے ععقد می بی
جاے۔ بہ ہرعال ٹل ناجاتت ے۔
اس سلسملہ یل ایک مرفوع حدبی ث بھی حخرت جاہڑ سے مردکی ےکہ رسول
الد یل نے فرمایا:
نعزوج نساء اہسل الکتاب ولا جم ا لا بک عودتوں سے شاو یکریں گےہئیکن
یتزوجون نساء نلّ ہما عودتقل سے ہیا نکی یں اجازت نہ ہوگی-
ان دزال کی بنا پر گُہور کے نزدی ککتاببہ سے نکاں جائز ےہ بل ہتس
حابم نے ت وکیا سےکہ ال کے جواڑ پر امت کا اقاٌڑے۔ علامہ این فا کل
کے میں:
”اللہ تھا یکی مھ وش اور ا ں کاش گر ےک ای مم کے ددرمیان ال لکتا بک
آزادگورنوں سے مکاح کے جواز مم سکوئی اتا نیس ہے بن اصحاب سے ا کا جواز
متول کے النا ہیں حضر تع حضرت عا نع مضرت طا حفضرت یف حرت سا
اور نخرت جابڑ وغیرہ شائل ہیں۔ علامہ ابن من رفرماتے ہی کہ اممت کے ابتدالی دور
طبریہ جا البیان ٹیتفیرلۃآن: م/ ٣×۲
حالہسابنق ء۵٣۳
اس حدیث می ترشحف ےلین قائل اتا ہے طبرکیہ جا البیان: ۳۷۰۰/۳ عا۳
ازدواجی تعلّقات ھ
کے اصحاب میں سےصی ےبھی اہ ںکی مت منقو لیس ہے۔ خلا لک روابیت ے
کر حضرت مزیفش حضرت طلین جارود بن ١ 2 اور زین اللعبدکی نے ایل تاب 5"
عودنوں سے کا ںیا ہے۔ بی بات قمام ا لملم تن ےکبی ہے۔ لمت شمیعہ میس فرقہ ادامی
نے اس تام قرار دیا سے اور سورہ بقرہ اور سور ٤م" ہی آیات سے ال پ اختدلال
کیا سے
صحا کرام میں حضرت عبد اید بن عم کےمتحل جا ےککہ وہ ای ليکتا بکیا
عووں سے میا ںکو نمی ںبلھت تہ ال ل ےہ ان کے مز دیک دوبھی مش کین میں
شال ہیں۔ چناں چہ جب ان سے میبودیہ یا نھراشہ سے نیاح کےمتحلتی وریاف تکیا
جانا نو جواپ دیۓے:
ان الله حرٌم المشرکات علی اللہ تھا ی نے مرکا تکومونیشن کے لیے عرام
ریا ہے۔ میں نیں چاہتا کہ ال سے بڑا
المؤمنین ولاً اعلم من الاشراً '- ضیوہمگج وت ز۶ا
شیٹا اکبر من ان تقول المرأة 2٭ا ١ں کے رپ ہیں۔عالا لکہ وہ الل کے بندوں
عیسلی وہو عبد من عباد ال ہی سےایک ہیں۔
اعٔاط پنریرہ ے
روایات سے معلوم ہنا ےک کامیات سے نکاغ بر حطر تع رن حضت بی
کا اظمارکیا۔ چناں چمشبورتالھی رت شق کی ( جع سند کے ساتھ) ردایت ےک
این قراب :۵۲۵/۹
بخاری تاب لطاق, پاب تول ال ولاً تنکحوا المش رکات_خخر تکبد الد ہ نگم کے علاوہ
الین میں مھ بین تحفیہ اورشیتوں مس فرقہ زیدیہ کے امام بی نے بھی کتابیات سے نیا ںکوترام
قرار دا ے۔ رازہ مفاق الغیب (اشی اکب ۔ ال را ۓک یکم زوری کے لیے ملاحظہ ہو رام کا
پذکورہ پالامقمون مغ رسکموں ے ازدوائی تعاقا ت_
۸ ازدواجی تعلّقات
حضرت لے ال یبودبیہ سے شا دی کی تو حخرت گر ن ککھا لکیہ اسے وہ طلاثی
دے دیں۔حخرت عذ یف نے جواب می لکھا کہاگ ہآپ اسےترا میھت ہیں فو تاحیں ٠
مس اسےکیھوڑ دوں ضر گر نے جواب می سککھا:
لأ عم انھا حرام و لکن اخحاف ان می نی سکہتاکہ دوتمام ہے:نیشن جے ڈر ےکہ
تعاطوا المومسات مھ تم ا نکی برکارعورتوں سے نکاج نکر لو
ا کا مطلب یہ ےک رت گال بات کے نذ انل ت ےک ہکنابیات سے
ا جائز ہے لان یں اند یہ تھاکہ ال پرکل ہوفو ا نکی صارغ عورش ب ینہ ان
کی خلط کروی بھی مسلرانوں سےگھروں میں کی گی ںگی۔ اس اند یش کی نیادیی
ذالبا دی : ایک بےکہ اس وقت ببودونصارگی انچائی اخلاتیگراوٹ میس بنا تے۔ اں
حالت یی ان سے انزدواگی رش مسلرانوں کے اغلاقی زوا ل کا بب مین کت تے۔
دسرے کٹ آن مچیر نے عفیف اور ا دا کورلوں سے کا ںگا اجازت دا
سے۔ ححخرت خر شاید یں فا رے جےکہ ا سکی معلورات کا کوئی انان نل
ذرل گان کی بہر عال ححخرت ع ]کے بارے میں بی ات ےوہ اصوزا
تابیات سے کاب کے جواز کے مال تھےء مان لم معاشرہ ٹیل اس کے روا کو زا ند
فرات تے۔
طبریہ جام البیان: ۳۷۷/۳ ے۴۷۴۔ نیز ملاحظہ ہو ٹیہ لیا لا جکام القرآن: ٦۸/۳
۶008
۴۹
کاروہاری تعلقات
اعلام نے انا نکی زندگی کے لے علال ورام کے عدودمظ رکردپے ہیں۔ ان
عدود کے وارٌہ یکن شارت ۂککاردبار او لین دی نعگی ٦ ہے۔ ایک مسلمان نو ان عدودکا
از پان ہوگاہلیان غیرسلم سےا لک وت نی کی لوان ےآ زاز ہوک ہیں
مال کے طود پر شراب الام کے نزادیک تام ہے ا کے پٹ ء پلانے ہکشید اود تی کرنے ٠
ا لک خریدوفروشتہ اسے ایک مہ سے دوسرکی مہ لانے لے جانےء ہر نکی ای بن
مان تکی ہے۔ ای رح خ یکو دہ ناک قراردیتا ہے اور ال کےگوشت بی کی٠
ا ن کیاکی تھی یز سے فاندہ اٹھان ےکی اجازت نی دیتا۔ ایک مسلمان کے لے اس
رح کے تھا محرما ت کا کاروبار یا لین دن ناجائ ہے٤ دہ براو رات ب نیہ پالواسطہ
بھی اس یں ش ری ککیں ہوکتا۔سوال مہ ےک جن چو کو اللہ تھالی نے علا لتشہرایا
ہے ا نکی تجارت با ءال ین دین غیرسلم سے وکنا ہے بانیس ج بک دو چا دنز
ی پابندگی سےآ زاد سے اور ال کے دانع ھی علال ونام دونوں ط رب کے ہیں؟
اعادییٹ سے ال کے جوا ڑکا وت متا ہے ۔حضرت عائٹڑقرالی گیں:
ان النبی ٹڈ اشتری طعاصا من سول الچ نے ایک بہودیی سے ایک ممت
بھردی ای اجل و رہنہ درعہ من کے لے خلہخریدا اراس کے پا اپنی لو ےکی
حدید* رہ رین مگی۔
بفارگ کاب موہ باب شراء ال لنییہ لم وناب السا دلمز ارعدہ باب الرلن وجوازہ فی
رج- واسفر۔ ای مض 7 روای ت جضترتے 22 ےکی مردکی ہے۔ ملاحظہ ہ۔ بفارکیء عالہسالقی-
۸۰ کاروباری تعلقات
رت عائشکی ایک اور روایت سے معلوم بہوتا ہےکہ مہ حیات مبارکہ کے
آ تی رورکا واتعہ ے۔فربالی ہیں:
توفی رسول ال و درعه رسول او چٹ کی وفات ا عال شش مولی کہ
مرہونة عند یھودی بٹلائین صاا آ پک زدہ ایک ببہودی کے پا “یں صار جھ
من شعیں کے عیش رہن تی
ال عدیث سے انترلا لکرتے ہوۓ علامہ عافظ ائن دب الع رام
الا_کاع یش فرماتے ہیں:
(الحدیث) دلیل علی جواز معاملة ہے عدیث ال با تک دنل ےک ہکفاد ے
الکفار و عدم اعتبار الفساد فی مھا لہکرنا جات ہے اود کہ النا کےآ بیس کے
معاملتھم محاللات کے فسادکا تبانج ںکیا جا ۓگا-
اں کےہشی او ]یق تگارہ صاحب عدہ کے حوالہ سےککھتے نی سک ہکغار سے ال
بج ٹک ضرور تکڑں س ےکہ دہ خی کا کاروباکرے ہیں ما سودکھاتے ہیں یا ب کہ انا
کے پا ما کی ےآ یا؟ اسلائی ریاست ان سے بتزی ل ےگاء ال کے بعد ان سے تین وشراء
اویرخرید وفرویش تکا معاملہ ای طر کر ےکی تیسے ان کے پا علال مال ہو ال ےکہ
اس کے خلا فکوئی شموتل جائۓے
حافظ این تجرفرماتے ہیں: نی خوزیت ےگا ات ںین ہیں: (ا)کغار رے
محاملہکرنا چائز سے اش رٹ کرس جن کا مع ہکیا جا رہا سے دہ ترام نہ ہو۔ ا شی النا
کے عقائمد کے فماد اور الع ک ےک یں کے معاطلات کے لطط ہون ےکا اغتبا رن سکیا جائے
۔ (۴)اس سے معلوم ہونا ےک غی سکم اگ رح بی یں ہے نو اسے تھی رفروشت کیے
لے یفارگ ءکتناب الجہادہ باب ما قیل فی درع ال دش فی الھرب۔ بجی بیان خر ت عبد جن با کاب
ے. ف مات ہیں :تض انی پچ و درم مرہویہ ند بل مین یبودیلی خلا شین صاعا من شع راخذہارزقالعیالہ-
مند اصہ مردیات این عپاء حوری نہر ۲۱۰۹ء جس ص۳۵۵ نسائی کاب الوم مات ایل اککتاب۔
ایام الا ام: ۱۹۷/۳ءے۱۹ ۱
کاروباری تعلقات 1
جاستے ہیں اود اس کے پا رن دکھا جاسکتا ہے ( )اس سے بیشو بھی متا ےکہ
ذمیو ںکی الاک ان کے پاتھوں میس رہی ںگی-(ان پر نکی سکیا جا ےگا
ححخرت عبد الرشن بن ابویک کے ہی ںکہ رسول الل پچ کی خدمت می جم
لک موجود ت ےک ایک مشرک, جھ پراگندہ بال اود دداز فد تھاء بج ککریاں نےکر پٹیا۔
آپ نے اس سے سوا لکیا ک کیا برفروخت کے لے ہیں ما تحنہ ہیں؟ اس ن ےکہا:
فذروضت کے لیے ہیں ۔آپ نے اس سے ای کج ری خر یدین
ال حدیث ےگھی ملین سے خر بد وف روخ ت کا شموت متا ہے۔ محرت این
بطال اس کے ذہل میس سک ہی نک کفار کے ساتھ معامطہ جائز ہے سوا ال کےکہ
کات ہوٹس سے ائل ضر ب مسلمانوں کےغلاف ذاکدہ اٹھیں۔
حعافہ این را قو لا لکرنے کے بعدفرماتے ہی ںکہ اس سے ایک و ہے
خابت بونا ےک خی رسل مک ئن جائز ہے دوسرے بیکہ ج نز ا لکی کلیت مل ے وہ
ام کے پا باتی ر ےگ اي
علامہائان التر لی گی نے اس معلہ یہی بج کی ہے۔ وو ححضرت عڑکا
ایک ف مان نف لکرتے ہی ںکہذمیوں سے شراب جاور جزیفنیس کی جات ۓگ ءلنکن گر وہ
اسے اپ لوگوں بیس فروش کر کے جنزمہ اد اکس فو قو لکرلیا جات گا۔ ال کے بعد
فرماتمیں:
والحاسم لداء الشک و الخلاف کک بیاری اور الا فکوٹ مر وا ی بات
اتفاقی المائمة علی جواز التجارۃ مع ہہس ےکہائ ہکا اس پ انقاقی سےکہ ال 7ب
0 الباری: ۵۔ تھی استلالات علامہ بدر الین تی ے ہا ں بھی موجود ہیں۔عمۃ القاریق:
٭۱ ۴ ۳۴۹۵۔ نیز ملاحظہ ہو فوویی :شر مسلممء رج ٢ء جنزع ار ٣۰
و بخارک>کتتاب الب اہ باب الشراہ وا کین دائل اھرب۔
۲ الباری: ۴۱۰/۳۔ نیز جنکھی جا شفی:٠۱/۱
۳" کاروباری تعلقات
0
اھل الحرب* ےنارت بلک ے۔
نی سم کےکاروہاری موی
اسلائی ریاست میں غی ملسو ںکوکیا ککاروہاریی متقوقی عاصل ہوں کے اور ان
پل پابندیاں ہو ںگا ا لکا جواب فقہ می مد گیا ے:
و اہصل الذمة فی البساعحات خارت اورکاروہار می ذبیبھی ملانو ںکی طرح
کالمسلمین۔ ہیں (ان کے درمیان فر کی ںکیا جا ۓگا)
ا ںکی تا یرٹ بر حدیٹ ٹی یک گنی ے:
ان لھم ما للمسلمین و علیھم ما زمیو ںکو وہ قمام موق عاصل ہوں گے جھ
فا السای ملمانو ںکو عاصل ہیں۔ ان پہ دہ پابندیا ھی
ہیںگی جومسلمانوں پر یں
اں کا مطلب بی ےکم اسلائی ریاست کے از وہل سودگ کاردا رٹل
تہ اس لی ےکہ الام کے نزدیک سود اور ا يکی تھا میس نامز ہیں۔ بت خر
شراب کے بارے می سکہا گیا ےکہ ذئی آ یں میں ا نکی جار تک سکتے ہیں۔
کی ول می ححفرت ع ڑکا وو قول جی کیا گیا ہے؛ جس کا ابھی کر ہواککہ جب اُجیں
معلوم ہواکہ جزی میس ذمیوں سے شراب اور خنز بھی لیے جات ہیں اور پھر آھجیں
فروض تکر دیا جانا ےو آپ نے ایس سے کیا ادرف ایا کہاگ ذئی اے (ومرے
ذمیوںکو) فروض کرس اود ا لکی قمت سے بقزمہ اد اکریں و تو لکیا جاسکتا ےب
اں لیے مسلمانو ں کا خنزب اورشراب فروض تکرناء چا سے وہ ذمیوں ہیکوفروض تکریی
. اجام لقرآن:۱/ ۲٢
ہدای: ۳/ ۱۰۳۔ امام زی فرماتے ہیں: ا یکوئی حدیث مر ےمم می یں ہے۔
نصب الرلیۃ لاحادیث اہدلی: ۵۵/۳
سط تفیل کے لے ملاحظہ ہو: ہدابیم ں القدیر: ۷۰/۵ حفرت عڑ کے قول کے حوالہ کے لیے
بھی جاۓے۔نصب الرلیۃ لاحادیث الہدلیۃ: ۵۵/۴
کاروباری تعلقات مى۳'
ناجائز ہے امت ذئی اپنے درمیان ا کا معامل کر کت ہیں-
فقتنی می کہا گیا ےک ہکافخ شراب فر وضتتکر کے مسلران کا خر اداکرتا
ہے فو مسلمان کے لیے اس کا دنا جات ہےه اس ل کہ شراب اس کے نزدیک قبت
ھت ہہ ا سک تق اس سے لیک ہے۔ ال کے برخلاف ملمان اگ ر شراب فروشت
کہ ک ےکی کا قرض ادکرے فو یہنا جائز لگا ال لی کہ ال کے فقطۂ نظ ر سے شراب
ا توم یس ہے( سک یکوئی قب ت نیس سے پک
الک مطلب یہ س ےک سو دکی عمانح تکوگگی تقانو نکی حثیت عائصل 7
ابتزشرا بک برحثیت نہ ہوگی۔ غی لصو ںکو اس کے استعا لکی اجازت ہوگی اور وہ
اپنے درمیان ا کی خرید وفروش گج یکل گے۔ بھی محالہ نز ےکی فروشت اور ای
سے بن ہہوئی اشیا کا ہھگا۔ین اکر اسلائی ریاست شراب کے استعا لکونگی او نکی رو
ےممنو قرار ویتا چاے لو ہارے خال ٹیس اسے ا کا جم ہہوگا۔ اس صورت میں
غیسلمو ںکوکھی اس سے استحا لکی اجازت نہ ہوگی-
کاروہار میں خشرکت
ححخرت عبد ال جن عھائ نف مات ہی ںکہ می اس با تکو پین نی سکرتا کہ
ملا نکی رودگی کے ساتھکاردباریی ریت بو۔ امام شال نے بیبودی با نصراٹی کے
ساتجھ مشارکر کو مطاتاً ناپندگیا ہے۔ا نکیا بل بی ےک دہ سودگی کاردبا کے یں
ای رع ان کے مال می شراب اود خی کی آمدنی بھی شال ہوٹی ہے۔ امام مالک
امام ات اور فان ری فرماتے ہی کہاگ رککاروبار میس مسلما نکی موثڑ شرکت ہوت سے
ہورے اک رکھا جاکتاے, اں کے اض رشرکت جج لہ ہوگی۔ جمہور کے نزدیک فی رسلموں
کے ساش کاروبار جس شرکت چائز ہے۔ ا لکی دیل دہ عدیث سے جوحضرت عپد ال
من گر سے مردیی ےک رسول ال یچ نے خخیر 2ی سے بعر) یو دکو ایس شرط کے
ا باپ: ٣۵٣/۳
٢” کاروباری تعلقات
ساتھہمتقبوضہ زان پ رکاش تک اجازت وگ یک پیل پیداوارکا صف لےگای
ج بھی باڑکی اورکاش تکاریی یس شرکت جائز سن دوسرے معاملات ٹل
بھی اں کا جواز خابت بہونا ہے۔ اس کے علادہ اع سے جزیہ لیا جانا ےه ج بک ان
کے اموال شرٹی نقا ون رسے پالئل پا ک نیش ہہوتے ء ا لکا یک حصہ ناک ہوتا ےت"
ہے بات نیہ ےکہ لن دبین اورکاروہار میں خی رسسلسوں کے سراتھ رک کو
اعلام نے روا رکھا سے ۔کاروباراگر ناچائز تہ ہولو یرم اوس م کے درمیانع مشارکلت
بڑکتی ے۔
ات پ4 مم و 7 غرمت
چا کاموں میس اجزت بر غی رسس مکی خدمات نشی طور پبھی حا لکی انح
یی پگ رج تخل سے کت ےگ یک اعلائی ریاس تگگی ا نکی خدمات سے
لمعاوضہ فاتدہ ٹا سی ہے۔ بیہاں ال کے پالئل لس پپہلوکا کر ہو را ہے۔ دہ کہ
کوئی ملمان اجرت پرکسی خی سل مکی خدص تکرسکنا ہے پانشل؟
اعادیث ے خات ہ تا ےک غی مل مکی غرم تکرنا اور ال پر ائت
حا لکراج ہے اور ہرایگ جات ابجرت ہے۔
ححضرت عبد الد جن عبا نف رماتے ہی ںکہ ایک مرحبہ رسول الش یپ بر فاق کا
کی تی حقرتےعکو ا سکی اطلاع لی ے وہکسی کا مکی حلاش میں ےہ کہ ا یکا
عدلی سےآپ کے لی ےکھان ےکا سام نکرھں۔ ایک بیبودی کے با میس یچ ا
کی اتی ی۔ستزہ ڈد لین اود ہرڈول بب ایک عو مجودٹی۔ اسے ب ےک ھآ پک
مت میں حاضرہو ےج
بای کاب الکن ء جاب مشارکت الم وامش کین کی الھزارعۃ
لاظہ ہو اچ قراہہ انی : ے/۰۰۱۰۹٤۱۔ این تر بن البارگ: ۳۵/۵
اب ماج تاب الرہونء باب الرجل ممسصش یکل دلو ت ر7_
۱
٤
ا
کاروباری تعلقات نا
ایک اود رایت میس ہ ےک ایک انصاریی نے آپ سے عو کیا کہ( جع)
آپ (کے چرہ) کا رنگ مصخیر دک رہا ہوں ۔آپ نے فرمایا: پلو ککی وجہ سے
ہے۔ دوگھ یچچ کان دا ںکوئی نز نی دہ باہرعلاش میس گے دیھاکہ ایک یبودی
اپنے ہا یش آب پاش یک دہ تھا۔ افصادی نے ببودیی سے لو چھاک کیا یش سے
سیرا بکردوں؟ اس ت کہا ابچھا۔ اھوں ن ےکہا: ہرڈول بپہ ایم مود دبٹی ہوگیء جو نت
زیادہ کیا ہوگی نہ گاہ بلہ دہ ہوگی۔ اس نے مان میا۔ افھولں نے ال طر ووصاع
کچودریی حا لکیہ او پکی خدعت بی پیٹ یکیں یا
بی لی دور کے واقیات ہیں کہ میس بھی ا لک تھوت متا ے۔
رت خباب“ بیا نرتے خی ںکہ ٹل ایک لدہار تھا۔ بس ن ےکلہ بیس عائس
بن وا ل کا کا مکیا۔ میرک اجرت ال کے پاش جع ہوئی۔ یں نے ا کا تقاضا کیا قوذ
ال کہا :نم خداگیء می اس وت تک ادانی سکرو ںگاء ج بت ک کت مھ( پچ دکی
رمالت) کا الگاد نہکرو۔ یس ن ےکہا:شحم خدا گی ؛تہارے مرک دوبارہ زندہ ہوئ ےکک
بھی بیکیں ہوگا۔ اس نے سوا لیکیاک کیا مرنے کے بعد مل دوپارہ زنرہ ہوكر آٹھو ںگا؟
نے جواب دہا: پاں یہ ہوگا۔ ال نےکھا: اک الما ہوا تو ال وقت میرے پا مال
اور اولادسب بی پھجھ ہوگا۔تمہارا قرت بھی اداکردو گا
ال عدیث کے ذیل شی محرث مہلب کے حالہ سے حافظ این جرف ماتۓے
یں:
لے این ماجہہ حوالمہ سال ۔ ان دفول احادیٹ ئل سی قد ضف سے یکن مقہاء نے ان ے اترلال
کیاے۔
کے فارگ کتتاب الاجا ۃہ باب پل بواج الریل نف یمن مشرک نی اش الھرب۔ فۃیتٹی میس ا سک بھی
اجازت ےکہمسلا نکنی کی فی رمیں ارت رکا مکرے (رد اتا ری الدر الار: ۵ /۷۱۵۰,۳۲۴س)
ال پر جس دوسرے پلوؤوں ےکننکو ہوکتی ے۔
7 کاروباری تعلقات
کرہ اہھل العلم ڈلک الا ضر ورۃ ال عم نے اثرت پ غی سم کا کا مکرن کو
بشرطین: احد ھما ان یکون سی اس سب
ہج یں سح سام جا نز ہوگا:ایک یرک یسل جکام لے
فی ما یحل للمسلم فعله والأخران ایس کاکرنا مسلران کے لیے عال ہو۔ دوسرے
ا ہو علی ما مرد ضر لی کی را جن و کل ساوت
المسلمین “ کرے ج سک نقان پالاخزملانو ںکو پئ_
اں کے ناپیتریاہ ہو ےکا یں برتحق ہے ایک خود دارقوم شاید دصرول
کی غملائی اورٹوکر یکو بین نمی کر ےگی۔ جن شرائا کے ساتھھ ا يکی اجازت د یئ
ہے ان مس سے ایک مہ ےک فی رسل مک جوچھ یکا مکیا جا اسے اسلائی نق نظ ر سے
ناجائز یں ہوا چاچے۔ھرے برک رملمانو ں کا مفاد ٹل نظ رِرہنا جابیےہ ان 2
خلا فکوئ یگ لننیس ہونا چا ہے۔ یہ ددفول ش اط ال لیے رگ یگئی ہی ںکہخیرسسلم ا نکی
زعازی گی نکر ےگا لاق کے خلا فکھ یکوئی غدمت لین ےک یکویشن شک رسک ہے۔ اں
پل ے ا نکی متقولیت سے انی سکیا جاستا۔
ایک سوال یہ ےک ہک یاسی خی سل مکی علازمت با نوکری مسلمان کے لیے عار
اور زا تکا باعث ے؟ ا ںکا جاب فک رد یش علامہ این مت نے ہدیا ےکہ
نراہب فقکا اس پر انقاقی ےک یملما نکارمکرو ںکا نی وکانوں جس یھکر ذمیوں کے
یی ےکا مکنا جائز سے اس میں فلت کا کوئی پل ونیں ہے۔ اس کے بمخلاف ایک
ملما نکااکسی ذگی کےگھع ا کی خدص تکرنا ادا ںکی مانتی اخقیارکا جج نہیں ے
اں میں زلت نے
ام اھ کے نز ویک اجرت بی ذئی (غیزرسلم) کی ذاقی خدص تکرن جات
نس ہے۔ ام شاْھی سے ا کے جواز اود عدم جواز دوفوں طرح کی روایات منقول
ا بابارل: ٣۵٢/٢
گی حالہسالقی
کاروباری تعلقات س
ہیں۔ جھاذ ےئن میس ىہ با تک یئ ےکہ جب اجرت پہ ذگ یکا کوئی کا مکرنا چائز
ہے نے ا لکی خدم تکوی جائز ہونا چا ہے۔ امام ام کے می کہ اس کے اندرمسلما نکی
تذل ہہ اس لیے وہنا جات ہے۔ علامہ این قلرا یی نےککھا ےہ ہار ےل مکی
عدکک اس می کوئی اتا فنییں ےک ملمان اجرت پر ذئی کاکوئی ککام انام دے
جی ےکپ ےکی سلاکی یا دھلائی۔ ای رع مر تض۲ن کے لی ےکا مکرنابھی جائز سے
اں میں زلکی پااواسطہ خدصت اور بلاواسطہ خدصت می فر قکیا گیا ہے۔
کی صور تکو چائۃ اور دوسر کو اائ کہا گیا ہے۔ مشثال کے طود یہکوئی ران ورزی
لوبارہ بڑخیء نان ہی با ایت مک کر ہے تو ا کا ای نکان کے ریہ ذمیو ںک
ضرورت پپری اکنا اوران پر اجرت لیا 3 ہے الہت ذٹ یکا 2 ازم اور غرم ت گار بنا
ای کے وقار کے منائی ے۔
موجورم دور بیس معاشر ہکی اس رع کی عموئی ضروریات بڈے بڑڈے اودارولںء
کارغانوں اور ٹیلٹریوں کے ذر یج پید کی جاتی ہیں۔ یہ ادارے پالکنل ھی او خی بھی
ہوتے ہیں ,لکن لوم آجی ںک یک افراد کےگمروپ پچلاتے ہیں اورش اوارےقوئی
عگیت مم بھی ہوتے ہیں ان ٹل فی اہ رین ہہوں یا عام عحنت عردور یکرنے والےہ
سب تی اڈراد اوارہ کے لائم 1 7 بدتے شیں۔ ادارہ او رکارن ووفوں کے تقو بھی
بوئا عدکک ین ہہوتے ہیں۔ اس می نشی خرمت میس ذل کا جونور ے ووایں
بینا۔ اس لیے الن ادارو ںکو چاے “مان چلا درے ہل یا یرم ان می کی
ملما ن کا ملازمت اخقیا رکرنا غلط با پینریدہ نہ ہوگاہ بش رٹ کہ ادار ےترام چز نہ پیا
کررے ہوں۔
بے جات
این تاب ۱۳۷٣۰٣۳۵/۸:
گے حالہسابتی
۲۸
بن مسائ لکی تن و تج
ا۔ فی مل مکوسا ما عم
حدیث میس سلا مکی بڑی فقیلت بیان ہو ے اور اے عا مػکرن کا عم
ےل زیادو تر علا مکی را ہے سےکہ ا ں کاتعصق مسلمانوں سے ہے۔ می ںکلیں کے
تعلقات ٹس جن بات ںکی ہدای تک یگئی ہے ان یل سے ایگ ہیجگیا س ےکہ دہ ملاقات
کے وقت سلا مکریں ۔ٹیتض اعادیث سے ا لکی تاضربھی ہوئی ہے۔ححضرت اب ہریی کا
روایت ےک رسول اش نپا نے فرمیا:
لإَ تدخلوا الجنّة حتی تومنواء ولا تم جنت میں نہیں دائل ہوگے تا آ کہ ایمان
تومُوا سی تحابُواء أَوَلاَ ادلُکم نہ لا اور یمان (کائل) تہ لا گے ج پت ککہ
7 کے 1 یں می مت شدکرو کیا تعہیں ای چ نہ
علی شیء بی او بجاو ں کہ اں پگ کرو ایک دسرے ے
اترَافاازینکمۃ عی تکرنےلو؟ وہ ہی ہےکہ اپ درمیان سام
کو عا مکروے
بیرحدیث تتائی ےک ملماتوں کے درمیان سلا مکا زیادہ ے زیادہ روا ہونا
جا یے۔ ال سے ایت اور دوری یتح فی او رتعلقات متہوط ہوں ئا
تفصبیل کے لے ملاجظہ ہو: 7 کا مضمو ننسلا مکی ایت اور خی مل مکوسلا اعم مطبوب سے ماد
حقیقات اسلائی :ع٦ یگھڑے۔ اکس برح دہ م ۱۹۹۳ء
مسلممءکتاب الا یمان۰ باب مان انہلا یش ان لا منون و ابوداد کاب السلام باب افظاء
السلام۔ت نرگیء ابواب الاستان+ باب ماجاء فی افظاءلسلام
غیر مسلم کو سلام کا حکم ۹
ز سروں او سلام :مک نے ےکی عمیالغت
سلا مکو چو ں کہ مسلمانوں کے درمیان عا مکرنے کا عم ہے اس سے ہے
اتد لا لکیا گیا ےک خی رسل مکوسلا مکنی سکیا جاۓ گا۔ ا لک تا میس رت ابو ہریرہ
بج یکی ایک اور حدیث جن ںکی جائی ےکہ رسول الل پچ نے ارشادف مایا:
لا تبدو الیھ ود والنصاری مبودہنصادٹ کو سلامکا آغازحھاری طرف ے
بالسلام فاذا لقیتم احدھم فی 2+-۔الغ ٹل ۓگ ۓ زال تق لآفارا
توہش ردان یك طاقات ہوجاے و اسے اس کے ہیک حصہ مل
ےجو رکرو
ا لکا بظاہ رمطلب یہ ہب ےکہ ود و صا رگ کو سلا مکرنے یش پیش فی یکمیں
کیا جا ۓگ اویل راستہ ک ےکزارے کے پرجیو رکیا جا ےگا
ماع تکی لوعیت
سوال مہ ےک کیا یم سستفل نوحی ت کا سے یا ال وفعت کےنفصو حالات
کےخت دیاگیا ہے؟ یں بی تررخخیل سےگورکرن ےکی ضرورت سے۔
سک ءکتاب السلامء جاب انی عن اٹل الکتاب بالسلام۔ تر ندگیہ اواب الاستیذانء باب باجاء ثی
کے 3 لی الذئی۔ ابودا ود کاب السلامء جاب فی السلا لی ال الزمہ۔ مند اجر: 9۹ء۔
حدیث نہ ر۹۹۲۱۔ مند کی ایک روایت میس بیبو کی کہ مٹرلین کا لفظ آیا ے: ۵/۱۹ء
حری ٹب م٢۹۲
ث راسنتہ ےٹتھلقی اس پرابی تکا مطلب ے ہرلزنیں ,70
دی جا ماک دہ سای کے یی تی بللہ گر پھاڑ اور اژدمام ہو ان کے ارام میں خور
کنارے ہوک شی درمیانی راستہ ضددیا جاۓے بگمہ ای زشمت اونگ س ےگزرنے دیا جائے۔ اگ راس
کشادہ ہو اوری کےگزرنے مھ لکوئی زامت نہ ہو وہ سب کے ساتھ پل ککتے ہیں۔ ای صورت
ھی ںکنارے می ےکا پان بنان بلاج ہکی اذیت رسای ہے جس سک شریعت نے اجاز ت نی دی
ے۔ بّالبادگ:ا ٣/
٤ غیر مسلم کو سلام کا حکم
ہیل ا یچین کے مرینرمنورہ کے کے فور حر پور کے ساتھ الکن و امالعء
مز یآ زادی اور پاتی ناو کا معابرہ ہ لین بنھوں ای ںی پا دادگًا دگا۔
اسلام وش ء سای اور خیانتیں روز بروز بعتی ہی گی جا یھی ۔سلام کلام بس ان
کے شیب رش ریفاند دو کا ذک ہآ گے آ رہ ے۔ ا نکی ان تمام عرکوں کے باوجدقرآن نے
دز رکاگم دا (القر۱۰۹:7) جب ماق رکون گئیس نو ان ے نگ
ہوئی اور یں جلاؤآ نبھ یکیا گیا۔ (لھشر:ا-۵) اس رح عالات کے لحاظ سے الن کے
سلسلے میس اسلام کے دردمہ یس بد ری ہے۔ متا ےک سلام میس ٹیش خر ند
ککرنے اود راستہ یل ا ع کا اترام نہکرن ےکی ہدایت ای طرح کے عالات شی دی یگئی
ہو ظاہرے عالات کے بدل جانے کے بح دع بھی بدل جات ۓگا۔ ا لکی جا یرگن
صحاہہوتالتان کی سے ہوئی ے۔
مم سمل مکوسلام رن ےکا تبوت
روایت ےک رحضرت الو امامڈکا راستہ لت ہوتے جس کی کے پاس س تھا
گزر ہوتاہ چاے وومےلمان ہو یا یراہ بچوٹا بب یا ڑا اس سلا مكمرتے۔ چپ انا٘ے
اس ملس میس دریاف تکیاگیا قے فربااکہجیں سلام کے عا مکرنے اور چھیلان اعم سے
پل کی روایت یں ےک حفضرت ابو امام نے فرماا کہ برملمانوں کے
لیے برک کی دعا اور ذمیوں کے لیے اکن د اما کا اظہار سے
امام این تریطری کے ہی سکلف سے موی ےک وہ ال لکتا بکوسلام
کرت حےیے
معابد ءکیتفیل کے لے دیڑھی جا این ہشامء سیرۃ ا ۲ /۱۶۳-۱۱۹۔ ا سک ضس
دفعا ت کا حوالہ ا یکتاب میں موجود ے۔
ڈ قال الیاف اخرجہالطری بسند جید۔ بن الباری: ٣۱/۱۱
این رہ الہاری :۳۹/۱۱ قرٹیء البام لاجیام القرآن ۱٢٢/١۱:
جم فیٹی: حوالسابق
غیر مسلم کو سلام کا حکم 2
ضر عبد اد بین مستوڈ حضرت ااودرداغ اور فضالہ بن ععیر کے مت ق7 ہا سے
کہ دہ الیکا بکوسلا مکرنے میں چو لکرتے جےے
عون بن عبد ال کے ہی ںک] مب نکحب فی نے بیا نکیا کہ تھوں نے
تفرعم بن عبرالحز سے دریاف تکیالکہ ذمیو ںکوسلا مكرنے میس ٹیش فی کی اتی
ے؟ یھوں نے جواب دیاکہ جہارگی رف سے لام 71 انناج یں ہے الہبتہ ان کے
سلا مکا جواب دیا جا گا۔ عون بن عبد الد نے اس متلہ میس خودیر بی نیکحب قری
گیا رائۓ دریاف تک تو انھوں ن ےکہا کہ یی ںآ کے بڑ ےک رسلا مکرنے می سکوئی مرح
نہیں سے
امام اوزائی سے سوا کیا گیا ک ہک ا کوئی ملا نکی خی سم کے پاس سے
گ۰زرتے وقت اس سلا مکرکتا ے؟ انھیں نے جواب دیا: گرم نے سلا مکیا تو ایس
سے پیل این نے سلا مکیا ہے اور اگرقم نے سلا نمی کیا قذ صا ین نے سلام نیل
بھ یکیا ہے (ینی سلف سے دونوں طرح ک ےل منقول ہیں )نج
سا تی تقاضوں کے قت غی رس مکوسلا ما جواز
ایک خیالل ىہ ےک مسلمانوں کے درمیان تو سا مکو ہرموح اور اقات پہ
عا مکرن کاعم سے غی رسلموں کے بارے یش اس طر کی ہدای ت نمی سے البنہ
سای ضروریات ا کا تقاض اکر دجی ہوں نو ایس سلام کیا جاسکتا کے
حضرت علق کت ہیں کہ لوک حضرت عبد الد جن وڈ کے ساتجھ ایک سفر
میس تے۔ پت دجقان (ذی )بھی شیک سفرتھے۔ یھ فاصلہ ٹےکمرنے کے بحد ا نکا
راستے الگ ہوگیا اور دہ ال پر کے حفرت عمبد الیل بین مسوڈ نے یں سلا مکیا۔
2 ان تجرہ بن البارق:ا /۳۹
قرٹیء الب لاجام القرآن ٢۲/۱۱: نووی: شرع مسلمء حخ ےہ جزء ۱۳ء ض۵ ۱٣
۳ وش کر ماک
میس نے عون سکیا ک کیا ذمیو ںکوسلا مکرنا :الین دید ہیں ہے؟ ححفریت مد ال بن مسموڈ
نے جواب دیاکہ بی قب بت ےے
فتماءی زالۓ بی ےک ما نکا اپ کیا عاجت اورضرورت کے تحت
خی رس مکوسلا مکرنا جائز ہے۔ تواضی عیاض کے بقول بر حضرت علق اود ادا تی کا قول
ج2
سلیمان الایمش سے ہی ںکہ یش نے ححضرت ابرائی خی س ےکہا کہ یک
نھرای طبیب ے ال مھیرکی آع درفت رپقی سے کیا بس اسے سلا مکرکتا ہوں؟ آپ
نے جواب دی کیہ جب تہارگ ال سےکوٹی عاجت سے لا کروی
حرت ابا یی کا قول علام ری نے ان الفاظا مر ان یی ے:
اذا کانت لک حاجة عند یھودی جب تی ںکی ببودی یا فھرائی ےکوی
او نصرانی فابدأہ بالسلام عاجت در ہو و اں ے طاقات کا آغاز
علام سےگرو_
اں کے بع ریت ہژں:
ا ال افافظ انرج لطر ی دی رچجء 2 الباری: ۴۱/۱۱ ۔ تری, الپائ لاخام القرآن: ۱١/۔
مصنف عبد الرزا قکی روایت میں علقہ کے سوال اورحضرت عمبد ابد بن مسوڈ کے جوا ب کا وک یں
ہے: ۱٢/۷ امام شح رک ددابیت ہ ےکہ ایک ذمی نےء جوجرت ععبد اید بن مسموڈ کے ساھ تھاء چا
ہوتے وقت سلا مکیا تھا اورحضرت ععبد ال بن مسحوڈنے جواب دیا تھا کراب الخار ص۸٣۱ (مطئ
اسلائی لاہور ۱۹۱ء) علامہ ا لور جصاص حضرت عاق کی رواب نف لکمرنے کے بع کھت ہیں: 'ظاھرہ
یدل علی ان عبد الله بدأھم بالسلام لان الرد لا یکرہ عند احدہ احکام القرآن: ۵۲۵/۳ تی
بظا رطرت عبد اد بن مسحوڈ نے ان لوکو ںکوسلا مکیا تھاء اس ل کہ ہا ں تک سلام کے جوا بکا
لن سے وکیا کےبھی نزدیک نابوندیدہکئیں ے۔
2 وی شر مسلم خّ۵, 7زء ۱۳ءض۵ ۱٢
وی صاض, امام القرآن: ۵۲۷/۳
غیر مسلم کو سلام کا حکم ۲۳
فبان بھذا ان حدیث ابی ھریرة ... ال سے دامع ہوا حخرت ابد ہری کی ردایت
0 و (س می غی رس لموسلا مکرنے سے نکیا میا
اذا کا 2 سبب یدعو 8 4ھ
دو و ہے) اتک بخی کی سجب کے سلا مکرنے سے
١ سے تی کی تن کی اداگی اکوئی عاجت جھ
حا تعرض لکم یلیم اح یں بن سے پیٹ ان با عبت گی
تبدوھم بالسلام من قضاء زمام او
صحبة او جوار او سفر ایرسف رکاج (ایس رح کاکوئی سب ہو سلام
کیا جاسکتا جات
فق تی می سکہا گیا ےکہضردرت پر ذییکوسلا مکیا جاسکنا ہے۔ ہاں بق کی
ضرورت کے سلا مکرنا ناپٹریرہ ہے۔ ای طر کہا گیا ےکضرورت کے تحت مصافہ
بھی جائز ے؛لیکن بے ضردرت نالپندیدہ ہے۔ بطور مال ایک ضرورت ہہ بیان ہل
ےک ہاگ رکوئی ملمان بیگمؤ ںکر ےک سفر سے وانبی کے بعد وہ اپنے پھرالی پڑڑی
اں رح کی سابیء معاشرقیء معاشیءطی ءعھی او ری ضروریا تک یکوئی
مین فپرس یں ہےہآ دی اپنے حالات اور ماحول کے فاظ نف ا ن نا نک گان
ہا ںی ضرور تکا تقاضا ہوغی رسلم سے ملاقاتہ سلام اور مصماف ہکو بل اکراہت چائز
کچھنا چاے۔
تالی فقلب کے لے سلا مکی گنکنش
ایک خیال مہ ظاہ رکیا گیا سےکہ اسلام کے ابائی دور میس شایدتالیف تلب
کے لے غی لو ںکوسلا مکھرن ےکی اجازت تین جب اسلا مکو اقترار اور ا تام
حافصل ہ گیا فو ا لکی ضرور ت کیل رۃ ِ
تی الیائن لا ام القرآن:۱۱ / ۱۷۳
این عاب نہ رد ات ری الدر اار: ۵ / ٣۷۳
و ائن ججرہ من الاری :۵۹/۱ بینی۔حۃ القاری:١ / ے۱۵
ہت غیر مسلم کو سلام کا حکم
یہ بات ال وقت کچ ہوگی جبکہہیں لیقین کے سا معلوم ہوک افشاوسلام
7: 9 اورعماند ت کا بعد یش دیا گیا۔ ال کا کوگی شبو تنییں ےب دش ہے کلم
تالیفقل ب کا مقصد جیا کہ فقہاء ن ےکہا ے'غی رسلسوں کے قلو بکو ای زان اور
اپ تن سلوک سے اسلا مکی طرف پا لک ر۳ ہے یکوئی اور ابی مقصرنیں ے
بل مفبویط سے مضبویط اسلابی علومت اعم ہوجاۓ ف بھی بائی رہ ےگاء الا کہ ریاسصت
می سکوئی غی سم ی نوج بات ب کہ الام نے جن اعلی الا قیا تک یتعلیم دی ے
لام ای کا ایک حصہ ہے۔ اس پراکی بپہلو سےنورکرنا چا بیے۔
مسلرانوں اور خی مل موں کے تج عکوسلام
اگریچلس میں سلم اور خی سم دونوں موجود ہوں فو سلا مکیا اسکتا ے۔ اہ یکا
شھوت صراحما عدیث سے ماما ے۔
خرت اسامہ جن زیڈ داد سے پل ہکا واقعہ بیا نکرتے ہی سک ہپ حضرت
سح بن عباد کی عیادت گے لے تشریف نے گئے۔ سار یمگمد۔ج ےکیشی۔ اں پرنین
ایرٹرکی چادر کن 7 تچ ےآپ نے حضرت اسارکو نٹھا پیا۔ رات شش اک
ال جن گر ہوا ہشن نمی معلنانغء ہت برست مشرکین اور بیبود ھے۔ ان مین
مور منافی عبد اد بن ال بھی تھا۔ اور ححضرت عبد ارد بن رواج گج یجس میں موجود
کے ج بآپ ٹب یی ےو سوارک یک یگرد وغبار انڑن ےگگی۔ عم الد بن ای نے چادر
سے اپ ناک ڈھانک کی او کہا کہ ہم لوگوں پرگرد وخپار نہ اڑا رسول اوشد پچ نے
علا مکیا اورسواری سے اتر گے ۔۔ الن لوکو ںکو ال کی رف دگوت دی اورق رآ نکی حلاوت
گی۔عبد ا بن ال نے اع تک غاب می سکھا: اگ رآ پک باتع سے و اں سے
اب یکو نکی بات ہیکت ہے؛ لیا نآ پ ۴ہیں جار ماس می کر پر ان نہک ریی۔
اہ این عابد من ء رد لت ری الدر ار :۵ / ۳٣۷
غیر مسلم کو سلام کا حکم تس
آپ اپنے مقام پر جائیںء ہم مم سے چوھآپ کے پا پچ اس کے سان اپنی بات
میں حخرت عبد ال جن دوامڑنے ربا کہ ہم چا ہی کہ آپ اپنی با ماد
ماس می یٹ فررائیںء ہم آھیں بین دکرتے ہیں۔ اس کے بعرمسلمان اورمش کن اور
یبود ایک دوسر ےکو برا بھلا کے گے اور مار پیدٹروں بیگئی۔ سول ا کا نے میں
ماممشل اور کون نے یلقن فرکی۔ رآپ اپٹی سوارکی پر سوار ہوۓ او رتخرت
سعد بن عبادڈ کے ال یچ ۔فرمایا: اے سعددا کیا تم نے ابوحباب (ع دا ید بن ای ) گا
اق میں۔ اس نے ماود ب کہا ے۔ اقھوں نے فرمایا: اے ال کے رس ول ! اے معاف
فر ےش خداکی! ال نآ پکو با اونچا مقام عطا کیا ہے۔ مینہ کے لوگوں نے ہے
ےکر درکھا تھاکہ اس تاج پپہنامیں گے (بادشاہ منامیں گے )۔ الد تال نے امن کے
ذر یہ جو کین آ پکوعطاکیا ہے ال منصوب وش کر دیا۔ ال وجہ سے ا ںکا دم کھت
3 ہے اور بیہضمکمت ال ے ایا وجرۓےکا ے۔چتاں چہآپانے اسے درگزرفر دا
ال عدیث سے ول ال کی بیرت کے مخلف پبلو ساس ےآ تے ہیں۔
ال سےآ پک قوئی جددجہدہ خاش نک اسے پیا ےک یگکر ۲ہ پکا عب عم اورحفوو
درگزر اور چو ں کی خج کیک اودعیادت وغیرہ کا اندازہ ہوا ہے۔ ای سے ال پا ت کا
وت متا سےکیمسلانوں وی رمسلمانو ںکی بی بل یل سکوسلا مکیا جاسکتا ے۔
عفر ت صن بھرکی فراتے ہی ںکہ جب تمہاراگزرسی ال لس پر ہوجٹس
میں سلم اورغی رسلم وونوں نہوں تو سلا مکرو
ال حدی ثکی بفیاد امام ودک فرماتے ہی ںک ہج سکجٹس میں مسلران اورکافر
ول ہوں ا ایک بھی ملمان وو اے سا عکیا جاسکتا ہے لیکن علامکرتے وت
بفارگیء کتاب الاستیذانء باب التسلیم فی مجلس فیه اخلاط من المسلمین و
المش رکین کتاب المرطی باب عیادة المریض راکبا و ماشیا ےمم ء تاب الجہادہ باب ما
لقی النبی من اذی المشرکین والمنافقین
2 بد لرزاقی: ا مصتقف ۱٦/۷: تقریہ الائح لاحام الترآن:۱۱ / ۱۷۲
۲ میں مل فو سام كَاَعَک
مسلانو ںکوخخاط ب تھا جا ےم
رت اما مکی ان حذزیت یج ن جا کا ذکر سے ایں میں مسلرانوں میں
عب لیڈ بن رواح گی موجودگی کا و خھوت متا ےکن پکراح تل ےک صول اللہ گل
نے صرف ا کو مخاط بکبجہکر سلا مکیا تھا۔ ىہ بات الن اعادبی ٹک یاد پر گی ے
شن میں بیہودکوسلا مکرنے سے شع کیا گیا ہے؛لجان جاک ہم نے عون کیہ ان کا
موق ول دوسرڑے۔
اں سلسل ہکا ایک سوال ىہ ےکصرف خی رسلموں کے شع میں دگوت ون
کے سے چانا ہو گیا اے سلا مکیا اکا ےا میرے خال می سک گنول سے
اں لی کہ جب انفرادی فوع تکی ساگیہ معاشرنی اورٹھی ضروریات کے ححت خی سل مک
سلا مرن ےکی فقہاء کے ہ|اں اجازت گی ےو دن ک ےکھوٹی مفاد اور وکوت 7 یں
لیے بھی ںی اجازت ہوٹی عڑاے۔ الں سے حلیف قل ب کا بھی ذائدہ حعاکل تا
پ ہے
سے جج سکی طر ف پت فقہاء نے اشار کیا مب
خی رسلم کے سلا مکا جواب
قرن مجیدکاعم ےک سلا مکا جواب بر بیقہ سے دی جاتے اکم انکم ای
مر جواب دیا جاۓ جس طرح سلا مکیاگمیا ہے۔ (اضساء:۸۷) سوال ىہ ےک غی سم
کے سلا مکا جواب دیا جا گا یا ییں؟ سورة نسا کی آ یت سے استندلا لکرتے جہوئے
خر تعمپد ال جن عبا نف رماتے ہیں:
ردوا السلام علی من کان بھودیا جرایک کےسسلام کا جواب دوہ چاسے دہ بیہودی ىا
او نصرانیا او مجوسیا تھرا یا بجی ہو
8 وی ,شس مصسلمء ۵ء جزء ۳ا ءض ۱۴۵
بخاریء الوب اگمفرومح ففل اوہ إلدد: ۳/ ۵۳۳ ۔ اس کے ایک راوی ولید بن عبد ابد بن پور
بلس مین نے جر کی ہے لان بھی روای کسی قد اختضار کے ساتھ (باقی گے مفے >)
مس ماق بات فاك ٢
علآمہ ماورویی فرماتے ہی ںکہسلا مکرن نل او رسب ہے ءلنشن ا کا جواب
دینا فرش سے عطرت عبد الد جن عباء قاد اود این زی کے ایت او رکاٹ
وونوں کے سلا مکا جواب دینا فرش ےلان رت عطا کی را ىہ ےک رمسلمان
کے سلا مکا جواب دینا فو فرش ہے کافر کے سلا ما جواب دی فرق لتیں ےے
علامہقرٹھی فرماتے ہیں: ذمیوں کے سلا مکا جواب دینے با ضہ دہینے کے متلہ
مس اختلاف ہے۔ جس رع ملمان کے سلا مکا جواب دینا واجب ہے کیا ای رر
ذمیوں کے سلا مکا جواب دینا بھی واجب ہے؟ رت عبد ال جن عائ ماوقا
سدة نما مکی آیت سے تمس کفکرتے ہوتے فرماتے ہی کہ ذمیوں کے سلا مک جواب
دینا بھی واجب ےلین امام مالک * جیما کہ اغہب اود امن وہب نے الن یق لکیا
ہے فرماتے ہی ںکہ ىہ واج بنییس ہے۔ اگر جواب دیا بھی جاۓ ةِ صرف (علیک)
کہا جا ٤ي
امام ااوعذیذفرماتے ہیں: مر ککوسلا مکی سکیا جا ےگا الہ ای کے سسلا مکا
جاب دیا جا گا۔ امام مجر کے بقول بی ہمارے عام فقماءکا قول کے
امام دو فرماتے ہیں: خواع کا لک ہہ ےکہ خی رملمو ںکوسلا ممکرنے
یس یی فی یکنا عام ہے من جواب دینا واجب ہے۔ لمت جواب می ویلیکم امم
کہا جا ۓےگاء ال سے زیاددئیں۔ بی اکٹ علاء اود عام سل فکی رائے سے بب
(گزشۃ سے پوستہ) طبرکی شس ہے۔ ال کے راودیوں یس یہ جرد راوی نیس ہے طبرکی کے الفاظ
ہیں: من سلّم علیک من خلق الله فاردد عليه و ان کان مجو بی ۔ف ھی رطجریءشٌ چریر:
۸ء۵۸ ۔ چناں چرحافظ ابکن مر نے ا لکی ند پےکوئی جرح نی کی ےہ با لہا سک نو نکی
ہے۔ ا البار: ۶۲/۱۱
ما ماوردگیء النکلت والمو ن۴۱۱/۱۰
و قرٹیء الام حام القآن: ۰۵/۵ -۔ نز ملاظ ہو: ع۱ / ۲۹۳
جصاضصء امام الترآن: ۵۲۵/۳ ٢ نووی:ء شر مسلمء ۵ء جزء ۱ء ۱٢۵
۲۸ غیر مسلم کو سلام کا حکم
غی رسلم کے سلا کا جوا بس ط رع دیا چاۓ؟
سلف میں ےکن حعقرا کی زلۓے یڑ ےک سر٤ نماء بی سلام کا جواب
کن رت سے دی یا سام کے الفاظ دہرا دی کاگم ہے۔ الن من 075
صارائوں ے اور ووسربی صصورت خی رساموں تی ہت
این ز یک ہیں:
حق علی کل مسلم حیٗ بتیحیة انج کا ملا نکوی سلا مکی جانے ا پہ
: ٹا واجب ےک مہ رطریقہ سے جواب دے اور
یحی باحسن و اذا حیاہ غیر اھل جب ے اکر کے علاد ہکوئی درا سلام
اسلام ان یر عليه مٹل ما قال* کر ےو ای جیما جواب دے۔
حفرت او کے ہی ںک ہت رط یہ سے جواب مسلمان کے لیے سے اودرسلام
کرنے وانے کے الفاظہ بیکولوٹا دینا ای لباب کے لیے سے نے
آیت میں بظہ رسلم اود غی رس مکی تفریق نہیں ہے۔ ہویکنا ےہ اس کے
یچ بی ال ہوک ایک ملدا نک اخلاقی جن خی رسلم کےعن سے (یادہ ےه اس لیے
غیرسم کے سلامکا جن الفاظہ جس جواب دا جاتا سے اع سے بہت الفاظہ ٹیس مسلمان
کےسلامکا جواب دیا جانا چاہبیے-
فیلات تال ہی سکہ اس اصمرمی علاء می سکوئی اختا فنٹں ےک فی رسم
کے سلا مکیا جواب دیا جاسکنا ہے ۔لنن حضریات نے اسے ضرور بھی قرار دیا سے البظہ
یہ پٹ ضردد ےک جوا بن عدود یل ہو اور ال کے سم ےکی الفاظط استعال بیے جائیں؟
اس طرع کے اختلاٹی امور یں حالات کے اط سے اور غیرمسلموں سے
معا شی تفالقا تک یاد یروگ بھی روم اخقیارکیا جاسکتا ہے۔ اسے غلطکی لکہا جات ۓےگا۔
ا ریہ جا البیان:۵۸۸/۸
۶دہانق:۸/ك۵۸
غیر مسلم کو سلام کا حکم ۶ت
سلا مکر نے میں بیہودکی شرارت اود ال کا جواب
ہوارے خوال میں ا ںکاتلقی ا بات سے ہ ےک ایک خیرم سل مک جموئی رون
گیا ہے او دن الفاظ مل وو سلا مکرتا ےب وت میدکا عراوت اور نی پالل نرایاں
نیس ج بکھی موح تاان سض وعنارکا مظاہرہ ہتا تھا سلا مھ یکرت تو ناڑا
ری رشائتہ الفاظ استعا لکرتے تھے فرآن مجیدکا بیان ے:
و ذا جَاؤت وت بمَا لَمْ جب آپ گے ان انا آ پکوسلام
يُعَیْک ب الله و َو فی" طاور سن رو کی
7 پ پرسلا نیل کھھجا ہے اور اپ گی بی ککتے
یم للا یعدب الله بمَا تَقُوْلُ رو و ےت
عَسْيهُم جَهََمْ يَصُلوْهتَ قبٹُس کیو ںی دنا جم ان کے کاٹ ےہ ا
الْمَصِیْرُّہ (ابغادلة:۸) مم وہ ول ہویں گے اور دہ برا ٹھکانا ے۔
ُبور کے ا دو گی وچ ےہول اش نے یں سلا مکرنے سے کیا
اود ہدایت فربائ یک الن کے شارت آمیزسلام کے جواب شس صرف ییکہا جا ےک الد
تا ھارے ساقحد وتیا جھوکرے جوقم ہمارے ساتھھ جات ہو۔ احعادیٹ یل ا لک
تخل لی ہے۔ یہاں نت اعادییث ٹج کا جاردی ہیں:
رت ان کی ردایت ہ ےک رسول الش نپ سے صحاہرگر ام نے ددیاف تکیا-
إِن اھل الکتاب یسلّمون علیسا ایل کتاب یں سلا مکرتے ہیں ہم أئیں
فکیف نرة علیھم قال قولوا و جا بکٴس رع دیں؟ آپ پچ نے فرایا:
علیکہ ۱ 'وعلیکم' کو
حفرت ای ناک اورروایت ے:
اذا سلم عليکم اہہل الکتاب فقو لوا جب ا لکنا ب تھی سلامکریں تزتم
ۓے مل تاب السلامہ اب انی جن انقداء ال الکتاب بالسلام وکیف مد شیہم الوداودہ اواب
الام ء باب ٹی السلام لی ال الزمۃ
ھ غیر سلم کو سلام کاحکم
و عليکمے 'وعلیکم' کہو_
مج دوسری روایات سے اس جوا بکی وج بھی معلوم ہوئی سے حضرت
عمبداڈد جن عرگی ردایت کہ رسول ال پچ نے فرمایا:
اذا سلم عليکم الیھود فانما یقول ببود ہیں جب سلامکرتے ہیں ت الام یکم
احدھم السام عليکم فقل و علییک کے ہیں ستم جواب می ولیک کرو“
حضرت ا کا ان ےکہ رسول الشدپپلگ تثریف فرا تھے۔ قریب سے
گور ہے ایک وی نے اکسا م میم کہا۔ خدمت میں جو سار نموجود ے انموں
نے ا کے سلا مکا جواب دیا ۔آپ نسحا سے فرمایا:شھیں معلوم ہہ اس ن ےکی اکہا؟'
سحاڑنے عون لکیاکہ ال نے سلا مکیا تھا ۔آپ پچ نے فرمایا:نییں! اس نے السا میم
کہا تھی مو تآے یاتم اپنے دن سے اکنا جاق) اسے والیل ہلا اہ ددیاق تکیا
جائے۔ اسے وائیں بلاہاگیا۔ در اف تکمرنے پہ نے اختزا فکیا کہا نے السا میم
ج کہا تھا۔ آپ پچ نے فرراا: جب ال لکنا ب میں سلا مكکرمیں تو تم 'علیکم ما
فلدم! کہو۔ (لژنیٰتم بر دہز طاری ہوی٘ سک تم نے ہمارے لیے دھا کی سے )ے
ان ردلیات ے دا ےکہ بیبودسلا مککرنے میں شرارت ا اورنحبٹ پائلن
کا مظاہرکرتے تے۔ ا ںکا ش ریفانہ اود بادقار انداز ٹس جواب دی ےکی ہداب تک گن
ک تکھارے مہ الا طتھمارے ہی لیے مارک ہہوں۔نم مار ججاپی اور برہائی کےآرزو
مند ہو یں ای ے دو چا رکرے۔ ال ےآ کے ب ڑم کر جواب ئل بلزبالٰ اود
بدرکلائی سے ک ایا ہے۔
لا جار ءکتاب الاستیرانء جال بکیف الردعلی ایل الز ہت :سم کاب السلامء باب انی عن ابتداء
کتابں
ىہ ہخاری ومسلمءحوالیسابق
2 رواہ زار وابع ضان۔ ای :۱۱ / ٣۴ء ورواہاٰخاری فی الدب امفرِشقرا: ۲ / ۵۳۳.۵۳
غیر مسلم کو سلام کا حکم ۳
خرت عائٹ ف مائی ہی ںکہ سول الل ہل کی خدمت میس یبود کے پچنہ افراد
آے اور السمام علی کہا۔ میں بجج ھک کہ د کیا کہ رہے ہیں۔ مس نے جواب دی
'علیکم السام والعدة* (مو تھی ںآ ے اور خدا کی لعنت تم پہ+و) رسول الل جک
نے فرمایا: عائہ صبر سےکام لوہ درش تکلائی سے اتا زکردہ اللتھاٹیٰ ہرمحاللہ میس رف
و مطاطفت اور نر یکو بین ہکرتا ہے۔ میں نے ع شکیا: تھوں نے چ کہا کیا دہ آپ نے
نیس سنا؟ آپ نے فرمایا: ٹس نے سنا سے اودال کے جواب ٹل 'وعلیکم؟کہہ دیا
ہے۔ (یجنی موت اوراتاہ ٹ تم پآ ۓ) ىہ جوا بکاٹی سے
ڈاپ بن تاڑیا الفاظ کے استتعا لکی اعت
اذ ےک ول ال یه یہودکی سمازشوں اوران کے طن وت ریش
ہے اکھی طرح وائف تے۔آپ یھی جائۓ جتھےکہ دہ سلا مك۷رتے وقت خی رہذزب
لفاظہ استعا لکرتے ہیں,ء لیکن جواب مس زبان مبارک ناماس بکلمات سے پاک
ری۔ای عم آپ نے صا کرا غمکودیی اودف مایا :من ہم ان کےجن بس جو دعاکمریی
کے وو قبول ہوئی ملین وہ جھ بددعاکمر رہے ہیں ووقبو لنیں گی ناس نیکم
ملوم اور وہ لم ہیں۔ ایر تھا لی کی نحرت مظلو مکو عاصل ہوئٹی سے او نلم ای سے
رم رہتا ے۔
یی لوگوں ن کہا ہے: بیبود جس طرع ”السلام ملک کو زبا نکی لوج سے
السا مہم کر دینے ہیںہ ای رع ان کے جواب میں زبا نکوگھ اک رمعلیکم امام کہنا
جاہے۔ ا کےمع ہیں :تم پچھر پیی یا ناکم السلا مغ کہا جاۓ؛لیشی تم سے سلائی
ما مارک کاب الاستیز انء باب کیف الرد علی اھل اذ سکاب السلامء باب انی
عن ابتقداء انل اککتاب پالسلام ا
بخارگ :تاب المگواتء پاپ قول ال یستجاب لا فی الیھود سن الامء
باب انی عن ابتقداء اٹل اکتاب باللام ا٣
رت خی سلم کو سلام کا کم
ٹھ جا ہن جیا کہ علامہابن عبد الہ رن ےکہا ےہ بیط رق نیس ہے۔ ذمیو ںکو
برا ھلاکہنا اوران کے ساتجھ بدز ال یکرنا چائزنیں ہے۔حافظ این جرفرماتے ہی نکہ ال
کی تائ ال بات سے ہولی ےکحضرت عائیٹڑانے جب آئی برا ھلاکہنا چاپا آپٗ
نے اس نالپ ندفرمااط
ار روایات فو رکرنۓ سے معلوم ہوتا ےل کبود کےخض وعیاں ا نک
شرارت اود ا نکی بد زبای اور بدکلائ یکا وجہ سے یں سلام شک نے ان کےسلا عمکا
خائ ط بیقہ سے جواب دی کاگم دا گیا ےلین جہاں خی رسلموں سے مہ روا
ہوں اور وومسلرانوں کے ساتھ عراوت او را تکا رویہ نہ رکھے کلء بہال اگ رکوئی
خی سلممء اسلابی تقلیدمات پا اسلائی معاشرہ کے زی کسی ملا نکو سام سی 2
ذر یی خطا بکمرے تو جواب شی ال ںکا رو گنی بظاہ رلّف ہونا جا بیے۔ اں 302
عالات ے بد لے سے اجکا مبھی پرل جاے ہیں۔ غاب ای وج سے لت علاء نے
اعت کےع مکو ایا یں انا ہے جواہدٹی ہواورجشس پرگ٠ل ہرعال مش لازم و۔ ان
کے نز ویک غی لم کے سلام کے جواب میں ای طرع لیم السلا مکہا جاسکتا سے جیسے
ملمان کےسلام کے واب می کہا جاتا سے
شوانع میں ےل ض اکا بوراۓے ے کہ پیم لسلام تو کہا جاسکتا ےلین اں
ےآ گے ورمۃ ال کا اضافہ غلط ہوگاے
لن ادامئصمی اسے غا نی س ھت ۔ ایک نصرالی نے یں سلا مکی ق نھوں
نے جواب میں وعلیک العلام و می اللہ کہا۔ اس پر اتا سکیا گیا و اتھوں نے فرمایا:
کیا دہ اتال یک رعخعت می گنی ربا ے؟گ
جا الہارگ:۵/۱۱٣
حاف اکن تج فرماتے ہیں: و فعب جماعة من السلف الی انه یجوز ان یقال فی الرد علیھم و
علیکم السلام کما یرد علی اللمسلم الباری:۴۵/۱۱۔ نیز مطاحظہ ہو شھنیءعرۃ القاری: ۳۰۷٣/۱۸
و فووی: شر مسلمجلر۵ہ تزء ٣اگ ۱۴۵ شٹریہ الخافعن حاکن مق زل:۵۵۰/۱
غیر مسلم کو سلام کا حکم او اس
علامہائن گھمُ کے ہیں: اگ ال کاب میں سےکوئی السلام“یکم ورتمۃ اللکہتا
ہے انصاف کا تقاضا ےکہ جوا ببھی اس رب دیا جا ےس
علام کے معاعلہ میس ذبی او رھ بی کا فرقی
اض حراے نے اس معالمہ بس ذئی اورت بی کا فر کیا ےم مہ ال بات
کی دٰیل س ےکہ جو غی رسلم اسلائ ممکلت کے شکی ہیں جن نکی چان و مال اورعزت و
آ روک تفاظت ال کے ذمہ ہے اود جھ ای کے ان وامان یش ہیں ان کے ساتھرسلام
کلام کا دہ اندا زنچی ہوگا چو ان لوگوں کے ساتھ اخقیا کیا چاسکا سے جو اسلائی مللت
سے مر پبکار ہیں۔
رت ابو موی اشعت رک نے ایک ذی یکو خیط یس سا مکھھا یبن لوگوں ت ےکہا
ک کیا آپ نی سی مکوسلا مک رہے ہیں؟ انھوں نے جواب دیاہ ال نے اپنے خط مم
بے سلامککا تھہ یس نے ان کا جواب دیا سے
مشبورمحرث این عی سے سوا لکیامگیا:
ہل یجوز السّلام علی الکافر؟ کیا کاف رسلا مکرنا جائڑے؟
نھوں ور جواب دیا: 'نعم' پالء دیا جاسکنا سے اود پل سور مم کی پےآیت
پڑگا لاینھاکم الله لایة شس م سکہا گیا ہ ےک ال تی ان لوگوں کے سساتھ گی اور
صن سلوک ےئ نمی ںکرتاجتھوں نے تم سے جن کی ںکا اورنمیں اپنے گن سے
نیس لالا۔ دوق ان لوگوں سے قرج تلق رکئے تح رتا جتھوں نے تم سے تک
گیا :ھی ںمبھار ےگھروں سے پیالا اراس معاممہ بش دوسرو ںکی مدکی رو و
لے اکام اٹل الزمۃ: ناء/ض۲۷٣
عافظ ائن تجرفرماتے ہیں: و عن بعضهم التفرقة بین اھل الذمة و اھل الحرب۔ ٌّّ
الباریی۴۵/۱۱۔ نیز ملاحظہ ہو: شھنیءعرۃ التاری: ۳۰۷/۱۸
فارگ الادپ ال :۵۲۹/۲ ۶ج قرٹیء الا لا ام الترآن:۱۱ ١۷۱/
۳۴ غیر مسلم کو سلام کا حکم
ا ں کا مطلب ىہ ےک دو تم بی اود یر7 بی با معاہد اور خی رمعاہر کے درمیان
فر قکرتے ہیں۔ ان کے نزدیک ق رن چو ںکہ غی ری کے ساتی وحن سلوک سےٹع
نی ںکرتء اس لیے اسے سلا مچھ یکیا جاستنا ہے ر بھی سن سلوک می دائل ہے۔
غی سمل مکوسلام 2 اسب الفاظ
ایک خیالل یھی ےک سلام اود انس کے جواب کے الفاط مسلرانوں کے
اخ ہیں, فی رسسلسوں کے لے دوسرے الفاظ اتل سے جانے ایس ای
کی مائیرش وہ خی تُب لگیا جاتا سے جو رسول ان مکل نے شاو رم ہق لکوکیۓ تھا۔ وہ
اس رخ شر ہوتاے:
بسم الله الرّحمٰن الرٌّحیم من ال کے :ام سے جو رین ورتھم ہے۔ مم
3 1 ۔ جاب سے ج اللہ کے بندے اود ال کے
محمّد عبد الله ل۱
و رسولە الی ھرقل رسول ہیںء کی طرف جو رہ مک سربرادے۔
عظیم الرومء زس علٰی من اتبع سلام ہے این پر ج ہبی تکا اتا غۂکرے۔
الھدیٰ. اما بعد .. اما بعر-
محرث این لکن ہی ںکہ می ان لوگ کی دیل ہے مجن کے نز دک
الک کاب سے مراسات میس وقت ضرورت یں سلا مکھھنا چائز ہے۔ حافظ اکن جم
فراتے ہی ںکہ والسلام علی من اقبع الھدیکا سیاقی وسباقی دوسا ہے۔ اس بش ایک
اصوىی با تک گنا س ےکہ جوتی اور ہرامت پ۰ لکرے ہیں کے لیے سای ہے۔ اکن
یس وچننش شائل نہ ہوگا جو کی اتجاع ندکرے. غی ملسو ںکو جوخطوط کے جامیں ان
یس اس طر کا موی انداز اختیا کیا جاستا ےب
بفازگ کتاب الاستیالنء ا بکیف کنب ال ال الاب ۔گرائی نامہ کے پور ے شون اور
سلہ کی نیل کے لے ملاحظہ ہو بخاری ءکناب بدہالوڑی۔ نی زکتاب اجہادہ باب دعاء ال
الناس ای الاسلام وو
٣ ثّابری:۱۱/ےہ۔ غز۳۸/۱
کر سل کرسلامکا کہ ۳۵
فدہ کے ہی ںکہ ا لِکتاب سےگھم چا تق کہو 'السلام علٰی من اتیع
الھدی' ( ہاگ ۓ ہرہرنخصش بی چھ برای ت کی اتا ککرے ۷ھ می بات امام او
ایسف نکی سےۓٗ 'السلام علینا و علی عباد الله الصالحین' ( سای ہوم پ اور
اب کے تمام نیک بندوں پر ) جیے الفا بھی استعال بے جاسکت ہیں
نحخرت عبد الد بی نی حر نے ای نف سکوسلام رکیا۔ ال نے جواب دیا۔ بعد ٹل
آ پک ایا گیا لکہ بین فھرالی ہے۔آپ ای کے پا گے او فرایا کہ میرا سلام
وائی ںکردوی
امام مالک فرماتے ہی ںکہ ا لکی ضردر نیس سے ےگ لوکوں ن کہا سے
کہا لکا ھی ایک فدہ ے۔ وہ بک غی ۱لم کےعلم میں بے بات آ جا ۓگ یکہسلام
کے الفط خی رسکموں کے لے استعا لنھیں بے جاتے۔ بیج یکہا گیا نے اہ
تصیں] 22 کے یکول یحو او دنن کے طود پر نی لکرتے ہوں اسے الما نہ
رن ےہ تاکہ دوسرے اس سے اتا زکری ںا رت عبد قد بن گر کے٥ لکی اس
سے ہ کی جات ے۔
ححضرت عق مین عامو ای نخس سر چوصورےت شحل سے مسلران لک 7
تھاہ سلا مکیا۔ انھوں نے جواب ٹ 'و علیک و رحمة الله و ب رکاتہ“ہا۔ بعد ٹں
معلوم ہواکہ یٹس نھرانی ہے۔ خر ت عقبہ بن عاع راس کے پا گے او دکہانکہ ان دکی
ررقت مصلمان کے لیے ہے (اہنرا ىہ الفاظ ای کے لے استعال ہوت ہیں ) پھر اے دعا
لے عبد الرزاقی: ۱٢/١:
٢ زشٹریہ اکنا فعن حاکن نز مل:۱/٥۵۵
5 البارگ:۱۱/٭٣
گ, بخاری: الاوب اففرر: ۵۳۹/۲
۵ موطا تاب السطامء باب ماجاء فی السلا می الیہود ولتصا را
نلبارٰ:٢/۲۸
۳٦ غی ول کی سلارکا سکم
دی۔ 'اطال اللہ حیانک و اکثر مالک و وللاک' (اللہ تھا یتچھارگی ع روا زککرے
اورمارے مال واوللاد ٹیش اضاف مرا ےے
علامہ رش ری کے ہیں:
ولاً بس باللدعاء لہ بما یصلحہ فی اس ب سکوئی حع نیس ےکہ اسے دنا گیا
دنیاہ.ػ صلاع او پپتریکی دعادئی جاۓ-
غلاصۂ گٹث
ا نتغیلات من ان سےگ سام اسلائی تی کا شعار ہے۔ زیاوو علاء
لف اس کے مال ہی ںکہغی رس ل مکوسلامفی سکیا جات ےگا اور اس کے سلا مکا جوا ب بھی
و علیک پا و علیکم کی عدکگ دیا جا ۓگاء ال سے زیادہنیں لین سلف ہی یں
جن اصعحاب نے اس سے الا فکیا ہے الن کے زدریک سلا مکوعا مرن ےکا عم سے٠
ں لے فی سل مکوبھی سلا مکیا جانکتا سے اس میں ملم اود خی سلمکا فرق جع نہیں
ہے ۔لت حضرات نے اس مسملہ میس سای ومعاٹرلی نعاقا تکوگی ایت دی ے۔
یس نے ذبی اور لی کا فر قکیا ےہ اس ل کہ خودق رآن مس برفرق موجودے۔
ایک راۓ بیتھی ےک غی رسلموں کے لے 'السلام علیکم و رحمة اللہ“ ے
مسفون الفا کی عکہ ا نکی ہدایت اور فلا دکامیال یکا دعا کی جاے۔ الن سب رالں
کی رچأنی میس ئییں ایک ایی معاشرہ کے بارے میں سوچنا چا ہے جومسلمانوں اود ٹیم
ملموں ا مااچاا او رخّوط معاشرہ ے ہہاں وونوں کے درمیان شافقء سای معاگی
خرن مخلف نوعیت کے تعلقات موجود ٍں اور ووتوں تا ول اور وحتقورگی روالپا ٛن
بند سح ہوۓ ہیں۔ اں طرح کے مواشرہ میں خی رمسلمو ںکومسفون طط ریہ ے سلا مکیا
. بخاریء الوب الفرد: ۵۴/۰۲
کم الکنافعٴن الی لت ر ل:۵۵۰/۱
غیر مس کو سلامكاحکم ے۳
جا و الف سفگل نہ ہوگا۔ ہ وت ہہ اس رح دہ آ ہت ہآ تہ اسلائی آ داب
سے مانویں ہوتے جے جانھیں اور ان کی صحویت ان پ زیادہ پت طریقہ سے داش
ہوجائۓے۔ اس بی قباحت میں ہو نے ان کے لیے عزت و ارام اورمحبت وخ رخوای
کے دوسرے الفاظ اتال سیے جات ہیںء الہستہ اس بات کا ضرور خیال رکھنا ہوگا کہ
تعلقات کے انکہار میمش ای طریے نہ اخقیار سے جائیہ ج وکا دوصرے نہب یا
تبزیب کےمخصسی شعارکی حیثیت رک ہوں اور ال الفاظط نہ اتال بیے جاکیںء
جو اسلاٹی عقاد سے متصادم ہوں-۔
280008
۳۸
٢۔ مسر میں غی رسسل کا داخلہ
میتی رخا کی عادت کے لے ہو ہے۔ اس چاو سے ا کی حیشیت
مق مقام 1 ےت ال 71 ا ٦ صفائی ک اہمام ضریری ہے۔سوال وے رسرائوں
کی اس می اود اک تہ می سکوئی خی سلم داشل ہکا ہے بانیں؟
مصرترام میں مشرکی نکو داخلہکی اجاز نیل ہے
قرآن ید میں مس رترام کے سللے مم ابل ایما نکو ہریت ے:
ھا الب آمنوا الما امش رٹو اےاممان دالوا بے تک شر ک کس (اپاک)
عت لاق نج لع و ری
ً٘ و یہ مر ڈرتے ہو الہ تواٹی جلد بی تیں رپ نل
فُسَوٰف بَغيیْكُم الله مِنْ فضله اِنْ شاءَ ےنم کرد ےگا۔ بے شک ال رعلم او رجلمت
اٌِ الله عَلِیْمُ حَكِيْمُہ (الوبة:۲۸) ؛الاے۔
یراعلانع سنہ ۹ھ مل ا تھا۔ اس کے بعدمشرکی نکوسو رام میش ر :رہ اور
ذماات کے لی نے سے کر دیاگیا۔
ا ںآی تک یا میں علا نے غی رسلم کم ء عدددضم اور عام مساچد مل
ال ے بج شک سے اورائسں کے احکام مان کے ہیں۔
بعد عَاهھم ما و إِنْ عِفْم عَیلَه
مسجد میں غیر مسلم کا داخله ۳
گی عدو و کا تی بی عم سے؟
اس مستلمہ یس ایک راے ین ےکہآبیت ٹل طّرلن کے سچ تام یں داغلہ
کی عمانعت ے۔ در میں وہ ول ہوک ہیں۔ دوس کی رائۓ ہے ےک حدورظم
بھی آئیں داغلہکی اجاز نیس سے
عامہ ان قرا یی کیہ ہی کہ مو رترام یش زی (خیرمسلم ).بھی ئل
یں ہوکنا۔ سچرعام ہی کےگم ٹس عدد دض مگھیآتے ہیں-
ا سکی دییل 'و ان مم عيلَة' (اگرتم تک دقی سے ڈرتے ہو) کے الفاظ
ہیں۔ یب ا ں کا اندریڈنئیس تھ اک مسج تام سے چنزی انی کچ نی گی بکنہ بہخطرہ
تھاکہعد ددم ےکیں وچ کی ںگی۔
دوسری مل بی ےکٹفرآن مجید شش عدددضم وجھی جد۶م ےکی رک یاگیا
ے۔ ارغادے:
سط الیٰ آضریٰ بدہ للا بن پک ہے دہ ذات جھ ل گی اپنے بندےکو
الْمَسُجدِ الْحرَام لی الْمَسُجدِ راقوں رات مس ترام سےمسود اص٦ یکک-
القصطی 7-٦ (الااء:ا)
ال آیت یل محراع کا ذکر ہے معمراع کا سفرحقرت ام ال کےگھ سے
شروں ہوا تمہ جو عدددم میس تہ لیک نکہا گیا کہ ىہ متام سے شروغم ہوا۔ ال کا
صاف مطلب بی ےکہعدودد می مسج تام ی ےم سے یں۔
فراۓے ٹیں: اں بتا ری رسلم عدود 7م می دل ہوا چاے لو الال
ریاست اش کر ےگی۔ تاجروں اورسخیرو ںکوگگی اںکی اجازت ہوگی۔ لی
خی سکم کے ساتحد سام ن تیارت اودخلہ ہے ذ دوتزم سے باہرقا مر ےگاہ جو لوک خر یونا
چا یں گے وہاں پآ جکرخریدریں گے۔ ای طرں غی رس سفی رابنا نام مسلمان کے ذرلجہ
7 شوکانی, بح القرر: ٣۴۷/۲
0(8] 8999 39-0 ۴
پیا ےکا اورضرورت ہوڈو اکم آں سے تم سے باہرملاقا تکمرےگا۔ وہ جانے لوگھۓ
رضم ھی رقل پہولو ا ںکی تھے موی اورناواقیتے سے دای پہولو یہ ہی
امام شاف یبھی حم اورحد ددم میں خی لم کے واخکو نہیں بت _
عام مساجد میں غی رسلم دافل ہوسکتا سے
کیا دوسرکی ماج دکا گی بھی عم ہے با اس ےمحطلف ا ن کا عم ہے ا
را ہہ ہ ےکہ دوصری مساجدکا بجی چیم ہے۔ دوایت ےک رت عزسر یش
ے۔ حرت اب موی اضٌحرىان کے پاسں یچ ان کے بات یں رجٹرفھاء جس م۴یں
اپ علاہ کے امور و اعما لک تفص لی ۔حفر تگڑنے فرما اک نس نے یہ رج ریا
ہے اسے با5 رت الو موی اشع رق نے فرمایاکہ وہ نصراٹی ہے, مسج مج نمی ںآ کتا۔
ال سے ظاہر ہوتا ےک حا ہکرام کے درمان ہے پا نشی اراس پر انقاتی تھا کہ
فی سلممسود می داخ لنئیں ہوسنا۔
دوسرییا بات میہکہ جنابت نیٹ وففا ںکی حاات یس مد می تھب رنا جائ نہیں
ہے شر کک یمگندگی فو اس سے بدئی ہے۔ اذا مد مشرک کے قا مکو بدرچنادٹی
موع بونا جا ےن
امام مال جیا جم اورعدددضم مل خ رم ہ۶ کے داخ کیج نہی بت _ اھوں
نے مو امج پہ دوسری مساجدکدقیا کیا ہے۔ چناں چان کے نزدیک نیل سی
بھی مسچد میں دا ل نیس ہوسکتاء الا ےک ہکوئی موی اسے لاق ہہو۔ شی مسر بی عداات
قائم ہواوروپال اسے اپ مقدمہ کے سلسلہ میس جانا بے
خوانع میں ارام ہنی بھی مسر میں خی رسسلم کے داخلکو چان نمی ںبھتا۔
این قزاب :۵/۳ ۷,۲۴ك٣
گ۲ حالہسالق: ۲٢۷/٣۳
جصاضس امام القرآن: ۱۰۹/۳
مسجد میں غیر مسلم کا داخله ۱ت
زی یضلی سکہا گیا کے رم کے علاوہ دوسرکی مساجد میں زی (رس١۳)
ملمانو کی اجازت سے داشل ہو سے ہیں۔ بر اجازت داخل ہکا ا کون یں ے۔_
ضر تع خطبہ دے رے تھےک رش ایک تو یکو دریکھا۔ مر سے اتڑے اور اے
ماک باہ رخکال دہا
ام شال فرراتے ہی ںک ہمد ترام اود عدودعم می تذ غی رم مکو داظل ہکی
اہاز تال ے البتۃ دنگر مصاچر ٹل ںی اجانت ے۔ وہ وت ضرورت ان من
اسنا ہے جلاضمرورت ال کا مد جانا نہیں ےہ
اتاف کے نزدیک عددوعم میس غی رس صرف ایام رع می نئیں جاستا
ام اوطلیے کے نزدیک قرآن یدک ا مانعت کا تلق سے ہے۔ ب
کے فوں میں خی رسل ما خان ہکعبہاود مقامات ری جس داغل نوع ہے۔ دوسرے ایام یل
ہمالع تشخ ہوجائی ہے۔ دہ خانہکعبہ مل اود مقابات رّ پر جاسکنا ہے۔ پاں وہ اے
تا زی طرح ون نہیں بت سلماء ضرورت کے خحت آھ ورفت رکوکتا ہے۔ دنر مساجد
کے لے می اس رح کی پایندی جھ نیس ہے۔ ہرزمانہ جس اسے ان می داخلہکی
اجازت ےج
پھر اس آبی ت کا کیا مغبوم کے علامہ اا ور جصاضصش کے ہی کہ ا ں کی وو
یہی ںکی جاع ہیں: ایک یرک اں کات فا مشرکین عرب سے ہے اس ےک
اسلام قُول نہکمرن ےکی صصورت یل ان رے جن ککاعم تھا۔ وہ ذنانئیں بناۓ جاک
تے۔ 7 دوسرے مشرکین کانیں ہے۔ دوکرکی بات 2 کس کے
آ یت کے الفاظ فلا یقربوا المسجد الحرام ( نچ ر7ام کےتریب دہ نہ جائیں) ال پہ
0 0 ۲/۳
جو ملف نشی مل کک یتیل کے لے صب ذی تیر دیکھی اق ہیں:خازنء لباب التاویل
فی معانی التنزیل مع بغوی معالم التنزیل: ٦٦/٣ شر کیء الکشاف عن حقائق العزیل:
۲ ۔شوکالی. ٌاتري:۳/ ۴۴۷٣م
۴۲ ستجد نی قیز سیلم کا داَلة
داالم تکرتے ہیں۔ ال میں نان ہکعبہ کے ساتھ بج سےمتلق مقاما بھی شائل ہیں۔
ال لی ےکہ وہ خانہکعبہ سے قریب ہیںء جیےعرفات او مزدلفہ۔ ان متقامات پر ایام ىٌّ
یں کی مرک کوداخل کی اجاز تال 7 ج بآ یت میں تم اور مقامات رّّ داول
ال ہیں ت دوفو ںکا عم بھی ایک ہونا جا ہیے۔ ا بات برسب کا انقاقی ےک ایام ى٤
کے علاوہ دوسرے ایام میں عرفات اور مزولفہ م" ڈئ یکا داخل مو تہیں یلو بی کم
خمانہکعب کا بھی ہوگا-
ون فم غيْلة (اگرتم قرو فاقہ سے ڈرتے ہو کے الفاطبھی تا رہے ہیں
ہآ ی تکاتعلقی موم سے ہے۔ ای میں تھارتی مہ گتے سے او کاروباری نا
ئل ہوتے تے۔ مت کی نکوٹ کرنے سے بیتمارتی فائد شم ہوکتا تہ اس لیے فرایا
١ہ اں ےکھباتنے گی روز تتھیں ے۔ اش قا ی ووسرے طریقہ سےتمھارگا 7
کر گال
ار
اب ایل سال یہ پیھا تا ےک ہآییت می مشیر ککونٹجس ( پا ک )کہا گیا
ہے۔ گر وو سے تو مجر میں کے وانل ہوکتا ہے؟ ال کا جواب یہ ہ ےکم بیہاں
جسمانی اور مکی اس ت کا نیقی ہکی ماس ت کا ذکر ہے۔
علمہ الوطکرحضاض ضس کتے یں:
اطلاق اسم النجس علی ال مشرک مشرک پر1 مج س کا اطلاق اس پبلو سے کہ
من جھة ان الشرک الذی یعتقدہ ٹک سے جس پرکہ ا ںکا عقیدہ ہے ای طرر
یجب اجتتابہ کما یجب اجتناب اجقناب ضروری سے جس طرح نجاسمات اور
الىجصاسات والافذار فلسالک مگندگیوں سے پرہیز لازگی ہے ای لیے آگیں
سماھم نجساّ سکہ ایا ے۔
تفیل کے لے دیکھی جا بصاض, ا ام القرآن: ۷-۱۰۸/۳
والسالق: ۱۰۸/۳
مسجد میں غیر مسلم کا داخله ۳
امام شوکالی فرماتے ہی ںکہ ا لآ یت ے ان لوگوں نے استدلا لکیا ہے جن
کے نزدیک مشر کنس الات بہوتا ہے لن الہ ظاہراورشیتوں میس فرقہ زی ےکی بجی
رائۓ ہے۔ حفرت صن بصرکی سے ای طر کی روای تک جائی ہے۔جخرت عبد اللہ
این عا کی بھی می را بیا نک جائی ہے۔ اس کے بعدفرماتے ہیں:
و ذہھب الجمھور من الشلف و جبورسلف وغلف جن میں ائہ ارب گی اگل
الخلف و منھم اھل المذاہب الاربعاة ہیںہ اس طرف گے ہی ںکہکافر اپٹی ذات ٹم
الی ان الکافر لیس بنجس الذات خُس نیس ہوتاہ اس ل ےک اللہ تعالٰی نے ان
لان الله سبحانہ احل طعاہمھم و ثبیت کےکھانے علال سیے ہیں اور نی گل سے قول و
عن النسی ]ٹین فی ڈلک من فعلہ و مل سے ہابت ہوا ےک دہ انی ذات مل
قوله ما یفید عدم نجاسة ذواتھم شس نیں ہیں۔ آپ نے ان کے جتتوں ش
فاکل فی آنیتھم و شرب منھا و کھا ء ان ٹش پیا سے ان سے وضو فرایا
توضافیھا و انزلھم فی مسجدہ“ انیس یسوم ھی ے۔
امام ووکی نے غی مل کی طہارت وعدم طہارت کے مل برخوغ اور "ور
فتہاء کا سیک کسی قد رتتصیل سے جیا نکیا ہے۔ ذیل میں ان کے الفاظ ٹیٹی کے
جاریے ؤیں۔
.... اھا الکافر فحکمہ فی الطھارة .... کاف رکا عم بھی طہارت اور خجاست مل
و النجاسة حکم المسلمء ہا ممان ہی کا عم ے۔ بی جارا (شواع) اور
مذھبنا و مذھب الجماہیر ھن جمورسلف وغل فکا ملک ے۔ رپا ش تا یکا
السلف والخلف: و اما قول الله اشاد ”نما المشرکون نجس' ال ے
عزو جل الما الضرکوْنَ مس اعقادکی نجاست اورگندگی مراد ے۔ اں کا
فالمراد نجاسة الاعتقاد والاستقذار مطلب پر نیں ہےکہ ان کے اعضاء تم
ولیس المراد ان اعضاء ہم نجسة باب پاغاندئی چزد ںک طرش یں-
۴۴ مسجد میں غیر مسلم کا داخله
کنجاسة البول والغائط ونحوھما جب يہ بات خابت ہوک دی طاہر ےه
فاذا ثبت طہارۃ الادمی مسلھا چاے وہ ملمان ہو یا کاف رت ا کا پینہ لعاب
کان او کافرا فعرقہ و لعابہ و دمعه اود نسوجھی پاک ہیں٠ چاسے وہ بے دضو ہو یا
طاہہرات سواء کان محدٹا او جنبا جناب تکی عاات ٹیںءعورت جیف اور نفا کی
او حائضا او نفساء و ھہٰذا کلہ عالت یں ہو گی پاک ے۔ان سب پاؤں
باجماع المسلمین* پکلاو کا اعاے۔
غی رسلم کے مسج میں داخل ہکا وت
سب سے بی بات ب ےک مد بیس خی سم کے داغخل ہکا خھوت اعادییث سے
ے۔
جنگ پرر کے بع دکا واتعہ ےک یر بجع وہب: جو ال وفت مشرک ھھے
ول اللہ پچ کال کے ارادہ سے مدرینہ پچ کی کے ساتے اتڑے۔آپ سے
لاقات ہوگی ق ددیاففت فربا لکرس لہ ہو ؟ کہا! مرا لڑکا جک بدد یش ؟آپ کے
پال تید ے اںکی 7 گی درشواست نےکر حاضر: ہوا ہوں -آپ ےا فا 21
تب کن کے ارادہ ےآ ۓ ہو عفوان لن امیہ ےمم می ھاری بات چچیت
ہیگے۔ اس ن تمجھارا رخ اداہکرنے او ھمارے ال پچوں کےکغال تک ذمداری
پیل ہے یک نکر وو ضشدد رہ گے اور بے اغقیا کہا کہ بے شک آپ خدا کے رسول
ہیں۔ ہم آپ کے اس ڈلوگ کیا وجہ سےآ پک عخالض تک رسے ےک اللہ تھال یکا
طر اٹ پر ازل ہوئی ہر اہ او رمفوان کے درمیان ج بات چچیت
ہوئی اس کا ہم من کے لگن و ز2ض ظا ن ےآ پکوایں واق ےک اطلا
دی یقینا دی آپ کے پاش ابنا پغام چھیا ہے۔ اس کے بعل دآپ نے صحابہکرا مکو
ئ0 و وی:شرں مسلمء جع ٣ء جزم "ک۹٦٦
مسجد میں غیر مسلم کا داخله ۵ۃ
ہایت فا یک یں ری نک جم دا جاۓ اوران کے قیر یکو رہ اکر دیا جا ےس
ال واڈ یکا حوالرعلامہابن قرا لی نے لن الفاظ شی دیا ے:
و قدم عمیر بن وہب فدخل میبرین وہ بکہ سے مین یچ اں وقت
المسجد والبیٗ فیه لیفتک بەہ یپ ریش تے۔ دہ سد جس وائل ہوئۓے؛
کہ آ پک ون یکردیکیہ لگن اللد نے أھمیں
اسلا مکی دوات سے وازا۔
1ء عدیی کے بعر صخرت ابوسفیان تج بد معاہرہ کے ارادہ سے مدینہ جے۔
ین ری کی باگہد یک وج سے تجرید سے الکارکر دی گیا حر تل کے مشورہ سے
دو مر نی میں پچ اود اعلا نکیا کہ وہ لوگو ںکو 22 مدان کے اور گر روانہ
ہو گے نی
علامہ ان فکرامہتحخرت سعید جن میتق بن کے ھو انے سےککتے ہیں :
قد کان ابو سفیان یدخخل مسجد حخرت ابو سان نی شر ککی حالت میں “یر
المدینة وھو علی شرکە؟ وی میس جایاکرتے تے۔
حخرت شامہ بین ال نک می لگرقار ہو نو نجیس مد بی می ایک
سقون سے پاندہ کر درکھا گیا ( کہ فرار نہ ہوں ) رسول الوند چپ نے دیکھا عم دیاکہ
ر یکول دی جا اور نشی ںآ زادگچھوڑ دیا جائے۔آپ کے سن سلو کک اث ہوک دو
جن روڑ پھر وہ الام ےا ے۵2ے
وا نیل کے لے دچھی جاۓ :این ہشام سیرۃ الی: ۰۸/۳ ۹٣٥۔ا یس بیبھی ےک
تحت گیبرین وجب نے مہ جان ےکا اجازت ای۰ اکہ وہال ذگوت کا کا مکریییں۔ أھیں اںکی
اجازت دگائی۔ وہ مگ اورخالغتو ں کا ہخت مقالل ہکیا۔ ان کے ذر یج بببت سے الک اسلام لےآے۔
فو ان قراب إأخیْ: ٣٣۷/۱۳ سیل کے لیے ملاحظہ ہو:ابن ہشام سیر ای : 7٣۳ -۔
قرلی یک بدکہدک کا ذک رآ گےکدہا ہے جن سک وجہ سے ان کے غلاف جنگ بولی او کہ ہوا۔
سج این قراب خ:۳ /۷م٣ ۵ اں واقے یتقخیل کے لیے طلاحظہ ہو: بفارا کاب المغازیء
باب وفد بی یف و عدییت یت جن اثال۔
فرزقہ الله اللاسلامگ
اعت مسجد میں غیر مسلم کاداخلہ
ا ں کا بھی شبوت ملتا ےک غی رسلم فرد ہج یکونییںہ پیرے غی سم وذ دکوسچر
می سکم ہرایا گیا ے۔ الوداودکی ردایت ہے: ححضرت ععثان بن الد الائ بیا نکرتے ہیں
کہ فیل یٹ ف کا وفد رسول ارٹ نیل ھکی خدمت یں حاضر ہوا نے آپ نے اسے مجر ش
ہرایا اک (مسلمانوں کے طط ربق عبادتہ ا نکی اہشاعیت اورسیرت و اخلائ یکو دہےر)
اش کے ول نم پڑہیں۔ چناں چہ وفد کے لوک اسلام ل ےآ ئے۔آپ نے الن کے
ات رو میں شش احکام شرب تکی رعای تچھ یک ہتکن نما نکی پاپندی کاعم دبا
ااودادکی عراعل می ےک رسول ال مل ے ثقیف کے وفد کے یے مد
یس خی ںوہ جاکہ وو ملمانو ںکونماز پڑت دولھیں ۔آپ سے عو لکیامگکیا: اے اللہ
کے رسول ال پچ ! آپ یں مسر می کھہرا رہے ہیںہ ج بکہ دو مشرک ہیں (اور
0 ×اے) آپ نے فرمایا: زیت س نہیں ہوئی نجس تو ا نآ ہوتا ےک
خرت عثان بن ابو العائ کی دوایت کے یل بی علامہ خال ا کی ہیں:
و فی ھٰذا الحدیث من العلم ان ال حدیث میں دییل ہے اس با تک یک کافرکو
الکافر یجوز لہ دخول المسجد اگ رر می سکوئی عاجت ہو با“ لمانکی ال ے
لحاجة لەفیہ او للمسلم الید٣ػ کو عاجت ہوقو وہای میں اٹل ہوکتا ے۔
مر میں عرالت اور ان میں فی مس ل مکی عاضری
ایک ملہ ہمارے فقہاء کے پال میرزیہ پٹ دہ ےکڑل مقدمات کے لیے
عداات سپ میں تام ہیکت سے پانیں؟ اگر ہوتو اس میس خی مکی رک ت کا اعم ہے؟
امام شاف فراتے سک عداات میں مسلم اور خی مسم٠ پک اور پک سب
بی طرح کے لوک کے ہیںہ اس لے مسر میں عدال ت نیس ہولی چا ہے۔ مسجد اصلا
نے ابودائود تاب افخرا عء باب ماجاء فی خرالطا کک
زتعٹمی ,نصب الرلیہ: ٢٠/٢
2 خطالیء معالم إضن: ۳۵/۳
مسجد مین غیر سلم گاداَلة ے٢
عبادت کے لیے ہے۔ یراک کے ل مس ہہولی چاہبیے۔
احطاف کے نزدیک عدالت کے لے اش یکومسجد میں, کر سے جا مسچر
میں اکا اببیا عچلہ ٹھنا جابے جہاں آسالی سے لوک مقر بات نےکر یں اور
آھھیں اس می ںکوئی رکاوٹ نہ ہہو۔ می امام اح دی رائے ہے۔ ام مالک ک ےتلج
بھی ےک دہبھی ای کے وائل ہیں۔
احافکل 02 بی ےک قضاء ]شی شریعت کے مطاىی معالطا تکا فص ل/نا
خورعپارت سے اں یے مجر یس عداات تام مکی ہسے۔ چرم کہ دیسول الد کپ اور
غلفاۓ راشمدرین مس میس مقرما تکی ساعت فرماتے اور ٹیل ہکرتے تھ۔ ربا مساجد
می تام ان عداتوں یں مشمر ک کا چنا ىہ ناجائ ڑل ہے۔ اس لی ےک:
نجاسة المشرک فی اعتقادہ لآ سر کک خاست اس کےعقیدہ بس سے تہکہ
فی ظاھرمے ال کے ظاہرمیں۔
اس متملہ میں فقباء کے خیالات اد کا زرحیل سے شی ںکردیے گے
ہیں۔ زیادہ تر فقہاءھم می اور ان مس سے لتض حدودعرم میں خی رسسلم کے داخلہکو
اجچائز تقو رکرتے ہیں۔ ان کے نزدیک چو ںکہ ا کاکوئی جوازنپیس سے اس لیے ان
کے خیالات میس شد تھی ے۔ احناف ینف شرائا کے ساتھ اس میس قباح تنں
کھت ددسیی ساجد یش غی رس م کے دا کو ٹم ور اممت نے جائز قراردیا بے ووکفر
شر کو ناک سے ہیں ؛ یک نکاخر ومشٹر ککو نا پاک باخچ س نی تھبرا کہ اس کے
مجر مٹش دائل ہونے سے دہ ناپاک ہوجائ ۓےگی۔ ال سے یہ خی لکتا بے بیاد اور
معفیلہ خی معلوم ہوتا ےک اسلام خی رسلموں کے ساتج تحص ,نفرت: حارت اور عدم
ادا یکیتلیم دتاے۔ جب اں نے مر کے سلسلے میںء جومسلمانو ںکی عباو تگاہ
ہے يہ وسعت اورنال گی ہے فو سر سے باہر ای کے رکوھٹ می سکوئی دشواری
میں ہولی چاہے۔
تخیل کے لیے ملاظ ہو : ہدای القرر:۷۷,۴۷۵/۵٣
۴۴۸
۳- فی رسلم سے تحائ ف کا تادلہ
نے تھا کا جادل سح اورمعاشری زند یکا ایک خی گور تقاضا ہے اس
سے تاقا تکو ہر بڑانے میں رق ے۔لحض اوقات ال سے سیای فوائ بھی واصل
ہہ تے ہیں۔
رل ال کا شابا نتم سے ان کا چادلہ
اعادیث ہیں غی ملسو ںکو 2 بۓ اوران 9 نے قجو کر ےکا تو
موہور ہے۔ رسوگی خدا یچ کو خی لم سلائین اور پراہان نمللت پگ 2 22 کے اور
آپ نے قبول فرماہۓے یجس افقا تآپ نے خودکھی اآھھیں نے عزابیت کے
یہاں ا ںطے 22 واقعا کا زکرگیا جار ے۔
حضرتک فراۓے گیں:
ان کسریٰ امدیٰ لە فقبل و ان سرت (غا, ایان) نے آ پک ہدیہ ٹن لکیا:
لموک اعدوا لی ہیں سآ کک ا
ملمانو ںکو آ1 یں میں نے دی اود قو لکرن ےکی اعادیث مس بڑکی ترغیب سے اورخود
رسول اکر نے اس پیل ف مایا سے ۔تفعیل کے لے ملاحظہ ہو راقم کا مقالہتحائ فک سیا و
ساتی ایت مطبوص سہ مابی تحقیتقات اسسلانھی۔ جنوریی جا مار ۱۹۹۲ء
رزگ ء اواب ار ء باب باچاء ثٗ قول بدا اکشرکینں۔
غیر مسلم سے تحائف کا تبادله و۴
خر تج یک ایک اود روایت می کسرکی کے ساتحد قص رکا بھی ذکر ہے۔
اس کے الفاظ ہیں:
اہدیٰ کسری لپرسول اللہ ٹڈ سرکانے سول الپ دکد ہرییدیا۔آپ نے
7 کے ند تو لکیا نے دا پ کن یا
فقبل منە و اھدیٰ له قیصر فقبل منه
اور (دوسرے) باشاہوں نے 1 کر ہے
و اھدت لە الملوک فقبل ہنم دےآپ نے ول فراۓ۔
خزوۃ وک سنہ ۹ھ میں ہوا تھا۔ نخرت الوعحید سماعدرگن ال کے واقیات کے
ذگ یا نکرتے خی ںکہ الہ کے باہشاہانے رسول الل چچ کی خدمت میں بطورتجز
ایک سفید تچ بی کیا اور ایک چادر پہنائی رں نےآپ سے آاصالن تک اور بے ادا
کیا) آپ نے اس کے علاقہ پر ا ںکا قبضہ بائی رکھا؟
ےی مزا ے۰ اء عدیے نس ہے حقن اح رٹ رش زی اورمند دوفوں ب یکی روایوں مین
ایک داوکی نی بن ناخ ہے۔ اسے مین نے فکا ہے۔ لیک نآ ےکی روایات اور واقعات رے
می رسلسوں سے پدایا کے قو لکرن کا وت متا ے۔
کہ اللہ کے بارے م عافظ این رک ہیں:ایلة بلدۃ قدیمة بساحل البحر ہن الپارق: ٣٣۱/۳
(ابلہ سائل سندر پہ ایک تیم شبر ہے) نی گگعت ہیں: بلدة معروفة بساحل البحر فی طریق
المصریین ال مکاة وہی الان حراب۔ بن ی: ا۵ے (وہ ایک مروف شمرتھاء جومعمرییں ک ےک
جانے کے راست یل پڑت تھا۔ اب دہ دعران بد کا ہے )امام نووٹی نے بج زیادٹنصییل فراہ مکی ے۔
رات ہیں : ایل شام کےکنارے سرائل سمندر پیک وشر ہے جو مدینہمنورہہ شی او رمص ر کے
درمیان وان ہے۔ ینہ سے ال کا فاصلہ ا علیہ یش ے بادہمرائل اود رس ےآ یرم راتل
کا ہے۔ ابدعبید نے اسے شا مکا ایک ش کہا ہے۔ عائی اسے ایک ساصی شب کے ہیں ۔ لن لوکیں
ن کہا ہ ےک دہ جا زکا آخری اور شا مکا ایتائی حصہ ہے۔ نووگیء تفر یب الاماء واللفات: ٤۱۔ اللہ
کے بادشا ہکا نام عق بن رآ تھا۔ یہ الس نامہ سےبھی وا ہے جو رسول الل تہ نے اے عطا کیا
تھا۔ (این ہشام: ۹/۳ےا۔ نز لاحظہ ہو البارل:۵/۳٣-)
کا باری کےالفاظ ٹں واہدیٰ ملک ایلة لیت بفلة بیضاء و کساہ بردا و کتب لہ بیحرهم
(ککتاب ال89ء باب خی اق سلم کاب لفضائل٠ می طر سی
لک ابلہی مک رفردہ من نفاش اذا یآ یا ہے۔(کتاب الجہادہ باب غمزدۃ ین ) (باتی حاشآے
۰نا غیر مسلم سے تحائف کا تبادله
عخرت ال کی روایت س ےک اکیدد دوسلانے رسول اللر چک ایک رہ یکرتا
(بت حا شی چیلےصفیک) لان فروہ بن نفا کا واقہ ددرا سےا سک انیل 1ری ے۔ امام نووگی
فرماتے ہی ںک علاء ن ےککھا ےکہ رسول ادنگ کے استعال بیس ایک سفید نچ ر کے علادہ او دکوگی تر
ثتھا۔ اے ول لکہا چاتا ہے نم ج۳ 7ء ٣ا ص ۱۳۔ امام ندوئی ایک دوسرکی مک کت
ہی ںکہ ال حدبیث سےکاف رکا ہر تقو لکرن ےکا وت تا ہے۔ حدیٹ کے الفاظ سے پظاہربیرمعلوم
ہنا 29ت و جوولری کے نام سے مروف تھاء خمزء ویک میس یی ںکیا گیا۔ خمزوء وک 8 میں
ہوا تھاء ج بکہ مہ تج آپ کے استعالل بش اں سے بھی رہا۔ چاں چپ روابات سے ثاہت
ےکخزن ین یپ تے ا کا مار کی خزدغ تن ”شس ٹور تہ
ا بات پیگو لکیا جاسکتا ےک کک ایلہ نے می نر پیل کی بر یکیاتھاہنکن روک نے ال کا کر
تموک میں ا کی آھد کے سات ھکیا ہے۔ اس می ںکوئی زمالی ترحیبنمیں ہے۔ تقاضی عئس سے ہیں
کآ پک سواربیل ش دلرل کے اف اور چچ کا روایات مین وگرتیں سے۔ وی نظ نلم
مہ جزء ۵ارمص ۴٣٣۴۲ علامہ اہ نکی ن بھی آ پک سواریوں یس ای ایک تچ رکا ذک کیا ہے٠
سیر ت لوت : ٤/٢ اے جن احادیث سےمعلوم بونا ےک ہآپ نے اود تچ ربھی استعال سیے ہیں۔
متندرک حاکم میس حضرت عبد الد جن عال کا ردایت ہ ےک ہکس رکا ن ےآ پکو ایک تچ رہ کیا تھا۔
اس کے لیے بای سے جی ہہوئی ری آپ نے استعا لک ۔آپ سوار ہو اور جھے اپنے تیچیے بٹھا لیا۔
پےدلدل کے علاوہ ہے۔ ای طر کا جاتا ےک نجاٹی اور وم نر لل کے پاوشاہ نے بھی آ پک
ایک ایک پیش یے۔ دددل ا جک نام ہے جونقڑس نے دی حا کی نٹ ےکہاہ کہ نگ ین
میس آپ جس ٹچ ربرسوار تھے اسے فضہ یا شہبا کہا جاتا تھا ذتدزموزل ےط ا قد
اباری: ۳٣٣۷٣۳٣۵/۳ علامہ ان ُ نے پکی سوارییں ٹم چارتچچرو کا ذک کیا ہے۔فراے
ہیں :کہا جا ےکہان کے علادہ ایک نچ رخھاشی نے بھی ہی یکیا تھا۔ زاد العاد:ا / ۱۳٣۳
123 اکیرر بمئ عبد الیک اکندی: یدوم ہکا پادشاہ تھا لوگوں 228 ےکہ وومسلمان ہوگیا تھا۔
نین علامہ ابن ایر نے ا لک تردیدگی رفاک ہی ںکہ اش حاب ىیرت کے پان یڈ می سکوئی
اختلافنچیں ےکہ اس نے رسول الپ کو ہرم کھیاہآپ سے کی :لین اسلا مکی لایا۔ دہ
نصرانی تھا رسول اول پچ سے مصالعت کے بد وہ وائیں ہوا اور اپ نے قلعہ یس رہ حفرت اوک کے
عہرخلافت می نظرت الد نے دوم کا محاص رہکیاء اکس سے کو انا اگیا۔ بلاذد کا یان
ے کہ وہ رسول الچ ھکی خرمت میس حاضرہوانق اسلام نے انان بعد یس مریھ ہوگیا اود جو (زکو)
د کرت تھا ایل کے دینے سے اکا کر دیا۔ اکر ال با تکو ما نبھی لیا جا تو بہہرحال (باقی گے مفہ پہ)
غیر مسلم سے تحائف کا تبادله لا
لور پر کیا تھا۔ لیک اس تب سے د یھ کے آپ نے فراعم سے اس ذات
گی جس کے پاتھ میس مم (عك )کی جان ےہ جنت مس سعد بن معاڈ کے روما ای
سےعدہ ہیں
صخرت ملف مات ہی ںکہ اکیدد دومہ نے می پچ کو ایک رش جوڑا تہ میں
یا۔ بآپ نے یھ عطا فرایا۔ ٹیش نے اس ےگھ کی خواتین می نی مکر دای
ابع ال بر امم اور زار نے نضرت 21 ے روای تک ہے نے
ول ال یپ کونم ئن“ (شھہ ریت مکی ایک یز جوشخخم کے تع ہونے سے ختی سے ) کا
ای کگھڑا تہ یش مہا ۔آپ نے قول فربایا اودرسحا کے ورمیانئتی کیا
رسول اکرم پچ نے ٦ھ یں رت حاطب بین ای بلتع کو اسکندریے (مصر)
کے عائم موس کے اس اسلام کے پپغام کے ساتحکھییا۔ اس نے حضرت عاط بکو
(اقیہ حاشی پیچلے فک ایک مرکا شا رسحابہ مم سنییس ہوگا (اسد الخ : ۰ /۴۵) این شا مکی روایت
ےک ہحفرت خلڈ اس ےگرخا رک کے لاتے تھء رسول الل پچ نے اسے معاف فرمایاہ جز ےکی یاد پہ
سن کی اود راک دیا۔ (تفیل کے لے بھی جاے سیرۃ این بشام: ۰ )یک روایت ے
معلوم ہوتا س ےکہ دہ جب رسول اللہ ہچ ھکی خدمت میس بہیا ایک ریب وہس پر ون کا کام تھا
یت یکا ۔آپ نے اسےلوٹا دیا۔ مین بل رآپ نے مناس بننی مھا تق کہاکہ اسے رت عمڑ
کے جوال۔ہکردو۔ بخ الباریق:۵ / ۳٣۱
تف کہ شر؛ سے دومیۃ ابنعد لپچ گکہا جاتا ےہ ہی جماز اود شام کے درمیان وک کے قریب واتح
ہے۔ عینہ سے ال کا فاصلہ تیرہ اور شقن سے ہیں مات کا ہے ۔کوفہ سے ھی تقر یبا دیں مرا لکی
در ے۔ یہا ںنمجور کے باجات تے اوراتی ہوڈی تمہ چٹ ےکم تہ اذنٹیوں کے ذربیے اب پا
ہو تی, زیانوچھآوا رن نآ یہاں ایک قل بھی تھا (نوویء شرح مسمء جلد۵ء جزء ۱۳ء
صص٭۵۔ این تجرہ من امباری: ٣۳۱/۵
ا بارگیء کتاب الهبةہ باب قبول الھدیة من المشرکین۔
جم مل مءتتاب لاہ با بن ریم اہب دال یی لال و ابا للضاء
من یع لقاری:١ / ۳ے
۳ غیر مسلم سے تحائف کا تبادله
درہار ٹل لایا ارآ پکی رسالت کے پارے میں سوا لکیا۔ جظرت عاطب کے جواب
سے میں ول کہ کیم ایک دانا آ دی ہو اور ایک و نخصض 2 اکا ےآ ئے ہہو۔ اں
نے حطرت حاطبے کے ذریجہ رسول الل یچ کو بیھ ہدایا کے ان ٹیل دو باندیا گی
یں با حضرت حاط بے سنہسے ح میس رسول اللہ ہچ ھکی خدمت مس پیچیےت حرت مار یگ
آپ نے اپ یت شس نے لیا۔انع سے ذکی یہ ۸ھ مل آپ کے صاحب زادے
ابرائیم درا ہوئے ۔آپ نے سائذیں دن ا ن کا عخقیق کیا۔س رکے بای اترداۓ اور اں
کے وز نکی چچاند یکا صد ہکیا۔ اشھارہ ماہ بعد حخرت ابرائی کا اتال ہیا
خرت مارییکی وفات عہد فاردثی یل سنہ ٦ات بیس ہہوئی۔حخرت عڑنے ان
کے انتظا لک اعلان ف رمیا اورخودنماز جنازہ بڑھائی اور شع میں ت فی ن کل میں آکی یی
مس نے ان کے علادہ جو ہر مھا وہ ہے تھے:
ایک برار مختقال سنہ ٹیں عددملائمبپٹڑےه ایک تچ رین کا نام ولدل تھات
ا حیرت _ادو لکا ال پی انقاقی ہ ےکہ دوسرکی باندی ہخرت مارم ہکا بن سی رم نکتھیں۔ بے جقرت
حسان بن خاب تکو عطا ک یگنکیں۔ ان کےلڑ کے عمبد ان ان ھی سے تھے. (طبری: ۲۱/۳ء این عبد
الہرہ الاستیعاب فی اساء الاصحاب: )۴٣۳-٣ ۱٣/۴ این ایر نے ایک اور باندی کا بھی دک رکیا سے جو
آپ نے الم بن طذ یگ ڑخنابی کی (اسد الاہۃ :۳۱ / ۴۳ء )۴۳٣ واقری اور اشنم کے بقول
متس نے جار باندیا ںکجوائ یتھیں۔ (اسد الخلبۃ: ے /۲۷۱۔ ای نکر لسر خوی: )٦٠٠/ ٣
:2 ان ارہ اسدالقی::ا / ٣۹
نی رن عبد البرہ الاستیعاب فی اساء الا حاب: ۳ /۱۰- ۳
دلدل کے بارے می این ایر لھا ےک رسول اکرم یچ ھکی وفات کے بعر حر تک سے
عواریی کے لے استعا لکرتے تے۔ پھر بیححضرت صس اود ان کے بعد امام مین اود ان دونوں کے
بجر بن (تفیہ کے استعال یں رہل اسد القاب* ا ے ۳ اس طر دہ طو بی عرص کک زندہ رہا۔ مھ
بن اتحفیہ اس ےگمیہوں ٹیی ںکرکھا کرت تھے۔ ای نکجیر لسر تچ الو یی ۷۶/٣: طبری نے حفی رکا
وگ رکیا ے ولدی کے بارے میں صرف 7 ےکہ وو ضرت معاوبیہ کے زمان کیک تھا۔
طبری مار زرل واملول: ۳| ء١
غیر مسلم سے تحائف کا تبادله سی
ای کگمدھا سے عفیر با یعفو رکہا جاا تھا اود مابور نا ئی ایک خلا مکوہ جوحضرت مارمیکا با زاد
بھائی تما مس نے دوفوں باند یں کے سات با تمہ کہ وہ یں حفاظت کے ساتقھ
چیا ےک
بزارکی ایک روابیت میس ےک مس نے رسول الل پچ ہکو خیش ہکا پیل
فرح قواریے نذرکیا تھا۔ اس ےآپ پیے کے لے استعال فرماتے تھے
طبرالی میں حضرت عائن کی روایت ےک مس نے رسول اوڈ ریچ ھکوکڑی
کیا شائی سرمہ دای :ینہ او ھی تج میں دئ یی ںی
ہہ بات وا یل ہ ےکہ بیرسادئ زی رت عاطب جی کے ذربی ہیں
ا کل اور ذر لی ھی تھا۔
ول الل مپ کے اخراجا تکالشم رت بلا جکیارتے تے۔ فرماتے ہیں :
وت ضرورت میں ال کے لیے قر ل ارتا تھا۔ ایک مرجبہ ایک مشٹرک نے ی یکن کی
کرت بج سےقرش نے لمیاکردہ جس بہآساٹی دےسکتا ہویں۔ چناں چہ ٹس نے اں
ےرس لیا اک ون ال نے تھے د یکا کا٠ وعدہ ادا ہونے میں صف چار
ون رہ گئ ہیں۔ اگر وقت 7 نے قری ادا نکیا ف پچ رجکریاں تچ انے میں اگادو ںگا۔
نے رسول الل کل سے اس کا ذک ریا نے آپ نے فرمایا: جال فلاں قبانل سے جھ
مان ہ گے ہیں ڑل ےک اسے اداگکروؤ۔ بی نم سورے اس مقصید سے لکن ےکا
اداد ہدک بی رہا تھاکہ ایک٢ آیا او رکہاکہ رسول الچ یں طط بک رے یی
یس حاضر ہوا تق آپ نے فرمایا: خوش ہہوجا2۔ ہار اونطیاںہ جوم دید رس ہواور جوخلہ
لے لود ریت کر اسلام لٹ ےآیا۔ این تہ الاصات تی اصحات: ۴ / "۰ ۴ء۰۵ ۴۔ اس کےگردار
کے بارے میس شیک وش کا اظہار ہواء جو غلط غابت ہوا۔ طبرکیء جار الرکل والوک: ٢/۲ے۱-
اہن عبد الب الاستعاب: ۷ /۴۱۰-٣۱۳م
۲ ینیع القارگ:/ ہے
حوالیسابی
۵۳٢ غیر مسلم سے تحائف کا تبادله
اد پڑے سے لد ہوئی ہیں نرک کےعم راں نے بے لطور پریکجتوائی یں باں ے
تم پر جوقرل ہےه اسے اداکر کت ہو۔ چناں چہ ٹس نے اس ےآ پکا رض اداکیا۔
جھ مال پےمگیاءف ماک سے سخحقین ین یکر ای سے ججھے راحت ل گی لان
رات ہوئیء نأ یم نہ ہوسکا تق آپ نے مسحید ہی میس قام ف مایا۔ اس نیم ہونے کے
بح دآپ مکان میں تخریف نے ےت
حضرت ا کی ردایت ےک ملک ذکی بن نے رسول ال قد ایک علّہ
سا فیک ایک دی ستیتھی۔ اس می شنفلستان اور پل ۷ چم تھا۔ مرینہ سے جین مرا لکی دورگا پ
ھا (یہاں جس واقعکا ذکر ہے دہ فر کک ہے سے ہکا ہے ) خی رکی کے بعد ال فرک نے
رہول الل رپپ سے اس شرطا کر کہ دہ اسے بیو ڑکر لے جانیں گے۔ اس طرع بی ینید نگ
کے ہولیا۔ ىہ ما نے کے حصہ کے طود پر رسول الل پچ کے پا دم ای سےآپ اپنے ال و
عیا لکی ضردریات پور یکرتے اور سابگی ککاموں میس صرف فرماتے۔ رسول اکرم کل کے انال کے
بعر رت ڈاط مر نے حضرت ابویک ےآ پکی وراخ ت کا مطالہ کیا انھوں نے آ کا ہہ ارشاد یاد
دلابا:لً نورٹ مات ر کنا صداقة (ہماراکوئی وار نیل ہوتا: ہم جھ جح کچھوڑ جائیں وو صدقہ ہوگا)ء ابد
رسول ال کن جن افرادکا خرج برداشتہمرتے تے ان پر جبیت المال سے خر تا رےگا۔خخرت
عڑ کے دور میں بھی حضرت عباءئ نے بی متلہ پچیرا۔ خرت خرن ےبھی تی جواب دیا جو ضرت
اوک نے دیا تھا۔ حعدی کی کنابوں می ں تخل سے ال کا ذکر ہے۔ مطاحظہ ہو۔ بفارکی مکتاب فرش
سء بب فی ٹس تاب المغازہ باب خزوقۃ ترسم کاب اہاد واسیر ہ باب عم الی۔
الوداود کاب افخراعء باب فی صفایا رسول ایڈنن الاموالی۔ ا ںکی می رتخعیلات اور شیع رات
ے لہ نظر اور ہک یکم زوری کے سے ویچھی جا ہن الباری: ۹-۱۹۸/۷١۲۔ ای نکر
ابر النوی:م/۸-۵۷۷ء۵
الوداا تاپ اع پاب فی الامام یقبل ھدای المشرکین۔
ا ہیں مس ےکہ بزن ( بن میں ) ایک وادئ یکا نام ہے۔ ذو بیزن فیلقی رکا ایک بادشاہتھا-
اس نے اس دواد یکوگی کر بج نکیا تھاء اس لیے اسے ذو یز نکہا جاجا ہے (مادہ کیء زہ نع ) ابن منظور
کے ہی ںکہ ذو بن قیلیقی رکا ایک بادشاہ تھا۔ ا لکی طرف موب نیزے راع ینعی کی جاتے
ہیں۔ ال ےک ای نکی کے ابقول ای نے سب سے چپ یہ نوزے تیار سے تھے ۔ (لسان الربہ ماد کی ومن )۔
غیر مسلم سے تحائف کا تبادله ۵
(جوڑا) کی سوضزا کی جال نے میں اوف کے بدلہ خر یدا تھا آپ نے مہ چھڑا قول
فرپ
اسحاقی بین عبد الش جن حارث بیا نکر تے ہی ںکہ حول الد ہل نے یں سے
زیادہاونوں کم ایک جوڑاخھ بدا اور ذی بیز نکوتفہ میس جیا
حضرت کی فراۓ ہی کش ے رسول اللہ ین ھکوصوف کا کرتا اور
موز ےتفہ میں دے۔آپ نے وہ استتعمال فمرماائۓء یہاں ٠ ککہ وہ پٹ گے ۔آپ
نے پیل ددیافت فربایاکہموزے ذجچہ جانور کے تے بانیںئ
رسول اکرم پچ کے پاس جون۰واری میں ان می سای ککا نام ذو التقار تھای
طبرانی میں حضرت عمبد اد بن عبا کیا ردایت ہ ےک ان بن علاط نے ےآ پکو ہے
میس بی کی2
رت ابوسعید خدر کا ان ےک شاد ددم نے رسول الل کو وی کا گھڑا
رٹ ہا ا آپ نے صحابہ کے درمیا ن تس فرماپ ا
ابوداود تاب للل بس٤ جاب ٹیس الف اس کے داوی عمارہ جن زاذان ہکن ایگ محدٗین نے
جر کا ہے۔ مولامپئشٹس ان ءخون امجور: ۳/:ے
ااوداود تاب اللاٴ جاب یس الع ۔ ریہ ردابیت ھکل ہے ال کا ایک داوکیعگی بن زی بن
جرعان نا قائل اتقانح ہے ۔ عون مجور: ۹۴ے
حطرت دجری مشو رسای ہیں۔ ردایت می لآ جا ےکہ جم نت اوقات ا نکی صورت ٹیل
رسول ارلد کپ کی غدمت میں حاضر ہوتۓے تھے۔ آپ نے یں سنہ اھ میں قص رے پا مرک
حیقیت سے ردان فر مایا (اسد الفلب* پی مرف اصحلت ۵۸/۴۰) ضس واق کا او پر ڈک گیا گیا ہے وہہ جھسا
کہ علام گی ن ےکہا ہے ان کے اسلام لاے ےکم لکا ہے۔(عۃ التارگ:۱ / ۴ۓ)
7 ابع اشزء اسد القاب: :ا /ے ٣
۵ے این عدکی نے ال روای تکوعیف قرار دیا ہے: صینیء عھرۃ القاری: ا۱ ے۔ این سعد اورطریی کا
یان ےکہ بینگوار مغیہ بن اجواع کیتھی- جنگ بدرٹش یآ پکو ما لفکمت می لک ۔ ری ٥ت
ال الو ک بش مر رواپضل پرج: : “ال مےےا۔علامہابن تیم کے بین سے اک کی تاد ہولی
ے۔ زادالمحاد: ا / ٣۱۴ب نی ءعحدۃ القارلٰ:١/ ہے
ام غیر مسلم سے تحائف کا تبادله
جائی سے بارے شس ددابیت ہےکہ ال نے رسول ال پچ ھکو ایک تچ ریہ
یس دیا تھاء ےآ پ سواری کے لے استعال ف مات تب
خرت جا کی ردایت ےک نجاشی نے رسول الل یکاخ وص (خالیہ )کی
شیشی بطورسوخزا تک تھی۔ اس طرح کا عط می مرتب ہآ پکواس کے ذر بی ماب
ببہودیی عحورت 1 بحکوت قمول 71
اوپرشن وافوا تکا ذک کیا گیا ےن کاتلق میں وسلاان سے ہے۔ ا ںکا
بھی شھوت ہ کہ رسول اش یچ نے ایک ای خی سکم خانون کا پر قجول فر مایا جس کا
تن ون قوم سے تھا اورجٹس نے خودچھی انائی فلوم اود نا پاک ارادہ سے یہ پری تی
گیا تھا۔ داقعہ ہہ ےکہ جنگ خر کے بعد جب عالات پرسکون ہوگئے نے مشہور بیو دی
لام بن ام کیا بیوگی ز ینب بنت الھارث نے لوگویں سے ددیاف کیا کہ رسول ار پک
کوبکری کےکوشت کا کون سا حصہ پیند ہے؟ اسے نایا گیا ک ہآپ بازہ ین دکرتے
ہیں۔ ال ن ےگوشتکمونا اور ال مل زہرملا دیا اور پازو وا لے ح صکوزیادہ زہ رآ لودگر دیا
ارآ پکی خدمت بیس شی یکر دیا ۔آپ نے تیسے می بھنا ہوا بازو ھا فور تھوک دیاء
اسے نشکیس فرمایا ادرسحا ہکرام س ےکہا کہ یہ ڑکا سے بنا دی ےک اس میس زہرملا
ہوا ہے اذا سے مم تکھا 5 آآپ 052 شر بن براء بن مرو نے ججولق لیا
تھا اسے دہکھا گئے۔ چناں چہ ای سے ا نکی صوت وا یئ ۔ آپ نے بیو دکو تی
کر کے اس حرکت کے پارے میں سوا لکیا نے آکھوں نے ا ںکا اخترا فکیا۔ اس بہودگی
عورت سے ال مرک تک وجہ ہی گگئی قے ای ن ےکہالک ہآپ جات ہی نک آپ نے
علام مینی کے ہی ںکہنجاشی اسلام لاچکا تھ۔۔ اس ٹل بیصراح ت نیل ےکہ یہ واقر اس کے اسلام
لانے ےت کا ہے یا بعدکا۔ ایک اود امکا نیبھی ہے وہ کہ شاب یش یکا قب ماش یب اکر تھا۔
ہکا سے اس سے ووضیاشی مراد ہو جو اسلا مکی دوات سے ببرہ یا نیس ہوا۔عرۃ القاریی :ا گر کے
غیر مسلم سے تحائف کا تبادله ے۵
ری قوم پر دکاعری حاص٥ لکی ہے اود اسے مغلو بکیا ے۔ میں نے سوا ک گر
تین پاقشاہ نوں گے( ے موی راحرٹ گی لیکن اگ رخ رہوں کے
ا لکا آ پکوجرہوجائ ےگیا۔ دیےے اں ذ رکا ان آپ پرہا۔ میٹ الموت مم آپ
نے ا کا ذکرفرمایا۔ ال کے باوجود این بشا مکا ان ہےکہ نیع نے اسے ماف
ر..
الع واقعات کے برغلاف دہ اہک روایات سے معلوم ہوتا ےک رسول انل جک
نے غی رس مکاتحفہ با ہد یتقو لكرنے سے الکارف مایا ے۔
حخرت عیائش من کیچ ہیںکہ میس نے قول اسلام سےکل ول ال پک
گی خدمت شی ایک اوٹف لعلور ہی شی کیا ۔آپ نے دریافت مایا کیاتم الام لے
آۓ ہوا یس نےگھی مل جاب دیا۔آپ نے فربا: انی نھیت عن زبد المشر کین
( یھ من کین کے خحطیات قجو لکمرنے سے کر دیاگیا )2“
حعضرت عام رمین الک تجں طاعب ا چاتا ےکا روایت ےگوہ
رسول اللہ پٹ کی خدمت مل حاضر ہو او رآ پکو ہدی جن کیا ۔آپ نے فرمایا: ٹل
کی مرک ,7-1
ال حدیث می سند کے لحاظ سے پھ سم ہےہ یکن جحخرت عیاش بن حمارکی
عنھم؟ این ہشام سیرت الی: ۸۹/۳ ۳۹۰۰۳ روایات سے معلوم ہوتا ہ ےک بش بن براء جن مرو
کے انال کے بعد ان کے رشتہ داروں نے قصائش یں اسےف لک دیا۔ خےالباری:ے /۹ء ٣
٢ ادا ہکتاب فراع ہاب فی الامام یقبل ھدایا امش رکین۔ ت خگیء ا؛واب ایر ہاب
اج فی قبول بدا امشرکین۔
٣ عافظ این جرف رماتے ہیں : اخرجہ موک بن حقیۃ ٹپ الممغازکی.... رجالہ ثحات الا ان مرگل وت وصل
من اہک دلاش۔ ہن ابرق:ھ ٣۳۰٣/
۸ غیر مسلم سے تحائف کا تبادله
روایت سن سے شابت ہے۔ اوپر کے واقیات اور ال حدریث جیل جو تشادسا مموں
ہوا ہے اس ایک پھلووں سے دوک رن ےک یکیشن شک یکئی ہے:
ایک بات یگ یگئی ےکجن اعادیت سے غی رمسلموں تقو لکر نے
کا وت کت ےہ یں دہ 22 سے جس سے ال لکی حمافعت خاہت
ہوئی ے۔
جس سے یں ہج کہا گیا ےکہ جو احادیث جا زکا شموت فراہم کر ہیں
دہ زا ہیں اورجن سے عدم جوا زکا اظہار ہور اس وومفسوخ ہیں-
دووں بای ہجرد وٹ کی حیشیت ربعتی ہیں ۔ک یع مکو نا اشن کے لیے سے
اب تکرنا ہوگاک ووضوخگم 2 بعر دیاگیا ے اور یہاں یناہ تل ہے۔
مض حفریت ن ےکہا ےک یسل مکا ہد قیو لکن ےکی رسول اللہ ہدک
اباز تنا گا دوسر ےکو ا ںکی اجاز تال ے۔ یآ پگا زات کے سات مخصوں
ےلین خی سک یکوئی معقول وج نہیں ے۔ مر کھج یں
خابت نہ وآ پکا نٹ کے ا ہے
نام خظالی کے ہی ںکہ حدیث می مشرلین کے پیا قو لکرن ےکی ممانت
ے اور ہے ثابت ےک بی مک نے مجاشٹی کا ہر ول فرایا۔ ان دول میس تضاوئ٠یں
ہے۔ اس ےک نشی فھرالی تھا شربیت نے اض اعکام میس ائل کراب اودمشرکین
کے درمیان فر کیا ہے۔ ران بی ٹیش سے سے
ں کا مطلب ہہ ہ ےک ا کاب کے ہدیا تھ قبول سے جاستے ہیں ؛ین
مرن کے پدایا قو لکرن ےک اجاز ت نیل ہے ىہ بات ال یے جج نہیں ےک
ادبہ کے واقعات صاف بتاتے ہی ںکہآپ نے مش کین کے پدایا بھی قجول فرماۓ ہیں۔
اں معاللہرش چم را یہ سے اود ہی جمپو کی رائۓے ےک رسول اکرم چک
07 لی : موا م إٰن: ٣١/۳
غیر مسلم سے تحائف کا تبادله ۹
کے یی نظ راسلام اورمسلمانوں کا مفاد رہا ے ۔آپ نے مجن لوکیں کے پارے میں
دیکھاکہ ان کے ہایا خ و یکر نے سے ا نکی تالیف لب ۳ اور وہ اعلا مکی طرف
انل ہیں گے ان کے ہر بے تقجول فرمائۓے اور یں جوا ہر لے اور نے بھی دیپے ملین
جہاں ا طر کی مصصلح ت نی لع دا لآپ نے ہدیے ردیھ گکرد پل
منلہکیتفصبیل کے لے ملاحظہ ہوفو وی ؛ شرع مصسلمء رج ۳ء ج ۱۲ء ۱۱۴۔ نے الباری:ھ /۲۳۱
۸.1
۴ فی رس مکی شہادت
ملانوں کے مواملات میں خی رس مکواہی دے کت ہیں پا نیس ؟ کی ا نک
گواہی ہرطرح کے معاملات میں قو لک جات ۓےگی یا صرف طض مواللات ٹیں؟ جن
امو می ا نک یگوای قبو لکی جال گی و ہکا ہیں؟ کیا ہرعال میس ا نکی گواتی قو کی
جا ۓےگی یا نف تفص عالات بی میس دہ تقابل قول ہوگی؟ ان سواا کا خی رمسلموں
کے ساتحمسلرانوں کے معاعلات اور ا سے تعلقات سےگہرا تھی ہے۔ اس لیے
یہاں ان سوالات بی ق نیل سے پک کیٹ کی جال ۓےگا۔
سفرمیں وی تکاگم
قرآن یمیس ایک خائص میں منظط میں غی رسلسو ںکی شبہاد ت کا ذکر ے۔
ارادے:
لھا الَِّیْنَ آمَنُوْٰا شَهَادَة بَييَكُم اِذًا اے ایھان والوا جب تم جس سےس یکوموت
حَضَرَاَحَدَکُمْ المَوْث جِیْن الْوَصِبَة آے اور وہ وییس تکرے و اپنوں میں ے دومج م
قہ یہ ےی سی ماققی زومر وا دیو ںکوگواہ بیاۓ اور اگرتم میں ہو اور
اک نا غاق جک ا ا1ا ہے لوان جوا
رہ تو ضرا سی شی بنا کع ہوں اگ ہی ںگواہوں کے پارے مں
َمَانْكُمْ مُا ة اوت تَخِسُونهُمَا شبہ ہوجاے و تم ا نکونماز کے بح رواوہ خدا
بن بَعْدٍ الصّلوة فَیْقُِٰنٍ الله ان کیاش مک ھک رکہیں مگ ےک ہم ا کے بدلہ سکوئی
غیر مسلم کی شھادت
اْنَيْكُم لَ نَْمَرِیْ بم تعن وَلوْ کان دا
قُہٰی وَلَ ىك خَهَافَة الله انا بِ٥ٍَ
الِينَہ فان غیزَ لی اما
ِنّ الّدِيَ اَی عَلَيْهِمْ الَولينِ
فیس باللہ لَفَهَادََا اَحَق مِنْ
شَهَادَيَهِمَا و ما اغَتَدَيا انا إِذّا لِنَ
الظِْمیْنَہ لک آڈنی آَن يَانُوا
بالقّهَاَة لی َجُھھَ او َعَقُوْا ا
ال
ای فدہ نیس اٹھا رہے ہیں خواہ مارا کوئی
رت داد بی کیوں نہ ہو اور نہ ہم ال دک یگواہ یکو
چھپا رہے ہیں ۔اگر ہم نے ایا کیا تق گناہ گار
یں گے پچ راکر پت پل جال جک النع دفول
نے ( یق تکو چھ پک ) گناہ کا ارتا بکیا ے
ان ا پل دوگواوه پت سے سپ سے
زیادہ قریب ہیں اود جن کا جن مارا گیا ےہ
کھڑے ہوں کے اود ال کی مکھاٗمیی ےہ
ہثاریگواہی ال یک یگواہی کے ماب مل زیادہ
یا ہے۔ ہم نےکوئی زیادنی خی سکی ے ورنہ
پھم ظا ہیں گے۔ ا رح فوع ےک لیک
شہادت ت7 طریقہ سے ادا کی یا ال بات
رذ لَيَمَانٌ' بَهَة اَبَمَايَِهم وَاٹمُرا الله
7 صو لق سے ڈدی یکہ ا نکی میں دوسری قیموں کے
و اسْمَعُوْا و الله لإَ يَهُدِی الْقَوْمَ مان :ارت ٹوا ات نف
الْفْسِقِیْنَہ (المائئدۃ: )۱۰۸-۱۰۹ اللد فاتو لکی ہدای تن کھتا۔
ان آیات شش جوم بیان ہوا ے ال کا خلاصہ یہ ےک ہ اگ رکوئی ران
حاات سفرمیس وہ ای حاات ٹیل ال کا آخری وق تن سے اور دہ اپنے مال دو اسباب
701 اہ و اپنے میس سے دو عادل افرادکو یا خبروں یل ے وو
کو اپئی دیت پرگواہ ہنا دے۔(اس پر وی تکرنے وانے کے ور ءکو احتراش نہ ہوتز
یت نافز ہوجا ۓگ ) لین اگم ھی ںگواہوں کے بیان پراختاد نہ ہو گوا وش مکھامیں
ک ےکا نکا با نک ہے ای دیدگی مفاد کے لیے انھوں نے خلط بالیس ےکا نیس لیا
ہے (اس ل ےک ش راج ت کا اصول ہ ےکہ مد یکو دلیل فراہ مک ری ہول سے اور وہ ول
فراہم نکر کے ت مدعا علیہ ےش فی جال ہے۔ یہاں ددثا کی حثیت ھک اود
گواہو ںکی مدع علیہکی ہے) لیکن اکر درثاء ی ڈو یکری یک ہگواہول کے پال دحیت
کرنے وا ےکی فلاں پچ موجود ے او رگواہ بت کن اک سے رید گی نے
۷١۳ غیر مسلم کی شھادت
(ؤاپ گواہہو کی حثیت مگ یکا ہہوجاۓ 71 اورآھیں ان یدار فکا حبوت فرابم کنا
ہوگاء اگر بنموت فراہم نکر کے) و دوقریب تر یی ورثاء ےکہا چان ۓ گا کہ دہ ا
وی یت مکھامیں۔ اس کے بعد اس کا ان کین میس فیصلہ ہو جا نے گال
گیا خی مل مکواہ ہوسکا ست
انآ بات سےمتلق مفسرین نے بہت سے سوالات چچجیٹرے ہیں :
وعیت پر جولو کگواہ بناۓ جانمیں کے ان کے تلق فرایا: ان ذُوَا غڈلِ
نگم و احرَان مِنْ غَيْرَكُمْ (دو عاو یگوا ہتھارے اندر کے ہوں ا نے
خیروں میں ے)۔
اس مرک ایک مم بے با نگیا گیا ےک گوا ھا ر ےگ اور ماندان 22
لگ ہوں۔ اکر دہ نز ہوں ٹذ انان کے پاہ ر کے لو کگواۃ بائے جانلیں رت کر
اکن سی رن اود امام ز ہرک وغیبر ہی بھی رائۓ ہے۔حضر تن لصریی فرماتے ہیں :
انان ذو عدل منکم ای من دہ عابل گاہ ہوں تم می سے من ضیت
حر دع مدع ہی کل رع
من غیر عشیرته یر )ہرے۔
ان فرا تک را ہہ ےک گواہ چاسے اندان کے ہہوں با خاندان سے
اہ رک ووسب مسلمان ہہوں گے۔ یسل مک وگواہکڑیں بنایا جاسکتا
بعد کےمفسرین میں زشش ر بھی ای کے قائل ہیں۔ کے ہی ںکہ خاندان کے
لیک جعیی تکرنے وانے کے حالمات اور وعیمت کے میں منظر سے ہن رطور بروائف اور
اس کے تر خواہ ہوتے ہیںہ اس لیے یں تزپی دی یگئی: این ا نکی عدم موجودگی شش
0 اص امام القرآن: ٦۰٢:۷۰۱/۲
طبریہ جائ البیا گن ماوی لآ القرآن:۱ ۱۷۸-۱۷٦١/
غیر مسلم کی شھادت سن
ووسرو ںکوگواہ بنایا جاسکتا کت
یی راۓ علآمہ الو امسحو دک یبھی ہت
مان علامہ ااوبکر جصائصس کت ٹی کان آیات کے آگے تیچئیے خاندان اور
قٍي ل٤ /ِلٰ ڈین ہے اس لیے وہ مراونییس ہوسکنا بے
کیا صرف ائ کت بک یگواری مج ے؟
حضرت عبد ال جن حا عطرت ابو موی اشعر, سعیر بین یق بء قاضی
رم ان کی ریہ امام اوزائیء رق اور انام سا رات بے او احرَان من
مم کے الفاظ بیہاں ال لکتاب کے لیے ہیں۔ ان کے نذدیک سفرمی وصی تک
نذبتآ جاے اورمسلمان مموججود نہ نہوں لو ال لاب 00 سواہ بنایا جاسکتا ا
ا کی تائ ال روایت ے ہولیٰ ہے جو اس کے شائن خزول میں آلی کے
ححضرت عبد اد جن عبا کی ددایت ہےکہ فی کم کے ایک صاحب جھ
ملمان تھے (ج نک نام بدیل کیل بتا یا گیا ہے یم داربی (ج اس وقت نھرالی سے )
اورعدری بن برا کے ساتھھسفر پر گئ۔ ا سفمرمی ا ن کا ایک ای تہ اتال ہوگیاجہاں
کوئی مسلمان نہ تھا۔ اتقال ے پل انھوں ےے اپنا سمامان الن دو اشخائص کے جوا ےکر
دیا او کہا کہ اسے ان کےگھروالو ںکو پپیاویں۔ حر تیم کت ہک برنخخی کک
مرنے کے بعد ہم نے ا کا یج سامان رک لیا۔ ال سان کا ایک پیال ہبھی تھاء
جس پرسونے ک ےئش داد تے۔ برا لکا سب سے نی سامان تھا۔ اسے |ھم نے ایک
ا زشفرکی: اخافعن ال لت ز ل:۱ /۵۰×
سو شا عم لی منااکتاب اگری خی پش ارو: ۰۶/٣
ع۴ کصاض, اجام الترآن:٢/ے٥۵۹
این مجر الباریی: ۵/ ۳۳۔ ان جس سے عحابہ و جالشن کا رایوں کے لے ہکھی جاے۔
طبر ہتقی :۱۹۰/۱۱ اور گے کےصفات
فنلظ غیر مسلم کی شھادت
زار ور ہم میں فروش کیا اودرنم آ لیس می ںی مکرلی۔ باقی سان دی کے رشتدداروں
کے جوا ل ےکر دیا۔ اتھوں نے اس میس دونشقی پیالہ نہ دیکھا بدیل اپنے ساتھ ل گیا
تھا۔ ایک ددایت س ےک دہ سامانء جھ اس نے ان دفوں کے جوا ل ےکیا تھاء ا کی
ذہرست ائی سامان یش موجودشی۔ سامان ال کے مطا یی تھاء اس یس دہ پل ہگگا
اب تھا۔ رسول الپ کی خدمت میں مقدمہ شی ہوا فو ىہ یات نازل ہوئیں تیم
اور عدئی سے چپ ۷ی ددیاف تگیا گیا و آنھوں نے مکھاکھ اپ ناواقیت
اہرکردی :لیکن جلد تی سہ پیال کہ می ایاکینن کے پاش دیکھا گیا
رت ابو موی اشعر یک یگودنری کے زمان کی بات ےک ایک مسلمان ووقہ
(ع را قکا ایک شمر) یس تھےکہ ا نکا 1 خریی وق تآگیا۔ وہاں قریب می ںکوگی مسلمان نہ
تھا سے وہ ای بیت کے سلسلے می ںگواہ ہزاتے۔ چنال چانھوں نے اٹ ليکتاب میں
سے دوکوگواہ بنایا۔ یہ دوفو ںکوف ہآ ۓ اورحضرت ابو موی اشعر یکی خدمت می یج
اس مسلمان کے انا لکی خجردیہ ا لکی ومیت جیا نکی اود انس نے جو چزیں کھوڑی
تھیں وہ واہی ںکیں حفرت ابو موی اشعرع نے فرمیا: اىی رع کا ایک واقعہ ول
ائد کی حیات مباکہ یس می لنآیا تھاد یہ دفسرا واتعہ ہے۔ ران سے بی رکٹ رم 1
کہاھوں نے نہب کذب بای ا ہے اود نہ خیان تکیا ہے اود نہ ا ںکی وحیت مس کوئی
تج یکی ہے۔ ماک کیا وحیت اور ای کا نزک ے۔ یں ن ےھ کھاکی اود آپ نے
اں پ لکای
ال کاب کے علاوہ ویر لصو ںکیمگواد ی بھی مجر سے
اس متلہ یش ایک را بیگھی رتی ےکہ آخران من غی رکم (تحعارے
لے بفادگ کاب الوصایاء ہاب قول الش ۶ زوگل يَااُھا الِّیْنَ امُنُوْا شَهَادَةُ َینکم اك م نَا
ا بارل:۵ /١٠٤۰٢۱١۔ رزگ الواپ اٹغیر, سورۃ المامدۃ۔ الوداد کاب القاء باب شہادۃ
اثل الزمہ والوصیے ٹی اسر ٣ اوداؤد ۶ال سال
مر سلمَكن ات ۷۵
خییروں مس سے دو کو ای ليکتاب کے ساتح نویس کیکن ہک یکوئی وجنننل ے۔ الفاظ عام
ہیں۔ ان یش سب ہی خی رسل مآ جاتے ہیں۔ بی را لف ٹمس مسعید بن جیر ماہدہ این
سی ربینء این زیدہعبیدہ جن عمرد السلمالی ویر ہکی ہے۔ اصوں نے من غَی فک ی شرع
من غیر اھل دینکہم' (جونھارے دین والے تہ ہول) اور 'من غیر اہھل ملتكم (جھ
تھاری مات وانے نہ ہوں) ےکی ےےل
علآمہ ابع بجر طبرکی نے ای کا تائرکی ہے۔ کے ہیں وآخرَان مِنْ
غَيْ می اتا نےس یکرد دک شی نی کی ہے۔ اط ام یں ۔ ہجویک
اسلام سے باہر ٹیہ اہ دہ یہودئی اورتھرالی ہوں یا بجڑی اور بت برستہ سب ہی
ال مل آجاتے ہیں
یی راے زہادوقو بی معلوم ہوئی بے
کیا ملا نکی عم موجودی می غی مل مگواہ ہوں گے؟
قرآن ید کے الفاظ سے ایک اتدلال کیا گیا ےکسف رش دعیت پر دو
عاول مسلرانوں پا دو غیرملمو ںکوگواہ بنان کا انار ہے۔ وصی تکرنے والا ان میں
سے بش نکوگواہ باناچڑہے بنا سکتا :لین جمہودکی رائۓ ہہ ےکہ ال میس مہ اتی نہیں
ے؛ بل ہآ بی ت کا فخابہ ےکہسف میں اگ رمسلا نگواہ میں نو خی رمسلمو ںکوگواہ بنایا
جائےۓے
یسل مکی شہاد تصرف عال تہ سف ری قائلقبول ہوگی
ٹن انمحاب نے جعییت کے محاملہ بیس خی رسل مکی شمہاد تکو چائز قراردیا ے
کے این جر فی ر:۱۱/ ۱٦۷٦-۱۷۳
این جر یتفیر:۱١ ۱٦۹/
سے ماوردئی: النت وااعو ن: ۴٠۳/۱
لق غیر مسلم کی شھادت
ان س کا اس پ اقاتی ےکا سح ما تلق ائص سفرسے ے۔حفرمیں مسلران کے
معاطلات میں یسل مکی شہادت معتجرنہ ہوگیء ال ل ےک ہ ایک مسلما نک اپنے کن یل
می یسل مک وگواہ بنان ےک یکوکی خائش مود یخیں ہے۔ اسےآسالی سے مسل ران مل
کت ہیں البتدسفرمیں ا کا امکان ےکہ ویت پ رگواہ بنانے کے لم ےکوئی مسلمان نہ
نےے۔ اں صصورت میں یسل مکوگواہ بای جاستا ے۔
تقاضی شرع کت ہی کہ یہودیی یا نھ رای کی شہادت صرف سفریس جات ہے
اورووگھی وی کی عرکّ
رت الو می اضعر کی یر ردای تگزر گی ےک دہ ا مکی شہاد تک
جائز بت تے۔ اس کے ذیل میں علام خطال ی کھت رر
فیہ دلیل علی ان شہادۃ اہل الذمة اس یش دیل ہے اس با کیک خائ سفرکی
مقبولة علٰی وصیة المسلم فی عالت می ملما نکی یت پر میں گی
السفر خاصة۔, شہادت قبو لک جات ۓگی۔
فررماتے ہیں: سی تاصی شرع برا یھی اودامام اوزاگ یکی رائۓ سے
وعیت کے مہو مکی ومحت
قران یر نے وی ت کا جو لفظ استعا لکیا سے ا کا دائرہ بہت دع ہے۔
اں می بج کا اقرارہ قرش کا اقرارہ ہبہ اور صدقہ جیے بہت سے امور شائل ہوجاتۓے
ہیں۔ علآمہ اکر جضائص کے ببقول اللہ تھاٹی نےکسی خائ سض مکی یی ت کا ع میس دیا
ے اں لیے اس محدوڈئی سکیا جاسکتا۔ ٣
1 این جر یہ جائح البیان:۱١/ ۱٦۳
خطالی, میا م اٰن: ٣ /۱ءا
سر اض ,امام القرآن:۵۹۸/۲
یرم کن خولت ے٦
۴ح مکس نما کے بعد کی چاےۓ؟
بیت کے سللے م گواہوں یا میت کے وارنڈل ےمم لی ےکی ضرورت
یآ ۓ و قرآلن مجید نے ہدای کیا ہےکہ بعد نمازشم لی جائے۔ اس بارے میں دو
مرائیں لق ہیں: ایک کہا سے مھ رک نماز مراد ہے ۔گوا؛ چا سے سلم ہوں پا خیرسلم
بعد ران ےمم لی جا ۓےگا۔ (اس ل کہ بی دھا کی قولی ت کا وت ہے اور ال بش
بڑا شع بھی ہوسا ہے) علامہ امن جرب نے ایا 7 دی 99ھ
بیلگیا جےکمسلمان سے بعدعع یحم لی جال ےگا اود غی لم سے ا کی نما (عباوت )
کے بعد اسےتمھایا جا گا کمہ اکر اس نے خیان تک تو اسے مڑا سل ےکی او وہ اپی
قوم میں رسوا ہوک
کیا سورة ماد ہی یآ بات منسو ہیں؟
فتہام میں ابراقیخی, امام ابوحفیفہ امام مالک اود امام شاف یکی رائے ہے ے
کہ ىآ یات مفسوغ ہیں۔ ا نک یل مہ ہ ےک ہقرآن ید نے سور یقرہ یس شہاو تکا
اصول قرشسش کے لین دین کےسلسلہ میں ان الفاظ جل میا نکیا ے۔
تَرْصَوْنَ مِنْ الفّهَداءِ (ابق ر8 ۲۸۴) ہج نکوقم پنرکرتے ہو
اس بی صضراجت ےک مسلمانوں کے معاطلات کےگواہ ان بیس کے پشدیدہ
افرادہونے چائی ۔کاف رکال کےکف ری وجہ سے پپندید ہنیس قرار دا چاسکتا۔ اپڑا ای
کیگواسی قائل قیول نیس ہوگی۔ قرآن می دکا ایک دوسرکی کہ ارشاد ے:
و افْھدرْ اَی عَدلِ مَنكمْ (طرتق:ء) اود اپنے مس سے دو عاول افراولوگواو مقر رکرو_
اس می واٹم الفاظ مم شکہا گیا ےک ہگواہ ملمانوں یں سے ہونے چائل
7 ائن جمر یہ جائع الا :۵/۱۱ ے۹۰۱ ۱2۔ نیز لاحظہ ہوہ رازئیہ انی راک : ٣ءء
۷۴۸ غئیںمسلم کی شہھادت
اور آھیں عادل ہنا چاے۔ ام تکا اع ےک مسلماوں میں بھی جو ذاسق سے ا نک
گواہی قبو ل نیو ںکی جا ۓگی۔ جب فاسق مسلما نک یگواہی قب ل نی کی جائی نو کافرکی
بررچواوگی نا قائل قول ہوگی-
حضرت الو موی اشعر ىہ ضر عبد اد بین مسعوڈ او رضرت عب ال جن عبا ٢
کےنز ویک یگ مفسوغ نیہ بحم ہے ان کے نز ویک حالت سفرمیں مسلرمان موجود
نہ ہوں فو غی رسلمو ںکو وصیت پرگواہ نایا چاسکنا سے۔ رت سعی بین میقبہ مک بن
رس سعیر بن جیرہ دہ ابراڈی خی ء قاضی شرء عبدہ سلمالی این سی رین دفیرد سی
کے تال ہیں فقہاء میں حضرت سغیان فور یک بجی رائے ہے۔ ای وی اسم ین سلام
کا بھی ای طرف رہ ان ہے۔ امام اتد نے بھی ا یکو افخقیا کیا ہے۔ فرماتے ہیں :
شهادة اہسل اللّمّة جائزة علّی عالت سفرمیش ذمیو ںکی شہارت م لمانوں ے
المسلمین فی السٌفر عند عدم معا مہ میں جاتز ے ج بک مان مجمد نہ
المسلمیں* ہوں۔-
جن ا٤عحاب نے اسےمنسوغ مانا سے ان کے اتندرلا یکا جواب بی دی گیا ے
کہ سورة ماد کا خزول نبوت کےا خریی سال مل ہواء ج بک سورة بقرہ او رسورة طلایق
ال ے بہت پہ نازل ہگ یتھیں, اں لے وو سور٤ باکدہ ےکس یکھ کی ای نہیں
ہوکٹیں۔ علامہ ااوبر جصاصس اس کے جواب ٹیل کت ہی سک جن لوکوں نے سورة ماکدہ
لے جیما کہ ال سے پیل ےگزر چنکاہ ان رات کے درمیان ال ام یں اخلاف ےکہ بے اجاذت
عرف ال لکنا بکی عدتگ ہے یاعام ے؟
بی قرٹی الپائن لاجام القرآن: ۸/۷ ۴۵۰1۔ علا مر خرقی کے بیانع سے معلوم ہوتا ےک اللہ
غیرسلمسوں میں اہ کاب بیکی شہاد تکو مجر مان ہیں (این قراہ: أضی: ۱۸۳/۹) حافظ این
تجرفراتے مں_ و خص جماعة القبول باھل الکتاب و بالوصیة و بفقد المسلم حینئذ
منھم ابن عباس و ابو موسلی الَاشعری و سعید بن المسیب و شریح و ابن سیرین
والاوزاعی والٹوری و ابو عبید و احمد۔ عّالبارئ: ۳۱٣/۵
غیر مسلم کی شھادت 05
کو خری سور تکہا سے ا نکا فخا ىہ ہوستنا ےک فی الہ ىےآخ میس نازل ہوئی۔ ال
کے باوجود بیلکن س ےکہسودہ بر ہکی زیت وین ءجس میس شہاد ت کا ذکر ےه بعد بش
نازل ہہوئی بہوہکن ىہ بات پجھزیادہ مضبوی نی معلوم ہوئیء اس لی ےکہخود جصاضصش نے
ول اکرم جیا ونس صحابگرام ھ فیا ےک سور ماد ہآ خرکی سودہ ہے اود ای
کاکوئ یع مضسوخ نی ہے۔ دہ روایات یہ ہیں :
رہ بین جن بے اورعطلیہ تی کے ہی کہ رسول الل پل نے فرما اہ
سورٗ مائدہ آخر بی نازل ہوئی ہے۔ اس میں با ننگردہ علا یکو علال اور تا مکوترام
هو بی بات حفرت عائیٹڈاورمخرت سن برک ن ےکی ہے۔ ابومحسرہ کے ہیں
کک سورہ ماکدہ یل انٹھاروڈ نس (اجام) کا زگ ے۔اں 7 و ہے
علامہقری کے ہی ںک ہن کے لیے دو باتیں ضرددی ہیں: ایک کہ نا
موجود ہو دوسرے کہ نا ومفسوخ میں ش عکرنافمکن زہ ہو جن نآیا تکو نام کہا جاتا
ہے ان میں شہاوت سےمتفلق ایک عام حم سے اورسور؟ مانندہ بیک اص صصورت عال
سے پ کرکی سے اس لے ان می سکوگی تضادنئیسں ہے صھاپکرام مل 2370
بھی مائدہ کے ان اعکا مکومنسوغ نی سکہا ہےہ اس کے برغلاف تین صحابہ دہ ہیں جتموں
نے صحراح تک ےکہ یہ مفسو ٹیٹس ہیں۔ ا نکی اس صراح کونظ ر انرا زک لکیا
جاسکتاہبلہ ال معاللہ ٹس ا نکیا رائے فیصلرکن ہہوگی۔ ہآ بات مغ م٠ جہاں مسلمان
ہول) وگھہت ہفی رس کی غہار تکا جوا زفرام مکرل ہیں۔ یہ ایل ضرورت ے اور
ضرورت کے وقت عام احکام بدل جاتے ہیں۔ ال کے ھت رفرماتے ہیں:
ربما کان الکافر ثقة عند الممسلم و بس اوقاتملمان کے موی ککاف رق اور قائل
7 سس مہ
لے جصاصس: امام القرآن:۵۹۸/۲
: قری: البائح لاجکام الترآن:٦/۹٣ ۳۵٣۰٣
7 غیر سلم کی انت
امام رازگی تی ہ ع مکومضوخغ نہیں بات رانک وی نکی یم ایک
رت کےقت دی گیا سے اریت کااسیل ےچ:اضرورات قد بح اظورات
ضرورت بھی ممنوع چیزو ںکومباںعکرد ہق ہیں ) احکام ش ریت میس ضرورت اورجوری
کا رعای تکیگئی ہے۔ نماز کے لیے سوک چ۰ مم سفر میں نماز کے اق مکی من ہتھرہ
نف حالات ٹس رمضمان کے روزے ق اکر نے اور انار یں مردا رکھان ےکی اجازت
ا لکی مالیش ہیں۔ ز پٹ متلہ می بھی ضرورت موجود ہے۔ ایک ملمان سفرکی
حالت یں ہو اور وہا ںکوئی مسلران موچوو ت, ہو سے وہ ای وعیت پرگواہ بنا کک فذ یر
مل مک وگواہ بنانا ایک ضرورت ے ورٰنض ا م مقاص رونتصان کے کا اندینہ ے۔
شیے ال پر زکاۃ او رکفارے واجب وہ با ا کے پاش انیل بہوں یا لی کے ذمر رش
ہو اکر خی سل مکی شبات قبول نکی جاۓ و ملدا نکی عم موجودگی مس ہما م موی
او ذمہداریاں پدٹ ہونے سے رہ جائی گیا ا نکی شہاد کی مثال ایی ہی ہے جیسے
یش تل دلادتء کا مردہ یا زندہ پیدا ہونا یس خواقین ک نمو معاملات میس مم
عور کی شہادت پر اکتذامرتے 2 ےی ےک عردو ںکا ان ے واف ہو نامک ن نہیں
ہے۔ مع مکومنسوغ قرار دنا یں ےہ اس لہ ام تک اکٹی تک انقاتی سے
کک سورہ ماکدہ ہپ سےآخ میس نازل ہہوگی اور ا سکاکوئ یع مضسوغ نہیں ےے
فنقہاء اتناف می امام او یھی سح مکوینسوخ نہیں ماتے
قُ بات بی ےکہ اس مفسوغ مان نک یکوئی مضبوی دی ل یں ے۔
یسل مکی شہادت غی رسلم کے تن مس
ان بج ٹکاتلق ا بات سے ےک مسلماتوں کے موا لے میں غی رسسلموں
گیا شہاد تکس معاللہ میس اورکب تو کی جا ےگی؟ ان سے ہ ٹک ایک سوا ریہ سے
لے رازیء اشخی راگ : ۷/۳ء٣
5 من خر القاریق:۱۱/٣۳۱
غیر مسلم کی شھادت اك
کہ یسل مکی شہادت خودی لم سے معاعلات میں قائل قبول بہوگی بایل؟
امام شالتی کے نزدیک ذبیکی شہادت نہ م“لمان کے پارے میں تقو ل کی
جال ۓگی اود نہ خی سم کے بارے یں۔ بی امام مال کک بھی رائے سے۔
امام شانقیء ان الی مکی اوراشنی ین راہو کی راۓ ىہ ےک غی سلسوں میں
ایک نرہب کے مات وال ےکی شہادت اپنے جم نرہب کےسلسلے مس تو چانز سے لین
دوسرے ہرہب کے ماشنۓ والے کے سمل میں قبو لن کی جا ۓےگی۔ مثالی کے طود پہ
گی کی شہادت بیہودیی کے معالے میس قے جائز ہے؛ کن نصرائی یا بجڑی کے معا لے
یس ناچائز ہوگی۔ ام بر یک بھی میا راۓ ہے۔ ا کیا ودہ ہہ بیا نکرتے ہی ںکہ
ان نراہب کے مات والیں کے درمیان عداوت او وشن پائی جال ہےہ ال لیے ان
سے عدل دانصا فک نذ تع نی کی جانکق۔
انا فک را ىہ ےک ہکفراپنے قمام اخکافات کے باوجد ایک ےه ال
لیے اک مہب انت والو ںکی شہارت وسرے نہب کے ماتۓ والوں کےسلسے
یش قجو لک جا ۓےگی۔ ان میں فر ینمی سکیا جا ےگا
ففیٹ کی مشبو کاب ہدایہ میس ہ ےک فقہاء احاف کے خذدیک زمیو ںکی
شہاوت مسلمانوں کے موا لات میں صلی منی ںکی جا گیء البظہ ان کے ک بیس کے
محابلات می ا نک یگوائی تو لک جات ۓےگیاء چاہے ان کے درمیان ناہ بک اختلاف
یکیوں نہ ہو۔ جیے نصارک کی شہادت بیبود کے سکس میس یا یہو دکی شہادت نصاری کے
سال میں
علامہ الونگر جصال ہے اںکی نین بدا ےک سورة مدکی ڑے بش
آیات ے معلوم ہوتا س ےک ملا نکی یت پرزیگواہ ہوسکت ہیں۔ جب ملا نکی
خطالیء معالم اضن: /٣ ۴ء١
گے بدا کاب الشہادات: ۰ے ۱۷۔ نیز لاحظہ ہو: رد اتا یی الدر الار: ۵۲۲/۳
۳ےا غیر مسلم کی شھادت
بعیت پر ا نک یوادی مم ہوگی نے غی رس مکی وصیت پر درد ادٹی ا نک یکوای کا اقبار
کیا جاۓ گا۔ یکن سوہ بق ہک آیت بتاتی ےک ملمان کے معالے میں غیرسل مکی
شہادت تو لی ںکی جا ۓےگی قذ غیرمسلمو ںکی شہاوت خی رسلسوں کےجؾ می سورۃ
اد ہکی آ یا کی رنیم اپنا اصل پہ باقی رہ ےگی۔ لق ا نک شہاد تکا انتبا کیا
جا گا۔سخممیں وحیت کےسلسلے میں جن فقہاء نے ا نک یگوای لی مکی سے ان ے
مزدریک ووسرے تا ممقوق کھی ا نک یگواہی قو لکی جا گی
ا ںی ایک اور ول تقر جا کی روایت ہے۔فرماتے ہیں:
ان رسول اللەئپٹٹے اجاز شہادة اہھل ول اللہ پچ نے اعل کاب میس سےنخ کی
الکتاب بعضهم عالٰی بعض٢ شہادت پچ کےےتق یش چائزقراردی ہے۔
ایک اور روایت مل ےک ول انیٹ ھی خدمت میں بیہود ایک مرد اور
عور تکوزنا کے جریم میں پل کر لاۓ اود فیصل کی درخواس تکیا ۔آپ نے ان سے چار
گواوطلب بے گواہوں ہے بیانات ےلکن ہونے کے بح دآپ نے دوٹوں مجرموں
کو ری مکرادیات
بجی رالۓ اخاف کے علاوہ حخرت سفغیان و ری اوراتض ویک رفتما کی کے
لے جا ایام القرآن: ٣ /٭٭٥۔ ا پر بات راف کیا گیا ےک سورۂ ملح کی آ ات سے اصلا جھ
بات خابت ہوٹی سے وہ ىہ ےک ملما نک وعیت پر مجبودیی میں ذمیو ںکی شہادت قبو لکی جاۓے
گی۔ اس سے ضمن ب مق بھی ال گیا ےکہ ذمیو ںکیگوائی ایک دوسرے کےتن میں قائل قیول
ہے۔ احتاف جب صل تہ یکومفسوغ مات ہیں ق- ای کتنی امتدلا لکوگھیء جوا کی فرع ہے مفسوخغ
بی مھا جا ۓگا۔ ریہ البامح لاحکام النقرآن :۳۵۱/۷
این ماج اإواپ الاحامء باب شھادة اھل الکتاب بعضھم علی بعض ۔ ال کے ایل راوی
عجالد پ,رمحدشین نے جم گا ہے۔نصب الریۃ: ۸۵/۳
2 جصاصء احکام القرآن: ۴۰۱/۴۔ ا لکی سند بربجت کے لے جشکھی جا نصب الرلیۃ:" /۸۵
این قرب :۱۸۳/۹
غیر مسلم کی شھادت 2۳ا
خی رسل مکی شہادت کے متتر ہون ےکی حرط
الام نے شمبادت کے قیو لکمرنے کے یے عد لک شرط یی سے ۔گواہ گر
عادل نہ ہو ا لکی شہادت قبو لن سکی جات ۓےگی۔ سوال ىہ ےک غی رسلم عد لکا
شرائ پر یکرتا سے پانیں؟ ا ےکی معاملہ یس عادل مانا جات گا یا ا کی شمہاد ت مگ ی
قول نی کی جا گی؟
حافظہ این تفر ماتے ہیں:
ان اتصاف الکافر بالعدالة مختلف کان رک عادل بانا جا یا نیں؟ ایل
: 0 ى . اخلاف ے۔ بے اخلاف نأ ے ا١
ید وھو فرع ول شھاد ںی کے تل : : ای
لھا وصفہ ھا و من لا ھا - جس نے اے تو لکیاا نے سے عدل سے
متصف قرار دیا ایر ٹس نے اسے تو لی سکیا
ال نے اسے اس وصف سے متص ف کی ںکیا-
سورہ ماد ہکا زیر مطالعہآ بات کے ذیل ٹس امام رای نے اس مہ پر بڑگی
عحدہ بج کی ہے۔ اسے ہم اپنے الفاظہ بیس می یکرت ہیں:
قرآن بی رگم ے و اَفْھدزا فَوَىْ عَذُلِ تنم (اپے میں ے دو
عاول افرادکوگواہ بنا2) ال کا مطلب ہے ےک شبات عاول ملا نکی ہوئی پاے۔
ال سے با تقد لا لاگ یا ےک ہکافر عاد لنجیس ہوسکناء اس لیے ا سکی شہاوت قائل قول
نیس ہوگی۔ ا لکا جواب بیددیاگیا ہ ےکہ یہاں عدل کا مطلب قد ہکی صحمت اورلگ کی
سلائت فی٠ بل ھوٹ اور غلط بای سے اتزاز ے۔ ای وجہ ے ال بعت اور ال
اہوا کوک راہ یکن کے پاوجود ا نکی شہادت. اگر وہ چھوٹ سے کیڑیں تذہ قبو لکی جائی
ہے۔ ای طرح جو خی رسلم داست باز ہو ہکذب بیائی اور وخریب سے دای نکش رہتا
ہو ا لکی شہاد تبھی قو لکی جانی چاے۔ اگر بی بات صلی مبھ یکرلی جا ۓےک فی رس م
٣۷/۵:یرابلا 7
"ءا غیر مسلم کی شھادت
عادو ل نیل ہوتا تق ہہ ای کعموئی بات ہوگی۔ سورٗ ماتدہ یس جج سنخصیش صورت حا لکا ذکر
سے وہ ال سے بھی جا ےکی
امام راز کی بیرراۓ ال پپپلو سے انم ےکم ال سے ایک وی دائرہ میس
یسل مکی شہار تکا چوازفراتم ہوتا ے۔
اض ماات میں خی رس مکی شہادت تو لک جائی سے
قرآن مجید یش زی بن ٹآ بات کے علادہ شہادت ب اگواد یکا وک رصب ڈبیل
مواتحج پ4>آڑاے۔
مےانوں کے ورمیان قرض کا لین دین وق اس برگواہ ر کے جامیں۔
)۲۸۲:١70(
٢ہ مم جب سن بلو کوک جا اور اس میں معاملا تک س جھ بوچھ پا
ہوجاۓ فذ سربرست اکا مالی ال کے جوا ےکردے اود ال پہگواہ رھے۔
(انمء:٦)
۳٣ سور ور زنا کے الام اور ہوگی پر زنا کی تہت کےسلسلے میں شہاو تکا
کر ے۔ (اف۶ر:۹:۷)
٣ہ عم ہ ےک ہططاقی کے بعد وج غ یا جدائی کی جوش ل بھی افقیا ری جائے ال
پاپ می سے دو عاو لگواہ ر کے جاھیں۔ (اطوق:٣)
انآ ییات میں صسلرانوں کے ین رین تیھوں کے موق ان کے سریبیستوں
کی ذمہ دار ہیں بدکارگیء ا لکی ہت اور طلاقی کے اکا م کا بیان ہے۔ بر مسائل براو
راف ہمسلمساحع ےتحلق رک ہیںہ اس لیے ان میں مسلمانو ںکی شہاد تکا ذکر ے۔
جو مکل نال تعبری نوعیت کے ہوںہ جیے عباواتہ یا جن کاتتاق میا وطلاق اور
لا رازگء انخی اکھے: ۳مم
غیر مسلم کی شھادت ۵ء
ملانوں کے متا شرلی امور سے ہو ان یں فطرکی بات مکی س ےکہ جہاں شہاد تک
ضرورت ٹن یآ ے مسلمان بک وگواہ نایا جا :یا بن حالات او رت مال اپے
بہوسکتے ہیں جن میس غی سل مکی شہادرت تو لرنے کےسواکوگی ار ہکار تہ ہو-
ہمارےفقتباء نے شہاد تک پٹ اسلائی ریاست کے یں منظ می ںکی ہے۔
ای وجہ سے اھھوں نے اسے ذٹ کی شہاد تک حیثیت سے شی کیا سے
اسلائی ریاستہ جہاں مسلمان اکشریت ٹیس ہوں اور جہاں اسلائی قائون ناف
ز71 دہ لکن ے/۔ بہت سے معاملات میس غی رسلمو ںکی شہاد تکی ضرورت نہ نی
آے٤ یا شاذ و نادر ٹیش یآ ئے ءلیگن اس کے باوجودفقہاء نے عالات وضردریات کے
تق فعض معاملات یس خرل مکی شہاد بھی قبو لک ہے۔حافظہ این تجرفرماتے ہیں:
و قد قبلت شہادة الکافر فی بعض لچ مواتع بکاف کی شہادت قو لک گنی ے
المواضع کما فی الطب ےط پکامعللے۔
شہاد کی سی فوحیت ے۔ اس سے ہہ ٹف کر فقہاء نے غی رص ل مکی خجر پہ
اتتادکا بھی عم دیا ہے۔ اس سے معلوم ہونا ےکہ اسے اپ قول میں صادق مان جاسکتا
ہے فقیی مج ےک کوئی خی رسلمء چاہے دہ جوچی ج یکیوں نہ ہو اک یہ اطلاغع دے
ای ن ےک یکنالی سےگوشت خریدا ہے قوذ ملمان کے لیے اس کاکھانا عطال سے
(ں لی کہ ای کا ب کا ذہچہعال ہے )۔ ای رح اکر دہ بی اطلاغ د ےکہ ال نے
گوشت وی سے خر دا ہے ملمان کے لیے ا ںککاکھانا ترام ہوگا۔جل ال وجہ سے
کہ ای ٹس نے (دوبھی غیرمسلم نے) ا سک اطلاع دی ہے ا کی خ رک دش
لے شہادت کے متلہ اور اس کے اعکام کے ذیل میس تقاضی شوکالی کت ہیں: ہلٰذا الحکم (ای
حکم الشھادة) یختص بالکافر الذمی و اما الکافر الّذٔی لیس بذمی فقد حکی فی
البحر الاجماع علی عدم قبول شھادته علی المسلم مطلقاً نل الاوطار:۲۰۸/۹
٣۳/۵ الباری: ۴
۷ا غیں معیلم کی نشھآدت
قراردیا جا ۓگا۔ ا سللے میس اصولی بات ہگ یگئی ے:
ان حبر الکافر مقبول بالْا ماع فی ال پ اما ےک کاف ری خرمعللات میں قو لکی
المعاملات لا فی الدیانات'“ جال ۓےگی۔ الہ دی اموریٹس قبو لو کی جا ۓےگی۔
موجورہ الات پرایک ظ
موجودہ وور میں پیش تزمسلم راستوں میں خی رسسلم خزاصی تعداد میں آباد ہیں
اوران مگگوں کے سای ء معاشی اور ابی معاملات ٹیل ا طرح ان ٢)گُل مل کےا
ملمان انع س ےک" فک نیش دہ کت ال نکی ضردریات ایک دوسرے سے جڑی ہوئی
ہیں۔ سوال ىہ ےک مسلماتوں کے محاطلات یس ال نکی شباوت معن رہہوی با نجیں؟
ہمارے خیال میس اوپہ کے بیانا تکا رشن میں ا لک یمک مق ہے۔
دور! تم سوال بی ےکہ ال وفقت مسلمانو لک زیادہ تر آ بادئی ان ماک مل
تی ہے جہاں غی رسلم اکثریت یس ہیں اود جہاں معا مات ہرک کے اپ توائین
کےحت ہوتے ہیں۔ ان حما کک میں ملمان جع دشار فرش کین دنہ زشلن اور
جائمدا دکی خریروفروختہ ہای فزاعات اور جرائم وغیر: سے سللے میں غی رمسلموں کی
شبات پ بسا اففقات تبور ہیں ای بفیاد بر ان کے تقو کا ححذط اور ان کے نقصانات
کی علاٹی تی ہے۔ اس صورت حالل میس ا نکی شہاد تکا اغتا کیا جاتۓ گا پانشنل؟
بظاہر ان حالات اورمسلمانوں کی جموی ضروریات کا تقاضا ےک مسلمانوں کے دنیوی
معاملات می قائل اختبار اور راست از خی رس مکی شہاو بھی مسلما نکی شہادرت ہیک
طر قو لکی جاۓ۔
ے الدرالار:۰۱/۵ ۳٣٣۸۳
1
اہلائی یماست
0-7 سج
۹ےا
اسلائی ریماست
اسلائی ریاس تکا نود ٹیٹس ہے۔ ال کا خ اک ہق رآن وحدیثٹ یل موجود
ہے۔ اسلائی علوم کے ماہرین نے اپنے اپنے دود یش ا کی تخعبلات شْ یک ہیں۔
اصول ومہاری پراقاتق کے پاوجووشنن ات پان کے درمیان اخلانلگی رپاے اور
دانل کے سراتھ الن پر بحٹ ومباحشنگی ہوتا رباے۔ یں کاشی لو سے لی پہلو
سے دنیا اسلائی ریاست کا کامیاب تر کرچی ہے اور الں کے برکات وشظمرات سے
صدربوں فائدہ اٹالی رعی ےلین اس کے باوجود موجودہ دور یس اسلائی ریاس تک نم
یا اتا ہے و نین اس ططر) چوک ہڑتے ہیں جیے خر ہک ینیج ری ہے اورکوئی
زبردست بھونچال آ آ ۓ والا سے ہس سے لو انا ی15 گاہکرا ضروری ہے۔ الپ
اعتراضات اود الزامات کا بوپچھاڑ شرو ہوعالیٰ سےکہ الام ایگ چابرانہ او رکلیت
پندان نظا مکا دائی یی وی دوسرےاگر اورطرز حیا تکو برداش ت نی ںکرتاء اں شش
رواداری اور وسعت نظ یں ے وو تر گل آزارگی ضیال اود اختلاف راۓ کی
اجاز تال دیاء وہ چارجیت او ددم م بردار ہے اور اپ خیالات ہزور چھیلانا چاتا
ے وہ عدل و انصاف کے محروف اصولوں کا این دنیں ہے اسلاگی ریاست مل
27 کے توق تو ہیں ہیں دو ق رات پقی کا عم بردار ہے ال مل دور چدید
کے تقاضو ںکی رعای نہیں ہے دو تیب :رٹ ٹف اورنتون الیک ہن ے اور معاشرہ
۸۰ اسلامی ریاست اور اس میں غیر مسلموں کے حقوق
کو اض یکی طرف لے چانا چاہتاے۔
اسلام کے ان مزای نکوعکومت و اقترار اور ذرا لی ابلا ری جد ید تری نسہل
حاصل ہیں اودمیڈیاکی زبردست فقوت الع کے ال ے> ںی ۸د سے ایک طرف و
اس نوع کے اعتراضات کے ذرىی سمل مہاب تک رن ےک یکیش جادری ہےکہ اسلام
ک تضور ریاست دو چریڑ کے لیے نا تقایل قجول ہے اود دوسرکی طرف اسلائی میں میں
ہا ں ہیں اسلائی ریاصست کے قا می چروچر بہوری ے اےناکام بنائن ےکی بین
سای ںکی جا ہیں۔ اس کے ل ےس ی بھی خقیرادرعلائیہ ہیر کے اقیارکرنے اود اتی
سیاسی قوم کو استعا لکرنے می سکوئی ماگ ل نہیں بونا۔ ال وت تجوریت:طزی ےگل
روادارگی اور عرل و انصاف کے سارے نا تے ا طر فرا مو لکردیپے جاتے ہیں جیے
اعلام کے بھی اتک تاج سے دن یکو بچانے کے لیے سب بھھردا ہے۔
یہاں ان اختزاضا تک براو را ست 7 دی- یا ان کے تچ ےکارفرما محرکات ےے
کی تہ اسلا مکی لت بزیادیی تلیمات شی کی جا ردی ہیں۔ یتقادات خی رسلموں
کے سلسلے میں اسلا مکا اصولی موتف وا کرنی ہیں۔ ان میں الن اتزاضا تکا ج اب
بھی ہے جو اس مضو پر سیے جاتے ہیں۔
01
۸
ا سائی ریماست سے رونا اصول
اسسلائی ریاست مشن مقاصر ے لیے وجود میں1 نی ہے اودجنن اصول وضواپا
کیا دہ پابند ہولی ہےہ یہاں ان مس سے ٹف کا ذک کیا جا رہا ہے۔ ای سے ایک طرف
اسلائی ریاصت جن کی ال فررخالفت ہو ری ہے ال کے کین یس بدرد ےکی اور
ا کے ہمایاں خد وخال سماتۓ 1 گیل گے دوسربی طرف خی سلمسوں کے سراتھھ اس کے
رو یکو ہبتر نے مھا سک ےگا۔
عدل دانضا فکا تام
شلم وزیادثی ککوئی ایک شع ل نہیں ہے۔ بی اتی محاشیء معاشرقیء ساب ہر
ط رع کا بن جج وا ان س پکا 20 ے او رکر رۃ ے۔ اسلام ہروں 2
جو رونم کے لاف ہے۔ وہ ا لک کی بھی عال میں اجاز نٹ دیتا اور اپے ماتۓ
والو ںکوعدل و انصاف کا پاتد بناتا ے۔ دہ ا گا نذیاد پپرے معائشرہك فی چاہتا
ے۔ ارشاد جو"
ام الله ار باعل وَالخسَان و بے شک اثرعم دا ہے عدل اصان کا اور
اناو ذی القری و ھی حن قرابت داروںکاتق اداکرنےکااوش عکرنا ے
الفحْشَاءِ و المُنگر و العي يعِظکُمْ بے حیائی سے مر سے اوظلم وزیادلی ے۔ وہ
علکُم تَدَکُرْروُہ (الحل:٠۹) تھی شیع تکراے تم مشیحعت مس لکر_
۸۲ اسلانی رزامت گے بعٹی رہ قااسول
عدل کے پ معن افظ صا ہے۔فرمایا:
مر رَبی اط (لمرف۲۹) سکب ددمیرےرب نے عدل وق کاعم دیاہے
ایک اود یف مایا:
اَزْقُوا الكذلی وَالمِیْزَانَ بالفَشط ناپ اورقو لکو پر اکرہ انصاف کے ساتھ۔ بم
کم ہہ
فاغدِلوْا و لو كانَ ذا قربی عدل و انصاف کے سات ھہکہوہ چاے معاللہ
(الانعام:۱۵۴) قرابیت دار ب یکا کیوں تہ ہو-
ال می ال با تک ناکید ےکہ عدل و انصاف کا دن ہرگز نہ کچھوۓ
پائے چاہے ا لک زدعزیزوں اددقرایت داروں ھپ ہکیوں نہ پڑلی ہو۔ می بات ایک
اور زیادہ وضْاحت اور پپرے زور اورآوت کے ساتھ دی ای سے مم سے :
بَأبُهَا الّذیْنَ آمَُوْا تو فَؤْمِیْنَ اے ایھان والو! عدل وق اکو ل ےگ رکھڑے
بالفْسْطِ هد لہ و لؤ عَلی ہوا ال کے اہی دی دالے نہ چاہے
کم ْ. الَاِین رین : ا کی زدکھاری ذات پہ پڈے پا دالد ین اور
ا ا رشت داروں ےر اگر صاحب معالہ بال دار یا
یکن غبیّا او فقَیْرًا فاللة اولی ب : دو لے ے
کن غیيًا ا فقیر وٰلی بِهمَا ریب سے لے الفدا نکا سے زیادہ جرظاداے۔
فا موا الو آ گا وذ ان پت خاپ کی ام نکر دک عدل ے پر
تَا او تعْرِضْوْا فان اللَ کان بمما چا گرم زبا نکوموڑکر با تکرہ یا اع شکرو
تَعْمَلوْنَ خَبِيْرّاہ (الشماء:۵ ۱۳) فو اللدج یی غمکرتے ہوا سے پاتمرے۔
اعلائی ریاس تک اون آمددار ےکہ عم 27 کر ے عرل والصاف
ا مکرے۔ اسلام اپے عدوداقتزار می کسی ہیام کی اافصانیء یطنی وم و جورکا
روادارجییں ے۔ ائ یکا صافگم ا
الله ياركم ان تُوڈوا الات ای بے شف ادڈیھیںعم دا ےک انت انل
هْلكَا وَإِذَا حَکُمممبََْ لاس ان َحَکُمُوْا اما کو پیا اور جب لوکوں کے درمیان فیصلہ
اأََنلامی رَرَاسَع گی بعش رۂ تنا اسول م۸۳
الَڈلِ ان الله نم َعِعُكُمْ یه ای الله کرو انصاف کے ساتھ فیصلکرو۔ ال میں
کَانٗ سَمِیْعا بَصیْرا ابی تح تکرتا ہے۔ بے قک الد نے اور
0 +۵۸) دی ولا ے۔
عدل د انصاف >ے معالے یس اس کے نزدیک دوست اود یکن کا رق
غیں ہے۔ وہ شنوں اورمالفوں کے ساتح بھی اہ ںکی پابندگ کو لاز قرار دیتا ے اور
سی ال مل ا سے فک از یں دیا ۔ارشادے:
ھا الَذِیْنَ امُنُوْا کونُوا قَوَاِیْنَ لِلهِ اے لہاان لاے ہلل کے لےکپٹرے
شُهَدءَ باليْسْط وأ يَجْرِمَنكُمْ کان ہونے نے وانے اور انصا فک یگوائی دیۓ والے
١ منکر رو کی قو مکی وشن ی کی اس ور 7
قوْم عَلٰی ا َعْدلوا ایلوا مُرَ
رم فاف شکرو۔ می با کت کی ے
2 لِلْقُویٰ و اتَقُوا الله 3 الله زیادوتریب ہے اور الد سے ڈرتے رہو۔ بے شیک
خَبِيْر /ِمَاَعْمَلُووَہ (لمجہ) ال جھ پک مکرتے بواں سے پائھرے۔
مل وا کے ام کے لے وقنت ضرورت طاث تک استعا ل بھی اسلا می رو
سے ضروری ہو چاتا ہبے۔ جناں سور عدید یں ارشاد ے:
ازْسَلنا رسلا باییعت و ان ب نے اپے سواہ ںکوعکی نشتانیویں کے ساتھ
وق ا وَالْمِيزَانَ ِیقُومَ شف اوران کے سا ھتاب اورمیزان نز لگا؛
کوک عل ؛قا تام بہوں اود بھم ئے لوپ
نازلکیاہ اس یلجت (سامان )جنگ ے اور
شْدِیٔد وَمََافْمْ - وَلَِْلَم اللهَُ 7-2 لگوں 2 فا (بمرے) مناخ بھی یں
نو وَرْمله بالیب ا اللة فو کال جان لےکہکون الکو دیے پیر ایں
ریہ گیا ادا کے راو ںکی مدنتا سد وگ
(اھرید:۲۵) اش طاقت دالا اورز رت ے۔
اںاں اسلام ہرعالش عدلہ آصاف تام جم دتا اورفرڑ اور ریاست
دونول وکا پان بناتا ہے۔ ال معاملہ ٹل ا کیا ہدایات انی دا ہی ںککوئی ہش مند
انان افاری جرا کی ںکرکنا۔ یں 2 بعدٹھی اگ رکوئی فو یاریاصست رلک راہ,ارے
بالْقَسْطط وَانْزَلََ الَْدِیْدَ فی بسن
۲ انتلائی رزانت کے بعفورہ شا اسول
ناسل مکی صر خلاف ورزیی ہوگیء اسلا مکا اس سےکو یلق نہ ہا
الام کے لیے جب رکی اجاز ت کیل
ایک اعتزاش بہ ہےکہ اسلام کے مزاع میس چبر وتشدد ہے۔ دہ دوسرو ںکو
زبرذتی اپنے عقیدہ اور رکا پاند بنانا چاہتا ہے اود طاقت کے ذرب یملف افکار وظریات
پرغاابآ ن ےک یکیشن لک رتا ہے۔ایں نے اقترار اورعلوم کو بزور الام کچھیاانے 9
لیے استعا لکیاے۔
ال دیائل بہت رے براہب مخلف فلنے اور افکار دنظریات آ٠ می بھی
رہے ہیں اود ا بجی پا جاتے ہیں۔ ہ رای کک نوک س ےکہ وی سب سے مجر اور
رڑے۔اے ا لکا ف۳ وصگل ہے۔ اسلا مکا ھی وک ےکہ دای داعد دی ن قح ے۔
اے دہ ہزور طاق نیہ بلہ فقوت لن کے ذریے عا مکرن اہتنا ہے۔ ال کے لیے
الع نے رگ ۵ یھہان؛ وونا ولشبحت اور ب(ٹ وختگ وکا طربیقہ اق رکر کاگم دی
ہے۔ارشاد ہے:
اذ إلٰی سَبیْل رَبَک بالْحَكُمَة و یت دداپے رب کے رات کی طرف عگمت
الْمَرْعِظة الَسَنَة رَمَاِلُم ایی اورعرونسحت کے ذر یچ اور مباح کرو ان ے
ا قح اسان ا طریقہ سے جو مرن ہے۔ بے نک کھارا
هی احْسَنْاِنْ رک هو اغلم بمن رب خوب جاتا ےک کون ال گا راہ رے
ضلٌ تن سبیْلہ و ہو اَم پن کیا ے اور وہ ان کو ںکویھی بھی طرح
بالْمُهَِیْنَہ (الیحل:۱۲۵) جا تا سے ج ہدایت یافنۃ میں٤
جونظرررنل و پان سے پا کنا چاے اور امام وش مکی راہ افقیارکرے
ا اں میضوع رتفحیل 2 لیے ملاحظہ ہو رائم کیاکتتا ب کم زور اورمظلوم- اسلام کے ساہے میں
شر: من کت سلائی چیلشرز ہنی ی۵۳٣
ہ سک تقعیل سے لہ ماوطظ ہو رق کا مضمون کرت دیو مطبوط ماہ نا زندگی فے خی دی
0227 اوراکست ے۱۹۸ء کےشارے۔
اسلامی ریاست کے بعض رہ نما اصول
۸۵
اس پر جرد اکرا ہکا انرام “تہ خر ہوتا ہے۔ اس لی ےک ان طول مل تتضاد ے۔ جب
کی نظریہ میں ووسرو ںکومملمک کرن ےکی صلاحی ت نی بہہوٹی و وہ موںحع لے بہ چجرو
تقدد پر١ آتا سے مین اسلام اس لقن اور ینان کےساتھ ہمارے ساس آجا ےک
ول کے میدران میں الس ت نیس دی جانتیء ال لیے جب رکووہ خارع ازج ٹ متا
ے۔ ارشاد ے:
لَ ِكْرَاة فی الین قد تین الرّمْدُ
ِنْ اي فمَنْ بُكْفْر بالطَاغَرْتِ رَ
ون بالله فَقّه امْتمْمَکَ باْمرَة
فی لا الْْضَامَ ھا و الله سَمِيعٌ
علیمہ الله وَلِی الَدِییَ او
ُعْرِنُهُمْ يَنَ القُلمٰتِ ای اور وَ
الَدِيْنَ كَفَروا اَوليَاهُمْ الطَاغْرْتُ
الیک اَصحبُ الَارِ ھُمْ ھا
خِلِدُوْنَ ہ /ۃ۴۵۷۳ء۸٥٢)
ایک ادرف رمایا:
مَدیَْٰة السَبيلَ ِمُا شَاکرا وَإِت
3 (الی۴:۶)
سور ہیف میں ارشادے:
قُل الَْقُ مِْ رَنكُمْ فمَنْ مَاءَ
(الکھف:۲۹)
وین کے معالے می ںکوگی زورز برذق یں ے۔
بے لک رایت پل دا 7ھ رای
سے۔ یی ونس طافحوت ےکف رکرے اور
اللہ پہ ایمان لے آاۓ اس نے مضبوط ری
یلیہ جو ٹون والی نیس ے۔ اود سب یھ
چان والا ے۔ اللہ ان لوگوں کا وی سے چھ
اممان لااۓء وہ ھی ںشلمتوں ۓقا لأرَر
کی طرف پپیاتا ہے۔ جن لوگوں ن ےکن رکیا ان
کے اولیاء طافوت ہیں۔ وہ آجیں پور ےمتوں
گی طرف لے جاتے ہیں۔ بیجن م دالے ہیں۔
اں ٹل دہ یش ر یں در :
بے شک جم نے انسا نکو راست دکھایا ہے۔ اب
وہ چا ےش رگزرار نے پا( اشگرااور) کافر۔
کہ ددء تھارے ر بکی طرف سے( ا
ہے) میس جو چاہے اس پر ایمان لاۓ اوس
کاٹ چا ےکف رکا راستہ اخقیارکرے-
ان آ بات شس صاف الفاظہ مھ سکہا گیا ےکہ الد تھال کی طرف سے جولی
۲ اشلاتی ررالتت کے پش رو شا اتل
آیا ہے وہ ال وا ےہ جس کا گی اہے قو لکرے اود جس کا می چاہے انار
کردے۔ اس کے بعد اس اقرار و افکار کے انحام سےبجھی آ گا دک دیا گیا ہے اک ہآ دی
فیصلہکرنے سے پیل اٹچھی طر سو ےک د دس انج مکو بین دکرتا ے؟
اسلام ایک دثوی اوریقی دین ہے۔ جرد اکراہ اس کے مزاحع سے جم آ ہگ
ٹس ہے۔دہ اس نت نظ رکا عال ےک اللہ تعاٹی نے انسا نکو مو نہیں پیداگیا ے
بلنہ اخقیار اور آزادیی سے نوازا ہےہ عالا کہ اللہ چاہتا ق ہرفرد بش رک اپنا جا فرمان
بنا رکا او شی میس ا لک نافرمای کا یارانہ ہوتا جن ال نے ایا نی سکیاء بلکنہ اپے
روں کے ذرہیےی و پا لکو وا کیا اودانسا نکو کی آزاویی و کان میس سے
ج راہ چاے اخ رکرے۔ اں آزادی ےچ استعال پر بی ا ںکی کامیالی کا انار
ہے۔ ا کا خلط اتال ا کو دٹیا او رآخر تک ناکائی سے دو چا رک ےگا۔ ہے وہ
زبردت مملجت ہے جس کے لیے اللدقھالی نے بیہاں ج نیس رکھا ہے۔ اک رکوی ننس
اسلام کے لیے جرد تشددکا ریہ اپنانا سے فو اس مصسلحت خداوند یک خلاف ورزگ یک۸
ہے۔ ا ںمضمو نکی یح سآیات یہاں شی کیا جا ری ہیں:
او َء زنک لات من فی الازض اگ جرارب چاہتا تق زین ہش جتتے لیگ ہیں
و جَميغا اَقَانْتَ کر الس سب ےسب اقاحع ت1ر لپ ای نے
091و" :۰ ہیں جاما) کیا تم لوکو ںیکور وگ ےوہ
علییکولزائزی ززب نا ۶( ۱
من ہو جائیں۔-
و ما اشن الاس و لو حرضت اکر لیکہ آ پکتا ئا چاہیںہ ایمان لاے
بمُؤمِییْنَہ (ہسں: )۱۰١ والے یں یں۔
اس معامل میس الد تا یکی سنت اور ا کا نقانون الن الفاظ مل بیان ہو اے:
وَ لو ضاءَ الله لََعَلكُمْ أئوَاحِةَة و اکرالتعالی چارتا نزخم سبک ایک ىى امت نا
لکن یضِل من بش وَ یئ من دبا لن( نے ایا شکیا)۔ دہ تے چاتا
اسلامی ریاست کے بعض رہ نما اصول ع۸۶
نا زغم ما ےک مک ہےالد سے جات ہے ہامت رتا
۱ ہے اورتم جھ یج ھکر رہے تے اس کے پارے
۷ رح می وو یھ
سورۃ شور یس کی بات ان الفاظ ٹ سکب یگکئی سے:
وَ و ضا الله لم لئ وَاحَۂ و اگرالل چاہتا تق ائیں ایک امت بنا دنن وہ
نکنل من پشاغ فی ریہ و و سے چانتاہے اپی بعت مش دا لکرا ہے
اکور تن زالہیزہ ڑ2 چنا ہے ال سے مرو مکر دا ہے)
(اشوری:۸) "الو کاکوکی صربرست اود مددگار نہ ہوگا۔
مر لے اسلام کے داگی نشم تے۔آپ کے ققلب مبارک مل ہہ بے پناہ
خواہشل موج ز نت یک الد کے ہارے بنرے اسلا مکی دوات سے کرہ ود ہوجائئیں-
ان آیات ش کہ گیا ہےکہ اللہ تال نے بی دنا ای بنائی ےک ییہاںگکر ول ا
اتلاف لازب] ر ےگا اورلوگوں کےطرزگکر اورطریقہ ہاۓ حیات چدا را ہوں گے, ال
لی ےآپ اپنی متقدیں تنا اور ایز خوائشل کے پاوجودہ انمانوں کے ورمیان پا جانے
وانے اختلا فکشخ مک کے س بکوالشر کے دی نکا انیل بنا سے ۔آ پک ذمدداریی
صعرف اٹ ہ ےک ہق دا کردیں۔ ہدایت الہ کے پت جس ہے۔ دہ کے چاہتا ے
صرا یتم پہ چلاتا ہے اور سے چابنا ہے ضلاات میں بکنے کچھوڑ ویتا ے۔
الام کے مات با نہ مان کےسللے می ماس فق نی اورممتول موقف سے
کت تیگ رک کوئی بڑے سے بڑ ےیل بردارجھی سای سے اس ےچین ھی ںکرسکیا۔ اس
نشی اورقانوٹی ثی تکوش ور فقہعلامہ این قرا لی نے اس رح وا کیا ے:
”(اسلائی ریاست میں )می ذئی یا متام نکو اسلام قبو لکرنے بی مو رکرنا
جائز یں ہے۔ اگ رک یکو جو رکیا گیا اود ال نے مجیور کی حالت ٹس اسلا مکا اظہارکیا
ڑاںک اقپانچیس ہوگا۔ ہاں اگ رجبوری کے تم ہونے کے بعد وہ اسلام پر غابت قدم
رہن اس کے اسلا مکومتت رکچھا جات ۓےگا۔ گر ا سے پپیلہ یا ا لکا اتال ہوجائے تذ
۸۸ اسلایٰ ریالنت گے بغض ر۷ضااعزل
تھا جات ےگا کہ اس نے درتقیققت اسلام قو لن سکیا اور حالمتکف میں ال کی مموت
وائ ہوئی۔ جج رکے ذرہیے اسلام لانے کے بعد اگ رکوئ ینس مرف ہوجاے یا اپ وین
کی طرف لوٹ جاۓ نو اسے تہ لو ارقرادگی مزا ض دی جا ےگا اور ٹہ اے اعلام
لان پ جو رکیا جا ۓگا۔ می اعام اتدہ امام ابوعفیفہاورامام شال یکی رائے ہے۔ ا لک
دییل قرآن ید یہت راہ فی الاِین 0ۃ :۲۵۷) ےک
ں کے بح دک یکوئ ین سکم ہسکتا ےک اسلام کے لیے چجرداکرا ہکا طریقہ
اخقیا کیا عگیا؟ اسلا مکی طد ہل ار یں اکم بیہخاب تگھیا ہوجا ےکک نے بین تکا
سے ج کا اب تکرنا سا ننجیں ہےه یا آ تندوکسی سے بیمرکت ہو کیا ےق رآن
کی سند حصل ہہوگی؟
الام اوز ہر راہب
ان اتال گیا جاتا ےکہ دوسرے ما ہپ کے ساتھ اسلام کا -
معانرانہ ے۔ وہ اپ مزاین کے نرئسی جذبا تک دعای ت تل ںکرتا اور ان گا
قائل اضزا شخیتوں پر جارعانہ گ ےگا ے۔ ان ںکی تقیری می دل 1زار کا
سب نی ہیں۔
یراعترائش بے بفیاد ہے۔ اسلام دبین فو حید ےہ ال نے شرک بے زبروصت
تقیدکی ہے اور ا لک مم وریاں دا کی ہیں۔ اس جفیاد بر مشرلی ن کہ سے ا سک مخت
مکش بھی ربی لن حالات میں ال نے دو بات ں کا عم دیا: ایک بن جن کک
معبودو ںکونھیں وہ مبودان پاش ل تا ےه برا بھلا ن کہا جائےء انل لیےکہ اس کے
رول میں مشرلین ال تعال کی جناب می سکستائی اور بے ادلی کا انا بک رن ےکمیں
گے۔ بہ بات مخت ناز یبا س ےکہ ہماریصی خلت سےمفالف نیٹ می ںآ تے اور ال رتعالٰ
کی شمان میس زبان ددازکی ش رد حکردے۔ ارشاد ے:
0 ان قراب اك:٢۱ /۲۹۱, ۲۹٢
اسلامی ریاست کے بعشن ره شا اٹول ۸۹
ول سیوا الین َو ین ڈؤن ہلگ اللد کے سوا ج نکد ارت ہیں یں
الله َیْدوا الله عَذا بغَیْر عِلم برا چھلا نہکہ کہ دہ عد ےآ کے بڑ ھکر چہالت
ےھ و مو سر ڈیا کا جا بہ ال تال یکو برا بھلا کیےگیں۔ بی
کڈلک زینا لگُلِ اب یمم طر ہم نے پ گر ہکو اہ کاعمل خوقل نما بنا دیا
ای رََھم مُرْحِمهُم فَیَيَنهُم ما ہے۔ گل ری اپے رب کے پا لوا ےه وہ
کَانْوْا یَعْمَلُوْزْہ (الانعام:۱۰۸) آئیں جا گگ اک و ہکی ار رسے تے۔
ذ رام بی دیا گیا ک ناش کی طرف سے سب وعتم لن طعن اورتففیک و
خر جاری ہے۔ ال کا جخاب اک زبان اود ای لپچہ ٹس شہ دیا جائے۔ جواب ہو
بط را ان ہو ہگ ونچھارے خلا فگمندی زبان استعال ہو ری سے ا نتھارکی زبان
رر کا آ نشی سے پاک رہ ےی کے اشتتعال ولان ےکی وت تیب وش اگ
کا دن نبچو لے چائے اوب لق سے ول می یش لکا جائے:
وَ لا تَسَوٍی الَْسَنَةُ وَلا اسَةُ کیماںنئیں ہے می اود نہ بی ۔تم بد یکو دح
اذغ بای ہی خی اذا ال کرداس طریڑے جواین ہو پھر دک کے
نُک وَبیْنَه او کا وَلی کیھارےاورج رپس کے درمیان نشی ے
حَمِیْمہ ص02) الَِیْنَ صَبَزُوا گی ری دوست ہے۔ بیغ ی ان ہیکولتی
َمَائلَّقهَا ِا ذُز عَطٍ عَطیْہہ ہے جوضب رکرتے میں اور یہ متقام ا یکو حاصل
(خُم السجدة:۳۵۳۳) بنا سے جو بڑےنھییے دالا ے۔
وو رین جویاشن کے متبودان اف لکو برا چھلا سک ےکی اجازت شر دے اور جھ
کاروقو تکو ای بلند اخلاتی می سے انام دی ےک ینیم دے ٹس سے زیادہ بلندر یکن
یس ہے ا تک پارے مل یہ لزا مکتا یپ عا ےک وہ دظروں 9 می
جذبا تکوئرو ںکتا ے؟!
۰" اسلامی ریاست کے بعض رہ نما اصول
ا ٍ پ کے سماتھ اسسلا ما لئے
قرآن بجید نے مشرکین کے ساتھ ا کاب ]شی یوددنصاریی سےجگی براو
راست خطا بگیا۔ ان سے اسلا مکا ذیادکی عقاکد می بڑکی عدکک اشت راک تھا۔ وہ ال
1 ذات رسول او رآ خر تکو اصولی طور پر مات تے۔ ان کے پا لگوکہآ سا یکتائیں
یں لان ان مل بڑے بپانے ریف وی یت ان کے سے میں اسلام نے
حصب یل دویہافقیارکیا۔
دیاش یق رآ ۓے الع سب پ ایا نکو لازم قرار دا او دکہا کہ ان :7
سے ای کک انا ربھی صر کفر ہے۔اس معاللہ بیس الد کے رسول پچ اور ال ایان
کا موفف ان الفاظہ میس بیان ہواے:
آغی الزّسول با انل ای یں صول ا ایت پہایھان لااسے جوا پراں
وی و_ھ'ے. ےج ےر رپچ طرف بے از للا ادا
وَالمَؤمِنونَ کل آمَنَ باللهِ َمَلَْکیہ کے مان وا ےبھی اس پ4 ایمان لاۓ ہیں۔
وہ وَزسلہ لَ لو بن حد من بیسب ایمان رکتے ہی ال بب اس کےفرشتوں
اور ا ںکی کاوں اور اس کے رسولوں پر اور کتچے
ہی سکم اید کے رسولو ںکو ایک ووسرے سے
(القر۲۸۵:۶) ال کک ںکرۓ۔
ایک کہ اں کے الف رو پلوکٹ رکا روب یترار دیاگیا اوران پبرعذا بآ خرت
کی ویدسنالیگئی ہے۔ ای کے سات ان لو ںکی ستا شک یکئی ہے۔ جو اد کے رسولوں
کے ورمیان فرق و ایا زی کر تے۔ ال دتھالی یس ال کے اج وفواب سے وازےگا۔
رُمْله
الاد ے:
ان الِّْنْ َكُفْرُونْ باللٰ و زُسُلہ و ہے کک ولیک ج اللاوراس کے سولوں کا
ین ان وکا بی الله وَزسلہ و افارکرتے ہیں اد جا ہی ںک الل ابد اں
زذن و صقر ضس کے رو کے دم تفر کریں کے
اسلای رراست کی بش رع قااسرل ا۹
و بن ملا بی ڈلکک می کہ ہم ہف ک مان ہیں اورتف کونہیں
سَِیْلاہ ایک 7 الْكفُْوْنَ 07 مات اورکفرو ایمان کے تچ میں زامن انا
تحضر یں ذو رھ ۔ جا ےی نو نی لک ک ےککاف یں اورنکاڈرین
سای ۔ کے کے اکب رکا
الذِیْنَ آمَنوْا باللهِ َرْسُل وَلَمْ يْفرُقوْا (یں سے پپنگس) ج لیک اللہ اود اس کے
ین اَحَدٍ مَنْهُمْ الیک سُوف رسولوں پ ایھان ےآ اور ان کے درمیان
ھنم اہم وَکحان الله عفرا تفری ین سکی دہ ا نکو ان کا ار ضریر در ےگا
مات (ااضا,:۱۵-۱۵۰) اوران تھورورتیم ے۔
اعلام نے صرف مج یک سکہ ا تھالی کے سارے ہنگجروں پر ایا نکو لا زی
راد دیاء بللہ ان کے پغام ان کی شویتہ اس راہ مل ا نکی چدوچہد اور قرہالیٰ اور
انسانوں کے ساتھ ا نکی بت اور ہدرد یقکخیل سے یی ںکیا۔ ا نکیا یرت پہ کہت
ے را و مزانن ہے اوراض اوقات ان ے ماۓ والول اور ال سے کقیر تکا
یم رنے والوں نے ڈال ر کے تھہ اس نے ا ن کا اذا ہکیا و ا نکی باکٹزہ سیرت اور
ورخثاں روا رکو وا کید ان 71 2 اورتوگی اگ یگوادی 1 اور سولي اکر جک او رآپ
کے واسے سے اٹ ایما نکوا نکی بتائی ہوئی راہ پہ پچ کا عم دیا:
اولیک الَِیْنَ مَدی الله فهُدَا مم ہہ وہ لیک ہیںہ جن نکو ال نے راو ہدایت رکھائی
اقَدِہ (الاضام:۹۰) ہے ۔آپ ا نکیا راہکی یروگ سے
ای رع اسلام نے ان قامآ سای ابو ںکی تم دب یقکی جرخلف اووار مل
ال تال کی طرف سے نازل ہہوثی ری ہیں۔ ان پر ایمان اور ل۲ نکوعقید ہکا جزوقرار
دیا۔ اسلام کے مائنۓ وا ےس ین سک عقیدہ اں وق ت کک متت رنہ ہوگا جب ک کک وہ
سمل وی ورسالت او رآ سای کتابو ںکی تص بی دکرے:
ھا الِّیْنَ آمَُوْا امنُوا بالله و اے وہ لوج ایھان لا بوہ ایمان لاء اللہ ےہ
شوہ نو اینب الَذِئٰ نول عحلٰی ہس کے بہول پہ اعد ا کاب پر جو اس نے
۲۳“ اسلانی ریاست کے مض رہ ٹیا اصول
رَمُوله وَالْکِبِ الَذِیَ انز من قَبْل اپنے صول پر :از لک اود ہرا ںکتاب پر جھ
وَمَنْ تَكْفُرْ باللہ وَمَلیکیہ وَكتبہ وَ اں نے اس سے چیہ ناز لکی٠ جونس ار
رُسُلہ وَالیْوُم الأخرِ قَقَذ صَل صَاداً کنا سے او کاء ال کے فرشتوں کا اس کی
بُعیدا کابیں اور اس کے رسولوں اورآخضرت کے ون
۱ (اشماء:١۳٣) 2 رای یں بہت دورنگ لگیا_
قرآن یرک نقلۂنظر یہ ےکہ اس زشنن پر جن قب رآۓ اورشٹ یکتابیں
نازل ہیں سب نے فو دک ینیم دہ شر کک تردی ہک اود غیمر ال کی عبات و
اطاعت سے کیا۔ اس مفیاد پر اس نے اب لکتاب س ےکہا کہ فےحی دتھارے اور
ہمارے درمیان مشتر لکل ہے۔31 ہم سب لک یں پگل کرس اور اس کے نوا ضے
پر ےکرییں:
: 00801 اے مرکو اے ا لکتاب +57 ایک الک بات
نے ۔۔ ۔ ۔۔ کػ طف ہادے اورتمارے ددمیان ییہاں
022 الله 2 (نسں) تہ وو یک ہم جم کرو
تُشرک بە شَیتا وأ يد بَعَضَنا بَغضاً گے گر صرف ایل کی اور اس سے ساط کس یکو
ور رر مپسہہ
اشْهَدُوْابانامُسْلِمُوْنَّہ قول نکر کہ دوکہگواہ رہوکہ ہم قم م
(ا لی عمران:٣٦) (الٹ کی اطاع ت|کرنے وانے) ہیں-
قرآن ی رکا کوکی ےک گر خدا ہے اود ا کی طرف سے وگ ورسالل تکا
علسملہ ای رہا ہے تو ال کےکتاب الد ہونے سے ائلکا نی سکیا جاسکتاء اس لی ےک دہ
اس سل ہکی خر یکڑی اود اس ہدایت ورونمائ یک ی کیل ہے جو بمیشہ سے و انسالی
کو الد کے رسولوں کے ذر ہج تی ری ے۔ اس کے ساٹ رن نے ال لکتا بک
تریفا تکی نشان دی کی تن و پا لکو ال٣ کفکرکے دکھایاہ ےحیدہ رسالت اور آخر تکا
صاف اور ےآ میزنور بی لکیاء ا نکی دیاداری تیر ریاءاانع کے کیک انرسَاتً اآراا
بای رات کے بعشٹن روٹنا اسول ۳
تھی کگی۔ ان تقام سال بر بط ربق اص نکن اعم دبا:
تُجَادلوا اَل اکب إِل با او ا ِکتاب سے بث نہکروگر ا طریقہ
رن نماراز ئل لی سے جو مر ہے سوائۓ ان لوگوں کے جو ان
هی اَحْسَنْ ِ اللِیْنَ طُلَمُوْا مِنهُمْ و یس الم اور بے انصاف ہیں اورک کہم ایمان
ُولوا امن بالَذِی نول اليَْا وَ انرِلَ رھت ہیں ا ںکتاب پہ جھ ہمار طرف نازل
۱ کی ہے اود ا لکتاب پر جو تھاری طرف
لَيكُم و لها وَالُکُم وَاجِد وَنَخنُ یھ از لکیکئی ہے اور ہجار مبوداورھارا ممبودایک
َەُمُْلِمُوْوَہ (انکبوت:۴۷) ہی ہے اود ہم ای کے مع وفراں پردار ہیں۔
راہب ۓےے پارے می سکیا ال ے زیادہ یرہ او رحتّول رو ےکا تضورکیا
جاکتا ے؟!
9
“۳۴
چباداور ا کے احکام
اسلائی ریاس تکا تو اس کے مان کے نزدیک دور ق رم مکی ایک جنگ جھ
ریاس تکا تضور ہے جج بلنرین ارعانہعزائم تی ے۔ وہ دضروں کےےعقیدہ 2 2
عم لآور ہو اور اۓ قیرہ ون کات پر زبرذقی مل اکرن ےک یکشش کر ےگیا۔ وہ
ا جابرقوت بی نکر ائھر ےگ اور دئیا کے ای 00 9
کے مبخمب انسان کے لیے وی طرح تال تو ل یں ہیکتی۔
ا ںکی دیل یرد جائی ےک اسلام ایک سخ تگیرنظریانی ریاست تائ مکنا
چابتااہے۔ ال کے لیے دو طاقت کے استعال اور چہادکاعلم دبتا ہے۔ جتباد ان رات
کے نزدریک ببہت بی خطرناک اصطلاب ے۔ ىہ ہ رخال فک بزو رشمشیر اسلام بر ور
کرنے اور نہ مانۓ برست مکرد کا نام ے۔
اسلائی ریاس تکا ىہ پوراتقصور ہی ایک ذہنی اشراع ہے۔تقیقت سے ال ں کا
کوئ یل ق نہیں ہے۔ اسلابی راس تکوئی خیالی نیش ہے۔ ا کی تخعیلات رآ ن٠ عد یٹ
اورسیرت بی موجود ہیںہ جار ن ےعھلا ا کا مشاہ ہکیا ہے۔ دنا انل کے احائات
دکید ھی سے ال کے برکات سے فائدہ اٹھا گی سے اور ا بگھی فدہ اٹھا ری ے۔
ا بآ ۓ بہومی ںک کیا اعلائی ریا تی الواٹع دنیا کے لیے خظرہ ے؟
کیا وہ انی ریاست سے جو اپ نکیا تکو طاقت کے پل پر موا ۓگ ؟ کیا جہاد کے
جھاد اور اس کے احکام ۵
نام بر وہ تخل حالت جنگ جاری ےکی اور گی و امان کے لیے ارم تگر عاہت
ہوگی؟ اس نے چچہادکاح مکیوں دیا ے؟ کن حالات میس دیا ےکس کے ساتھ جہاد
رن کاعم دیاے؟
الام فہاد اورخول رڑی کےخغلاف ے
سار بے ىہ بات ئن می مازہ رانا چا ہے اور ہرد تازہ رنفی چابیے
گہاسلام الد پر ایمان صادقق ال ےگری واٹگی اور ا ںکی عپادت و اطا ع تکا نام
ے۔ اس کے ساتھ جور و تحدیء ون خواری اور وتشت و بربریت گی صفا تکولی
مناسٹن نی ںرکھتیں۔ بے تضاد ایصاف یں جویشع نہیں ہوگئیں۔ اعلا مکی ناد جات
تھا ہرے:
ال کہ ای َ ار جاک الله رب ملہچ اکر اورعم دینا سب الد ہی کے لے
علیہ أُذْغُوا رک تَضَرُغَا 0 یت با ارت ہے ال جوسادے ہا ںکا پروررگار
شف و مرو و عو ضس تی لح رپ لوا اع کہ ا
جب ا نی ےار ہیا پا ات
ا ا زین می ا کی اصلاع کا جب فیصلہ ہو چکا ہے
نت خوٰفا و طمعا اِن مت الله ضرادنہ پا اور الکو ڈرکر اور امیر سے پچاردہ ے
قرِیْب من الممحسِی 0 (ومرف:ہہ۔+٥) تک اللکی رصت حسنوں ےقربے۔
الد تا یکی زین می نی وخوں دیزی کا باز ارگ مکرناء نہ وضساد یلا نہ ان
دا گوورتم بر مکرناہ ہرےگھر ےکھیتوں اور افو ںک وہل انا اورآبادیی ںکی سس
کرناء خدا کے ناف مانوں اور دنیاییمتو ں کا کام ہے اس رح کےکردا رکا ایک مہ ذکر
کرتے ہوۓ ارشاد ہو اکہ الد کے فزدیک یہ ایک نالپندرید ہکردار ہے۔ ال سے انسالن
ال کات سےہھروم ہو جاتا ہے:
و نی الا من بک قَوُ فی انسانوں یش کوئی ایا بھی ےک ہج سک بات
لمحیاوة لیا و ال عَلی ما فی دنا کی زندگی مس تھی اھ یگ ہیں اور وہ
ُفسدُوْا فی اض بَغدَ ِصُلاَجھَا رَ
۲ جا زوس کائکا
لب و هُوَاَلَدُ الَْسامہ وَإِذًا تولی ا ولک بات الھک یگوا ہراجا ےہگر
تعی فی الّزصِ لْفْية فٰیھا رَ کس اع .1
- رے ماس سے ) لوا ے لو ز مین میں شاو
يُهُلْک الْعَرْثَ وا الله لا یھ 7
حر 1 رذن ٍ پھیلانےے ححق اورگل انا یکوچ ہمرنے ے
لیک ودوکر ےلت ست۔ اللدضماوگو پنرٹیں
کرتا جب اں ےکا جاتا ےکہ الد سے
جَھَنم و لبئس الَمھَاڈُہ ڈروڈڑ ا ںکا رو رٹ ال ےگناہ پہ با دیا ےد
تہ : )۲۰٣۹-۲۰۳۷ ایس کے ےن مکاٹی ہے اور وہ براشھکانا ے۔
وس ج بتک صلائ وفلاب کے راستہ پرگام زن رہتقی ہیں ا نکی مبلتِ
حیات داز ہوٹی رتقی ہے اود جب وہ ال سے ارا فکرکی ہیں فو اللہ تعا کی طرف
سےا نکی اہ یکا فیصلہ ہو جانا سے اود وہ ملا دی جائی ہیں نو انسالی کا ال جار کو
قرآن یر نے چن نظ الفاظ یش بیا نکر دیا ے:
لوا کان مِنَ القْرُْن بِن َِلِكُمْ جوقورش تم سے پی ری ان مس اییے لوک
کیو ں نہیں موجود رسے جن کے اد جزر کے
اثزات ہوتے اور جو فماد ٹیٰ الال ےم
الَارض الا فیا يَمُن انْجَیتَ مِنْهُم و کرتے۔ ایے لوک بت بج یکم ت ےجتھیں ہم
ات الَدِیْنَ طَلَمُوا ما اَنرِقُوْا فِیّه رَ نے ان توموں میں سے بچا لیا تھا ورنہ جن
کانُوا مُجْرِیینَہ و ما کكانَ بک وگیں نےعل مکی رہ افتارکی دو بی میٹ کے
چیہ بڑے رہے جو میں حاصل تھا اور نھوں
لُک الْئُریٰ بظٔلم و و اَفْلتَ ے جزیا دای زا رب افیاشجان
مُصْیِحُوْنَہ کت کہ دہ ممتیو ںکو نان تا ہکردے ج بک ان
(ہود:٦ااءےا١) کے پاشندے یک رے ہوں-
جن قوموں نے سی اور فسا وکا راستہ انا رکیا ان بہ اللہ تالی کے عذاب
کے تازیانے اس طر برس ےک وو فی زین سے طیست ونابود ہیں اود دا کے لیے
بر تکا سامان ب نکر رہگئیں_ مار ونود اورذ کون یسے جیابرہ اورا نکی شان وو ےکا
یب الْفْسَادہ و إِذَا قَيْل لَهُ اتي
الله اَخَلَنُْ العِرّةُ بالاثم فَحَنْبْ
اُولُوا بَقیَّة یََهَوْنَ - الْفَسَادِ فی
جھاد اور اس کے احکام 2و
ذکرکرتے ہہوے ارشاد ہوا:
لن طفوا فی البکادہ فَاتتَوذاابیسب وہ تھے جنیوں نے اہ مکوں میں مرٹی
ِيْهَا الفْسَادہ فَصَب عَلَیْھم رلک کا دویہانقیارکیا ان ئش بہت ذیاد:ضماد برپاکیا
سوْط عَلذاب٥ ان نشکف کھارےربنے ان پرخذا ب کا کوڑابرمایا۔
لالِْرْصَادِہ (اخمر۱۴-۱) بے شک تحھارار بگحات می لگا ہوا ے۔
اسلام گے نویک قیادت و سیادت کے ائل دہ ہیں جن کے اند رتو اور
خدات ری ہوہ ج اس کے احکام کے پامند ہوں اور جن بس صلا دفلا ںکی طرف رادمای
کیا صلاحیت ہو ۔ ال کے برخلاف جولوک ان صفات سے محردم ہیںہ ال دنیا یل عدود
:ا زند یگزارنا اچ ہیں اود لن میس فساد بر پک رہے ہیں دہ ال قا ل نیس میں
کہا نکیا ابا گی جاۓ اور فما ہکوکھلنے یھو لۓ اور ف روغ اھ کے موا تح فراہم بے
جایں۔ بی بات رت صا علیہ السلا مکی زبالی ان الفاط ج سک یگ ہے۔ دہ ابی
قوم سےککتے ہیں:
فاقوا الله رَ اون ول تَطِيقوا الد سے رد اود جرگ اطاخ کرو اوزر ۓ
مر الْمْسْرفیْنہ الین يُقدوْ بون ولوں سےکم کے چیہ نہ چاوہ و
فی الرْض وَلَا بُصْلِْحُوُْوْہ زشن میں فماد بات ہیں اور اصلائ نی
(اشحرء:۵۱۸۵۰) کرتے۔
اسلام نے فوع انسانٰی کیا صلاح دفلاب کا جس شخدت سےگم دیا اورقاو
للا سے نس زور اورقوت ےمم گیا ہے ا لک ال دنا 72 وستور میں
ڈعونڈڑنے س ےگ شابیدنہ لے۔دہ فلا ک یکوششو ںکوکام بای اورفسادادر بگا کی مسائی
کو نا کاب یکا ذدلیہتراردیتا ہے۔ اس نے انسان کے ذجن ولگ رکو صلاج کا رب دیااوراں
ےکی و لکو خی کی طرف موڑا ہے۔ ا کا جہادیی نپ انسٰی کی فلا و بہبودجی کے
لے ہے۔ اس نے اس وق تمکوار اٹھائی ج بک ہفماد کے ارک بادی ہرطرف جچھاگ٤غء
۹۸ جھاد اور اس کے احکام
عام انسافو ںکو ند افراد اور چندطبقات نے انا خلام بنالمیاء ا نکا ہ رر اتتصالٰ ہ٭نے
اگاہ ا نکوگکر ونظ رکی 1زادبی سے محرد مک دیامگیاء ان بر وصداقت کے دروازے بند
کردہے گے اورصرا تم سے روکے کے لے النا بر ہرطرع کاظلم اور زیادل ہوے
گگی۔ اس چہاوکو دنا کی دوسبی جنگوں پر تا سمش سکیا جاسکتا۔
اس مکا تضور رمک
سی بی ء جس ےکک کی ضرورت ے ےہ وہ ے اسلا مکا تضور نل ۔ گر ._
یں نظرنہ ہو کر شر کی ای مان ے جھ لع دنا ٹس
ہوئی رن میں اود ہر بڑگی جنگ ائۓ یچ نیم ختصانات اور ماب چھوڑ 7
ہ ےک کک ا ںک علای مک نی ہوٹی۔
چک ایک خوف پا کہم سے بخفارات سےگھعریی ہوگی زندگی ہے اس جںش
چان وما لک نتصان ےا بل وعیالء خوش واقارب اورؤن ے دورگی سے از 22
1 ہول نکی سے یم ؛ چٹ اعضاء و جوار کت و بری اورتو نکیا الذالیٰ سے ال
وجہ سے انمان بینگ کےتصودہی سےکھبراتا سے ںان اس کے پاوجوجگیں ہوئی ری
ہیں اور ہوئی تی رہیںگی۔سوالصرف ان کے متقاص رکا ے جگییں + ہو اقزا لک مگیری
اورفرماں رواگ ی کی خوائش اور جذ اتا کےبجتکھی میک ہیں اور ہوئی ہیں۔ ان رے
ماد فی الازش پھلتا اود اہی د ب بای آ تی ہے۔ اس طر حک کسی بھی جک میں شرکت
يا اون الام کے نز یگ انسان یی دنا اور آخرت دوفوں کے لے مباءکن ے۔
اسلام نے بتک کے سلسلے مس دو اقدامات سیے میں: ایک میکہ جن ککو ایک
بہت بی ا و ان مقصد کے مائع بنایا۔ اسے وہ چہاد مل الد سےتحجی رک تا ےی
می وہ جک جوا ش تال یک رضا اوراں کے وی نکی سربلندی کے ےلڑی جائے۔اں
یں نقتصدانات برداش تکرناء زم اور چو ٹکھاناء جان دینا اود مال لٹانا سب جج کا اب
ہے۔اں جن کگکرنے والو کی عزت ون قیر سے مان کے بقا کی ضمانت اور ان
جھاد اور اس کے احکام ۹
کے لیے باعث سریلندکی ہے خداکے ہاں ا کا بے پایاں اج ونذاب ہے۔ فرآن مجید
نے ای چہادٹ یتیل الد کاعم دیا ہے۔ عجکہ کہ ا ںکا ذک کیا ہے۔ یہاں صرف ایک
عالہدیا چا رہاڑے:
20 الِّیْنَ آمنُوا مل اذلکُم عَلی اے وہ لوگو جھایمان لاۓ ہ وکیا بی یں اڑسی
۱ تمیار تکی نشان دد یکروں ج وتکھھیں ورد ناک
7 کت از فی 3 0 اقم عذاب سےنجات دے۔ دہ تم ال رای
تؤمِنوْنَ بالله و رَسُوْلِه و تجَاهدُوْنَ ے کے رسول پہ این رکھو اود الہ کے رات ٹیل
فی سَبِیْلِ الله بأَمُوَالِكُمْ وََفْيِکكُمْ اپنے مالوں اور اپٹی جانوں کے ساتھ جن ککرو۔
و خر رظ و سے ماد یہ وا
زم لم خلت میں بی بوں ہی پر ے رج
تَجْرِیٔ مِنْ تَحْيهَا انز وَمَسكنَ کے ین ضہریں بہت ہیں ادد پاکیزہ مکانات عطا
طََ فَ نٹ غَن ذلک الْفَوْزُ پویس وت باحات مل
007 ۔ یہ سے ڑگ کامیای۔ اور دوسرگی وہ
امہ وَآخریٰ تَجْكَھا نضَر مَنْ .َ چاۓے وو و ۳
الله وخ قیْبِ وَ بیو المومِنین 0 طرف ے نرت اورقریب میں عاصل ہونے
(الف:۱۴-۱۰) وال نال ایما نکوا کی ہثارت سنا دو-
یہ ہے جہادٹی کنل ال٢ اس یں جان و ما لکی بازگی لاک رآ دی ال'دکی
طرف سے مفظرت اور ا ںکی نحقت بجی ابری جنتوں کا خی ہوتا یت تسین
تما یکی مدنازل ہوئی اور ونصرت عطا ہوئی ے۔
چک کے نتصانا تکوکھی اسلام نے نظ راندازنمی کیا ہے:ئیان اس کے ساتھ
نجہاد فی یل اللہ سے سے ان نتصانا تکو اگ زکرنے اود ا راہ کا دٹوار ہی ںکو
برداش تک رن ےک رای تکی ہے۔ این لے ۃکہ مہ جہاد مقاصد تر کے لی ہے۔ اس
فورپ انسالی کی بھلائی ہے۔ ال کے تچ ےس یکم کم امت ش راور فاسد جذ با ت کٹل
ہوتے۔ مکی یقت ال نآ یات مٹش ان ہو ے
٭۲"“۰۰٢ جھاد اور اس کے احکام
تیب عَلَیْكُمْ الْقتَال وَهُوَ کر لع تم برفال (یک)فنل وت
نائپند ہے شایم ایک چ کو ناپن رکرو اور وہ
می : 9+ رر تکھاد ےک ش حور وامین
لكُم وَقَسٰی اه تَجُِوا شی وّهُوَ شر ایک ہچزکو پپن دکرہ اود و نھار ےج یں رگا
لم وَاللة عم نشم موہ ہو الہ جا ےک (ک یحھارےىؾ مز
(0ت۳:٢٢۲) ہے او کیا کہت نیس ہے ) او رق نیس جات
اں می بک سے انسا نکی طبت یگھپراہٹ اور خوف کا بھی کر ے اور ہے
وضاحد تگگیکہ جنگ ت رکا اع بھی کتی سے خر کے لیے ا ںکیمھنیو ںکو برداشت
گنا چاہے۔ ال تھالی کی اطاعحت اورفرہاں بردار نٹ شا 2 سے لیکن ای
سے ودنا اور آخر تک کاما ی یود وا ےکھلن ہیں۔ بی عال ج٠ ک۷ا ہے۔ ایس میں
جان و مال کے خطرات اور نتصانات لو ہیں مین اتا یٰ کے دی نکیا سربلندی اورؤپ
انمالی کی فلا کے لیےگوار اٹھانا اور ال کے لیے جان و مال کے نذرانے یی کرنا
انسا نکی سب سے بی سعادت اور ال تال کی خیش نود یکا بہت بڑا ڈراہ ے۔
اوہ کون نج اص۰ ۓ
الام نے جن ککو چہاد ٹی یل الد بنانے کے سا دوسر! اقدام ىہکیا کہ
نگ پا نکوت یی دی۔ جن کک ای عالت می اجازت دگی ےک ان دامان کے
راۓ بند ہوجانئیں اور سواۓ ہلک ک ےکوی دوسرا رات دکھلا شہ ہو۔ اسلاام ایک
د بی اگوت ے۔ وہ اب لگ رکو عا مکرنا چاہتا ے۔ اکن دابان کے ماحول میں ا پہ
جید:غورکرنے اوراسں کے یلان کے تق امکانات ہیںہ حاات نک میں بیامکانات
کم تر ہو انمیں کیٹ ان لیے اسلام نے ان و امان اور وشن یکو ہی ازفیت وگ
ہے۔ ا لک ہدایت ےک وشن مصسالعت اور جنگ بندکی کے لی ےآ مادہ ہو2 خدا کے
پل روے بر مال تکرل جائۓء کہ 02/)؛ ناش ہو اور ال کے مقصانات سے کچ
جاگے۔ اہام ہگ کے ذیل می ارشاد ے:
جھاد اور اس کے احکام ۲۶۱
وَ ان جَنکُوا لم فان لھا و اکر وہ کی طرف انل ہوں ت ت بھی جس سے
توگل خَلّی اللہ ان مو السمیْعم لے تار ہوجو ادراللہپربھ روس رکھوہ بے کک وہ
الْعِیْمْہ (الانفال:۱٦) نے اور جاۓ والا ے۔
اں ذیگی می یہاں کک فربا ا گیاکہ ٹن اگ رک کے نام پفریب وینا بھی
ےت گبراے اور پراہاںلں ہو ےکی ضرور تکیں ے۔ ال جار زوازیے گار
بہرحال یگ کی بیکش ہو ا ںکا ترمقلع ہونا جاہے:
و اِن ِا أن بھدنھک فان وہ اگرشھیں ج9ا دینا چاہیں (ماکہ ال ممت
خسیأک الله ہمز الد اشک می مزید جک تار یکرگس) 2 تحار
بنصر وَبالْمُوْمِيیْنّہ مد کے لی ےکاٹی ہے۔ ال نے اپتی ممد سے اور
(الانفال:۷۲) موشن کے ذر ینمی ںتقوت پپچائی ہے۔
ىہ ال با تک دینل ہ ےک قرآن ید نے جنگ پم کو تی دی ے۔
جہاں کا امکان ہہو وہاں وہ ا یکو اخقیا رر کا عم دی ہے۔ ال کے ساتھ اس نے
جنگ و کی خزاک تکوچھی سسائ رکھا سے اد کی رکی ہ ےک دیاست اپئی خود دارگی اور
وقا رکا سودا دکرے۔کم زور گل کا اظہا ر /نا افرڈ رک اود و بک ریا کی ورخواس تکرنا
اوراں ے ن2 پاتھ پچھیلانا ایک خود مقار ریاس تک ۶ت وآبرو کے منائی ہے۔ اں
یں منفرمی سکم اکیاے:
فلا تیذا و نوا ای السلم و نشم بی مم زدری ن رھک کی درخواس تکرنے
الغْلَوْنَ اِنْ كُنتُمْ مُومِيیْنَہ (م:۳۵) کگو تم بی سریلندرہو گے اگرم من ہو
اسلام غدا 7 کے جےآزادی چاتاے
اسام غدا ہک نام بے۔ اسے وہ وب اضالی کی ظاں وکام رای کا وامر
ذری رتا ہے۔ ا یکا دہ دن اکوضگوت دیتا ہے۔ اس کے لیے دہ وت ون اور ایام و
تیم کے ذرائع اخقا رکرتا ہے۔ زور زیرذقی باج کے ذر یچ اپنے خیالا تکوملینٗش
۲۴ جھاد اور اس کے احکام
گت بللہ اے وہ اروا اور لیا ٹرار ویا ے۔ الب وہ چاہتا ےک ہفص کے قول
گے او انی نے مطالقی زگ یرت اوک لکن ےکی ٹڈ دی عافلل جہوں لن :راہ
می سکوئی رکاوٹ نہ ہو۔ اس ل ےک ہعقید ہکی آزادکی انسا نکا بیادیی اود فطرکی تن ے_
اس کے ا لف سے اسے محر مکرنا تین اض م ے۔ اسلام نے ای وقت جہادکیا
ج بکرااسں کے ماتۓ والوں کے ا سج نکیل کیو کیااک دہ ال بایان لاٗیں اور
ا لک ہایات پیش لکریں۔
ری عرب نے مسلمانو ںکوعتقیر کی آزاد نہیں دی
اسلا مکی ایتائی جار ھی یہ ےک جن لوکوں نے اسےقیو کیا ال کہ ان
کے جالی جن بہوگئے اوران بی ناتقائل برداشت مظالم قڈڑے جانے گے اس سے ہین
کے سے بت سے افرادکو اپناگھریار اود ون چھوڑنا پا اورع کی طرف نجر ت کی
پی۔ عالات ای مت می تی ڑکیا سے آ گے بڑھ رسے تہ بیہاں م کک لحوذ پانٹد
0 .-.-7 کے مصوے تار ہونے گے اسی ااشیش ائل مین کے تمائترویں
نے نام تی سے اسسلام قجو لکیا۔ ا نکی گت پر سول اکا نے رید اجرت فراگی۔
جلدی مرینکیتقر یبا پدٹی آ بادی اسلام کے دائرے می ںآ گئی۔ ا بآ پ کے ساتھیوں
ن بھی مدبینکا در کیا اور ماجریی نکا بے سروسامان قافلہ رین میش گم ہونے لگا۔ سے
جن حالات 0 ون ےہ مار نے ا کا ریکار ڈکفو اکر رکھا ہے۔ یہاں ال
کا حاننی دیا جا را ہے۔ قرآن مجید نے بھی ملف موا تع پر ا لک تو رش یکی ہے۔
بہتارںن سے زیادہمتند ے۔ ال سے زیاد تج تو کی اورک یں ہکتی۔ یہا ںلبٹض
افقاسات یی بے جا رسے ہیں۔ رسول الل ہچ کے ساتھ الن کے چارعاثہ روہ اود
:ا پک عزائمک بیان ایک کہ چدانطوں میس ہوا ےکن وی جار ان کے اندرسٹ
ک آکئی ے:
جھاد اور اس کے احکام اق
وَ اذ - بک ہے کفرُوا باکرو ال وق تکو ج بک وہ لوک جخھوں نے
ا 3 وک َو ان ا 7 کف رکا راستتہ انققیا کیا تحھدارے خلاف تو ہی رب
تک لُ 7 کررے تھک میں قیدکردیں بات یکردیں یا
بُْرجُو وَيمكرزیَرَبَنگُرا یں یہاں سے نال دیں۔ دہ اتی چال ل
وَالله عَيْر المْکریّہ رسے تے اور اد اپٹیتھ برک دہ تھا اور الد سب
(الانال:۰٠) سے پت نلج کرنے والا ے۔
ایک دوسا بیان ملا نظ ہو۔ خطاب منافشن سے ہے:
1 تتَصرُوْهُ فَقَذ َصَرَةْ الله اذ گرم رسو لکی حدد :کرو گے (ن کوئی برا نل٠
7 ٍ00" اللہ ا گی مددکرےگا) الد نے ا لی اں
خرَجَة اللِیْنْ کفرو تھا نین“ وت مدکی ہے ج بک رکف رکرنے والیں نے
مُمَ فی الغارِ 3 یُقوُل لصاحبه لا زے ّن سے نکال دیا تھاء ج کہ وہ دو ٹن
تخزن ان الل مت فان اللۂ سے ایک تا ج بک دوفوں غار می اہ سے
ہوئۓ تھے اور دہ اپنے ساگا ےکم دہ تھاکہ
: مم ندکروہ الد ہمارے ساتھ ہے۔ میں الد نے
وَ جَعَل کَلِمَة ال كفوذا الشفلی اس پ انی طرف سےسون نازل فرماا اوداىیے
وَکَلِمَة اللہ ھی الْلی وادل ع نپ مشکروں سے ا سک مد تم نےکہیں
اد : دیکھا او رکف مکرنے والوں کے کو پس تکر دیا
ہیمہ اور ال" کالہ تو پمیشہ بلند ہی رہتا ے۔ اللد
(امپد:۰٣) ذالب اورکمت والا ے۔
رسوگل الیل کے اصوا بکو جن نہر ٥مگداز عالات سےگزدنا ڑا ا یکا کر
سَکَيتتَة عَليیْه وه بکُُوْدِلمْترزمَا
ان اللفاظ مل ے:
ےے لا اتل : کم 7 وہ الد کے رسو لیکو او رکھیں (اے مسلائو!)
۱ ۱ اپنےگھعروں سے بای ر ہے ہیں (حض) ا وجہ
تؤمنوّا بالله رَبكُم ×× ڈائت ۷ ےکن اللہ پرایمان رت ہو جونھارارب ہے۔
....فَالَدِیْنَ ت>اجَزا وَ روا سن ...ہیں وو لیگ جخوں نے :بجر تک اور جو اپنے
رہم وَأوهوا فی سَبیْلی و قَاَوا گھریں سے بھالے گے اورتھیں میرے راس
۲۰۰۴ جھاد اور اس کے احکام
فلا لکن عَنهُمْ سَیْنَِهمْ پا سر موم
ور ا و ُ
دو خرن زی اد داسف راہ
اھر َوابا معن اللہ اه ند نی کین ا وو
حُسْنْ الغواب کی جاب سے اود الد کے پا مبخرین اج و
(آ ل عران:۱۹۵) شاب ے۔
اصوالیي نے کا ذکرکرۓے سے
للْفقراءِ الهجرِییَ لی أُنھر جوا می .... ئن اموالل مان ماع اور اداد ماجرین کا
۱ سے اور اما
اریم وَموَاِهمَ کون ضْلاً قن ا اوراں >2
الله وَرِصٰوَانً وَیْصْروْ اللهَوَرَمْرْلَه ات ہیں اور ال اور اس کے رسو لکی نصر تکر
ولیک ہُم الضيِکُزنہ (اشر:۸) سے ہیں مہ ہیں اپنے ایمان یش صادتی۔
خرآن ئجید کے الن بیانات ے ان عالا تکا انداز ہکیا جاستا ہے جن سے
ال اما نمکہ مل اگزررے تے۔
ینہک اسلائی ریاست پر چارعائ لو کا جواپ دیاگیا
رت کے بععد مھ بیندکی بچوٹی میا تی نے ایک ریا تکی شکل اختیا کر
اور الا مکی نعلیمات پل ہونے ا ینس ای بیاد 2ئ ریاست اسلا می
بنیادوں پرتائم ے اور وپال اش تعا ی 71 عبادت و اطاعت اور ال کے امام 722 زای
ہے نکی ور سے مش رکیل ن کہ اس کے پلنین حریف بن گے اود ا ےش مککرن ےکی
کیشش شر عکردی۔ یہ سے وہ یں منظرینس می ال کہ سے چہادکی اجازت د گی
او کہا گیا مسلمانو ںکواب بیقنی عاصصل ےک دہ ںاو ڑگ ل6 جاب دی اوراپا
دفا غ کر یں:
أُوْنَ ِلكِينَ اکن بانم ظلمُوا و اجانت دے د گنی (جہادکی) ان لوگو ںکوجن
ِنّ الله عَلٰی رَ نضرِھمم لقدِيْرّہ الَذِیْنَ کےخلاف جن کک جادعی ہے اس ل کہ ان
جھاد اور اس کے احکام ۲۵
أحْرجُو مِنِْیَارِهغ بغَیْرِ حَقإِلا اَنٔ لم ہا ہے اور بے شک الا نکی مد اور
ہے۔ می دہ لیگ ہیں جو ناف اپ ےگھریں سے
ُهُولَوْا رَبَّا الله ثال دی گے ءجض اس وجہ س ےک وہ کے
(]:صسمم) کہ مارارب الڈے۔
رٹم کےغلاف اقدامات کے نتییہ میس جن بدد ہوئی اود جنگ اعد ہوئی۔
نگ بدد یش مسلمان خااب رہے اود جنگ اعد یں لس ت کا دم برواشت
کرنا پڑا۔ ال کے دو ہی سال بعد جن احزاب ہولیء جس میں بیود کے اکسمانے بے
آئس پاس کےعرب تا لکوساتھ نےکرمشرکی نک ممللت مدریہ پرعملہآ ور ہوگے۔ ال
ہمہ جبت اور کا ساں ق رن نے ان الفاظط مم سکیا ے:
سرت اکر اس وق تکو جب دنن تم پہ بچڑھھ آے
: 1 3 اعت البْصَارُ رَ ٴبَلَقَت تھھارے اوپہ ےگ اور یچ سے بھی اور جب
06000 ثاہیں پچھران ےکی اور کیج منہکوآ نے گے اور
.0تت تم ال کے بارے میں طرح طر کے خیل
الْْوْنَہ مُنالک ابْلی الْمُوْمِنُوْنَ کرنے گے۔ ان وقت ایھان وانے خّت
وَ لوا زِْرَالاً شَدِيْدَاہ وذ یَقُوْلُ آزرانشی س ےگزرے اود بوگا ط رع پلا ارے
لب گئے۔ بجی وقت تاج بک منافتوں نے اور ان
الْمٰفْقوْ ال
7 ین فی فُلْرِْھم لوڑیں نے زی کے رنلوں ین رک خ تھا کے
مُرَض متا وَعَدَنا الله رَسُوله ا نافرایای ك رع لا نے ہم سے جو
غُرُوْرا (اا7اب:١٠-٢٣) وعدءکیا تھا دہ س بج ایک فرب تھا۔
کیہ پرمش رکا نکا ناجائز بح
مرک نککہ نے ملمانوں کے ساتھ لم ردارکھا دہ انساعیت کے پچ( پہ بڑنما
دا ہے۔ اسے دنا کاکوئی تقانون جائ یں قراردےمکتا۔ دوسرکی طر فک اللہ پان
کا ضہ فاصبان تھا قرآن ید نے ضصل سے تا یاکرحرت ابرائیم علیہ اللامء جوکعبہ
کے بای تھے جن کے اتھوں ا کا ینزو کشا دہف داع کے پنتارفوداڑحد
۲٢٢ جولد اون ای کے احکام
کےیلم بردار تہ دہ زندگی ورشرک سےلڑتے رہہ ال کے لے مخت ا یں برداشت
یں ورنگیفیں اٹھائیںہ بن سے دور اپٹی اولادکو لاک اس ب ےب وگیاہ داوئی ٹل
آ پاکیا عبت الل کو تذ یکا رکز نایا ین ال مہ نے جج ن کا حضرت ابرائیم علیہ الام
سے برا راست ضل یملق تھاہ ان کے وریِ فوحی دکو ھلا دیاہ ان کی تامات فرام ول
روس اورشرک میں مجنا ہگن ہکعبتۃ ایل ہک بت نہ یس تبدی لک دیا اود ال پہ اپنا
قبحض او رتسلط قائ مکرلیا۔
سنہ ھھ میں رسول الد اد رآپ کے ساتھیوں نے نخان ہکعب کا زیادت
ککرنی چائی تق انھوں نے روک دیا۔ رسول ال یھ نے ان سے کی اود وس سسالی کے
لیے الع سے ناجنک معاہد ہکیاء ین جلد ہی اسے اھوں نے نوڑ دیا۔ ان کے ال إپرے
روہ ۓے اں پا تکا جواز فراہ مک دیاک ہکعبت الله پ ے ا ن کا اجچائز یش مکر دا
جائے۔ نے ال لکا راہ پھوا رگردگٴ اور وہ ازس سمارے عا مکا مرک زفوحیری نگیا۔
مین کا ا
قرآن می نے مشرکین عرب اور دوسروں کے دیمیان فر کیا ہے۔ مین
سے ای نے ہراو راست خطا بکیا شر ککا بے بیاد ہونا ان بر شاب تک دبا یں تحید
کی وت دئی اور اس کےجن میس ناقائل تردید دلال فراھم سیے۔ ان کے درمیان
رسول ال یچ ھکی بعشت ہوئی ۔آپ نے ہربپبلو سے ان پر جت تھا مکردیا۔ جب ال
7 بی ںکی طول وز گی کنا شیا اب رک اسام لازا کت کے پاگ
ہوگاء اں میک یکوشرک 2 ر ےک اهازت نہ وہ وہ کو وحی رکوقو لکرے
ورنہ اسلائی ریاست ای سے چھادکر ےگء اس کے ل ےکوگی تیسرا راس یں ہے۔
مشریین عرب سے جک سے پیل ان کے مواہرےمنسوخ سے گنےء باقاعدہ
الال جن گکیاگیاہءآھیں جار ما ہک ہلت دگئیء یں کے بعد چک ہوگی یلاس سالے کے
ا سکیل سور ویش موجودے۔
جھاد اور اس کے احکام
۲۰١٤
بن اام یہاں نی سے جارہے ہیں .یں بی میں منظرمیں د یھنا چاپیے حم ہے:
و قَابلٰا فی سَبِيْلِ الله الَذِیْنَ وو ےغرجاںی کی عو
بقَالِلْنكُمْ وَلَ تَعْتَدُوْا إِٗ الله ل٣
بُجحبٔ الْمعَدِینَہ و اُلَزهُمْ عَیْكُ
َففُمُوْهُمْ و اَحْرِخُونھم مَنْ عَْتٌ
اَخْرَجْوكُمْ وَالْيِنَة اَفْة من الْقَعلِ وَ
قرع عِْد الْمَسُجدِ الّحرَام
ختی فلوم فْه فان َاتَلُوْكُم
الم لک جَزاَ اریہ
ان اَهَزْا فان الله عَقوز رَحِْمْہ
و فایلزعُمْ عٌَی لا کون فَْنََ رَ
َو الدِییُ لِله فان انَھَزا فَاَ
غُدُوَانَ ِل عَلی الظَلِمیْنَہ
(لت۱1۹۰:2-(٣۱۹)
پ> ےلاڑبے یں اور ٹیادل واریو۔ رای
اللہ زیادث یکمرنے ول ںکا پنرٹیں کر .یں
و ہا ںی پ3 گیل وبال سے (کمہ
ے) نال دہ جہاں سے میں ن یں الا
ناد فی ےب زیادہ شدید نز ہے۔ سد
عمام کے پالکی النا سے جنگ ش کرو جب کپ
کہ دہ خودقم سے جنگ تہکریں۔ اگر دوقم سے
لڑائی یٹ یں ق میق کر سے ہو۔ سے
کافروں کا می بدلہ ہے۔ اکر وہ ینگ سے پاز
آ جائمیں تو تم بھی ہاتھ روک لو۔ بے تک الد
بڑا محا فکمرنے والا اور مکرنے والا ے۔ ان
سے جنگ جادکی دکھو یہاں ک کک فتنہ بائی نہ
رہے اود دین الد کے لے ہوجائے۔ اگر دہ باز
1آ جامیں ف یاد رکھ کہ ظالموں کے سواکی پر
نادل روا ہیں ے۔
بآ بات ایک الک صصورت عاللی سے بب کی ہیں ج بکہ اسلائی ریاصت
عالت جنگ سے دوچار ہے اورمیدان جک میں اسے اپنا فن اداکرنا ہے۔ بیہاںی چھ
ہدایات د گن ہیں ا ن کا خلاصہ ىہ ےکہ جنگ ان س ےکا جاۓ جوگا جن کک رے
ہیں۔ جب جنگ جچٹری ہوئی ہے فو دن پہ دوارکرنے می ںکوئی یں وی اود حا نہیں
بنا جا ہے۔ جہا ںی ںبھی اس برقابو حاصل ہوا تبرت کا نے ال یگ و
ایک جی شردرت ےہ اں کے اھ پک بی یں چاسق. ا یں ق کٹ کہ
انما نکی جن بڑی ھت ہے کیک جان لیا بہت برک چز ہے؛مکن ال سے بلق چچز
۲۰۸ جھاد اور اس کے احکام
نفننے۔ ہہ جنگ ای فتنہ کے خلاف لڑی جا ردی ہے فتہ یہ ےک ہآ دی یکو ائسں کے
یر تام رپے نہ درا جاۓ اورنخضل اں سےعقیر دی وج سے اعم وت مک نقا2ر
نا جاے۔ بر ملین ای کا انا بک رسہے ہیں۔ ا بنھارے لیے روا ےک بس
رع ھوں نے بجی کہ سے بجر تکرنے پ جو رکیا تھا ای طرح تم بھی یس دہاں
سے مکی ددہ ناک سے سرزشٹن ال واعرکی اطاعت کے لے اص بموجاۓ اور مان کب کی
تقیرینس پاک مقصد کے لے ہو یی وہ پودا ہو۔ یہ الل کا عکھ ہے ا ںکا انرام ضروری
ہے۔ عاات جنگ م لبھی مہ اضزام بات رہنا چابیے۔ جب کک نشین ال کے عدود ٹش
ج ہے
بتک ن شرو ںعکرے اس وقت م کت بھی جک سےمنار ہش رہو تار ی طرف سے
یقت یر ہو۔ ال اگر وہ عددوض کا گی ال د فاظ ندککرے اور اس میں جنگ پیر
دے تو شسھیں جواب رٹ کات عائ٥ل ہے۔ یہ جنگ اس وق ت کک جاری رکھو جب
کک فتنہکی کفا زہ ہوجاے اور زشان پر الل تال کی اطاعت نہ ہونے گے
ان اکا مکاتق خاش مش رین عرب سے ہے۔ اس سلسلہ کے اور الا مکبھی
ہیں۔ اسلام کےقوائین جک وی پفورکرتے وت ىہ بات یی ل ارت چا ےکہان
میں ےکن مو رکاتھلق خائ مشرلین عرب سے سے اود د ہولع سے احکام و ہدایات
ہیں جوعموی نوحیت کے عائل ہیں۔ ہہ ایک حقیقت ےکہ اس رح کےعمویی اکام
ملین عرب سے بتک کے سللل می ںبھی موجود ہیں۔ آنی سیاق دسباق سے تبھا
جاسکنا ے۔ جہادیرکغنگوکرتے ہو اس پپہلوک وبھی سا درکھنا ہوگا۔
الا ی ریاس تکا دفأ او رتڑظا ضروری سے
دنا کی ہرریاص تک طرر الا لق ریاس تکی گی ذمہداری ےک دہ اپ
نا ا رخئ اک طرف وج دے اور ا ںکا اما مکرے۔ اسلائی ریاست پراگر گل
مل اکردیی جاۓ اور اسے ال تعالٰٰ کے احکام دفوافین کے جح زندگ یپ کرنے سے
جھاد اور اس کے احکام بح
روک کیکیشش ہونے گے نے اسلائی ریاست ا لکا مقالل ہکرس ےگی۔عخالف و یں ایک
ہوک اس مٹانے پنل جائیں نو ووبھی متید ہوکر ا ںکا اب گا۔ظم ے:
وَقَانلوا المشْرکیْن کحاف٤ کا رین تم سب لکرلڑو جیب اک وہ سب
انم تال َاخلمُوا ا اللة عم کر سےلڑ رے ہیں اور جان لوک اتی
الْمَقیْنہ (التوپ )۳٣: افخقیارکرنے والوں کے ساتھ ے۔
اسلائی ریاست مخالف تونوں سے بے رغفل تکی ین ننس نو ےکی
ای طاظ ت کا ساما نکر ےگی۔ وشن ساز وسامانی سےلیس سے ذ دو بھی اپنی تار
جار رجھگی۔ وو جگی اط ے مضوط بوگی و الف توتں جو ساۓے یں ان ری
اور ہیں دہ یں ان ری وعال بی اور وہ ال بر مل ہآور ہو ےکی آوست ا
کبکیں گ ئن پر جس ماب اور دوات صرف ہی ا ںکا پر ات وڈ بکل ات گے
روز خداکے ہاں یل ےگا:
وَاَیِدُوْا لَهُمْ ما اسُمَطَعْتْمْ مَن قُوَو رٗ ان کے تقاٹے کے یہ جہاں تک تم سے
ہت و .ےس بجوگے ل(ہگی) قت (لرا مآر-)ًاورسدھاۓ
ی بط الخیْلِ تََهِبِوْنَ به غذو ہو ۓےکھوڑے تیارکروہ ٹس کے ذر بیج تم الد
الله وَ ڈوم وآحری من ذونهمم ہے رش نکواوراپنے رش نکوخوف زددکر“۔ یں
لا تَعلمْوْنهُم الله َعْلَمهُم وَمَا تنفْقُوٰا کے علادہ دوروں پربھ یں تم نیس جات اور
ہآ رہ رق دی وہ ال جات جہھارارعب قائم رہے سم الشدکی
اك ۱
ِنْ شٗء فٰیٗ سَبيْلِ الله يك اِلیکُمْ راہ ٹش جو بھی خر کرو گےء اللد تھا یٰ ا کا
وَالتُملأَتطْلمُوْيْہ (الانقال:*۹) پا پہرا بدلہ د ےگا اورتم پرکوئیعلم نہ ہوگا۔
اس میں جنگ کے لے وجہ جواز یی یکہ ہا لق تس طاخو تک پرچم اٹھاۓے
ری ہیں اور قکوصف زین سے ما دینا چاہقی ہیں۔ اس کے مقابلہ یش ابی ایمان
گیا جن ک عق وصداقق تکی راہ بس ہے۔ ہہ جہاد ٹ یتیل اش ے۔ اس می اللد کے
پر ےکی ال مفاد کے لی ےکڑیںء لہ اھ کے دی نکی سریلندی کے لیے جانع دے
۲۰ جھاد اور اس کے احکام
رہے ہیں ا لیے ال کا دعدہ س ےکہ دہکاصیاب ہوں گے اور پاش لکی سارگی تمہ ری
ناکام ہوں گی
لی موا ا فی سیل الہ و جو نگ ابھان لائے میں دہ ال کے راست می
لف رذ یھ مل زوا ے بین ےی
الطاغٰرٰتِ فَقَابِلوْا اوليَءَ الشٔطنِ ال ںان کے۔رتھیوں سےلڑوہ بے تنک شیطان
کَيْد الشّیْطن کان صَعِيْقات (ض:۷ء) کک تمرم زیردے۔
ہیک و
اسلام نے جنگ کے جوضاي لے بیان یے ہیںہ حالتِ جک می٠ ج بک دنیا
جن و نات کو پمول چائی ےشن اصول وقوانی نک پابند نایا سے اور مین ماذ جنگ پ جن
اخلاقی اق ارک یگمہ داش تک ہدای تک ہےہ وہ دنیا کے قوائین می ایک بےکظبر اضافہ
ہے۔ ذیل میں ان اصول ,۵ئ قذروضاخ ت کنل ہوگ۔
نگ ان ےک جاۓ جو یما جک میں حصہ نے رہے ہیں اود ہرطرع کے
لم وتندبی ے زا زکیا جائے۔ جولیک جک میس مو نیس ہیں ان سےتتنش نکیا
جاۓ اور شی آبادییں پر لے نہ ہوں۔ غی فی علاقو کو نشانہ بناناء عورتں ہچوں٠
بوڑتول اورمعذرورو ںکو رف بناا ہنیس ہے۔ جنگ الل ال یکا رضا اور ای کے دب
1 سریانری کے لے ہواور اں کے سا تج کوئی دنیوی خرن وابستت نہ ہو۔ بر سارگ ہاٹل
ان چند الفاظ ی لک یی ہیں:
و قَائِلوٰا فی سَِیْل الله الین اوراللد کے راستہ میں رو ان لوگیں سے جوتم
بقانم و ل لوا اللہ لا ےلڑے ہیں عم داد کر ےکک
يُحبُ الْمْعحَییْیَہ (الیقر7:+۱۹) الل تعاکی زیاد یکرنے والو ںک نان دکتا ے-
علآمہ الو امحود اس آ بی تکی تقر یش فرماتے ہی ںک اد کے رات میں
جن کفکرو کا مطلب بی ےک اید کے دی نکوس ربلن ھکر نے اوران کے کو اون اکرنے
جھاد اور اس کے احکام ۲٢۷
کے لیے چمادکرو اس کےس و ھا راکوئی دصر مترن ہو_'زادلی ش کرو سے راب ہے
کہ جنگ خود سے نہ شرو عکروہ جوش٠ٹ ستھارےعبدو ان ٹش سے ال سے 07
او دی نکی وت دے لق ری اتک حملہ کرد متتولی نکا لہ اورا نکی اش ںکی
بے تی نکروہ عورئیںء چے اوران ےم زوداننائوں ےئل ےشیش کیا گیا
ہے ا کا ااب شکروت
رسول الل پک کے ارشاوات میں ا سکیتفصبیل موجود ہے۔ حر تعبلرانقد ب نگ
7 روایت ے:
نھلی عن قتل النساء و الصبیانگ آ بے وقوں اودبچوں کی سےئن فریا
ا ں کا پیں منظ رحضرت عبد اود جن گر یہ ان فرماتے ہی ںکہ ایک غزدہ شس
دریکھا یا ک الف کیم پک ایک عورتانل ہی ہے ۔آپ نے ا ھک تک نان کیا
اورگورتڑل اور گوں 0922 سح فرمایات
حضرت بری کی روایت ےکہ ول الین کوئی اکر روانہ فرماتے تو اں
کے ام رکوخاص طور رق کی اور ان مسلرانوں کے ساتھ خی رخواہ کی نیعت فرماتے جچھ
ہیک میں شیک اورائسں کے مائت ہیں۔ اس کے بعد فرمائے:
۱ کے و ال' دکا نا الد کے راسنتہ ہیں جننک کرو
سے نو رر ی۔ سس سوہ ہو ورپ
من کفر بالله اغزوا ولا تغلوا و لا ے۔لڑوہ خیات نرکروہ دوکا اورفریب تہ دہ
اولسعو و زتخیرارشاواتفلاسلیم الی میا ککتاب گرم علی بائض ارازق: ۸۵/۳۴
بفارگیکناب الجہادہ ابی النساء ف لھرب۔ ب یم اس صورت ٹس سے ج بک۔عورت پاقاعدہ
ینگ می شریک نہ ہوہ لیکن اکر وہ قیاد تک درد ہے یا حملہآدر ہے نے ال کا جاب دیا جائۓ گا۔
(راب:۵۲۲/۲)
ا مل م کاب المہاد داسیرء با بتری کی النساء والصبیان۔ ابوداقد کاب اجہادہ باب تل
النماء۔ ت ری ءکتاب الر یاب ماجاء فی انی ع نٹ التساء واصبیان-
۲۳ جھاد اور اس کے احکام
تغدروا ولا تمتّلوا ولا تقعلوا ولیڈال* سس اش کا لہ نہکرداودی پیرٹکل ندکرو-
حضرت ا کی ایک روایت ین اک ہایت ان الفاظ نل ہوئی ہیں:
انطلقوا باسم الله و بالله و علٰی ملة جا ا رکا نام ل ےکرہ الل دی حدد چا ہوئۓے
سے س۷ اورالل کے وی کے طریقہ پگ لکرتے
رمرل الله ولا سا یقافو ہے نل سک لی شی وا کسی کی
ولا طفلاً ولا صغیرًا ولا امرأة ولا ای ری حا
بی 0 ستیں جع کروہ اہن معاملات ٹھیک رکھو اور
سس سس میں ہی صن لو کرو اشقال 20] والیں
و احسنوا ان الله یحب ا حسنین سےعب تکمتا ے۔
حخرت الک نے ضرت بیزی بن ابو فیا کی قیات مس شک روانہ ف مایا تذ
آئیں برای تفر اگی:
الگ ستجذ لَوَهًَا وَغموا انھم ” شی اہے لیک لیس کے ج ہیں ےک انھوں
نے خودکو الد تال یی عبادت یں لگا رکھا لے
ان (راہبوں) سے تعرس م تکرو۔ ان کے ال
ےس اف انھم جو انفسھم وگ یکو مان لوہ وہ ال کی عبات ن گے
و ستجد قوما فحصوا عن اوساط ہوۓ ہیں ت٠یں ای ایک بھی میں گے
رؤوسھم من الشعر فاضرب ما بجتھوں نے اپے سرک ورمیالی صے منڈوا رھ
فحصوا عده بالسّیف و انی موصیک ہیں گے۔ ان کے سر مکردو۔ میں میں یں
بات ںکی شی تلکتا ہوں: نیع تک
رون2 شا رؤا ضا فک را پاب تال ہن
کبیڑا رما ولا سس لٹا کسی پل وانے ورض تک پگ مت ارہ اور
ولا تخربن عامرٌّا ولا تعقرن شاۃ سی تاپ کاشت زی نکوخراب مم تکروکی
مسلم کاب الجہاد ولسبرہ باب :]می الامام الامرا می البحوث اغ۔ ابوداقد کتاب الجہادہ باب لی
دعاء امش رک/ رین ت نکی تاب السیر ہاب باجاء لٗ وصیۃ لٗ اتققال
اداد کاب الجہاد باب ڈی دعاء امش کین
حیَسُْا انفّھم لِله فذرھم وما
جھاد اور اس کے احکام اك
ولاً بعیرٌا إِلّا لماکلة ولا تحرقن . مکی یا اون فکو سوائۓےلی ای ضرورت
ا ہرگز شہ دک یمکھیو ںکو جا مت
1 ڈالو ای منضش رت کرو خیاقت نہ و اور بد ی
تجبن,-٭> نہ کھا1
ثہ دلما2_
یہاں اں سے بن ٹ نیں س ےکہ جن ککن لوکویں ےک یگئی اود اس کے
اسبا بکیا تھے۔ صرف دنا ىہ سےکہ الام نے عالمتہ نگ می ںبچھ یکس قرر ال
غا ق ٣م دکی ے اور از ج جنگ پگ انضامی تکاکتا اترام اتی رھا ے؟
موججودہ دور میں ہم ار طیاروںء راکوں اور چد یا تی 0700 اببیاد
نے ہن ک کا قش ہرل دیڑے۔ اپ نک صرف از جک کک مدوڑہیں ہوئی,ء ہلل ور
دورت ککئیل جا ہے۔ جنگ بھٹرتے ہی اس با تک کوٹ ہوی ےک ہش نکومعاٹی
اط سے تاہکہ دیا جاۓ کا ران اور پیٹ ال ش مکردگی جانمیںہ دفائی ضعتو ںکو ہرف
بنایا جائےۓ ٠ مل ونفقل اورمواصلات کے ذرائح اکادہکردیے جائیں۔ بے سادا چچ ڑل
موم مھاذ جنگ ے دور اورشرکی آ بادیوں سے قریب ہوئی تی ہیں۔ ان لو ںکی زریں
جب ۶یآ بادیاں آلی ہیں تذ مرد ئورٹ٠ جوان: بوڑھھہ جج سب بی ایاز سے ان
تحسلاً ولاً تفرقه ولا تغلل ولا
لے موطاامام ماک ہکتاب الہادہ ہاب نمی عنفل الساء والوالران فی الغز۔ نصارگیٰ کے جو سردار ال
زمانہ ٹس س رکا درمیالی حصہ صاف رکتے تے ھی شقا کہا جاتا تھا۔ زرقالی علیٰ الموطا: ۲۹۵/۳
پالی دہ دنیا دارسردار تھے جو رہب کا لبادہ اوڑھے رت تھے ۔کہا گیا کہ راہیوں سے تو تح مت
کروی الب ان دیاٍستوں امت ٹچھوڑو_
ان تقلیدات کے یی نظ فقہاء ن ےکہا ےک رت :تا الی اہ اندھے اور راہب پ میدان
ینگ میں بات نیس اٹھایا جاۓ گا۔ ہاں اگر دہ جنگ میں براو رات حصہ لی یا محعاوخ تکرمس تو
مارے جاسکتے ہیں ۔تفیل کے لیے ملاحظہ ہو: ابین قذر امہ فی : ۱۳ /٭ ۱۴ء۱ م۱۔ اگ وشن ا کم زور
طقا کو ڈھال بناکر تی یی ما نکوآ ےکر کےکوئی جھگی چال چلنا چا فو ا کا جواب شرور
دما جا ۓگا۔ ای طرں عورتل اور تچ وی ری موی کی زد می لآ ای نز تی وی ہوگی۔
(ائین راب ا اس 0 ,0)
''۲۲ جھاد اور اس کے احکام
کا نشانہ نے ہیں اور مو ت کی یدرس جاتے ہیں اور جھ بے جاتے ہیں وہ زہرلے
تھیاروں کے استعال سے ارات سے مفوننڑیں رج جسمان یہ داٹی اور نضیای
امرش کا تنس اوقات اس طرح شکار ہوجاتے ہی ںکمہ ا نکی رق ہت کاپ
ہوعای ے۔
اگ روغ انمالی سے ساتھ ہجدردیی ہو اور جن ککا بج یکوکی ضابطہ ہو اں سے
من عدتک چا جاسکتا ہے۔ اس سال میں صض ٹین الاقوائی قواخی نبھی ہیں ء7 تندہ اس
رع کے اورقو انی نبھی شع بے جاسکتے ہیں۔ عام انمانی آبادی یکی طاظت کے لیے جو
بھی توائین جع سے جانئیں وہ الام کے تو این جک کے مین مطابق ہیں کے اورھیں
اسلا مکی تائخیر عاصل ہوگی۔
1
۲۱۵
زمیوں سےمقوق
اسلائی ریاس تک خی سلم رعا کو ذئی کہا جاتا ہے۔ اس اصطلا کو ال رر
کیا گیا اود بھیاکک بنا دیا گیا ےکہ ال کے زبان بہ کت بی مظھلوئی او رحکوئیء
ھردئی اور ججبوری اور ذات وروالی کا تقو اکر گتا ے۔ یہاں ال٢ برا زاست
تر دیدکی کہ اسطائی ریاست می ذ کیب حیثیت وائ مرن ےک کوٹ کا جا ےگی۔
ال ےجود ود نے با ھکر سا ےآ جات ۓگ کہ یہ ای کس شر اضور ہے جو اسلائی
نقلماے ےکوی نا نت نڑیں کھت
اسلائی ریاصست یس غیرسلم رعایا دوطر ں کا ہوئی ہے: ایک زی اوردررے
معاہ۔۔ ان دوٰوں می فرق ہے۔ یہاں پیل ا کی وضاح تک یکوش کی جال ۓےگی۔ جھ
مما لک جنگ کے بعددج ہو اسلائی ریاست نے ان کے پاشندو کی چانء مال اور
عزت وأ بردکی اف تکی ذمہ دارگ یہ آجیں جذأ یآ زادکی عطا کی ء انع کے مفختوح اور
مفلوب ہونے کے پاوجود ان کے تانوٹی حوق مضبین سے اور اع سے لازی گی
خدم تی کئیں۔ اصطلاع می یں ذئی کہ جانا ہے۔ ا نکو جوتوقی عال ہیں
ان ک ےگ ان سے جزیلیا جاتا ے۔
جزیہ کےسلسلے میں رسولی اکرم پچ اور غغاء راش بین کے ارشمادات اورتتحائل
کی ری مس سب ذیل اصول فقماء نے بیان سیے ہیں:
٦ ذہّیوں کے حقوق
-١ یش تر فققہاء کے نذدیک جز یآ د یکی ملپی حشیت کے مطابق ہوگا۔ سا
می سکم آ من وا لے بھی ہوتے ہیں وہ لوک بھی ہوتے ہیں ج نکی آمدگی اوسط درج ہکا
ہوئی سے اورخوں عال افرادجھی ہوتے ہیں ۔کم آمدلی وال ےکا جتزمیہ اوس طآ مر لی والے
ےکم ہوگا اورخول عال ک1 دی کا جزے رخ ے زیادہ ہوا جومتوسما لیے ےتحلق
رکتا ہوں
-جتزیہ نی کی شحل میں صو لکنا ضرورینییں ہے۔ اس مد یس زرگ
پیدرادار اور موق بھی لیے چاسکت ہیں۔ موجودہ دور میس عق پیدادار سےگگی بتڑی ادا کیا
۳ لغ بے عورت, فاتر انقل (پگل ) فقیہ ناددہ جن فی جسمانی طود پہ
مور یے نابنا ار ابا وغیرہ سے جنز کیل لیا جا گا۔ ای رح پادد ہیں اور راہہوں
ہک یں لیا جا ۓگا۔ اک لک وش دشمرو لک اعاشت پرگز پ کرت ہین
اور جزیہ ادانی کر سیت نی
ا جز کی مقدارف نی می نشین ہے۔ اس یں عالات کے لحاط سےتبد ٹینیس ہیکت دہ کہ جھ
خریب او رین تکٹل سے یں کے جز ےکی مقدار سالاتہ پادہ درگم 7 اورمتوسط لیے کے فردکا جز یی
چٹ رم اورخول ماخ ض۷ اڑتامںس درم ہوگا۔ المدد الخارمح رد انار حفرت عڑ نے ات وور
ین جز یی بی مقرار سم کیشی لین بیکوئی سففل ضابظ تھا جعارے نز دیک اس متملہ یس ان
فقہا کی راۓ زیادہ قوئی ہے مجن کے نزدیک ریاس تکو اس می کی ٹیش ی امن عاصل ہے۔ ا ں کا
نین حالات کے لیاط سے ہوگا۔ (ابین تیم ء احکام اٹل ال تت: اہ ض۱۳۸-۱۲۳) اس با تکا ضرور
خیال درکھا جا گا کہ زی ہک لم ذمیوں ک ےی بھی طبقہ کے لے مال حاظ سے پا قہ ہو۔ جڑیے سے
بڑگی بڑئی تم ام بر طورنکس خل دی کے ساتھ ادا کی عائی ہے۔ صاحب حیثیت ملمان پر زکوۃ
فرش سے جو تین پر ڈھائی پی صد اود زی پیدادارکا وسواں یا بیسواں حصہ ہے یہ جزم ےکی لے
بہت زیادہ ہے۔ زکوۃ ی رسلم پکیں ہے۔
07 این قئمء اکام انل انت :ا ٢۳٣-۱٣۹/
ستفصبیل کے لے دکھنے: این ق رام ضحی: ٣٣۱-۴۱۷/۱
ڈتیوں گ خقوق 27
معاہر وہ یرم ہیں جن کے علائے 22 کے ذریے ہن غیں ہوئےء
بللہ ووھفض شرائط کے ساتھ اسلائی ریاست مل شائل ہوگئے۔ بش رانا چو کہ دیاصت
کے 0 اصولء مفاد اور ا لک سا لیت کےخلا تیں لے ااں لیے ا نکی یاد 4>
ان ے معاہرہ ہیا جن شر الا کےخحت معاہرہ ہو ا نکی ایند یک کنیب
ذئی اور معاہہ می ا پہلو سے فرقی ہ ےکہ فی یکو اسلاٹی ریاست اپٹی طرف
سے توق تی ے اور معاپر ریاصت ے معاہرہ کےکگحت نے مو قکا نی کر ے۔
ہمارے علاء جب زئ یک اصطلاب استعا لکمرۓ ہیں و یر دزپوں ط رب اوت اں مل
شائل ہوجاۓ ہیں۔ علمہ این ایر معاہر کےتحل یککست ہیں:
المعاہہد من کان بینک و بینہ عہہد ماہددہ ہ ےک ھارے اور ال کے درمیان عہر
و اکثر ما یطلق فی الحدیث علی و کان ہو۔ حدیث شمل اک کا زیادہ 7 اطاقیق
"٠ . زموں ے ہتا ا الن کے علاوہ ہے ان
اسل الاح ز3ا زطق على غورکم یسل ہے لیکن را انی
من الکفار اذا صولحوا عحلی ترک سی مھت بک کے لے نک بن کا
الحرب مدة ما ببوجائے۔
وگ یک طرب معاہد رس بھی نو ںکی نت وزازکینکان یوق از علم
این ای راس کے ما لکی یت با نگرتے ہیں :
لان معصوم المال یجری حکمہ اس لی ےک اس کے ما لکوعصمت اور ضاظت
مجری حکم الذمی؟" عائ٥ل ے۔ اس پر دیجم نافز ہوگا جھ ذئی پہ
ناف بتاے۔
کے امام مالک فرماتے ہی ںکہ ج ویعمانک جک کے ذریے ح ہو ہے دہا نکی زین اور اموال سلرائوں
کی لیت ہو ںگی۔ وہ ان کے لیے مال غذیت ہیں۔ اس کے برخلاف جج نقوموں س ےکی ہوگی ان
کے سات کے مطابتن معام ہکیا جائے گا ان یں سےولی نس سان ہوجاۓ و وو تصب سالتی
انی زشن اور جادادکا ماک ہوگا۔ (موطاءکتاب النہادہ باب اترازن اس من ال الذمہ)
٢ این اشیرہ النہیت فی خرجب الرمث: ۱۲۱/۳ از عہر
۲۸ ذتیوں کے حقوق
علامہائن ایر نے ماہ دکی تخرف اود ال سے جو عہد و پان ہوتا سے ال
کےئصحض پپلوؤ ںکی طرف یہاں اشار کیا ہے۔ ال کے سا ہنی واج اک دیا ےکم
معاہرکی اصطلاح حدیث بل زیادہ تر ذبی کے لے استعال ہوئی ہے_
زئ یک تمریف
زگی کے متقوقی بیا نکرنے سے بپسلے مناسب معلوم بہوتا ےکہ اس لفظ کے
لی اور اصطلای “فی مین بہوجائمیں اود ا کی ررشنی میں انل علم نے ا کی جوتمریف
کیا ہے دوجھی دانع ہوجائے۔ ال سے خود ہن دغابت بہوچا ےگاکہ بی اصطلاح خیرم
رعایا کی تذییل وتحقر کے لیے وجود یں ننیںآئی ےه بکہ اس سے ان کے سللے میں
اسلائی ریاس تک ذےدال 5ے ہوئی ے:
ذمہ کے عق عہدو چعانءضاشت, قائل اترام قول وفرار اور کے ہیں۔ ای
سے ذئی با ائل ذمہ ماتوذ ہے۔ لسان العرب میں ہے:
سمّی اہل الذمة ذمة لد خحو ہم فی ائل ذ مک ذئی ا ل ےکہا جاتا سےکرملانوں
عھد المسلمین و أُمانھم“ کےعبعدو پان اودامان یس وہ داقل ہیں۔
ای زی می شکماگیاے:
الذمة ھی الامانء لھلٰذا سمٗی ذمہ کے مان کے ہیں۔ ای وچہ ے معاہر
المعاہہد ذمیا لالہ اعطی الامان کوذی یکہا جانا ہے۔ ا یک ج جزیہاںدے
علٰی ذمة الجزیة التی توخذ مندہ میا جانا ا کی یاد بر اسے امان د گی ے۔
ای کے مادہ سے ذمام کا لف آتا ہے۔ ا سک تش رع ان الفاظ می سکیاگئی ے:
الذمام کل حرمة تلزمک اذا ضبعتھا ماع ہرحتزم جک وکہا جانا ےک اےتم ضا
المذمة ومن ڈلک یسمی اہسل حم دو قائل فرصت قرا ہاو ای وج سے ال اعہد
لک این متفورہلممان المرب ماد نیم
گر حالہسائبنق
ذّیوں کے حقوق َ
العھد اھل الذمة.“ کو الک ذم کہا جاتا ہے (کہ ان کے تقو کی
عم ادا بھی تال مت ہے)
دو جد یبد کے ایک ممتقف دع می لفت ہیں ے:
الذمی المعامد الذی اعطی عھد زی دن نے تد تتان دا ۶ات تن
یمن به علی ماله و عرضہ و دینهّ کی وجہ سے وہ اپنے مالیہ انی عزت و آبرد اور
دن کے بارے می سحفوظط وماصون ہو چاتا ے_۔
ال ےدام ےکہ ڈگ اسلائی دیاص تکا وہ خی رس شری سے بج سک
جانء مال اورعزت وآ بروکی حفاظت کا وہ ال سے عہدکرکی ہے۔ ای میا یہ اس سے
تہ یا ایی تین کس لیا جاتا ے۔
اس عہد و پا نکی اہمی ت کا اندازہ خرت گر کے ایک بیان سے ہوتا ے۔
جب آپ پر قامطانہتملہ ہوا آپ نے اتال سے پیل اپنے بعد شخب ہونے والے
مرکو جیشچتی سکیس ان مج سے ایک ذمیوں سےمتعل تھی فرب
و اوصیہ بذمة اللہ و ذمة رس لویٹٹڈ جم اسے بی تکرتا ہو کہ زمیو ںکوالقاوراں
: : کے سو لکی رف سے ج ذمہ دیا گیا سے ال
ان یوفی لھم بعھدہم و ان یقائل سی زط کر ن ہے جو رگا ے
من ورائھم ولا یکلّفوا الا طاقتھم ٣ اسے پوداککرےه ان پر عملہ ہو ان کے دفاغ
یس جن کفکرے اوران پر اتا ھی (جتز کا) اوھ
ڈانے چقتنا کہ وہ اٹھا
یہ ال با تکا ہدایت سےکہ اسلائی ریاس ت کا ذمیوں سے اللہ اود ای کے
رسول کے نام پر ایک معاہدہ ہوتا ہے۔ ال معاہدہ کا پور اکرنا اس کے لیے ضمروریی ہے۔
وو ان کے چان و ما لک عفاظ تک زم دار للا یت اس ذمہدار یکو اسے ہر تجت
لے ابع منظورء لان الحرب. ماد ہز
7و 2 السا مادہٴ زم
جفادگا کاب المناقبء باب قصت الیۃ والاتفاق می حا ارح شنی عرۃ القارق: ۱٢١/۱۳
۲۲٢ ذتیوں کے حقوق
پرادانا بوگار تی مکہان سےحنفظ کے کے انت شع سے جن گکرکی پڑے تو اسے اں
کے لے بھی تیار ہونا جا ہے۔
زی سےحخوق
اسلائی ریاست میں ذمیو ںکو جو توق عاصل ہوں گے ان میں سےلتض
ذنیادکی موق کا بیہاں ذک رکیا جاۓ گا اور ان کےسلسے میں جوفقنی اور نوئی تتیں
اہ رن شریعت کے درمیان دی ہیں ا ن کا بھ کسی قررتفیل سے چائزہ لن ےک یکوشنل
کا جا گی۔
ذئ کی جا نکی حطاظت
اعلام کے ذدیک ہرافسا نکیا جا نینزم ہے۔ نا نس یکا جان ینا ال کے
نزدی کین مم ہے ذئ یکا چا نکا اتا می لام ے۔ وہنشس خ ت گناو گار ے
نت ھک لی کت ےنچ ےکر کی ال
ہے۔حخرتعبدالڈدب نع ری ردایت ہ ےکہ رسول الچ نے ارشمادف ما یا:
من قتل معاصا لم یرح رائحة جولکی معاہ رک کرے وہ جن کی خشبو (جی)
الجسة و ان ریحھسا لیوجد من نیس پاۓ گاہ عالا ںکہ ا کی خوبو چاٹس
مسیرة اربعین عامَا- بی ںکی مساق تکک موجود ہوگی-
من قتل معاهذًا فی غیر کنھه حرم جوفتح کی معاہدکو بے بنیان لکرے الد تعالی
الله عليه الجنة ال پر تن تکوا مک ےگا--
می ویر ذئی پر دست ددازگی سے باز رکنے کے لے بہ تکاٹی ہیں۔ اس
کے ساتھھ اسلائی ریاست ا لک جا نکی اط تکی ذمہ داری بیقی سے ۔کوئی بھ یخس
ال پر ہاتھ اٹاتا ےن قانو نکیگرفت سے پی نیس سلنا۔ الہ ایک سوال ىہ ےک کیا
لے فارگ ءکتاب الدیاتہ جا ب مین ذمیا اف رم
٣ ااودا ود کاب الجہادہ باب پی الوفا لمعاہر ومر مت ذعتہ. نسائیء اواب القسامتء باب نی کل المعاہر
ذکیوں کے حقوق بش
الام کے نزدیک مسلمان اور ذئی کا خون از روئۓ تقانون پرایر ہے؟ کیا کوئی لان
٣ٹ یکوف کرد ےو دہگھی سک سن ہوا کہ اس ےگھ ین پک دیا جائےء یا اں معابلہ مں
دوٰوں کے درمیان فرقی ہے؟ قرآن ید نے اس سلسلہ مس صرف اصولی ہدایات دگا
ہیںہ ان ہی سے اس ملہج راہ نمائی عص٥ لکی جانتی ہے۔ اس ن ےتپ نی کی
صرح مان کی ے اورمظلو مکی دادنر یکا عم دیا ہے۔ ارشاد ے:
ول کا انس اليی حَحومْ اللہ ال اراس جا نکٹنی کرو ے الد نے حا قرار
بالحق وَمَن قبل مظلُوْما ققذ جَعَلَا دا ےگ کرت ک تقاضا ہو ج سس کپ
لہ مظان فا شی فی اق مفلوا نیقی ہوہم نے اس کے و یکو تھا کا
و اب ین کی اھ کسر
(یخی اس اضل:۳۳) بڑھے۔ا کی مد ہوگی۔
اسلام نے قائل سے قصا کاعم دیا ہے قصاص“ ٹس برابرکی اورماوات
کا اضور ہے۔ ا ںکا مطلب ےہا انان اوردوسرے انسما نکی جان یراہ ے۔
ان کے درمیان فر نیس ہوگا۔ مقتول چا بھونا ہھ یا ہہ امیر ہو یا خریبہ باحقیت
ہو با بے حقیتہ ال کےےکی قات لک جائن لی جا ۓگاء اس سےتٹع نظ رکہ دباع کا
یک عام فرد ہے یا ا ںک یکوئی با اور محززنحخصیتہ اس لہ اس نےقلی کے
انا بک وجہ سے اپئی جا نکی ححعص تکھودی ےہ
قرآن بی کاگگم ے:
ھا ال اما تیب خَلْکمم ے امان واو؛ عنزلین سے سللے میں تم پر
لیقصاص فی الققلی (القر۱2۸:3) ”تا (ساوات) فی کر دیاگیاے۔
ا ںع مکی علت اورحمت ان الفاظ جس بین فربالی:
7 مہاں ناک پرکشگوکوزی بج مضوخع کی حدتک مدود رکھا گیا سے نشین 2 لیے ملاحظہ ہو:
تخحتیقات اسلائی کےنبی مباحث ممون: اسلامکا قافون تسا
۲۲۲ ذتیوں کے حقوق
وَ لٹُم فی النقعصاص خبوة بنا اأولی ایل والوا تار لے تعاس میں بڑی زندگی
ال لباب عَلكُم نتقُوْنہ (لتہ:۹عا) ے٣ یق زاس طرع )نل لس رت
مطلب یک ہقانون قصاض پرکل ہو ذف کا اقدا مکرنے سے پیل ہآ دک سے
سوپنے پرجبود ہوگا کہ اس کے بعد ا کی زندگ بھی شم ہوجال ۓےگی۔ ال سے دوفو نکی
زی پچ سن سے یی قوم مس تتلِ نام نکی راہ کا مصدود ہونا ا کی حیات کا ذدلیہ
ہے۔ اس سے بے ار انسانوں 027 تفوظط رہٛھتی ہے۔ اس سلسلہ میں اصول یہ مان
ہوا ہے :
الفْس بالنس وَالَْينبالعن... بے کک جان کے بدلے جان ہے او رآ کھ
(المائک۴۵:7) کے بد نے مک -
نی کا تھا٢ ط- (وابت
ہںعم کے وائرہ میں ذب یبھی ہآ تے ہیں پاغییں؟ جس سے معلو مکھرنے کے
لیے اعادی ٹک طرف رجر غکنا ہوا حضر تم کی روایت ے:
ل يِقل مُسلم بکافطہ ملا نککافر کے بدلے م۲ یی سکیا جا ےگا۔
بی روایت ان الفاظہ کے سات ھآکی 1
لًَ یقتل مؤمن بکافر ول ذو عہد مؤ نکوکافر کے بدلہ مرتت یی ںکیا جاۓ اود
سی سی معاہ/کو ج بک اس سے معاہدہ ےنگل
کیا جا ےگا۔
علمہ خطالی ال عدیث کے یل می فرماتے ہیں:
لا بخادگی ءکتاب الدیاتہ جاب اطشل مسلم پافر
گج الوداود کتناب اللدیاتہ جاب ابق لم پالکافر نسائیء ابواب السا ء باب سقوط القو سن 7
اکاف۔ مند اض ٣ حری ٹنم ۹۔-۔ الوداود مل ہے روایہت ایک اورسالء سند ےبھی مدکی
ہے۔ دفوں عدہشیں من ہیں الباری:٢۱/۱٢۲
ڈتیون کے خقوق س2
فی اللبیان الواضح المسلم لا یقعل اں یش داع ان ےکہ ملا نی بھی کاف کنل
باحد من الکفار کان المقتول منھم کرد ےق کے بدلے می ا ےکی ںکیا جاۓ
ذمیا او معاصدا او مستاما او گا۔ چاہےم ول زی ہو یا اس کائلق مع رقوم ے
ماکان “ ہو یادہ دا الھب سے امن لے رآ یا ہو یا اورکولی ہو_
ان اعادی کی بفیاد یر رت عمرین عبد ال ینہ امام اوزایء نو رکیء این ش رم
امام شای, ام اب٠ اشن بن راہوہ اور ابونور ونب رہکی رائۓ بی ےک ملا نکوکافر کے
لے مکی سکیا جا ےگا
امام مال کک دا اس ےکتھوڑ یىی لف ہے۔ وہر ہکہ ذی عکومسلمان نل
ۓ لو تنرمل میں ملا نکوف ن۰ی ںکیا جاۓگا۔ ہال اگر وہ دوہ اورفریب سے
ات یکرتا ہے و اس ےگھیان لک دیا جا ےگا
وتوہ ےن یک صودت مہ ہ ےک کی بہانہ سے ا ےگہیں لے جاۓ اور
خامٰٹی ےا یکردے۔ پرفساد فی لاٹ (یا ضف ان دامان) ہے اس وجہ سے متتول
کے اولیاء ات لکومتا فگھ یکردبس نے اسے معاف نی کیا جا ےگا
ذئی کےمسلمان تا سے قصائص نی کا بیط بکی ےکہ اس ےکوی دوسرکی
مزا بھینیں دئی جا ۓگیاء مہ جلی اک علامہ این زم تن ےکہاے ہھھیء خائصس طو پل
عد ہو ال کے خلاف ایی کاروائی ہوگی ۔قات لکوقید و بندکی زابھی دی جانکتی سے 2ے
لام نی برای نکی :شھ بن لی ھی ءعنان متی, امام ابوحطیفہ اوران کے ملامرہ:
امام ابو لیف امام عم اور امام زف کی را مہ س ےکمسلمان سے ذئ یکا قصائس لیا جاۓے
گا۔ اکر وہ ذ کوف یکردے فو اس ےبھ ین کیا جاۓ گا۔ صحابوکرام می لکہا جانا ےکمہ
ضر عڑڑاور رت عبد ادڈ بین مس وڈ یبھی یی را ےتیک
موطاءکتاب التقولء باب ماجاء فی دی ائل الزمتتد مم شرب زرقالی ع اوطا: ٣٣/٣
۵ تن یح القاری:۳۲۹/۱۹ بے عولسالق
222 ذتیوں کے حقوق
ان را کی ایک دییل و قرآن ید کے بے الفاظ ٹیں: النفس بالىفس
(جان کے بدلہ جان) ان میس مسلمان اود ذئی کے ورمیا عکوگی فر کی ںکیا گیا ے-
ا ں کا مطلب ہہ ےک مسلمان ہو یا ذئیء دوفوں کے لیے قصا کا ایک ہی مم یت
جہاں تک اس حدی ثکاتعلقی ہے جس می ںکہا گیا ےک ہکافر کے قصائس
میں ملا نکنل نکیا جا و اں سن ڈنل ین لم پیکافعراد سے۔ بی مطلب
دصرکی حدی ثکا ےک سی می نکو اود ای مر کسی معاہ رکو جب کک ال کا عبد بائی
ۓے ت بی کافر کے قصاص می لت نی سکیا جاۓ گا۔ یہاں معاہد کے مقابلہ میں اف رکا
فظ 7 بیکافر کے لے ےآ یا ہے۔ ظا ہر ہے شس سے جنگ سے ا کا خون ایک مسلمان یا
ذئی یا معابر کے خون کے برابرنہیں بکا۔عرلی میا الام ىتا ہے اور ذئ یکو ریاس تکا
تزنا حاصل ہوتا ے۔ اس معالے میں وومسلمانع کے برابر سے
دوس ری بات ب کہ الن دوایات کے پالنائللیھخض اور روایا تگگی ہیں جن
سے نابہت ب تا ےگ مسلمان سے یکا قائص لی اگیا- یدروابات سن کے اظتپار ےگو
مقممم الک ردلیات کے پا یکینیس ہیں ین جموئی طود پر امتندلال کے قائل ہیں۔
نی ونیرکی روایت ےک رسول ال ملا نے ایک ذڈی کے فقصاضص میں
ىك ملا نکیل کیا ادرف مایا:
نا اکرم ئن وفی بلخدۃ یں ان لوگوں بش سب سے زیادہشریف ہوں
جنھوں نے اچنا عبد و پان پپداکیا۔
حفرت ابراڈی شی کے ہی ںک جک بین ول کے ایک مسلمان نے ال جبرہ
کے ایک ذ یکق کر وین ححفرت عھڑنے قداص میس ا ےکھ ین لکر دیا مت
فدتنی کے لف رک بے کے لے دکھی جائے۔ ہداہہ: ۵۵۹/۴ فریقین کے دال اور ان کے
ضف وقوت کے جانۓ کے لے ملاحظہ ہو۔ خطالیء معالم ضن: ۱۹-۷/۴۔ ئن الباری:
۷۴٣۔۳۹۴ شوکانی, نیل الاوطار: ے/۵۲ء۱۵۵ا ٣ یہ حدی کم زور ے۔ ملاحظہ ہو-
زنشھیءنصب الرای نیت رج احادیث الہرلی "٣: /۳۳۷۳۳۵- یزرکھی جائۓے انت البارئ:
٣/۳۴٣ ش عبدارزاقیہ ا لصف :۱۰۱/۱۰ زعٹگی,نصب الری۔: ٣ اے ۳٣
ذمّیوں کے حقوق اك
ایک اودروابیت میں ینیل ےک حر تعن ےککھاک بات لکومقتول کے
لاہ کے حالہکردیا جاےہ چاہے دہ اس ےگ کر یا معا فکردیں۔ ناں چہ اے
مل کے ولی کے جال ہکم دیامگیاء جے تی نکہا جاتا تھا۔ اس نے تقات لکن یکر دیا۔ بعد
یں حضرت کر نے یرجھ یککھا کہ اگر وت لی نہیں ہوا سے تو ٹل م کرو آ پ کا
مطلب بتاک ہمقتول کے اولی ءکودیت پ رش کرن ےکی کوٹ کی جااۓے۔
خر تم کے بارے می ں۲ ہ ےک ہآپ کے سان ایک ملا نکو بی کیا
گیا جس نے ایک و کو کیا تھا۔ ج بفگی عابت ہوگیا تذ آپ نے قائل سے
ھا کا عم دیا۔ اسنے میں مقتول کا بھائی حاضر ہوا ای نے عون شکیاککہ میس نے سے
متا فک دہا۔ حقرت گل نے اں س ےہاک شاید ان لوگوں نے میں ڈرایا د۶کایا سے۔
انل نےکازنی۔ اس ک کے کرنے سے میرا بھائی تو نیل جاےگا۔ برک انھوں
نے تھے ا ں کا محاو تی کیا ے۔ حر تک نے فررایا :تم خود ہے محامل کب
یت ہو۔ اس کے بعدعمشربعت بیا نکیا:
من کان لهُ ذمصنا فدمہ کدھسا و بے جارا نے ال کا خون ہمارے خون کے
دیتهہ کدیتال راب اور ال لک دیت جمارگی دیت کے پرابر ے
میمون بین مبران سک ہی ںکہ جس نے حر عمر بین عبد لی کی ای کت
بکھی جھ رہ سک ےگورنہ کے نام رتھی۔ ہیں کاتعلق اس معالممہ سے تھا کہ ایک مسلمان نے
ایک ذ یکو کر دا تھا حفرت عم بن عبد العزی: نے اپ یتر می ںککھاک تا لکوتم
متتول کے اولیاء کے حو ال گروو_ وہ ا انت کروی بامحا فکر دی یا
لے ا کی سند می ضعف ہے۔ ام انی نے متنوک بحاظط سےجھی اس پرتقیدکی ہے۔فرماتے ہی ںکہ
ربرل الف سے خودحضرت کی نے ا کے غلاف رواہت یا نک ےمان سے کاف رکا تاس
یں لیا جاۓ گا۔ سے لی عدیث سے ۔کیا وہ آپ کے ارشاد کے خلاف فیصل کر لت ہیں؟
نب الری:م/ء ۳۳ لین جیماکہ اطاف نے تی ہکی سے روابی تکوم بیوں ۓتحلق مان لیا
جائے و روایت اوڈشل وی تھائیں رتا۔ ٢ زی ,نصب الری: م |ے ۳٣
۲۲٢ تسوكے عقرق
اں ے ا بات 20 ےک اسلائی ئن از رقف افقیارکری کی
رمسلمان سے ذب یکا صا لیا جات ۓےگا اود ذئی کے بدلملما نک کیا جات ےگا تو ہے
مغ زورموفنف نہ ہوگا۔ اں کےبی می ںبھی سے ہی دنل ہیں جن الف نتارنظر گ٤
تتمی مس ہیں۔
گی کی دمت
ای رع کی پٹ ذن یکی دیت کے پارے می بھی فقہاء کے درمیان پل
جاتی ہے۔ اس سللے میں تین نقط نظ رت ہیں
ام شاققی کے مزویک وب کی دیت ملما نکی دی تک تھائی (ج) ہے۔ ان
کی ول حرت عبادہ بین صامس کی ىہ ردایت ےک رسول الد پچ نے فرمایا: بیبودیی
اورنحرالی کی دیت چار نرارورجم ےک
حضرت سعید بن صینب فرماتے ہی ںک رت گمڑرنے اپنے عہدخلافت میں
ملا نکی دیت ہادہ زار اود یبودیی اود تھرالی کی دیت ار رمق ر یی ء جو یکا
رت اں ےھ یکم 7 سو در م ری
لام اص اور٘جض دوسرے اصحا بک رلۓ بی ےکہذئ یکا وت سا نکی
دی کی نصفل) ہے۔ ا ںکی ول عرد بن شعی بک ددایت ہے۔ دہ اپ باپ
ے اور وہ الع کے وادا سے روابہ تکرتے ہی سکہ رسول الل رپچ نے فرمایا:
0 ملاظ ہو خطالی: معالم شن: ٣ گے ۳۸۰۳۔ این جیب روہ الافصاح: ٣ /٣۱١۔ این رشد لی اہر :
٦/٦
۵۵/۱۴۰۳ این قراب ٢
تنڑری, اواب الدیاتہ اب پا جا ااقتل مسلم اف ہتعی. آنن کبری: ۱۰۰/۱۰ تخیل ے
لیے کی جاۓ زنھی ء نصب الرلی: ۳۷۵/۴ شوکالی, نل الاوطار: ے /۱٢۲ء ۲٢۲ ۔حخرت خخان
ےکبھی یبودیی اورنھراٹٰی کی بجی دبت منقول ہے۔
ذمیوں کے حقوق ۲٢۲٢
دیة المعاهد نصف دیة الح معاہ ری دیت آزاد (صلمان) کی دی ت کی
اف
سی روایت ان الفاظ کے ساتج بھی آکی ہے:
دیة عقل الکافر نصف دیة عقل کافرکی دیتہ مک نکی دی تکی نف ے۔
المؤمن“
من نسئی کے الفاظ زیادہ دائ یں:
عقل الکافر نصف عقل المؤمن* کافرکی دیت می نکی دی تک نف ے۔
امام ماک اورشھ دوسرے اصحاب ان روایا تکو ذئی اب لکناب کے ساتھ
لیے ہیںہ ال ل کہ میرردایت الن الفاطا کے سات بھی آکی ے:
عقل اھل الذمة نصف عقل الکی ذم کی دت ما نکی دیت کے ئصف
المسلمین و ھم الیھود والنصاریٰ" ہے۔ ائل ذمہ یبودونصارگی ہؤں-
ان تعحظرات کے نذدیک جن روایات میں کاڈ رکا لفظ آیا ے؛ بے روایات تال
ہی ںکہال سے ائگ پکتتاب مراد ہیں۔ خی را يکتاب ال ٹس ششائ لکیں ہیں۔ امام مالک
فرماتے ہہ ںکہ بتک رت جرب نعبد اتی کےمتعلق مر روابیت بی ے:
قضی ان دیة الیھود او النصرانی ایھوں نے فصلہفرما ا کہ یہودی اور ترائی مشش
اذا قعل احدہما مشل نصف دیة سےکوئ نی ہوجاۓ و ا کی دیت آزاو “مان
لے ابد داد کاب الدیاتہ باب ٹپ دیۃ الائی۔ خطالی کچ سؤں: لیس فی دیة اھل الکتاب شیء
ابین من ہٰذا۔ معالم أن: ۴ ے٣ لتق ال کا بکی دیت کے سللے میں اں ے ذیادہ دان اور
کوئی روای گن ے۔
ترمدگاء الواب اللدیاتہ جاب ماجاء ل ملقنل مسلم پکافر
نساکیء اواب القسامہ جا بک دی الکافر
حوالہسابی: مصنف عبد الزا قکی روایت ے: ان رسول اللئٰ جعل عقل اھل الکتاب
من الیھود والنصاریٰ نصف عقل المسلم؛ ۹۳/۱۰ ایک اور روایت شٹل ے: قطلی ان
عقل اھل الکتابین نصف المسلمین و ھم الیھود والنصاریٰ۔ داششی,ص٣٣٣_
۲۲۸ ڈمیون گے تقرق
الحر المسلم“ از ت اف +ھگا۔
بی ںکی ویت سرمتتحلق حضر تک رکا یتو لگزر چکا ےکہ ا نکی دی تآ شھ
سوورم وی ش] مہ ال الاب وت سے بتکم ے۔ اکا اوامام الگ امام شانی اور
امام اتد نے انخختیارکیا سے نے
مشبور جا بی حضرت سلیمان جن ابا رک ہاکرتے تھے:
دیة انچوس ثمانماۃ درهھم ںکی دی تآ ٹمس درم ہے۔
امام مالک ات أف لکرنے کے بعدفرماتے ہیں: ہوادے ہاں اس پیل سے
میں بی کے مم میں دوسری بت برست توم بھی وقل یں ِ
اں نقطہنظ ری تق دکرتے ہو امام شوکالی فرماتے ہی سکم رخ لک عحرد جن
شی بک سند سے مردوی حدبیث می ائ لکنا بکا ذکر ہےه ال لیے الن ا یکا دہت
ضف ہوک ءاخیں سے اں ےکس یگرد ہکا خائص طود بک رکرنے سے مولان کل
آ کہ دو ۔ ےگردہ اس میں شا لنییں ہیں۔ حدیث کے الفا ملف راوییں نے ال
سے ہیں۔ ان ٹس ےئ ایک کے الفاظ عام ہیں۔ اس لیے اس میں ان کاب و یا
ری اسطائی راس تکا ہرذئی شال سےە س بک دیت تصف ہوگیك
حضرت عم رین عبد ایی ال را ےکا ذک ہآ کا ےک ذمیوں میس جو ایل
کتاب ہیں ا نکی دیت ملما نکی دیت کے نصف ہوگی۔ ایک روایت ان سے ہیں
ما موطا کاب العقولہ باب ماجاء فی دی ال الذمنہت خرگاء اہواب الدیاتہ باب ماجاء ا١خل
مسلم پافر دارلنی ۶۴۳3س
ام اللدد دی ملگی فرماتے ہی ںک ہکتالی ذئی ہو یاامان یاف 7ء دطل کی دیت ملا نکی دی تک
ضف ے جڑی اورمرت کی دیت چا ہے سونا ع۹۴ دبتار یا انی آشھدسو ددم یا اونٹ عٍٗ٦-
الشرع اصخیرعلی اقرب السا تل: م /٦ء ٣
جم موطا کاب التقولء باب ماچاء فی دی ال الزمۃ-
ھ ان قراب (خ: ۴۷ ٦ ۵٥-۵۵/ شزانی, نُل الاوطار:ے / ۲٢۲۳
ذمیوں کے حقوق
کے تتحل بھی مروبی سے:
جعل دیة اٹ چوسی نصف دیس ایھوں نے و ںکی دیت ملا نکی دی کی
المسلم ]فگگ۔
ہشام بن مرو کت ہیں:
دیة الذمی خمس مأۃ دینار؟ اک دمت پا ٭دیاررے۔
امام ابو حفیفہاود ان کے جلائدہ اود امام خورکی کے نزدیک ذٹ یک دیت وئی ے
جوا نکی دیت ہے دفوں می کول فر ق نہیں ہے۔ ای رح کی رائۓ حضرت کم ڑ
اورتحخرت عبد ایڈہ بن مسحوڈک یبھیملتی کت
ہرایریش فقتػ یکا ملک ان الفاظ ٹس بیان ہہواے:
دیة المسلم والڈمی سواء ؟ مسلمان اور ڈئ یکی دبیت برا ے۔
اں نقلۂ نظ رکی دیل قرآن بیدکی بآ یت ے:
َ ِن حا من قوْم َيس-م و بینم ...ارح لی ابی قو ما فردہونس ےتہارا
مَیَْاق فَبِيَة مُسَلمَةٌ !لی الہ معاہدہ ہو اس کے وارثو ںکو پودیی دیت دیٹی
(ناء:۹۲) ہیگی۔
ان کے وا س ےک جن وم سے یفاق اورعبد و چان سے اس کے مقتول
کیا ای رم پدگی دیت دگا جائ ۓگ جس طر) ایک مسلمان مت لکی دی جاتی ہے۔
تن احادیث وآ خار تھی ا کی تائد موثی ے۔
عخرت بد ال بن عبا کی ردایت ےک عمرد بن ام یضر نے دو اف راو
جن کے نام عامر تھے کر دیا۔ ان افرادکارہول ال سے معرہتھا۔ چناں چہ
ا عبدالرزاقء لھمیں:٠٭۵/۱٭
حالہسالقی
۵١/۱٢: 2
۵۸۲/۳ ہداے: ٠
۲9
۲۳۰ ذمیوں کے حقوق
آپ نے ا نکی دی دیت اداکی جومسلمانو ںکی دیت سے
جظرت پر الد بن عمڑفرماتے ہی ںکہ رسول اش کاٹ نے یک ڈئ کی دیت
ملا نکی دیت کے براب ادا کی
تقوب من عتب اس ئل بن مھ اورصاغ فرماتے ہیں:
عقل کل معامد من اھل الکفر ال لکفرمیں سے ہرمعاہ دی دیت مسلمانو ںکی
کعقل المسلمین جرت ہلک دیت ھی ے۔ رسول ا شی کے عہد می بجی
السنة فی عھد رسول اللأت نتاریے۔
امام نزہری فرماتے ہیں:
دیة الیھودی والنصرانی واغجوس و ببودیہ تھرا ی اور یں کی اود پر زئ گا
کل ذمی مثل دیة المسلمء قال و دیت “مان کی دہت عو ے۔ فرایا:
کذالک کانت علی ععد انی پیٹ رسول الش ری اور طخرت الگر اورحضرت گے
وابی بکر و عمر 7 00ھ یور ا0
مزیدفرماتے ہیں: اس کے بحرحخرت معاویًنے ذب یکی دیت لص فکردییت“
امام ز ہر یک ایگ اورردایت ے۔
ان ابا بکر و عمر کانا یجعلان دیة حضرت ابیکڑ وم بودٹی اور فھرالی کی دیتہ
الیھودی والتّصرانی اذا کانا اگروہ معاہر میں ت آزاومما نکی دیت کے
معاھدین دیة الحر المسلمڈ برابرفرارریے تے۔
مصوف عبرالرزایق میں حضرت کل سےمقول ے:
دیة الیھودی و النصرانی و کل بیبودیی اورنصرانی اور ہرذ یکی دیت ملا نکی
ذمی مثل دیة المسلم دیت کے برامر ے۔
7 ت نیہ اثواب الدیاتہ ہاب ...ہ دانشفی کاب الیرود والدیات ویر بارش ۳۷۰
سط و تطنی ,سس٣ مم
عبدالرزاقی: امصتف : ۰ /ے۹ء ۹۸ء زیلی ءنصب الرای: ۳٦۷۸/۴
ج ععبدالرزا قی, المصتف:۱۰/ ۹۹۷۹۵ تھے حالدسائٹ
ذئیوں کے حَقَوْق ۲۳۱
اام ااوحفیذفرماتے ہیں: نوہو قولی' ( بجی مکی رائے سے ؟
حظضرت عپر الڈد بین م“س وکا ول ے:
دیة المعاہد مثل دیة المسلمٹ ماہدکی دیت لا نکی دیت کےہشل ے۔
یددیا بات ہے جوصضر تک ن ےکی سے
من روایات سے مسلمانی اورڈئیکی دیت کے بلسماں ہو ےکاخ ت٥ت ملا سے
ان بی گی ررض سے من مجھوٹی طور پررقائل اتد لال ضردد ہیں ۔آ خا ساب ے
جال ىہ بات سان ےآ ہ کل سھاب نے ذ کا دی تکولدا نکی دی تکا ضف
ااں ےگ مکما ہے وہیں بھی معلوم بہوتا ےک ٹن دنر سحابہ کے نزدیک ڈیا اور
ملا نکی دیت برابر ہےء بل ہہجف صحابہ سے دوفوں طر عکی روایل متقول ہیں۔اں
کا وت اور 2و0 اقوال ےت ےت
ایک داتے گیا ہب ےک ہگو ذن یکی دیت ملا نکی دیت ےکم ےکن
طورنھزراں بیس اضاف۔کر کے ملا نکی دیت کے برا رکیا جاسکا ہے۔ حر تعپاللد
من رکا ان ےک حضرت عناع کےعہد میس ایک مسلمان نے ایک ذب یکوع اق یکر
دیا۔حخرت عالع نے اس سے قصائص نے نیش لیاہ اسنہ دیت میس اضافکر کے مسلران
گیا دیت کے برابر ال پر دیت لاز مکردی ے
امام زہری فرماے ہی ںکحخرت معاوی کےعہد میں خاللد بن 'ہاہجہ نے ایک
ذئی سیق لک ارا بکیا نو اھوں نے بھی ےک یی سکیا *الہتدیت ٹل اضا گر ے
ا مصنف کر الرزاق:٠۱/ے۹
حوالہسسابتی۔ اس سے کے میداقوال یش ۹۸ پر دیجھے جاسکتے ہیں۔
٣ اں مضوع برای او ر الف راییں کے لے کی جاۓے۔تاقیء لن الکبرکی بع الجواہر
ا ی: اہ ںا
٣ غبر الرزاقی: ۷/۱٠:
ھے حالہسااق
کی ذمیوں کے حقوق
ایک جار دینار دیت مر ری
ان دل لکی بنا بر ف یھی می لگو و یکی دی تکومسلما نکی دی تک صف انا
گیا سے:لیکن الو تھزی راس میس اضافہکا جواز پایا جانا سے
ان تنصیلات کے یں نظرملمان اور ذٹ یکی دیت میس مساوا تک فقہ شش
پر یھکل ہے بلنہ اسے اس پہلو سے تر وصل ےکہ ىہ عدل و انصاف کے
تقاضوں سے ہ مآ بک ہے۔ اسلائی ریاست اسے افقیارک سک ے-
ذئی کے ما لکی حاظت
زمیو ںکی جا نکی رح ان کے ما لکی حفاظ تکی ذمہ داریی بھی اسلای
ریاست 4ہ ہے یی اکوان کے مال بر فضکرنے اور ا کی اماک اور چا داد ے ناچائز
فاترہ انٹھا ےکی اجاذزت نہ ہوگی۔حطرت غالد یا نکراے یئک مین جنگ تبرش
رسول ال کے ساتھ تھا۔ جنگ کے بعد بیہود نے کر شکابی تک یک لوک جمار ےکچلوں
اورلوں پرٹوٹ پڈڑے ہیںہ ج بکہ ىہ زی کھلے میدان یس نہیں ءتفوظ جچجہوں پر
ہیں۔ یہود سے چو ںکمعاہدہ ہو کا تھا ال ل ےپ نے فور ہدایت فراگی:
الإٗ لَ ىحل اموال المعاہمدین الا من لوہ معاہرین کے اموال علا لی ہیں الا ےک
بحفَھا ان کے لی کا (ریاس تکی طرف سے ۳ع ہو
ایل اورروایت ُل ےک ایک بیہودی نے جھ بڈا شر رتھاء برشای ت گکہ
لک جمارے جانورو کو کر سے ہہیںء ہمار ےم لکھا ر سے ہہیں؛ٴوتوں کے ساتھ
مار پیٹ ہ رتا ے۔آپ نے اںکی شکایت بر تج فراگیء لڑگیں برقت ناراضل
ہویۓء میں شع کیاہنماز پڑھی اور خطلیہ دیاء شس میں فیا
0 عبد الرزاقیء ال مصتف :۹۹/۱۰ یز اس مووع پر ملاحظہ ہو_نصب الرایۃ: ۳۷۸/۳
2 این تر اب :۵۳/۱۳
٣ ابودا ود ہاب الاضعمتء جاب انی عن انل ابا
ذمیوں کے حقوق ۲۳۳م
75 الله لم یحل لکم ان تدخلوا اللہ تمالی تے از لے فک اب کے
بیوت اہل الکتاب ال باذن و گھروں شی ایر انت ئل ہوتئےکوعال
ا ا ٦ اکل 7 نیس قرار دیا سے اور نہ ا کی عودت لکو مار نے
ری سام ور ور ان کے پل لکھان ےکی اجانت دی ے۔
اذا اعط و کم ما علیھم ج ب کہ دہ اپے اوھ بھ داجب (جے) سے
اس ےک"تیں اداکھریں۔
عدییٹ مل بیہا لک کآ ا ےک ہاگ سی ذئی یامعاہ رکا ما لککیں پڑا ہوا لق
لمران کے لے اس پر کرلیا جائزنئیں ہے۔ رت مقدام ین مح دنر ٹکیا
روایت ےک رسول الل پچ نے فرمایا:
ال لَ یحل ... لیفط من مال ند سعاہر کے مال کائد (جھ چزگر جاۓ)
معامد الا ان استغنی عنھاٹ کت و
ڈیو ںک وہ چڑ تھی سان ا اک تو رکرتا اورشن کے استعا لک ورام
تا سے ھی بھی و متا نتیں گت سلا, ورنہ فڑہفخ ی کی رو ے اے تاوان دینا
ہوگا۔ شراب اوخ ا ں کی ووشلیل ہیں۔ نٹ یکی رو 01.2 بی صا نکا
ککیت میں ہوں اورکرئی دوسرامسلران ایس نقصان پیا دے اش مکردے ا ں کال
وا ننچیں ہے ال لی کہ مہ یی ایک مسلمان کے نز دیک بے قت ہیں جا ن اکر
یی ذٹ یک ہوں اورملمان شی نقتصان بہجیائے سے جادان دینا پڑےگاء اس لیے
+) کے یت ان کا قج ےت ہے۔ ان کے نزدیک خر کی حقیت وی سے جو
ملمان کے نز دی کجکر کی ہیکت ہے با شراب ہف اسے دو سر کی طرح مباج اور
بت دالی جچ رتا سے کے
ا ابودادہکاب فراع وا ولا ما7ء باب ٹیتتشیر ال الذمۃ
نا ابودا ود کاب الالمدء باب انی معن اتل التباع
۳۷۸/۳ براپے: ٣
۲۲۶۴ ذمیوں کے حقوق
اسلائی ریاست شبربیں کے بای تقو کی محافظ اورگراں ہے۔ ان توق پے
وت درازی اور آنجیں غصب رین ےی وی کو اجازت ۂ دے یا ۔کاددبارگ اموں
قرسش کے لین دین اود ال کے قمام محاللات می ل می کے جائع کو ضائ ہونے نہ
دس گی۔ اس می مان اور غی رسلم کے درمیا نکوگی فرقی تہ ہوگا۔ ا معابلہ ٹل
اصصو می ہداایت “یی عہدنوگی کے ایک واقہ سےلقی ینعم
مند ام کی روایت ہ ےک ایک بہودگی نے رسول ال ہچ سے این ای عدرد
نا ئی صحال کی شکای تک یکہاھوں نے اس سے ماد دینارقرتش لیے ےلین دای کر
رہے ہیں ۔آپ نے یں ا ںکا خر اداکرنے کے لی ےکہا۔ انھیں نے عو فکیا: اس
زا اض ج۹ نے آ پکودین فی د ےکر جیا ےہ اس وقت میس قرض اواککرنے
کے موقف می نی ہوں ءآپ نے فرمایا تھامہ_ٗییں خی کی بتک می سبیچییں ے۔ جے
روغ ےکہ مال یفذیصت ممیرے حصہ می بھی ا ت گا ای وقت تر اداکردو ںگا_ ان
گی ا ںگزا لکوس نک ربھی آپ نے فرمایا: ال کا تر اداکردو۔ انھولں نے اپنا پہلا
جواب دبرایا: آپ نے س بادہ ٹرش اداکرن ےکا عم یا۔آپ کے ین مرتب نے کے
بعک یکو جواب دی نکی ہم نیش ہوئی تی_ چنال چان ال عددد لہ بازار بت
ان کے حم پہ چیادداورصر پرتمامہتھا۔ ما ہکحو لک اعوں نے اسےتہہ ند بنا لیا اود چار
دینار ٹل چادرفروض تکردیی۔ ایک ان نے اس عال می دریکھا تو اپٹی طرف سے
ایک چادردی کہاسے اوڑھأیل_
ال ردایت کے ذیل میں علام شوکالی کھت ہیں:
فی التشدید علی المدیون بایجاب ا سے اس بات کا شوت متا ےک قرش دار
القضاء و عدم قبول دعواہ الاحسار پرقرت کی اداحگی کے ےت کی جا ۓگی اور
ٹحردھا من دون بیںة و عدم خر دلیل کے ال کال مہ ڈنو کہ وہ نگ وست
لُاتداء بیمینہ من غیر فرق بین ان اورجبدر ےی سنا جا ۓےگا۔ ا لک مکا ھی
ذمیوں کے حقوق ۲۳۰۵
یکون صاحب المال مسلمًا او کائھی 1ں معالہ می اعقبار نہ ہوا تع نظراس
کافرا کےک ہرس دارمسلمان سے با کافر-
اعلام ش چری کی سزانضع بڑے (ارئ:۳۸)۔ چو ری ملا نکرے یا
ذلء مال چاےس“للما ن کا ہو یا ذگی کاء دو ں کی یی سزاے۔ امام اد امام انی اور
انناف سب کے ہاں مل مان خواومسلرا کا ای چو رگ یککرے یا ذٹیکاء زیت بک مزا
ر جا ےگی۔ ای طرح زگی ا بج مکا انتا ب متا ےک ووگی ای مزا کن بہھگا۔
علامہ این فلا شی کے ہیں: اس معاممہ ٹش ہارےٹم ٹیسکوئی اختلاثتیں ے
ابی طرع اں ام میں مھ یکوئی اختلا فنیں س ےکم ملمان اود ذگی کے
درمیا نکوئی مزا پیدرا ہو جاۓ اور وہ عداات میس 1ے تو ا ںکا تصفے عدل و انصاف
کے مطابقی ہوگا: ا کرکسی بربھ ی_حلم نہ ہو
اسلائی ریاست ذئ یکو پور مال حففا فراہ مکری ہے اک دہ ہرخطرہ اور اندیش
سےآ زاد ہوکر پرے ا لان کے سا مالی سرکرمیاں جار رک کے۔
ر بای امور مل زمیوں 1 غدمات
ایک معلہ یہ ےک اسلائی ریاست می ذمیوں پا خی ملسو ںکوکوئی عہدہ و
0 0 گے؟ 1ر جک لکی اصطلاج میں
ملازم تکا تن عاصل ہوگا؟
بای فطرئی بات ےکہ جو لوگ اسلا مکو خداکا ناز لکمدہ دین مات ہیں اور
یں ا ں کی صراقت پہ مان و لان سے وی اں دی نکی یاد پر تائم ہہوئے وا ی
لے شوکانیء ننل الاوطار: ۱۸۳/۹ قرض دا رکوقی ربج یکیا جاسکتا ہے۔ ا سکیتفصیل فق کی کتابوں
یش دشھی جانکق ے۔
٢ این قراے ٣۵۱/۱۳:
وا ل۔الق: ۳۸۳/۱۳
۲٢ ذمیوں کے عقوق
راس تکالشم ولس خلوں کے ساتھ چلا سکتے ہیں۔ اس کے لس جن لوک ںکو اسلا مکی
صداقت ہی میس شیہ ہو اور جھ اسے ال کا ناز لکردہ دین شہ مات ہو ء ان پر اسلائی
ریاست کے چلان ےکی ذمہ دار نیل ڈالی جائتی۔ وہ ال کےکلیری مناصب کے لیے
موزو ںکیں ہیں ین صوالی ىہ س ےکہ ان سے جہ کر در ربا امود یں الع سے
فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے پانیل؟ ال حلسلے یس ایک دا مکنا ہ ےک راس تکو ان سے
کی بھی رح کا تھاین حائ٥ لکرنے سے اتزا زکرنا چاہیے۔ ال پر قرآن مجی کی جن
آ ات سے استلا لکیا جانا ہے الن شی سے ایک ہی ے:
ُا الَذِیْنَ آمَُوا لأ تتَخدُرْا بطَانَةً اے ایھان والد اپے لوگیں کے سوا دوسری ںکو
رازدار ثہ بٹا2- وہ تُہارے بگاڑ می ںکوتاہی نہیں
فُونكملأَيَلزَّكُمْخَيَِ وو ما کرت ہیں۔ وہ اس تی سے خئل ہوتے ہیں
مل دن تَا من اہم جس سے نہیں تکیف پچچہ ان کے مد ے
وَمَا تُعْفِیْ صُدوْرْھُم اَكَبَر قد بَا قد یں
ا ا ,9 کینوں میں شیدہ سے وہ ال سے تھی زیادہ
می سشمت سی دح یں
(آ عران:۱۷۸) کردیی ہیں ۔اگرقم عتقل سےکام لویل
ال آییت کے ذیل میں تقاضی الو می سککتے ہیں:
وفی ھذہ الایة دلألۃ علی انه لا ال آیت مل اس با کی دیل ےک ذمیوں
یجوز الاستعانة باہل اللذمة فی یں سے ج کارگر اود حر (ویرہ) ہیں ان
امور المسلمین من العسالات و سے ملائوں ہے معاللات بی بدد لین چائز
الکتبة نہیں ے۔
روبیت ےک حخرت عو ىہ اطلاع ٹ یکر ححضرت ابو موکیا اشعر ین نے ایک
7 بیہ اود ال مہو مکی دورکی آیات کے سیاقی وسپاقی اور یں منظ رک یتفصییل کے لے ملاحظہ ہو ای
ات کا بن نی رسلموں سے عدرىعلق کےق ری اجک مکا یں مظز
۶ این جوزگی: زار :ا /ے ٣٣
ڈتوں كُئ خقوق ے٢۲
ذئ یکو انا اتب (ضئی) مقررکیا ے و یں خت خ لھا کہ اتی نے ایس جمارے
ماتحت دکھا ہے تم ھی فراں روائ یکا مقام دےرے ہو
فی می کہا گیا ےک لماش نی دن جو شر خراع اورتمارتی قں
یصو لکرے, ا کا مسلمان ہونا ضروربی ے۔ غی رسل مکو اں منصب پر (یا اس جیے
دوسرے منصب پ۰ فائ کر عاام ہے۔ ا کا دینل میس تق رآآن ہمیرک ےآ یت ٹن یکا
گی ے: و لن بُجْعلَ الله لِلْكفِرِیْنَ عَلی المُوِيينَ سبِيْلاً (اشا:: )”اور اللہ
نےکافروں کے مسلمانوں پر ال بآ ن ےک یکوئی یل نہیں ری ہے
کی اتی لت مرکا سی طر کا قول یی کیا عکیاے؛ جھابھ یگزر چک ے۔
ما کی ردابیت ےک رت عڑ نے ححضرت سعد بن لی وقاض٢ حکوککھا کہ
مشرکین میں ےکس یکوکاب (ضخی) نہ مقررکر کہ وو مسلرانوں کے موالا تیم بند
کرے۔ ال لیک دہ اپنے دی کاموں میس رشوت لیے ہیں اود ہمارے دین شش
رشوت جائزنئیں ہے۔ امام مم فرماتے ہی ںکہاکی پر ہمارائل سے سر براومکلت کے لیے
خی رسل مکوکا جب مقر رکرن ناچائز ےئ
ریت عو نے خی رسلسو ںکوکاجب کا عجدہ نہ دینے گا ایک وج ہہ عیان
فرمائی س ےکہ وہ رشوت خور ہیں۔ مسلمان ال دور یش ا لگم زوری سے پاک تہ ال
يیے دپی اس کے خن ھے ے۔ ودنہ ظاہر 7 رشوت خورکوسرکاری عیدہ پر مامور
ھی کیا جاسکناء اس ووملران یکیوں نہ ہو۔ ال سے ہم یکموگی اتدلال ایر ق
ہوک اسلائی رباست میں خی رس مک کوئی ام منص بنییس دیا جاسلنا۔ وہ اکر دیات و
بات سے تصف اورقائل اتاد ہے و اسے ڈے دارکی سو سی جانتی سے۔
این الجوزیء زاداآمسیر :ا لے ۴۴۔ اس سو یکا نا پیں معظرمعلوم ہوتا ہے۔ ا ں کا حوالہ ہم
او ہے اس نتقلرنظری مز پیل کے لے ہکھی جائۓے۔ ریہ ال لاحام الترآن:۹/۳ك١
کہ ابن عاب ینہ رد اتا ری الد :۵۱۵۰/۱
۷۸ ذمیوں کے حقوق
چک میں غی لصو ںکی ش کت
فتجاہ کے درمیان ایک منلہ سز بث رہا ہےکہ غیرمسلموں سے جگی
خدمات لپ جات ہیں بانہیں؟ ای کگرد وی را یہ س ےکہسشرکین سے بد لین مطاق
کی نیس ہے ان خی می امام اح دجھی ہیں اع کے نز ئیک شی اعانیث سے ا کا
جواز ثابت بوتا سے ان کے مقابلہ مس وہ احادیث زیادہ توکی اور تد ہیں جن رے
عدرم جوا زخاہت ہوتا ے
تج مسلم وو رض 7 رر روایت سے۔ححضرت عائتیا نکر
یں سیل 3 بدرکی طرف روانہ ہہوۓ اور 7ۃ الوبرہ نائی مقام ک7 (جھ دیع
ےآئز: پا رلیل کے فاصلہ پر ہے) وپ سے انیٹ تے علاقا تکاہ شھ کی
27 و ہمت اور مضبوٹی وتزان یک شمرہ تھ یمان ا کی آد نل ےس نے
عن کیااک یل اس جنگ می لآپ کے ساتجحھشریک ہونا اور ج مال لے اس سے فانندہ
اٹھانا چاجتا ہو ۔آپ نے ال سے پڑپچھاک ہکیام الش اود اس کے رسول پہ یمان رک
ہو اں ن کہا :نکی ! آپ ے بَا لا مین منشرک (ہ سی میں ےید
حص لک سکرتے) حخرت عائٹ نف مائی ہی کہ یھ فاصلہ ٹحےکرنے کے بعد وہ دوپارہ
اش رہ یآ پکی خدمت میس حاضر ہوا اور اپئی درقواست شی یکا ۔آپ نے ای سے
وی سوا لکیا جھ پل کیا تھاکہ خدا اور رسول پہ یمان رھتے ہو؟ اس نے ا بکی بارجھینفی
ٹش جواب دیا ۔آپ نے پچھرودی اب دیا کہ ب مکی مشرک سے مددنیں لیتے۔ اس
کے بعد وہ مقام بیداء لآ پکی خدمت میں جیا اور اتی درفواست می یگ ۔آپ
نے اس پادجھی اس سے می سوا کیا ک ہکیاتم دا اور رسول پہ ایمان رکتے ہو۔ اس نے
کہا: ای ۔آپ نے فرمایا ا ب تم جمارے سات جیلو
7 زاھی , نصب الرییۃ: ۳/ ٢٢۴۔ نی زقرٹی: الا لاجام القرآن:۴ / ك١
سلمءکتاب الہاد ویر جا بکراہت الاستعانۃ پٰ الخزد بکافر
ذمیوں کے حقوق ۲٢
بیمک ایک اق متدرک حاکمء مند ا بن الی شیب اور ات جن راہوے
وغیبرہ بس موجود ےک عیب مجن اساف اود ان کے ایک سمائی رسول ال پچ کی
خدمت یس یچ اون لکیا کہ ہار قو کی نگ یس شریک بد اود ہم شریک شہ ہیں
بی ہمارے لے باعث عار ہے۔ لہا ٠ی ں بھی رکم تکی اجازت دہچیے ۔آپ نے ان
سے بچی سوا لکیا ک ہیام اسلام لے و؟ انھوں نےکٹی میس جواب دیا آپ نے
فرمیا: ہم مشرکین سے بددنییں لیے ۔ فرماتے ہیں: پچ رہم اسلام لن ےآ اود چک میں
شریک موب
ایک طرف 9 پروایات یہ دوسری طر طض اور روایات ہیں جا بات
کا شموت فراب مکری ہی سکہ نازگ ے نازل معاملات می بھی وت ضرورت فی سل مکی
خدمات اورصلاحمتوںل سے فائدہ ایا جاستا ے۔
نہر تکا واتے ےک ول ال کچھ اورخرت الوکئڑ ن کہ سے اج ر تکی نو
راس کی راہ نماگی کے لیے بن الدمل سے ای نی خدمات ارت بر حاص٥ لکیں بھ
کاف تھا اس نے جاہلیت کے طرتتے کے مطا لی پک مکھائ یکم دہ اس سف رکوراز بش
رک گا اورسفرمیں را نمائ یکر ےگا
اں مل اش مل او رتضرہت الوکڑ نے اخادگیا اور اتی اخٹیاں اں ے
حوالہکردیں۔ قین دنع کے بحعدکمہ یس جب آآ پکی لاٹ کا ہنگامہ فرو ہوا و وہ صب
وعدہ انطیاں لن ےکر خارفر کے پاش پیا او رآپ دوفو ںکو لن ےکرسمندد ک ےکنارے
کے راستہ سے ھی مایا
ا زعٹمی نصب الر۔: ٣۲٣۳/۳
اس کے نام کے بارے ٹل اختلاف ے۔ راز قول ے ےک اریقط ام تھا۔ بے لبارگ:ے /۲۳۸
دور جاہلیت می ہا ھکوخون یا زعفرالی نگ یا سی طرع کسی چز میں مو ث کر کے تم پیا
جائیگی۔ ب الباری:ے/ك۲٢۲
فا بای ءکتناب منا تب الافصارہ باب جرۃ ال و اصسحاہہ لی الم دی مب ّ البارگ:ے/ ۲۳۸-۲۳۳
۲63 ذمیوں کے حقوق
اس عدیث کے ذیل می علآمہ بدد الین مٹنئی سککتے ہیں:
ال سے خابت ہوتا ےک مشرکین ے اگروفادارق اور ای اظلاقی جذہا تکا
مظاہرہ وف ان پر رازداری کے معاملات اور بای کے سال میس اخ دکیا جاسکتا ہے۔ جیا
کہ اس مشرک پر رسول اشک نے اعادف مایا تھا۔ دس لے 22 2 پ کے
شن ےکن دین ارائی کی جوصاغ ردایات ان یش باتی ر ہیل ان کے دہ ایند
تھے۔(ان بی یل ایک ہد ہ پیا نکا اترام بھی تھا)۔ چو ںکہ انس میں آپ۔ ۓ
الاق ومروت بھی سفرنجثرت کے خطیہ پنمام کے سال بیس اس پر اخمادکیا اور اپٹی
انٹیاں ال کے حوالہکردی ںیک تین ون بعد وہ آ٠یں نےکر ارثود برک جائے۔ مہ مال
کے بارے میں ائں پراخاد تھی
کہ یش رسول الل یک جب مخت ترین عالات می لگە م جئے مزاغین نے آتٹ
کے قیا مکو امن بن دی او رآ پکی شہاد تکی ت می ری کی جانےلی تے آپ نے اججرت
کا فیصلف بایا۔ بی ایک الیل رازدارانہ فیصلہتھا۔ اس پیل ددآ مدکی راہ یش آپ نے
ایک ا ہے فردکی خزأاكژت ئل لان اور اسے ال ںکا معاوض ھی دباہ جوعقیدہ کے اظ
سے کن قو کا فروتھاں یکل سے یں با تک یک رجخت خالف احول می ں بھی ضرورت
پڑنے پرقائل اعناد یم رسسلم افرادکا تماون حا لکیا جاسکا ہے۔ بینتاو من نہ ہوگا۔
اں واقہکاتعلتی تک ےنیس ےمان یں ای ا تاون کےسلسلہ میں
استرلا لکنا غلط نہ ہھگا۔ ددنوں یل رازداری اور اع وو بذیادکی الیت عاص٥ل ہے۔ اں
کے علاوہ اس با تکا وت موجود ےک رسول اللد لنٹ نے ارت کے بی رض اوقات
گی ات ہیں فی رسلموں سے تاون عاص لکیا ہے۔ اس وجہ سے اہام الوعلیفہ امام
شی اورٹیض دوسرے ائعالات کے فواظ سے اسے جائز ججکتے یت
جن ائمسہ نے اسے چائز قرار دا سے وہ کے ہی ںکہ امسلائی ریاس تکا صریراہ یا
ا بدد المدین شیئی عو القاری:٭۱ / ۳ے
ذمیوں کے حقوق ۲٢
عاکم دویشرائیا کے ساتھ غی لو ںکو نک میں شرک تک اجانت دے تا ہے۔ ایک
بک مسلمائو ںکی تقر رم ہو اود اع سے مدد لک ہکی ضرورت ہہو۔ دوسرے بک جن سے
رد پی جاۓ وہ قائل اخاد ہوں۔ امام شاأقی فرماتے ہی کہ امام مال کک یہ ردایی تکہ
آپ نے ایک ما دومشٹرکو ںکی اس جن کت شکو ردفرما دیا کہ دہ جک میں شریک ہونا
ات ہیںہ اس کاتملق جنگ بدد سے ہے۔لجکن بدد کے چارسال بعدآپ نے جنگ
تھی رکے موتے پر ہنوقیتقاغ کے ببود سے مدد می اود جن گنن یں عفوان بین امہ سے
رد عائ٥ لکیہ جو اں وقت مشرک ےا بدر کےسللے مس جھ واقعہ ٹین لآ یا یس کے
ےی دو با لک جات ہیں: ایک یک ہآ پکوسی مشر ککو جنگ میس ساتھ لین
اارشٹ ری کفکرنے یا ت کرت کا اختیار تھا۔ ایک مرج ہآپ نے ساتھ لیاہ دوسرکی عرتب کیل
ا. مقار آ پکومسلمانوں کےسللے میں بھی حاصل تھا کسی مسلدا نکو ینک میں
ساتھ نہ لے جانا ات و ای اکر گے تے۔ اس اظ سے یہ عدنشگیں ایک دسر ےکی
خالف نیس ہیں۔ د سکیا بات یہی جانتا ہ ےک ہآپ شی مشٹرک ہون ےک وج سے
ساتھکیں لے گئے۔ اکر یہ ہے نذ بعد کے واقعا تکو نا مکچھا جائۓےگاہ جن می ںآپ
نے ان سے مدد لی غمزدة بد مم جس مشر ککوآپ نے لوٹاا ہیکنا ےپ کے
ا نزو تین کا واقعہ ےک قبیا ہوازن کے بارے مم آ پک اطلا ہمہ وہ اور ال کے علیف
آپ کے خلاف جک کا مو بہ بنا رہے ہیں ۔آپ نے ھی مقابل ہکی تیارگی شردو غکردی۔ ای اتا
ج شآپ ک عم یں یہ بات کیک رمقوان بن امي: جو اس وت تک مشرک تہ کے پا کان
تھیار ہیں ۔آپ نے ان کے پا اپنا مغ رکا اورفرایا: اے ابد امیا آپ اپنے جتھیارکئیں عار با
دیی: ت کرک نشن سے ہونے والی نک می ہم فاکدہ اٹھا یل ال ن کہا کہ تھا رخصب ت
نی کر لیے جائیں گے ۔آپ نے الھینان دلا اک یہ عار "ا لیے جا رہے ہیں اور ا کی کی حا
ہوگی: اں تن ےکھا: تب ت کوئ رع نیس ہے۔ چناں چراں نے آ پکوسو (١٭۱) زرہیں اوداس کے
0/۰ کے پان کا بھ یل مکیا۔
سیر این ہشام: ٦۸/۳
۲۲۴۲ سو کے عقرق
اس رویہ سے ال کے اسلام لان ےکی نو رج ہو بہرعال اما مکو یت ےک مصسلجعت
کے ٹپ نظ روہ یکو جنگ میں شرکت سے روک د ےل
مل مکی روایت انا ا یئ بممش کب (بھ مکی مٹرک سے مزہیں
لس گے ) کے ذیل یس ا ام ندوی فرماتے ہی سک ایک دوصربی حدیث سے معلوم ہونا سے
ک ہآپ نے معفوان بن اممیہ سے الن کے اسلام رت نے شک ناشن یکا نیعلا
کے ایک علبقہ نے کی حدی کو اس کے اطلاقی کے ساتھ اخیارکیا ہے۔ ان کے نز دیک
کی مرک سے مد لینا مطالق نہیں ےلکن امام شاف اود دوسرےححفرات ن ےکہا
ےک ہاگ رکافرمسلرانوں کے پارے میں اکچھی راۓ رتا ہو اورضرور تکا تقاضا ہوکہ
ال سے مدد کی جائے فذ درد لی جا ۓگی۔ بل ضرورت یہ نالپندیدہ ہے۔ ا ط رج دوفول
حدہشیں دوملف صورت حال پگسول ہو گی
امام ااوبکر جصاضص فرماتے ہیں:
انا فکا ملک یہ ےک ہش کین سے جک میں (ان کے خخالف) من کین
عو م٣ ہے۔ البقہ یہ بات یٹ نظ رر ےگ یکہ جنگ کے بعد اسلام کے اعکام
ک لہ ہوہ لین اگرمشرلان کے نلم ہکا اندىیشہ ہو 0-70 جائ ۓےگا۔ الکا
صورت میں مسلمان ان کے سات لکر جن کن ںکرمیں گے یرت ومغا زگ کی مشہور
روایات ہی ںکہ ہنک میں سول الپ سےساق یھی ہودرے ہیں اوربھی مشرین ک
اھ رہ ہے بات را لن روا تنا معالمہ جس می ؟پ نے فرب کہ کسی رک
سے مددنئیں لیت تو پوت ہے پا اشن افئس ہے ٹتھاقی عو 0 ےآپ
نے اسے چایں خیال فر مایا ہو ۔آپ کے الک رکا مطلب یہ ہوا کہ بھم اس تی ےآ دی
سے مددئیں لیت
نووری شر مسلممء رج ”ء جزء ۱۹۹۲ × کا ,امام الترآن: ۵۴۶۳/۳
ذمیوں کے حقوق ۲۴۳
الیٰ 2 و مم لمایوں ا حصہ
تن مقباء کے نذدیک اسلائی ریاصست غی رملموں مین وت ضرورت ٹوگی
غدمات ل ےت ہے الن کے درمیان ىہ چٹ دتی ےک ما لیت میں مسلرانو ںکی
رع ان کا پھ یکوئ مین حصہ ہوگا ما ننیس؟ ام ت یی فرمات ہیں ک یت اب لھلم سے
نزدیک گر زی مسلرانوں کے ساتحم لکر وش یکا منقابلکرے فو بھی مال لحنیمت میں اس
کاکوئی تیم حصہ نہ ہوگا لی نین ووسرے ای لع مکی راۓے بی ےک ال صورت
جن دوبھی مال نیت یل حصہ دار ہوں گے۔ امام زہر یکا روایت ےک رسول اش ہل
کے ساتھ جن یبد دیوں نے جنگ می شرک کی آپ نے می بھی حصہ دیاقای
امام ز ہرک کا یہ بیان ابودادکی ھرال می بھی ہے۔ ال کے ایک راوکی نے
مثل سھمان المسلمین (مسلمانوں کے حص کی طرع) کے الفاظہ استعال سے ہإں-
این الی شی کی ردایت ے فیسھم لھم کسہام المسلمین۔ شی یکچ جنگ ٹشں
شریک ہونے وانے بیو دکومسلرانو کی طرح حصہ دماکرتے تھے
نی کی روایت ے _جظر تکپر اللد جن ھا نف مات ہی ںکہ رسول الل چک
نے ہنوقیفقاعغ کے بیہود سے بدو تھی۔ ا نکوعطیہ دیا تھاء نیس دیا تا
انز ک بیان ےک غزو یی آپ کے ساتھ دیع کے یں بہودگی
تھے۔آپ نے مسلمانوں کے حص کی طرح ا نکی حصہ دیا۔ ہگ کہا جانا ےکہ ان
کو پچ طورعطیہ دیا تھاءباقاعدہ حص نیش دیا ریگ
ا تنگ اواب سیر باب ماچائ فی اٹل ازم یفرون مع مین بل ہم
کے بی روائتیل مم زہرئی سے ھرسل ہیںء ال لم نے ایام زہرکی کے مرا لضکوضیف قرار دا ے۔
زنشحیہ نصب الرای لاحادیٹ الہری: ۳/ ٣۲۳,۴۲۲
ال روایت شی بھی عف ہے۔حوالہ سای
ج_ حالہ سای
۳۸۳7( ذمیوں کے حقوق
امام نو فراۓ ہیں:
” اگ رکوئی خی سم اما مکی اجازت سے جنگ می رک تکرے فو اسے لور
علیہ بد دی جا ۓگاء باتقاعدہ ا کا حصہ نہ ہوگا۔ نی امام ماک٠ امام شالق, امام ااوطینہ
اور مہو رکا ملک ہے۔ امام زہرگی اود اوزاگی سکتے ہی ںکہ ان کا بھی بانقاعدہ حصہ الا
جا اک
فف نٹ می ںکہا گیا ےک اکر ذئی جک میں شریک ہوقو یں کا حصہ (ہالي
غیت ہیں ) ملمافوں کے حصہ کے براب نیس ہوگا۔ اسے لطورعطریہ جو دیا چا گا وہ
برعالیکسی ملا نکو نے وانے حص ےکم ہوگا۔ ایک عصورت بی ہ ےک ہاگگردہ نک میں
بماو رات شر کنیں ہے۔ لیکن اس نے اس لس ہک یکوئی اور خدمت انیم دگی سے تو
اسے ا لکیا ارت دی جات ۓےگیا۔ بہ خدیمت اکر ال نوکی تک ےکہ ال سےمسلمائوں
کو زیاد وٹ تج باے خلا اس نی خاس پہلد ے راہ نماک کی سے تو اسے جو
اترت دی جال گی دہ ما غیت میں لے وانے جے ے زیاد بھی تی سے
ان تقعیلات بی سب سے پ یہ سف نر ت کا واقعہ ہمارے سا ےآ" ے۔
یں فی ایک خی رسلم سے مدد حاص٥ لکرنا اس با تک دیل ہےکرمخت اسلام شی
کے ماحول میں بھی اہی خی سکم افراد ہوسکتے ہیں جن بر ٹیش نظ راسلابی منصوبوں بش
اخادگیا جاتے۔ ا نکی صلاعمتوں ے فا دہ اٹھاے اور انی ے مد لیے می سکوئی رح
یں ےہ بللہ یہ اسلائی حس گی کا ایک ضروریی جزء ہے۔ ای طرح اعادیث ال
پان تکا شموت فراہ مکری ہیں اور ٹیل 7 راہب نی اے مائر گل ےک اسلائی
رات غیرمسلموں سے لی خدمات عاص٥ لکریکی ہے۔ جمبود اس بات کے قوائل ہیں
کہ مال خقیعت میں جس رح ملمان سپازیوں کا ح تجین سے اس طرں خی رسلم
ا ووی حم جلر ۳ء جتزء ۱۳۲ء۷۰ضش۱۹۹
گی ہائیں تّالقدی: ۴۰/ے۳۲۔ الدد ارح رد اکنا ر: ۲۵/۳
ذہیوں کے حقوق ۲۲۴۵
فو یو کا حصستحی ن نہیں ہے لیکن ٹچض اہ کے ویک خی رس فی کا بھی ودی حصہ
ہوگاء جو ایک سلم سای کا ہعتا ہے۔ ہہ بحٹ زیادہ اہم ال ل ےنیل ہ ےک موجودہ دور
یش جگی نک انی دہ ہی ےکہ اس میس مال خنجمتکا سول مکل سے پیا تا
ہے۔ ا ںکاگخئش برعال فقہ یں پائی جالی ہ ےہ غی رمسلمو ںکی فوی غدمات
پالحاوض اص٥ لک جاحق ہیں۔
تحیل رہ
ایگ اود جز یہ فور ججے:
ال بات پہ امت کا اتماع سےکہ اموالی زکوۃ غی رسلم پرصر فنیں ہوں
گے لین زکوۃ کے جومصارف بیان ہوتے ہیں ان یش ال کے خمال اورکارنر ےکھی
ہیں۔ اسے رن مجید نے 'وَالعطمِلِیْن خَلَْكَ کے الفاظ مل میا نکیا ے۔ سوال ہے
ےک کیا زک ۃ کی یل اونیم ویر کےکام پرکسی خی رس مک انا اور اسے اس کا
مفتانہ ینا کچ ے؟ ام اع ین شل سے ایک ددایت ہ ےک بے جائزنیں ہےە لان
دوسرکیا ردایت ہہ ہےکہ بی چائم ہے۔ ینس طر) اورکامول پر اسے اجرت دگی جانلتی سے
ای رع ال کام پرجھی اسے اجرت دینا خلط نہیں ہے۔ مہو لی فقیہ علامہ خرقی کا
را ۓکبھی بی معلوم ہوئی سے
و اتی فا مسلمائوں سے ہے۔ ان سے ٹ کر وصرے اص اور
ین ٹر دی صول خی رسلموں کے ذریت ہوکتی ہے۔ انس طود پر جزمہ با جوخرا
ان سے جصو لکیا جانا ہے ا لک ضصولی کے لیے ان کے کین میس بظاہ رکوئی بات
۰ی ںھوں ہوئی_
لے این قراب خ :۱۰۷/۳
۶الہسالق:٢/ے٭۱
۲ ذمیوں کے حقوق
ا نتقعیلا کا یا مل موجووہ حالات سے پیی ظ خی ملسو ںکی غرمات
اوران کےموق لازمت یرہ پ از وو ر ہوا چاہے۔
ذمیو ںکی عباد ت گا ہیں باقی رہی ںگی
کہا جانا سےکہمسلمانوں نے اپنے دور اقتتزار می غیرمسلمو ںکی بہ تا
عپاو تگاہو یکو توڑا اور یں متہد مکر دیا۔ ا ںکا یئ ی خبوت ف راہ مکرنا مضتل سے
لین جس چٹ سے ہہ ٹفکر کے می کوئی ال لنییں ےک ہاگ ری فرد ماگمردہ نے ہی
مرک تک سز ایک نار واتخ لکا ارتا بکیا ے۔ الام سے ا وی تلق نہیں نے
کی تعلیمات اس کے غلاف ہیں .ق رآن دی مسلرانو ںکو چہادکی کی مر جب
اجازت دئ گنی نو ا لکی ضرورت اویرحکمت ان الفاظ می بیان ول
وَ للا دقع الله الس بَفْضَهُم اکر ایر لوگوں میں ےج سکویئض کے ذربجہ
پىقض لَھُذنٹ عَوَایع و بیع اَ دش دکرتا ق خاا یں کر بے عبارت گا ہیں اور
ساجدجن مس الل کا نا مکخزت سے لیا چاتا
رس سے کُر فا انم ےہ سب نہد مکردیے چا اور اللد ضرور ممد
الله کر ضرم اللهُمَْبَصُرَة رد ےگا ان لوگو ںکی جو ا ںکی مددکرۓے
ان الله لَقرِیٌ عَزِیْڑّہ (راہم) یں۔ بے شک الد طاقت ور اورغااب ے۔
مطلب کہ چہادکا حم صرف مسلمانوں ہ یکویس دیگیاہ یلم و بربری تکو
مٹانے کے لے دوسرے انمیاء اود ا کی امتو لکوگھی دیا جات رہا ہے۔ اس پر اخترائش اد کے
ان بگز یرہ بنروں اور ا نکی تقلمات براختراقش ہے اگر یم مہ ہوتا ق دن اظلم وجور سے
بر جائی ایرعباد تگاہیں ت کحفوظ نہ ری الہ کے جن اود اس کے ہاٹی ھی بھی
ممارکر کے بچھوڑتے۔ اس لیے ج ببھ یھکم حد سے ؟ کے بڑھا او طالموں نے دین اور
رہ بک ناو ںکوھ یت مکردیا چا ات اللہ تاٹی نے اٹ لت نکوان کےخغلاف صف 1را
ہو ےکا ام دا اوران کےڈرییلم کے بڑ ھت ہو فدرم روک دبے گے
خی الا لاجام لقرآن: ۴ /٠ے
ذمیوں کے حقوق ۲۴۳
ال کا ایک مغفبوم بھی بیان ہوا ےک دوعلم تم جومشرکی نکی طرف سے
ملمانوں پر ہورپاے اگ رمسلمانو ںکو اس کے خلا ف موا انٹھات ےکی اجازت رد یگئی
زین پرکوئی عبادت گاہ باقی نیش رہ ےگیء یودیوں کے معبدہ نار س ےگرچا اور
مانقاہیں اورمسلرانو ںکی مساجد سب ما دگی جا یں گے
ان بش سے جوکھی مفہوم لیا جا ال سے ہہ بات شابت ہولی س ےک
عبات گاہوں کا انہدام اعلام کے نز دیک ساس ناروا اود المانیکل ہے۔ وہ ان کے
انہدا مکا نہ صصرف الف سے بل وہ دوس ری عبات گا ہوں کی کی ای ط رب طاظت
چابتاے شمیظطرں ساجدکی طاظطت چاتاے۔
فقہاء کے درمیان ال ام پ اقاق س ےک کا خی رسلم علاد بر گر اسلائی
مت چائم ہو واں خی رسلمو ںکی جوعباد تگاہیں پائی ای ہیں یں متہد نی کیا
جائےگاء ا نکی رم تک یں اجازت ہوگی اورضرورت پڑنے پر وہ ا نکی از یر
بھ یرت ہیں۔ چناں چملمانوں نے بہت سے علاتے اور بہت سے کے
لین وہاں شس یکلیسا یاکسی مع رکومسارکیامع نقتصا نبھیننیس بپچل گیا
اش کے وت میں ان عپادت گانہوں کا حوالہ دی گیا سے تج نکی تی راسلائی
فقمات رے پیل ہو نیہ جدان کے بعدربھی صدیی ں کک تائم رہیں۔تضیقت بے
کہ خی رسلمو ںکی عباد تگاہو ںکونوڑنے ا ھی سم رکر ےکا ازروۓ شر کوئی جواز
بىیتیں ے۔ اسلائی تخلیما کا اتقاضا ىہ ےک دہ ا کی جایں اود اعلا مکی ارت
شہادت دق ہ ےکہ دہ اتی رگ یکئیں اور شی ںکوئینقتصا نیس پچ گیا۔
ایک سوال مہ ہےکہ یم صر فآ سال اہ بک عباد تگاہوں کا سے با ال
ٹس دوسرے اہ بھی آتے ہیں؟ صورٗ سکیا جآ یت ال بجٹ کے تروع میس آی
سے ایس میں تصوائ حء َء لوا اور مسا رکا ذک ہآیا ہے۔ اصصوائع' ہج ہے۔ ال کا
۲۲۸۹ ڈمیوں کے توق
واعدصومعہ ہے۔ اک کے مع ادن عمارت کے ہیں۔ ىہ لف نصارگیٰ کے راہیول اور
صا٘ھین کے زابرو ںکی عباد تگاہ کے لے بولا جاتا تھا نت کا واعد بیع ے۔ بیکلیسا
2 لیے اتال 20 ہے صلوات بیہودی ںکی حباد تگا ہک کہا چاتا ے۔ صاوات ک
لفط ال عرب نے عبرائی کے صلوتا سے بنایا ہے۔آ خر میں مسلمانو ںکی مسا کا ذکر ہے۔
ان عباوتگاہوں ملق کہا کیا سے کہ ای تھا ٹی اث لج کے ذرہیے ا نکیا
طاظت فرباتا ہے اود ا ب بھی فرمائے گاہ ودنہ خدا کے بای ود ال کے ین یں تباہ
گردیسی گے۔ ایل سے بہت سے مفسمرین نے می نہ اغ نکیا ےک ہآیت میں جین
عحباد تگاہہو ںکا ذکر ے ان جیکی طاظ تکااں یکم ے دوسرکی عباد تگا ہیں ال
میس شال ل کی ہیں۔ این عطی کے ہیں:
” یہاں ان امتو لک عباد تگاہہو ںکا ان ہے مجن کے پاش فلرم زمانہ سے
آ سال کناڑیں ردی ہیں۔ یں یا مشرلش نکا نوک رنیں ہےه اس لی ےکہ یہن قوموں بش
نیس میں ہ نج نکی حمایت واجب ہو اورصرف الک شر ھی کے ہا الل دک یا دکیا
جانا ےگ
لن ابوالحالیہ نے 'صلوا سے صاںحی نکی مسورمراد لی سے
صبحہ کے پا آسانی زاب کے ہون کانلتی و تننیں ہے :صرف ا ںکا
امکان ے۔1 ال رح کا امکان بہت سے فقد مم مہب کے بارے می چیا ہے۔آ یت
مس مساجد کےمتعل کہا کیا ےکہ ان می ال تع یک وکشرزت سے یا دکیا جاتا ے۔
دصریی عباد تگاہول کے پارے مس مہ پل ٹ نی سک یگئی ہے۔ ال لے بی امندلال جن
یں ےکالن سب میں گت سے الٹدکا کر ہوتا رتاے۔
ے تی ابا اجام الترآن: ۱۳ /ے١
ع اس سللے میں سل فک آ7 راء کے لے دیکھی جائے ۔طبریہ جائع المیان فتخیرالقرآن, ۹ء
جڑ ےاءصص ۵ ۴۷۰۱۲ اش مم
ذمیوں کے حقوق ۲'۴
بہرعال حخرت ابو العالی کی رائے کے یں نظرب کہا جاسکنا س ےک
یبا لکا بکی عباد تگاہ کے اتہدا مکی بھی اسلام نے احجاز تنڑیں دگی ہے
ابن خی منداد کے ہی ںکہسرہٗ ری کی آیت یس ذمیوں کےکلیساء ا نکی
حباد ت گا ہیں اور ان کےآ نت یکردرے متمد کرنے سے مک ایا ے
اس سال میں فقہاء ن ہف ستخصبلا بھی بیا نکا ہیں-
علآمہ این قر ا می مسلمانوں کے شبرو ںکی شسسیں بیا نکرت ہوۓ ککعت
ہی کن شبروں برمسلرانو ں کا ہزور قتحضہ ہو ان میں خی رسسلم نی عبادر تا ہیں نیس بنا
و گے الہدئرم عباد تگاہوں کے ازے لن میں سس داانل کے ساتھ تا ے
کہ دہ بائی ری ںگی۔ اس سلسل می حضرتعبداللجن یا کی بعد اف لکا ہے:
ایّما مصر مضرتہ العجم ففتحہ اللہ جس ش کشم نے آبادکیااورالل تھی نے عرلیں
علی العرب فتزلوہ فان للعجم ھا کوا پر نی بک اوروہدہاں ےنت مکی
فی عھدھم وہ زی باتی ری گی جوان کےعہد می تجیں۔
ای طرح حخرت عھرین عبد ال زین اپے گورنرو ںکولک ھا کوک عپاو تگاہء
کوئی کیا او رکوئی ات یکر ہم نکیا جائے۔ علآمہ این فا ٣ی فرماتے ہی ںکہ
ام کا ان لہ پھ اَِان سر رہ ےک یعاد تگاہیں سلرانوں کے شہروں و
رین اددنی نے ان پگ نی ںی
کیا زیو کی خی عباد گا ہی ںقی رہ تی ہیں؟
فقباء کے درمان نیہ جھت ضمرودرقی ےک اسلائی ریاست میں خی رصسلمو ںکو
ا لکی اجازت ہہوگی انی لک دہ انی نی عباد تگاہیں تی رکریں؟ ا لکاجواب بے دیاگیا
سےکشہروں می یں انی عباد تگاہی تی رک رن ےکی اجازت نہ ہوگیء زائص طور پان
2 تقریء الام لاجام الترآن:۴ أ|دے
ف0۷ ابع قرامہ امفحی: ۲۰۰/۳
۲٥۵۰ ذمیوں کے حقوق
شرویں میں تتھیں ملران اچ فیا اورضردریات کے تحت ) 1 بادکر یہ جیےکوفہ اور
پصردہ اس لی ےک شیرو ںکی حشیت اسلام کے تذہجی مراک زی ہے۔ المتد ریم شبروں
یں ا نکی جھعباد ت گا ہیں بے سے موجود میں وہ اتی رہی ںگیء جے بقداد یں ری کا
کیسا۔ ۱
دبہاتوں یں یا جشن علاقوں میس ذمیو لک آ بادیاں ہیں دہاں دہ اتی عبادت
گاہی ںیرک رت ہیںل
اک ری علاقہ کے لوگو ںکیا اسلائی ریاست سے ال بات پر ہوجان ۓےکہ
پرے علاتے پہ ای ک ےکی ایک حصہ پر قضرا نکا رگا اود وہ خراع ادا نی گے
نع سے مطالق زین ا نکی ہوگی اود دہ ال مل اپتی عبادت گاٹیں اورگکر یر
رسک ہیں
ان راولإاں ے جچیے پنے دور کے سیا کی مصا بھی ضریر ہوں گے ین
ھہرحعال یہرئئیں جربہی آزادٹی کے تقسور سے پودری طرں می لیو سکھا تیں۔ اگ ری شر یا
علاقہکی حشیت فی مچھائؤنی کی سے یا یصو سای ضروریات کے تحت ا ںک امیر
ہوئی ےو ہوم دوس ری ے ورن ہآ رج کے دور ملء ج بک زیادہ 7 1 آبادیالں
لوط ہیں اور بڑےشہروں میس متحدد راہب کے مان وانے ایک ساتجھ رت ہیں٠ اگر
ان کاکوئی بھیمگردہ اپنی عباد ت گا دی رکرنا جا نے اسے ا لک احجانت ہولی جا ہیے-
رن ید بای عدبیث سے ا لک ممانحعت خاب یں سب
جل لور
۸ ار تفصبیل کے لے کھی جاۓے ۔ ہایخ ّااقدی: ٣یہ۵ ۲اے۳ ٣۹
این 3راب |ُخُی: ۳ /۲۳9,. ٣٢
أضنی: ۰/۳ م٣
ہں سللے مس جھ روبات ین کی جائی ہیں ان کے ضعف کے لے ملاحظہ ہو نصب اریت
م ۳۴ن ٣۵۳,۷۰
۲۵۱
انسلائی ریاست اور جن الاقوائی تعاقظات
جس اوقات اسلائی ریاست کے بارے میس اس رح کا تقصور رین ا
کیشش لکی جائی ےکہ ا ںکانٹس وجود ہی خی راسلابی ریاستوں کے لے خطر ہکا باعث
ہھگا۔ دی دوسری سای طافت باریس تک ات ین کرت گی بللہاں وق ت کک
جن سے تہ ٹیےگیء جب کک دمری زال اقتار سے تحروم اور انس کے سساۓ
گوں نہ ہوجایں۔ وف ودک دا پر عالمتہ جنگ طاریککرد ےگیا-
می ایک پلگل غلط اور بے بذیادضیال ہے۔ ا طر کی صورت عال نت گن
سے اود نہ یر اسلا مکی تلہمات اود ا لکی جار سے ہ مآ ہگ ے۔
جنگ ایک عارڑ یکیفیت
اعلام نے ٹین الاقوائی ما پہ جن ککونڑیںء بلکہ ا نکوتعلقا تک یادقراردیا
ہے۔ ان ںکا نزک ریہ ۓےککوئی ھی رات جن عالات س گمزرککی ےہیان جنگ
کوئی تل عالرتنئیں ہے۔ ای کا مستخل ہون انسا نکی فطرت کے خلاف ہے۔ بے
اك وا یکیفیت سے ہو بھی طارل ہو عای ہے۔ اسلائی ریاست ال یکو ووام عطا
7 لو لیے وججود می ں نیس تی اللتعالی کا ال ائمانٰ ے وعرہ ےکہ وہ أمھیں
اتخلاف فی الال اور اقتہ ار عط اکر گا۔ ا وعد ہکا کر الن الفاظ می ہوا ے:
۲۵۳ اسلامی ریاست اور بین الاقوامی تعلقات
وذ الله الَِْ آمْذا نم وخ موا دعدہکیا سے اللہ نےتم می کے ان لوں سے
الإلحت لَيَ:مَخفََ فن اض یمان لا اددجخھوں نے کی ککام کی کہ
۳۴ ت00" گزنہ اوہ وا وہ ضرور یں زمین میں غلیضہ بناۓ گا جس
کا اشتخلت الد مق و دی ےی ے پوے ڈو وو
لسن لم دنم الذی ازقسی بناپ تھا اوران کے اس دی نکوان کے لے کی
لم وَلَی>َدِلسكمْ ون ”بعد وم ما رح ہماد ےگ سے ا نے ان سےصق ں
یعبدُوَيی لا یُضْركُوْنَ بی شَيْنَا وَمَنْ پن کیا ہے اورضرور ان کے فو کون وامان
می ید ڈلک ازآیک و +4 ھ"ھم
مل کت وف ہی ا یں کس
الفِقوْنَہ کے بعد جکوئی اشگر یکر ےگا فو ایی بی لیک
(النور:۵۵) نان ہیں۔
اقتراراورنکین ٹی الاڑ شکی غمش دطایت یہ تال گنی ہےکمہاالی ایا نکد ان
کی حالت تعیب ہوگی اور ووسکون کے سا ا وع گی خباؤ تکنکن سے پان
با تک 1-2 ےکہ اسلائی ریاست اچ عدود کے اثرر اور عرود رے باہر جنگ سے
عالات پد اکر ےکی کہا نکیا فضابپاککرنے اود اسے مقائم رک ک یکوشن کر ےگیا۔
وہ ا نکی طالب ہہوگی نہکہ جن کک خواہاں۔ وہ اقطراب اور بے گیٹی کے اسباب رن
021 کا احول امم 7رر ےگیاء تاکہ انسان ہرخوف سے آزاد ہوکر اللہ تعالیٰ
کی بندگ یکر تے۔
عراوت 2 ۶ 72 تہ
اسلام نے اپے اۓ والو ںکو ہدای تک یکحالت نک میں بھی ا ںحضیقت
کوف امش کک جا ۓےکہ جوم ا مملل تآ جح اسلاق راس تار بر پیکار ےہ
ضرور یی سک یہ ا لک عغراوت ای پقرار رے۔ عالات میں تد ٹی 1 عق
ے۔آن کے یم نکل دوست ہوککتے ہیںہ اس لے اما روم نہ اختیا کیا جائ کہ پھر
تعقا تکی بحالی ہی امن ہوجاے اوددوقی کے تمام دروازے بند ہوجامیں۔ ا لے ف راہ
اسلامی ریاست اور بین الاقوامی تعلقات ۲۵۳
-- الله اف و نے قرب ہےکہ اللہ تال تھارے اود ان لں
۰ ور و ہے پر کے دمعان عحبت پیداکردے جن سے تم نے
البین غاغزم وھ رت با رہ شض رے وو رواقمہ
دیز الله کر رَحیہ (نے) رتا اتد ورم ہے۔
یہ بات ال لی من می لک یگئی ےکم مسلمان ال لب کے پاتھوں بے پناہ
ت9 ورنگیفیںںسصل برواشتگراۓ ہے حے۔اں لیے ان کے غلاف مسلرائوں
کے اندد شدید جذبا تک پایا جانا غی رفطرکی یا نک ن نیش تھا۔ ان پر ابد پان اود وہ بی
عاات جنگ میں٠ زیادہ دشوارتھا۔ ان حالات می ب خی خرکی سنا یگ کہ اللہ نے چابا
ق بہت جلد یہتاریک بادل گی کے اود عالات نیا رخ اخقیارکریں گے۔ چتاں چہ
عالات ن ےکروٹ لاہ شمفیا ںشتم ہونیں اودریعحبت و الفت کے برا رشن ہوگئے۔ ال
سے ین الاقوائی متعاقات ٹس اس کے رئا نکا انداز ٥کیا جاسکتا ہیں
متائن کے احکام
اسلائی ریاست عالت نک پی اون 20 لیے بد درف ت نمیم :خبارت
اور سفارت ھی مرگریوں 2 09 ا وروازۓ کے رکھٹا چااتی ہے ناک مریف
ریات کے افرادیھی اسلا مک یلیم اورمسلمانوں کے عام رو یکا مطال دک ری ۔ ا پر دہ
ای وت فرشن لال سے ج بکہ ال کے گی اود سای مفادات خطرے میں ہویں_
یہاں اس سکس ےکی نت ستخعبلات شی کی جا ری ہیں-
محارب قومء جس سے عالت جنگ قائم ہےہ اس کا کوئی فرد الد تعالی کی
کتتاب اورال کے احکا مک ھن اہ نذ عم ےکہ ا حالت می بھی اسے ا ںکا موتح
دیا جائۓ۔ دہ اسللائی ریاست می سآ ےء اسلا مکاء ا لکی لمات کاہ اس کے اغلاقی و
قاون ایر ا لکی تہزیب ومواشر تکا ینان سے مطالہکرے اور اغخلال کےسا تح
تچج کے ک کش کرے۔ اس کے لیے سے سپٹیس تو فرہ مکی جائیں لیکن اسلام
۲۵۳ اسلامی ریاست اور بین الاقوامی تعلقات
قو لکرنے پر مجبود ن ہکیا جائۓے۔ ال ل کہ مہ اسلام کے اصوی آزادگی کے غلاف
ے۔ جو وقت اسے د گیا ہے ال ک نتم ہونے پرتفاطت کے ساقھد اسے ال کے کن
ٹیا کال مکیا جاے:
و ا آعحے تن المشضو کن اودگرسشلین یں سےکوئ تم سے اہ طلب
اتارک قَاجوْهُ خحتی يَسْمَع کر ےا اے پناہدہ یہاںت کک دہاللکا کلام
کلام الله ُ ال مَامَنهڈ ڈللیک سن لے پھراسے اس کے ماک نکک ہیا دوہ ہے
انم لم يَعلمُونہ ( ا )١:: ا لے ےگہ یں رت
علامہ ابع جرمطبرکی فرمات ہی ںک جن مشرکشن سے چہادکاعکم دی گیا ہے الن
ہی کے بارے میں بیع مبھی ےکہ ان میس س ےکوی اسلا مک بے کے لیے بنا ہکا طالب
ہو اسے پناہ دک جائے۔ اگر وہ اسلا مکوقبول نکرے تو بر طفاظت اسے ال کے
علاقہ بیس اج دیا جاے۔ اسلائۂ راس تکاکولئی فرداں ے (اس ورت میں ) تن نہ
کرےۓے
علامہ اکر جصاصض نے ایت کے ذبل میس فے تل یک تجمای کیا ے۔
ا نکیا چٹ سےجسب ڈیل ثات سان ےآتے ہیں :
ا۔کوئی تر بی بھم سے اس مقصد سے اما ن کا طااب ہق رن یر نے ال
می وحید و رساات کے جھ داانل بیان ہوئے ہیں الع سے واقف ہو اور اسلام کے
دی عق ہون کیاعلم حاص لکرے تو اسے امن دینا جات ے۔
۴۔کوئی خی رسلم ہم سے اکر بر مطال ہکر ےک یل کے ذربیے اس بر جت
ائ مکی جا اود حید و رسالت کے دلال دانع سے چائیںء کہ ا بیاد پر ال کا
الاو ہوڈڑ ان دز لکا ف راپ مکرا 2 پر واجب سے اں کے ابی کسی ککاف رکو(جک مل
سے )کل یی سکیا جکتا۔
٣ جو لی ہمادری بناہ ٹس سے امام کیا ذمہ دارگی ےک ا لک طاظت
اسلامی ریاست اور بین الاقوامی تعلقات ۲۵
کرے اورالں 3-02 خلط روی ایارک ےکی یکواجازت کرورےے
۴ ما مکی بھی ذمہ داریی ےکم دہ ذمیوں کی تفاظ تکرے اور ال کا
ابا مػکرےکہا نکوتکیف نہ پچ اوران ینلم شہ ہو
۵ کی یکا داد الاسلام می طول مد تک کتھجرنا جائ نی ہے۔ اسے ان
تی ممت قیا مکی اجانت ہولی چاپیےہ جس یس ا کی ضردرت پپری ہوجاۓ 'ختّی
َسْمَعَ کلام الله کے الفا ظط کا یچی تقاضا ہے۔ ال می کلام الد کے سنہ کے بعد اے
لان کا عم دیاگیا ہے۔ مکی بات ہمارے اصسحاب (فتباء احاف) ےکی ےکم یکو
دا الاعلام یں بی من اش کی اریےسبب کے جج سکی بنا یر ا ںکا قام ضروری
ہہ قا مکی اجاز کل ہولٰی چا ہیے۔ اسے دائول جانے کے لے کہا جات ےگا۔ ال کے
بعدٹھی وہ ایک سال قا مکرے و وہ ذئ مھا جات ےگا اور اس پخراج لاز مآ ےگا"
علام تھی کے ہیں:
اں می سکوئی اشتلا فنئیں ےک ۔عحارب قو مکاکوئی فردق رآآن جی رک بے اور
ال کے اجکام سے واقفیت عاصس لکرنے کے لیے اسسلائی ریاست سے پنا ہکا طالب ہو
اسے پناہ دئا جا ۓےگیا۔ سب چچجھ ضے او رکٹ کے بعد وہ الام قو لک نے تو یہ بی
ای بات ہوگی۔ ال کے بحعدفرماتے ہیں:
ظاھر الأیة انما ھی من یرید سماع آ یت کاتعلق بظاہر ہنس سے سے جوقرآن
القران والنظر فی لاسلام قاںا می رکوسنا اور الام پور و رک چا ز
0۳ ۹ ۱ کے علادہ چچہا لتک ای اورمتصید سے امان فراہم
اؤجاڑہ فر ذات فائت بب رے 6 تلق سے و جس میں ملانو ں کی
لمصلحة المسلمین والنظر فی مسا مھلو تکوسانۓ رکھا اورا نکی نفحتکو ریما
تعود علیھم به منفعة جا گا۔
جصاگ, احام القرآن: ۱۰۳/۳ ۱۰7
قرٹیء الا لام الترآن:ہ /×ے
۲۵۲ اسلامی ریاست اور بین الاقوامی تعلقات
ا کا مطلب یہ ےکہقرآن مجید اور ا ںکی نعلیما تکو یکن کے علاد کیا اور
مقصد بھی عحارب قو مکاکوگی فرداسلائی ریاست می ںآن چا وذ مسلمانوں کے ماد
کو دیکھا جاۓ گاء ال کا تقاضا ہو اسے اجازت دگی جا ےگی۔ جب تک وہ اسلای
ریاست ٹل سے ا لکی طفاطت اور پناہ یں ہوگا اور ریاس تک زروازق مم کے
کوئ یگزند نہ پچ اورضرورت سے اس ہو نے کے بعد اے ا سک ممللت بعافیت کے
اق مکرے۔
علآمہ ان قراریٴ,لی نے اس موضسو پر می نشی یتخصیلا ت فراہ مکی ہیں۔
ال آیت کے حوالہ ےکھت ہیں:
اگ کو یفن ام ای کو ننے اور ااسلائی شیج تکو جا نے کے لے ابا کا
طالب ہو اسے اان دینا وجب ہے۔ پھر اسے ا لکی منزل (ریاست ) تک باٹیا دا
جا گا۔ ہمار ےم مکی حدکک ال می ںکوئی اختلا ف نیس ہے۔ بھی بات اد وءکحوی٠
امام اوزاگی اور امام انی ن ےکا ہے۔ حطرت عمر بن عبد الزیز نے مکی از ت لگ
(اپنیممککت مم ) ججوائیتی۔
امام ادزاگی فرماۓ ہی سکہ پیم قامت تک کے لیے سے۔ سیر قاصد
اور متاصن کے لے عق امان (عبد پناہ) جائز ہے۔ رسول الریققءمشرکین کے
سفراءکو امان دیاککرتے تے۔ یہاں ک کک ہمسیل ککذاب کے سخ رآ پک خدمت مل
آے و آپ نے فرمپا:”سفیروں اور قاصدوں کےن کا دستو نیس ہےه ورنہ یس تم
وین ال رکا بی ایک ضرور گی ہے۔اگ رہم ان کے ایدو نکی یں کے
د دی ہمارے مخاصدروں کے ساتتھ بی معامل ہکرس گے پچھرسغار ت کا مقصید بی فوت
ہو چا ےگا یک
سیر ما مان کے لے عقداوان ملق اورمقید دوفوں طرح سے دیا جاستا
این قراب كضی: ۱۳/ے
اسلامی ریاست اور بین الاقوامی تعلقات ے۲۵
ہے۔ مج مد ت کمن سے اقیر اود ہد تک این کے ساتھ۔ عد تک نک یا ڈیادہ
ھی مق ے۔
ال ضرع کے متاصن کے تقوق بیا کرت ہو ککھتے ہیں:
”امام اوزاق کے فیک ا مت کے وورانی دہ ایر جزیے کے تام
رسک ہیں۔“
مزیدفرماتے ہیں:” کوگی م بی داد الاسلام یش امان ےکآ چاے اور یہاں
فا سی مسلمان یا ذئی کے پا ر کے باپھیں فرش دے اور پچ تچارتہ سغارت :سیر
وفع کسی بھی خض سے دار ارب جاۓ اور وہاں سے وائیں دار الاسلام آ ےو
اسے جوسالق امان حاصل ہے دہ جار رہ گیا اودال کے مال پہ ا کان باقی رے
گا۔ ہرایگ حاظط سے ذئی ہے۔لمن اگر دہ دوبارہ داد ارب ب یکو شکن بنا لے نے جو ایا
دی ہے دنم جوجا ۓگیء بت ا ںکا مال چو دار الاسلام ٹن سے حفوظط رہ ےگگا۔ اگر
وہ دارالھرب یں طل بکرے و ا ےگ دیا جا ۓگا۔ اس یس مہ ہبہ ا کول ترف
کرنا چا کرس گا۔ داد اھرب میس ال کا اتال ہوجائے تے وہ ال کے وار ٹکیا
طرف تل ہوجاۓ گا ۔ لیکن امام ابوخفیفہ اود امام شالقی فرماتے ہی کہ داد ارب میں
ال کا جھ وارث ہے اسے اسلائی ریاس تک پناہ عاص٥ لیس ہےه اس لیے وہ مال ا یک
طرفنبحق ل میں ہو کے
نون می لکہا گیا ےک متام نکو دار الاسلام میں ککاروپا ری اور اپے ہی کو
اد مر یش خر رن ےک اجازت ہھگی۔ جب کک وہ دار الاسلام ٹس ہے ا ںی
حثیت ذئی کیا ے۔ دار الاعلام یش اس کا کوئی دار ث نیل ے اور وہ اپ را مال
ملمان یا ذئی کے نام بعد تکردے نے وہ نافذ ہوجائ ۓےگی۔ دارث ہو ایک تھائی کا
وی تکرسکتا ہے۔ اکر وہ اپنے مالی کے ایک حص کی وی تکرے و بیکھی نافذ ہو جاۓ
لے قرٹیء الب لاحام القرآن: ۸ /ے
۲۸ اسلامی ریاست اور بین الاقوامی تعلقات
گی۔ باقی می اس کے ان وارثو لکوہ ج دار اھرب ٹیل ہو لوٹا دیا جائےگا۔ ہمارے
نزدی کگو وہ ازروۓ قافون وار ٹنیس ہیںە ان ىہ مستا ن کان ہ ےک ا کا ماک
والی سکر دیا جا ۔کوئی مسلمالن یا ذئی ال کے نام وید تکرے لو بجی نافز موی
معاہرا کا اترام
اعلائی سیاست اود خی اسلائیٰ ریاست کے ددریمیان الکن و اما اورغ ے
معاہرے ہہو سے ہیں۔ ىہ معاہرے جن ش رئا کے سساتھ ہوں ا نکیا ند ضروری ے۔
اسلام نے معابد ہی پابندگی اوران کے اتا مکی خت اکی دک ہے۔ ای کے
نزدیک معاہرے ال نہیں ہو ےکم موق لے ہی اا نکی خلاف ورزیی ہونے گے
اور ای مفادات پراشیں قربا نکر دیا جائے۔ ا سمل میں ا لک ہایات بہت دان
یں۔ ارغادے:
زی و اَوْفُوْا بالْعَهْدِ أَنّ الْعَفْدَ کان ... اور عی رکا پر اکرو- شک و کے پارے
مَسُْولاہ (بی اسر ایل :۳۴۴) مس پاچھا جا ۓگا۔
ایک او ہایت بیدا ے:
بَأيهھا الَِيْن امُنوَْا اوْقُوا بالقُودِ اے امان دالوا عہدوں (پابنربیں) ک دا
(0کر8٦:ا) کرو
ولا تَنقُصَوا اليْمَانَ بَعد تَوْكَیْلِھَا و ...امو ںکوپاکرنے کے بعد ڑوج بک
قد جَعلْم الله عَلَیْكُم کَفِيْلاً اك الله کت اوہ اللدکیگراں بنا سے بے نک
یلم مَاتَفْعلوْوَہ (افل:۹۱) اللدج یھو مکرتے ہواں سے باخرہے۔
ال ایا نک تی فک کئی ےک :
وَاليِئَْ ہم لامَالھم وَحمدِحم وہ انی ااعنول اورعبد ہ یا نک گمہ داشت
گے بای: ۳ ۔ الدد ا تار ردلع ر: ۵ ٦٦٦۰٦٦٦
اسلامی ریاست اور بین الاقوامی تعلقات ۲۹
رَاعُؤْنَہ (الموتون:۸) کرتے ہیں۔
ہد : ان افراد کے ورمیا نکی ,تا ے اور جماختژل کے ورمیا نگھی۔ فرو
اور ریا ست 92 ماڑی ن بھی ہا سے اور بین الاتوائی ہگی۔ ایک وومرے پر اعخنادکا
اظمارگی بت اسلا ماگ م ےکم ہ رحب مداکیا جا اور ایک ف ری نے دوسرے پر جھ
اعمادگیا ہے اسے یردب نہ ہہونے دا جائے۔
ہر تی پر قیر
دنیا یش افراداور جماعتول کے درمیان عہدد پان ہوتے بی رے ہیں لان
ج بکوئی فرد با اعت فرب مان کوکم زور دگھتی ہے ياکوئی اڑی منفعت اس کے
نی نظ ہوئی ہے عجھوٹے الزامات اکر اب وغریب کے ذریجے بپڑے سے بپڑے
عہدکوقڑ دہتی ہے۔لیان عہ دنینی اعلام کے نز ویک نفا کی علاصت ہے۔ موک نکا دای
اس سے پاک ہەتا ہے۔ ول الد نے منا نکی پان سے ان ف ال ے:
اذا ححائحد خر جب دہ پیا نکرےل ا لک خلاف درز کرے۔
اسلام نے یجن یکو ج میم اور آشرت میں مخت رسوالی کا باحث قرار دیا
ہے۔حعفرت نکی روایت س ےک رسول اش یآ نے فرمایا:
لکل غادر لواء یوم القیامة بُریٰ یوم جرد کا باز کے لے قیامت کے روز ایک سچٹڑ
القیامة يُعرَفی رہ لگا درا جاۓ گا ج نمایاں ہوگا اورجنس ے وہ
انا جا ۓگا۔
رت عبد الدب ن گر سےبھی ای مہو مکی ردابیتآ لی ہے۔ فرماتے ہی ںکہ
رسول ال نک نے ارشادفرمایا:
07 بخاری کاب از والموادعء باب اٹم لکن عاہٹم فدد یس لم ءکتاب الایمان
کہ بفاری ءکتاب الجزی والموادعۃء باب اثم الفادرلر والغاجر ےل مکناب الجہادہ با بت ریم القدر
۲ اسلامی ریاست اور بین الاقوامی تعلقات
لِگُل غادر لواء ینصب لغدرتہ“ ہردیوکا باز کے لیے ایک ججنڑا بہوگا جھ ا کی
وکا از کی وجہ سے نص بکیا جا ےگا۔
میہروابیت ان الفاظ کے س اق بھی آ کی ہے:
جب اللہ تعاٹی قیامت کے روز اگلے اور لے
٤ 21 ڑ2 ۱
وم الیاعة وفع لکل غادد و ہا ےک راید ال
فقیل ہذہ غدرۃ فلان بن فلانگ ابن فلا ںک ھورے۔
فو یس عام ود پر پرسالمار کے پاقح یلجنا ہوتا ہےء ا کیا وجہ سے وہ
سب میں نمایاں اورمتا زنظ رآ تا ہے۔عرب میس رواج تھا کہاگ رکوئ ین عہ رشن اور
بے فائ یکرا تقو اس کے اعلان عام کے لیے کھلہ زاریش یا جہاں شع ہوتا اس کے نام
کا جنڈا ض بکر دیا جاتاہ جاک ہلوگ ںکو ا کے فرجب اور عم جن یکا پن تل جائے-
حدی کا مطلب ب ےک قامت کے روہ ج بک سمارکی دمیا کے انسان شع ہوں گے
نوہ باز اورعرشمکن کے نا مکا جنٹرا لگا دیا جا ۓ گا اور اعمان ہوگا کہ بی فلال بن فلال
رر اور پرکہ رکا ڑا ہے۔ ان اعادیث میں عدجنی ےعلق جو یی ںآلی میں ان
اتی عام عہدہ پان سے ذیادہ سیا بہ سے جانے والے عبدہ پان سے مہ
اں لی ےک عاکم وت یا ریاس تک جانب ے جوع دنن ہوثی ہے وہ زیادەضرررسال
ہوٹی ہے۔ ان ٹل ا با تک تاکیدر ےکہ اسلائی ریا تکا ہام ای رحیت سے خواہ
دہ یم لم اورنی یکیوں نہ ہوہ جوعہدد پکا نکرے اسے لود اککرے اوران کےتقوی
کیگمہ داشت می ںکوئ یکوتادی نہ برتے کے
اعلام نے جشس رح افراد کے درمیان یا ریاست اورشرہویں کے مان ہونے
والے معاہرو ںکواہمییت د ٤ے ای طر ٹین الاقائی معارو ںکی پانلدگی اود اترا مکی
ا بخاری ءکناب الجزیت والمواو:ء باب ام الفادرللمر والفا رس مکتاب الجہادہ با بنجری الفدر
ےُُ
غْ مسلممء حوالہسائق
32 نووی, شرں مسلمء ج ء جزم ۲ار ٣۴۰۴۳
اِذَا جمع الله الاوّلین و الأخرین
اسلامی ریاست اور بین الاقوامی تعلقات ۲٢
تی دکیا ہے اس لح کال کے اثرات بہت دورترس ہوتے ہیں۔
حخرت عبد ال جن عبا یف رماتے ہی ںکہ جج بکوگی قوم ٹین الاقوائی معاہرات
کو 2 ہے نو اپنی تا یکو وت د بت سے اور ال تعالی کے ہقالع کے مت ون
کے لک راہ جموارکرکی ے:
ما ختر قوم بالعھد الا سلّط الله ج بکوئی قوم ہد یکرتی ہے اش قالی لاناً
علیھم العدوط* نیکواس پر مل طکر دا ے۔
ریا عبدد پان ما نا جنگ معاہر ےکو اسلام نے جو ابیت دگی سے اکا
اندازہ الں ے ہکا ہ ےکہ اسلائی ریاست ٹیس ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان کے
تھوں شی ےکی بوجاے نذ عم ہ ےک قا٘ل ایک لام آزاکرے اور ول سے
وارثو کو دیت اداککرے لان اگ رمقتو ل کا تفلق حارب توم سے ون تقاتل صرف غلام
آزادگرےگاء دی یں دےگا۔ اس کے برخلاف مل معاپرتو مک فردہوئں ے
ورخاءکو دی گی دئی جال ۓےگی اور خلا مبھ یآ زادکیا جاۓےگا۔ (اتمار:۴,۹+)
صحفرت عبد لن عیا ما منص اود ام ضف رباتے ہی ںکہمتول چاے
ملمان ہو یا خی رسکمء دفو کی دییت ایک ہوگی۔ امام ابو یناور سخیان فور کا بجی
ور واتےے اس عدییے ٹل رسول اکرم پک اترک ای ےوآ
چو معابرہ ے ہوا جھاء اںکی 11 یضرا ام خر ٹک گے رط
پچ اسے دوبارہمرلوٹا دیا جا ۓےگا۔ کان اگ رکوئی مدینہ س ےک دالیش لا جائے و سے
لوٹ یانیں جاۓگا۔ بے دفعہ بہت سے محابہ پرگوشاتیگزر ریش ہلان ال کے پاوجود
معاہدہ پر زجخط ہوگئے۔ ال کے فورا ہی بعد حضرت ابو جندلع ہیڑییں می سگھسٹت ہوے
لے م وط امام ما نک کاب الجہادہ جاب ماجاء فی الوفاء بالا یمان
کی قریء البائع لا ام القرآن:۱۰/۵
۲۳ اسلامی ریاست اور بین الاقوامی تعلقات
حاضرہوۓ او رت کیا سک ہآپ میرا حال دک رہے ہیںہ جھے ان ظالموں کے درمیان
واییں نہ کیج ال پ آپ نے فرمایا:
انا قد اعطیا تر القوم سا قد ب نے ان لوکگوں کے ساتھ جع دکیا ہے اسے
مو سرب اس
ہے وفاٹی درس تکیں ے۔ الد تال یتمارے
و ان الله جاعل لک و لمن مک شا ات ین و و کے
من المستضعفین فرجا و مرج پر, ان سے ل ےکوی صورت کا لےگاءاپنزاتم
فانطلَق الٰی قوہک“ اقم کے پا دای جا
یا علائی تار کے رشن اوداقی ہیں۔ ٹین الاقوائی معاہرہ کے اتترا مکی ای
ما لی اور شابدىیعل کے-
ٹن الاقوائی معاہرات کےسلم یکیلبض اور ہدایات پہ ٹیں:
کی ںا ےک ایک توم ے ریاس تکا معابرةۃ لن ہو اور دوسرکی قوم کے
ساتھ وہ حالتِ بک سےگمزررجی ہو۔ ا صورت ٹیل محار ب توم کے افراد یا ا نکاکولی
دی ایا ریاست میں کچ جاۓ جم ے اسلائی ریاس تکا معابرہ ےو ووکفوٹز
ومامون ہوں گے۔ و ما اس معاہدہ بس ش ریک جھے جایں کے جو اسلائی ریاست کے
ساتھ ہوا ہے۔ اس لیے ان کے خلا فبھیاکوئی گی قر میں اٹھایا جا ۓگا۔ ا ام جباد
کے یل میں فما اک جب جباد جار سے فذ جن نکا ہمہ مقابہکرد اود جہا ں بھی پا
انت وف اسں کے بعد ارشاد ہوا:
الا الِْن يَصِلوْنَ الی قم یمم و اہ ددلیک جوسی ایی قوم کے پا جایں
َينهُمْ فَیْقاقی... 2 کے اورتھہارے درمیان معاہرہ 2(2 ان
(اا::۹۰) سےکگھی جنگ نہ ہوی)۔
۴- اسسلائی راس تکامکی ریاست سے معاہدہ ہو اور ال معاہرے ٹیل تیسری
این ہشام سیرة ال ٢/۳
اسلامی ریاست اور بین الاقوامی تعلقات ۲۳
ریاست شیک ہونا چا فو شریک پک بے۔ اسے ا کا اختیار ہوگاککہ وہ شس ف ری
کے ساتھ وایستۃ ہونا چا ہے دایسنۃ ہوجاے۔ دوفوں ان شرائطا کے پابند ہویں گے مج نکیا
ند ان کا علیف ہے۔ عدیدبہ ٹل جو محاہر سی تے ہوا تہ اس یس ىہ وف گی شائل
تی کہ جو قیلہ مر پچ کا ساتھ دینا چاہے دہ آپ کا ساتھ د ےگا اور جو قرلی کی
رفاقت پپن درکرےء اسے ا ںکا تن عائل ہوگا۔ چناں چچہ اس پر فیا یخزاعہ نے 1 گے
بڑ ھک رکہا کہم مم (رسول الٹ رپچ ) کے علیف ہیں اور رن قرن کا مات دب کا
فی کی
۔کوئی ریاست خی رجائب داردہنا اتی ہے دہ جنگ مس اسلائی ریاصت
کا ساتھ دے دای ہے اور نہ محارب قو مکاء نے اسلائی ریاست ال س ےت نی ںکرے
گیا بفیاد ال ے معاہرہ 0 ے ارشاد ے:
و گا
و رع کاو قرو سے
....آؤ ججَاؤْْحُمْ حصرث ضذو رہم ...ماد ہتھادے پا اں عال مج آئی ںکہان
آن ینبم از پقاواؤ وی ےل ےکی فو کے یر
میں و ےر گسوو مور عرت مر یور سے چنن کر نا اپ قوم سے لڑیی: اکر ال
٣۳۲٠ ۳-۶ پلازشرأ ہمد واردق ےظد
فان اغعزلوْكمْ فلميَُاتِل کم وَالْقَوَا لڑتےء اس لے اکر دو تم سے الگ رہ رہے ہیں
لیْكُم السُلَم فمَا جََل اللَهُ لَكُم اودلنٹیس رہے ہیں اورقم سک کی پیٹ یکن شلکر
عَلَيْهمْ سیل رہے ہیں تو اللد نے تمہارے لیے ان پر کی
ج (ااء:+۹) کوئی صسود تی ھی ے۔
مطلب ییکہ جو لوگ یر معاہ ہۃکرنا چائی کہ جنگ می نہذ ددقہارا سات دی
"9ئ ال شرط پر ان سے معابد ہکراو_ اد رک کہ الل تا یٰ اتا ق وہ گی
تمہارے مقابلہ میں ات لین جب وہەوانں ہن ےکنا ۃض رہنا ایی را اہ رے
ہیں ف ا ںکا تی رمقم ہونا اہی اسے ردکرنا 3 نہ ہوگا۔
لے این ہشام سیرة ا:۳ / ٣2٣۔ا معاہر ہکا عوال ہآ گ بھی آرہاے۔
۳ اسلامی ریاست اور بین الاقوامی تعلقات
ماپ کیٹ کیا ہاے ۴۷
معاہر ہکا دسر و 3 اخلائ کا شموت شی دےء اں 71 طرف ےغلاف ورزی
کے؟ خار اہر ہون گی اور وو سازشل اورخقیہ تب ری ںکرتا ہوانسوں ہو ریاس تکوقنْ
ہوگا کہ دہ معا کوٹ مکردے :لین ا کا صاف صاف اعلال نکر ہوگا۔ اخیراعلان کے
اس کےغخلا ف می جنگ ککارددائی کی اجازت نہ ہوگل:
وَ لِم تَحَاَق مِنْ قُوم خِیَانة فَالبل رذ اگ ہیں کسی قوم سے شیانت کا خطرہ ہو تم
و (ان سے سیے گئے ہد و پا نکو) ا نکی طرف
ِلَيهمْ لی سَوَآع* الله لیب پیک دوک معاہرے کیم ہونے کا شعہیں اود
الحَاییْیْہ شی برابریلم ہوجاے۔ ال تھالٰی خیان تکرنے
(اانقال:۵۸) والو ںک پٹ رن تا
آیت میں لاف الیم خحلی سَوآ' کے الفاط آۓ ہیں۔ شور اہرلفت
از ری کے میں:
تس اذا عاہمدت قوما فخشیت اس کےسع بی ہی ںکہ جب سی توم ے متاہرہ
منھم النقض فلا توقع بھم بمجرد نے کے بح نہیں جں سی عب رکا خدرشہ
الک علی مب اتی ہچ توم ا خدش ہک باب ا پہ
عملہ نہکردو جب کک تم اسے پاخمر کرد دکہ
معاہر ہت بویا ے۔
مطلب کہ معاہددشح ہوتے فرلپی خالی اس سے منولی واتف ہوجائۓےء ال
یس ا ےکوئی شب نہ رہے۔ جس ط رع تم یہ میہ بات وا اٹ ےک راب معاہد ہیں ربا ای
رح ال پریھی دا ہوجائۓے۔
حظرت معاویٴاور روٹیول کے درمیان ایک بث کے لیے معابرۃ ان تھا-
حخرت معاویا نکی مرکو لی کے لیے فو ل ےکر روانہ ہوگئے اور بی چاپا کہ جیے دا ماہدہ
0 ابن تر البارق:٢/٢۰٥
اسلامی ریاست اور بین الاقوامی تعلقات ۲۵
کی مرت پادری وہ حمل ہک دیا جائے۔ ا اشتاء ٹس ایگ 2 اپے گھوڑ ےکو روڑ/ا ہوا
با او رکہا: ال اکبر! محاہرہ پور اکرنا ہوگاء وکا نیس دی چاسکتا۔ ىر فرت عمرد بن عیب
تے۔حفرت معاو نے النع سے دریاف تکیا تو اتھوں نے فرمایا: ٹس نے رسول الڈ ریچ کا
یاریشادسنا ے:” توم سے عبد و پان باندھا جا فذ جب کک مدت پورگ ثہ ہو
ہرز اس ےکھولا نہ جا اود ا پرجملہ نہکیا جائے یا یہک معاہدہکو ا طرش کر دیا
جائ ےک فرب خالٰ کوک دشبہ ند رے اود ہماری طرع وو ھی جان ل ےکہ محاہ دش
وکیا رت اں عدیث کے سن ے بعر رت معاو یا لں ہم سے لوٹ آ ہے مرت
کس بیس نک کے ارادہ سے حضرت معاو یٹ کے سف کو نر تع برع عیب نے معاہد ہی
لاف ورزگ قراردیا۔
ىہ ال صورت شی سے ج بک فرلی لی کی طرف سے عرححنی کےآ مار
ظاہر ہونے گے ہوں, لی نت مکھلا ال کا ارہکاب ہہونے گے اور مماو ریاست 2
غلاف اث بات ٹروں ہوجامیں ھا چاۓ گا کہ معاہرہ ازخووشخ ہوکیا ے۔ اب
الا ریاست ا خنظ کے لیے ضروری اقداا تک ماز 7 وو ال کے غلاف
اعلان جن کگھ یکرت سے
ہرل الپ نے می نے کے بد یہود سے معاہد ہکیا۔ اس معاہرے مل
ىہ بات شا لت کہ ان کے اورملرانوں کے درمیا نع وخٰرخواہی کاتعلقی ہوگاہ ان میں
سےکوئ بھی اپ عی فلونتصا نل چیا ۓ گا ازروۃ جن کان نک ما کین
کے مین ود نے ال معاہد ےکی ص رع خلاف ورزیکیا۔ جنگ بدد یش مشری نہ
کوہتھیارفراہم سیے۔ جب معاہدہ یاددلا یا گیا ق معغذر تکرنے گ ےکہ ال معاممہ ٹیل ہم
غ اودا ود کاب الجہادہ باب ڈی الا مام بیہ شیع الحدوعید ان تر خگا ءکتاب السیر باب اجاء ٹ
الفر ر_ مر 7۱ر : ۴/ ۲۸۱۰۱۱۲
قرطمیء الب لاحم اقرآن: ۲۲/۸
اس معاہر ےکی تقعیلا تآ گےآ ری ہیں-
اھ اسلامی ریاست اور بین الاقوامی تعلقات
ہے ہوک و داز معابرہ ہواہیان چک خترق میں گنو ںکو 27 پآمادہکیا اور
تعمل ہآ ورو ںکا ساتھ دی
چپ اسں رع ایک سے دو مرتبہ ا نکی طرف سے مع نی کا مظاہرہ ہوا نو
ان ے 27 دیاگیا۔ ارشاد ے:
اش الاَوَاتَ عِند الله اي کفووا بے شک الش کے زدیک بین جانوروہ ہیں جھ
رہ سیا وک سک
نهُمْ لم َقَطُوْنْ فی تر ہر باد نڈڑتے ہیں نان کے تا سے)
وھُمْ لَ يَقُمَہ فَاما تلم تھا ڈرتےنیں ہیں لیں اگ رتم ا نکومیدان ہگ
الْعَرْب فَشْرذْ ت مُنْ عَلَقهُم علم یس پالوتو ا نکو ایی مزا د کہ ان کے علادہ چھ
يَاُگرزْوٗہ ال ذہنیت کے لیک ہیں ددبھی اط ہوجائیں-
(الانزال :۵۵ے ۵) شاید بینشییحت ع۔ائ٣۷ لکریں-
یودکی ان عازخوں 2 بجر معاہر ےکو 0 رک کاکوئی جوازتیں روگیا
تھا۔ آنھوں نے اپتنے روبیہ سے شاب تک دیاکہ ان کے خلاف فی کاردا یکر نے ین
اسلائی ریاس تن بجانب ے۔
بض ین الاوائی معاہرے
رسول اش پچ نے ج معاہرے سے دہکئی طرح و ہیں۔ ا نک شرانا ین
ھی حسبب عال فرقی رہا ہے ۔ لچ میں صرف ان دم کا بات لے ہوئی ےس
یش خراج اور جز بے مالی معالات شال ہیں لحض ٹیش ایک دوسرے کے ساتھ نتحاونی
کا فیصلہ ہواہے۔ بیہاں ان مس سے چنرایک معاہرے یی سیے جا رہے ہیں:
جثرت کے بعد رینپ پر رسول الل یچ نے مماجرین اور انصار کے لف
کو ایک معاہدےکا پاند بنایا۔ اکا کے ساتھآپ نے بیبود بھی معاہدہ فرمایا۔
ا رازی, اشٔیر )گے : ۳۷۶۰/۴
اسلامی ریاست اور بین الاقوامی تعلقات
شش
دوفوں معاہرے ایک بی فسیکی معاہر ےکا حصہ تھے یہوو سے تحلق جو پاتیں لے
ہیں اس کےکنض اجقزاء یہ ہیں :
ان یھود بنی عوف امة مع المؤمنین
للیھود دینھم وللمسلمین دینھم
ان بطانة الیھود کانفسھم
و ان علی الیھود نفقتھم و علی
المسلمین نفقتھم و ان بینھم
لصحیفة و ان یٹھم الصح وت
اللصیحة والبردون الاثم و انە لم
نوحوف کے یبود(اہی یس دوسرے قب لبھی شال
تے) مسلانوں کے س ات لک رای کقوم ہیں
ود کے لیے ال نکا انا دن اورمسلرائوں کے
لیے ال ن کا ابناد بی ہھگا۔
یبود کے جن س ےگہرے تحلقات ہیں دو گی
ان ہی شںغار ہوں گے_
ود اپنا خر اور مصلمان ابنا خرن برداشت
کریں مے۔ جوٹٹس ہیں مخ میں شال
طبقات کے خلاف جن کک ر ےگا اس کے مقاے
مان کے درمیان تاون ہہوگا۔ اع کے درمیان
ور خودی تلق ہوگا۔ کی اورجصن سلویک
بد کی راہ شش رکاوٹ ہوں گے ۔کوئی بھی شس
اپنے علیف کے ساتھ خلط رومہ ایا ری سلکھرے
۔ جومظلوم ہوگا ا کی ای تک جا ۓےگی۔ ٠
ان الیھود ینفقون مع المؤمنین جن ککی صورت میں مسلمانوں کے ساتھ بیبود
یأئم امرء بحلیفہ و ان النصر
للمظلوم.
ماداموا محاربین۔
و ان یثرب حرام جوفھا لّھل ہمذہ
الصحیفة
و ان ما کان بین اھل ھذہ
بھی خر جکری گے۔
اس نے بیں شائل بھی جماعتوں کے لے مدرینہ
مم ہیگا۔
اس مینے کے فریقوں کے ورمیا نکوگی بات
لی اس کا مطلب جیما کہ علامہ اب عبیقاحم بن سلام ن ےکہا ےه ىہ ہ ےکہ ببہچودکو جن ککی حاات
سے سابقہ ٹیک ۓ وذ مسلمان معاہرے میں ذرکورشرائلا کے تحت ا ن کا مالی تاو نکریں گے۔ جہاں
وین تانفاق سے و دوطپوں کے دین الگ ہیںء جیما کہ بعد کے گا ے1 سے ۔ تاب
الاہال:۴ص۱۹۰۔
۲۸ اسلامی ریاست اور بین الاقوامی تعلقات
الصحیضة من حدث او اشتجار ہو ااخلاف پدا ہوجاۓ؛شں ے پگاڑ اور
یخاف فسادہ و ان مرڈ٥ الی الله فمارکا انرییٹہ ہوتڈ معا تےکو الع زوگل اورٹم
عزوجل و الی محمد رسول الله رسول شی ھکی طرف لوٹا دیا جاۓ گا-
صلی الله عليه وسلم
یبد آ بادیی افصا کی آ بادی سے ال کتھی۔ بیبود ال لکتاب جھہ اس لیے
ان کے قوانی نگ ی بھی بظاہرانصار کے توائین سے الک رس بہوں گے۔ اس اط سے
اں معاہر ہکو بین ااقوائی معابر ہکہا جاسکا ہے۔ دوس ری طرف ان معاپرہ ٹل پپرے
مدیندکوسب کے لیے حم قرار دیاگیا سہے اورفریقوں کے درمیان اشتلافات بش فص کا
جم ال تھا ی اور ایس کے رسو لک دیا گیا کیپ نے اسسلائی ربیاصت کے سربرا ہی
حیثیت سے ببودکو نمی آزادی او رختو کی انت دی ے اور ریاصت کے شحف کی
ذمہدارگی می ں بھی ھی شر کیا ہے۔ ان لے ا ےئتلف ال اور ما یگروہوں
کے درمیان تعاو نکا معاہروجج کہا جاسکتا ے۔
ود نے ا معاہر ےکی پا نٹ نی لکیہ سازشوں میں گے رہے اود ایک
ے دو پاز کا ساتھ دیا نو معاہد ہش کر دیاگیا اوران سے جنگ برئی۔صیل ا ےک
نے آئیں ینہ کے عدود سے باہربکال دینا چاہا ق انھوں نے ورخواس تک کہ آھجیں
رین تا یل رٹ دیا جائے۔ دہ آ پکو ای ےکھتوں اور ہاو ںکی پیھادا رکا نصف ادا
ای2 رہیں مر ہے ان کی یہ درخواست منظو رکر لی اود خرمایا: جب تک ۴م
ای گےہ یہاں "ہیں ربے دبکی گے۔ ال شرط کے سساقھد وہ مدرینریس رے۔حقرت
نے اپ دورخلافت می میں شام و200
اس معاہہہکی نوعیت پیل ےمخل تی۔
این چشام سیر ة ال:۲ /۱۱۹- ۳۳ا کاب الاصوال ,ص۱۹۵ ے ۱۹
فارگ ءکتاب افھرٹ دلھز اعۃہ باب اذا قال رب لاٹ افرک افرک اللہ وین “لم کراب
السا ما والمزارعتۃ-
اسلامی ریاست اور بین الاقوامی تعلقات ۲9
ذکی ققعدہ سنہ ٦ھ یں رسول الچ اپنے ساخھیوں کے ساتج عمرہ کے اراورے
س ےکلہ ردان ہوئے ملین عدیسے کے مقام پرمشرکین نے اپ ومن دحل ہوۓے
سے روگ دیا۔ ال پہآپ کے اود ان کے درمیا نکی ہوئی۔ اس ےک عدیی ہا جاتا
ہے۔اں ماس کیلبض دفعا تکا ذکر ال سے پل یآ چکا ہے۔ ٹج اور وفعات ہے
تھیں:
فرقین کے درمیان وں سال کے لیے جنگ بندیی رہ ےگیاء جاک دفوں
طرف کے لوگ صن کے ساتھھ رہمییں۔ ال مدت ٹٹل ایک دوسرے کے خلا فک بھی
گی اقرام سے اتزا کیا جا ےگا ایض مکی خی حرکت اسان یں ہوگی۔
رپچ اس سال عدی سے مریٹدلوٹ ان کے اور عم وی ںکریں اور
آیندہ آپ اورآپ کے سای عرہ کے لیے گنی گے صرف تین دن کے میس قیام
یں کے وہ یم ا ہیں گےءمگواریں نیام یش ہو ںگی ہی سوارکا جوضروریی سامان
بوتاے اس کے علادہکوئی زاس کے ساتھ نہ ہوگی-
کہ ک ےگ فردکو آپ اپنے ساتمنئیں لے انل گےہ الہتہ آپ کے
ساقیوں بیس ےکوئی کہ بس دہ جانا چا نے آپ اس ےنیس روکیس گے ںا
اش معاہرے یں بہ اہ رف رن کے درمیان مساوا ت نل ہے ۔ ریش کے
ناروا مطالبا تھی مان لیے گے ہیں۔ اس وجہ ےینس صحابہ ال ے ناخول اورکبیرہ
ماطر تے۔ لان اس وقت مصا کا بجی تقاضا تھا۔ ریاس تکو بہرعال بین عاصل سے
کہ وہ وقتِ ضرورت ال رع کا معاہر ہگج یکریگت ہے۔ اس نے بعد یس دکامرالی
کے ورواز ےکوی بن
مام ابو ایسف نے بےمعاہرہ بر تضحیل ےاقل کیا ے۔اس کے شروں میں
فراۓے یں:
بفادگ :تاب لمغازگہ باب غزوۃ لی یسل مءکتاب الہہادہ باب الییبیۃ۔ائن ہشام یرۃ ال
٢٢ اسلامی ریاست اور بین الاقوامی تعلقات
قد وادع رسول اللَّهثٹ قریشا عام سول اکچ نے عدیدہ کے سال فرلیشی سے
الحدیبیة و امسک عن محاربتھم یا زی ےو ات کے وت رک
فللإمام ان یوادع اہل اللنشرک اذا ہوگئے۔ اہذا ما مکو ہرجن ےکہ دہ ال شرک
کان فی ذلک صلاح الین و سے مصاح تکرے اگراں میں دین اوراسلام
لاسلام و کان یرجو ان یتالفھم کم ہتری ہوادر پرنذ شی ہوکہوہاں کے ذریے
بڈالک علی الاسلام.“ شی اسلام سے مانوں اورقر یی بکر ےگا۔
ا معابرہ ےکوگی مالی پباو تحلق نہیں ہے۔ قیام این لئے دو
رسول ا یہ نے ما لکی ین کت کی ہے اود ٹیش بج یکی طرف سے ا طر کا
کوئی شر رک یکئی ہے۔ ار مکی کے ال وی تکا معاہرہ وقت ضرورت ہر زمانہ ٹش
ہیکنا ہے۔ اس محاممہ میں شانتی نققلزنظ رکی ت مال یکرت ہوے علمسبیدٹی کے ہیں:
ان الھدنة تعقد بغیر مال“ ےئ مال کے اف رضمقد ہو جاتی ے۔
فا کے دی زا خرف کغرضرت ال در
ون سے موی ہے پانیں؟ لہ ائمہ کے نویک یہ جائزننیں ہے۔ ا کرای
سے دیاس تک یکم زوری ظاہرہوئی ہے اور یہ ال کے وقار کے منائی ے۔ ام اوزاگی
فرماتے ہیں: ”مال دی بفیرئشن ےک جات ہے جیا کہ عدیدہ می لگ ہوئیتھی۔
اگ رکوئی موری ہو کال د ےکر ین کی ابق ہے ورنہ بین نل تا امام شانی
فرواے ہیں :”ملا نکم زور ہرولں اوہ ون کا مقاہلہ نکر سک ہوں نو اں نے
ہڑکتی ,لین بیکیع ب سی مالی کے ہہوگی کسی مسلمان کا نشرک داہ ٹل چان دینا
شہایت ے۔ اس لے اس سےگھران ےک یکوگی ضرورتنییں ہے۔ اسلام اس سے بد و
وت ےک مسلمان مال نے زی سے ہنک ے پا ز٢ ےل درظزاسص فآارے۔ پان
گر یش نکی اس قز رکثزت ہوک ملمانو ںکو یہ خدشہ لان ہوجا ۓےکہ دہ اجیں جڑ یڑ
لے کتاب اففراع ے۰٢۲
جلال الین سیھوگیء الا شباہ دانظائر ضے ۵۳ء داراللتب التلیے, بیروت
اسلامی ریاست اور بین الاقوامی تعلقات ا٢
سے اکھاڑچیگییں کے اور میں پالئل ش کر کے رک دی گے ن2 ىہ ایک طرع کا
ضردرت او ورگ سے اس می جوا زکا پپلوٹکتتا ے۔ ای طر حکوئی مسلمان اک رگرقار
ہوجاۓ اور دی د ےکرہی رہائی حاص٥ لکرسکتا ہو بی اس کے لیے چائز سے کہ
آں سے اتا بات وا ےک شدیدضرورت ٤تت فرید ےگ ری گی
کے پک ہے۔ امسلائی ریاست ے لیے ا حالات وظحروف اور امت کے مفاو
کے یں راس نوی ت کا اققدام از رو شر ناجائز نہ ہوگا۔ علام یپ کے ہی ںکہ
شرع تکا ایل تاعدہ یھی سے کا بے شر رک ؤش کے یک لیے کچھونے ضر رکو
برداش تک لیا جائے۔ ا کیا ایک شال ا
والز اخاظ آلکٹار بَالتَسلمین و ٢ اک رفارملمانو ںکوکی ریس اوران کا مقالہ نہ ہکا
وڈ ہو ان کے لیے مال د ےکر اس (صورت عال)
اس یہ ات سر امہ سے پچنا انز ہے۔ ای طرع مال کے خی ران سے
کذا استنقاذ الأسری ہنھم بالمال ترییں ک راہ لکن نہ ہوتو(اں صورت میں ھی
اذا لم یمکن بغیرہ لان مشتة ای د ےکر ائیں ڑرات چائز گا کیو کہ قیریں
رق و اس کاان کے ہاتھوں میں ہہونا اور ا ن کا مسلرانو کو
بقاتھم فی ایدیھم ر ۶م و بن سے اکھاڑ کچھیکنا مال خر کرنے کے مفامے
للمسلمین اعظم من بذل المال؟ میں بت بی چڑزے۔
علامہ الوعبی کت ںام اص برادلللت اگر بی دک ےک مسلمانوں بن ك
کل ےکا اندییشہ سے اورفدی در ےکر ہی ال سے بی جاکتا ےل اسے ا کات ے۔ لام
ملمائوں کے مصاغ کاگگراں ہے۔ دہ اس کے یی نظ راس طر کا اقدام 7 سے
علآمہ اہن قرا کی کت می ںکہ جب ضرورت تقاضاکر ری ہواورسلرانوں
کی جلاکت با قید و بن کا اندایشہ ہو مال کے ذری ےگ چائز ہے جس طرع ایک فردفدیہ
7 الباری:۱۹۸/۷
۲م سیوگل الاخاہ دانظارٌ:صے۸
٣ کاب الاوالء۰٢٦ضص۱۵۸
٢ے٢ اسلامی ریاست اور بین الاقوامی تعلقات
مال) د ےکر امان حاص لک تا سے ائؤطرح ریاست گے یی بھی ان کے جواز ے
انا نی سکیا جاسکنا۔ اس ٹیس ریاس تکی فلت اور ٹین کا پبلوئنل رہا ہو بھ یتلی,
گرفماری اورخلائی سے پنا بیک بڑامقصدہےء ا لکی خاط راسے برداش تکیا جانا چابے۔
علامہالوعبید اور علامہابن قد امہ نے اپٹی تائید شس سب ڈیل واقہ یڑ نکیا ے:
تک خندق می خقلف تال نے بچاروں طرف سے ایک ساتھ ینہپ لکر
دیا تھا۔ ایک مین کے قریب اکھوں نے مدینہکو اپنے نر سے میں لے رکھا تھا۔ عالات
نے زیادد شدت انخقیاکرکی فے آپ نے عیینہ بن تصسن اود حارت بن رک یکوہ جو قبیل
خطغان کے سردار ےہ ٹپی سک شک یک اکر وہ ان قا٘ کیا ساتھکچھوڑ دیں اور اپے یں
کو نےکر وایل چے جائیںء نذ نیل مین جو رکا پیدادا کا ایک تھائی دیا جائۓےگا۔
بی نتر میں بھی 1گ تی لیکن جس پرفرلقین کے اورکواہوں کے ذ جح یں ہوۓے
تھ۔آپ نے آئیس صرف جں کے ہآ مادہکیا تھاہ نمی شکل دینے سے بط
انار کے سردار سعد بن معاڈ اور سعد بن عباد ہکوطلب خر مایا اور ان سے مور ہکیا۔ امو
نے عوق لکیا ک ہکیا آ پک بہخوائشی ےک ہم اس پیک لکیہ یا الد تھالی کاعم ہے
8 پر لکنا مارے لیے ضروری سے ا آپ ہمارے مفاد مل یہ چاتے یں؟
آپ نے ارشادفبایا:اشحم خدالیء یس نے فے یتہادرے فائدے کے لیے سوا ے سارا
عرب ایک تیر سےسکلیں ہرف بنا ہودئے ہہ ہرطرف سے ال تم پرٹٹ پڑے
ٹیں۔ ٹل چاہتا ان کنا نکی کی عدک کک زور ہو۔ اع دوطوں نے عوت ضصکیا: اے
اید کے رسول! مبھی اور بھی شرک میس ملا تھہ بت پسقی جس پڑے ہوۓ چھےہ
الش کی عباد تن لکرتے تہ بلکمہ اس سے بے نر تے۔ ا عال سبھ یبھی میں
نے ال کیا ہم تن لک کہ ہمادکا پیدادار ٹیس س کوٹ جو دکھائییں. ہوائے انس س کہ
دہ ہمارےسمان ہوںء یا مم ےتیک ھا یں اب ج بل ۔الشتعالیٰ نے ین اعلام
کے ذربیرقوت چشئی ہے جییں ہہایت سے نوازا ہےه دین اعلام کے ذر ہی او رآپ
اسلامی ریاست اور بین الاقوامی تعلقات ۳ے۲
کے ذرہیے سریلندی عطا کی سے نکیا ہم اپنا مال اجیں ٹپ یکردمیں؟ م نو ان کے
ما لے می ںجوار اٹھانیں گہ یہاں ک ککہ الد تھالی فیصلہفرہا دے۔ آپ نے ان کا
مور و قجول فر مایا 22 ہت رھ کت ہو حضرت سج من معااً تھی ےکی او رسورہ
کومٹا دیا او رکہاکہ وہ ہمارےخلاف جو چاہی ںک یں
علامہابن فا ۱نی فرماتے ہیں: گر ہز رہ مال لگ کرنا فی مضہ چائز نہ ہوتا
و ا ےآ پ حضرت سعد بین معا اور سر :لئ گار کے ساس مطودہ کے لیے یی بی نہ
فرماےں
2 ری ں کا چادلہ
ین الاتوائی ا 2 قیدر یں کے جادنے اور ا نکی رہائی کے لے معاہرے
ہہت مہیں۔ اسلائی ریاس ت تھی اں رب کے معاپر ےکرکتی ے۔ وہ اپ 9
قرب ںکو ھٹا ےکی مملنہعدک ککوش شکر ےکی۔ علآمہابکن فر ا خی کے ہیں:
یجب فداء اسریٰ المسلمین اذا م“لمان قیرلیں کا چان واجب ے اگر ا ںکا
امکن. امکالن ہو-
مزیرفرماتے ہی ںکہ بجی راۓ رت عمربین عبد ال یہ امام مالک :انی بین
ماب ےکی ےب
ا سمل ہ کےگنض واتعات یہاں یی سیےے جا رہے ہیں :
رت سلم بن او با نكرتے ہی ںکہ ایک غزدہ مہ جوحضرت ابویک
سر برای می پیا گیا تہ ہم نے وشن برجم ہکیا۔ جک کے بعدحضرت ابوڈ نے فنمت
بس ہے بنوفزارہکی ایک اون دئیء جو بہت خولصور تتھی۔ میس اسے نےکر یدینہ
0 این ام سیرة ا فٰٗ: ۲۳۹/۳ء ۰ ۲۳ ۔کتاب الاصوال. ص ۱۵۹۰۱۵۸
٢ این تا مفی: ۱۵۷/۱۳
٣ وا ل۔الق: ۳۵/۳
٢٢۳ اسلامی ریاست اور بین الاقوامی تعلقات
پیا بازار یش رسول اش یت سے میری ملاقات ہوگی ۔آپا نے فرمایا سلما ےعورت
وے وو دوسرے رو زی آپ نے کی بات فراگی۔ ین نے عو صکیا: اے الله
کے ول٠ ےآ پک سے میں نے مس سےکوگی جن یل یں ا مکیا ہے۔ بیلڑکی
آپ نے ہجھ سے لی اور اس کےعی مسلمان قیر یی ںکوہ جو کہ می سگرقیار تہ رپاکرا پا
ضر تگران منص نع کت ہیں کہ سول اش یکن ن ےکا رکا ایک ای نے
مس د ےکر دومسلمان قیریو ںکونٹرایای
اسلائی ریاست مال کے پش وشن کے قیربی ںکور اکریکتی سے پانھیں؟ اس
یس فقہاء کے درممیان اختلاف ہے۔ امام مالک امام اوزای اورسغیان نی نے اے
این دکیا ہے۔ ا نکی ول ىہ سےکہال سے وش نکی قوت یس اضافہ ہوگا ین ححضرت
حن بھرکی ا ےکچ بے ہیں۔ ا نکی تائد اس واقعہ سے ہوثی سےکرحضرت او موی
اشعریع نے بالیس قیربو ںکوہ جھ ایگھے ش سور اور تی انداز تھے فدیہ ےکر رپ اکر دیا۔
خر تعرزنے اس کےمتحلق ان سے دریاف کیا ذکہالکہ دہ ہماری فو عکوجھ یکوئی دعوکا
دے لت مھ اں ےن ۹0 7و ر اکر دیا اورسلانوں کے دںمیان
شریعت کے مطابق ما لی مکر دا حطر ت کھڑنے ال سے انفا نکیا
جوقوم جنگ نہکرے اس سے جنگ نک جائے
تی کلک سے اسلائی ریاس تکوشطرہ زہ بد یا ال کے مضار کا تقاضا ہہ
اس کے ساتھ الکن کا معاملمہ رس و اسسلائی ریاست ال سے خواہ نوا وک شش مول 5
لےگیء جلی اک عش اودنرک کے محا لہ می لک یاگیا۔ رسول الپ نے ہدایت فرمائی:
مل مہاب ابہاد والسیرہ باب شتفیل وفداء الین پلاسارگی۔ اودا ود کتاب الجہادہ
باب الرنحصت فی المدرکین بفر قش م
تفر تاب السیرہ باب ماجاء ف فک الاسارگا
٣ ابوعبیرکناب الاموالءگ ٣٢۳١
اسلامی ریاست اور بین الاقوامی تعلقات ۲۵
انرکوا الحبشة مسا ودعوکم ع شک ئچھوڑ دو جب ت کک وہئم ےش نہ
وات رکوا العرک مات رک و کم“ یں (ای رع ) تر ککو چو دوج بت ککہ
یں ن میں چچھوڑ رکا ےک
ال حدیث ٹل صا فکہا گیا ےکہ جب تک یہ ریان٘ل اسلائی دیاصت
کے معاملات میں ڈنل اندازنییں ہو ردی ہیں اور اس سے ان کتھملک او رکنار ہک ہیں٠
ان سے محاذ آرائی کا سال ہی پیداننیس ہتا۔ اس طرح کی ریاعتوں ےش کے
معاہر بھی ہوسکج ہیں ۔ خی نکی مرملے میں وہ اسلائی ریاست کے خلا ف مم جلی
شرو ںکردیں اوداش پر یٰفارکردر نے ریاس تکا دفاغ ازدوۓ شر ضروریی ہے۔ملہ
آ ورکا جواب ریقوت سے دیا جا ےگا۔
اسلائی ریاست بے شک ایک نظ یاقی ریاست ہے لگن اسے ایک جنگ جھ
راس تک شکل میس پٹ لکرنا بڑکی زیادتی ہے۔ اس نے ہرعال یس ن نے جن کک لانم
قتراردیا سے اود شہ ہرایگ سے اعلالن جن ککیا ے- وہ آزاويگ روگ لکوانما نکا ادف
2 انت بے۔ اس کے ےے اس نے وت ولغ کا راستہ اخقیارکیا ہے اود اکی کے ذرلجہ
دہ اپنے جن میں فضا جوا رکرنا جاٴقی ے۔ عالات ےت ان نے اف دع کے
لمات گگا بیے ہیںہ اکن دامان کے معاہر ےبھی سیے ہیں اود خی رجانب دارشھی ردی
ہے۔ دہ وٹ آفاتی تصور کے تحت سای اما تکرلی ےہ الہ ال شش اپ مفادات
کونظر اندا زی ںکرکی اود نہ ا لکی اس سے وش کی مات ہے۔ دن ای ہجردیاصت اپے
مفادا تکوسا مم رککر بی ٹن الاقوائی معاہر ےکر لی ے۔ اسلائا ریاس تکوگگی پک
ہ ےک دہ ین الاقوائی معاملات یل اپ مفادا تکیگرا یککرے اور اس کے قجت نیہ
کرے۔ اسے اپے مفادا تکونظ راندازکرنے بر مجبو نمی کیا جاسکتا۔
ابوداود کاب ال لائمء باب فی الیّھی عن تھییج الترک والحبشۃ
2۶00-8
۲٦
غیسلموں سے علق کے اکا مکا یں منظر
الام نے غیرسلموں ے ایمان اورعتقیدہ کے سارے اختاف کے پاوجود ان
ے لعاقات رک اوران کے موق اد ار نکی جو نون نایم دی سے اں ے والفیت
کے بعد ایل سال پیڑا تا ہے ما پیداکیا جاجاے وہ رہ قر]ن مجید نے شلرعموں ہے
عرم موالات اور ان سے ب ےاتھلق یک یبھی نو ہرای کے کے طح نظرانرا زکیا اکا
ے؟ اس ام رکیمینی اں وت بڑھ عالی سے ج بک دہ ان سے جنگ اور چہادکا عم
دنا ہے۔ سال بار باد ادرف انداز جس اس ط رح اٹھایا جانا ہے گویا ق رآن یدک
۳م کی ید ےک غی مین ے مبارزذزت اورکشت وخو یکا پازارگرم رکھا چاۓ اور
ران ای لیے نازل ہوا ےک جو اسے نہ مانے ال کا سرتن سے جد ام دیا جائۓے-
نع مالت 92 بیراصکام دبے گۓ؟
قرآن مدکی جن آ بات میس غی مین سے تعلقات نہ رک ےکا علم دیاگیا
ےا کا موق ول اورسیاقی وسباقی انگل الک ے۔ ہہ اگر یں رنہ ہو خاڈٹی کا
امکانع رجتا سے اور دیدہ و دانستہ اسے نظ انا زککرنے سے بے جا اعتراضا ت کا ایک
طول لملہ چمل پڑتا ہے گے الا مکی صاف و شزاف نفخلرات پرگرد وغپار
ابڑانے کے لیےبھی استعا لکیا جاسکتا ہے او رکیا جانا ہے۔ ان آ یا تکو جک کے لے
سب سے پل ان عالا تکوسائۓ رکھنا ہوگاء جن ٹیں وہ نازل بومیں۔
غیر مسلموں سے عدم تعلق کے احکام کا پس منظر ےے٢۲
لن نک رویااور ان کم
اسلائی ارں کے الک ایتقدائی دودکی یا ئن میس ذرا جازہ تہ ج بک ال
1 فقوت آ ہت ہآ ہتہ عام ہوثی گئی اور ممین یش ایک بچوٹی یی اسلائی ریاست وجود
میں 7گئی۔ اس واقدہ نے می نکی عفوں می خطراب اور پل پیراکردی اورمخالف تک
آنڑی زیادہ غردت سے ہرطرف جا ےگگی۔ مشرکین اور کہود و أصارگٰ نے نے
اختافا تکوبھو کر اسلام کے خلاف مد ہوگئ۔ ہرطر کی سازشو ں کا یک جال بھا
دیاگیا اون حالتِ جک تا مکرد کی٠ الام اورمسلمانو ںکو میا کی بی ور
کی جائناشی دہ بے درٹغ اخقیاکی جانےگی۔
کے شنوں کا حال تھا۔ دوسری طرف منانشنء جو مفادات کے لام تےء
بظاہراسلا مکا دم جھرتے اورمسلرانوں سے اپٹی خر خوابی اور اخلائش ووحب تکا انظہاکرتے
نین ول سے ناشن کے ساتھھ لے ہونۓ ےہ ہیں ا کا پورا تاون حاصل تھا اور
ووان کے ساز اوڑم خوار بے ہہوۓے تے۔
اعراء دن سے ع دحل کی ہدایت
الع عالات میس صسلانو ںکو اعلام پر خابت قد یگ ہبی تک یگ دن و
ایمان کے تھا وائ سی گے اود تااگیامکہ جولوک اسلام ےن نا ات نی
سے اکھاڑ کچھیکنا جاتے یں ان لی دور بہنا چاہے۔ ان ے رازواران لعلقات
اور ہنی قربت و کات ایمانی کے مناٹی ے۔
منافتوں کےکروار بھی پردہ ٹا گیا اورخلنس مسلمانوں کہ اگیالہ دہ ان
گی بی پردہ سازنشوں سے ہ وشیار رہیں۔ می مارآ نک شھنوں سے زیادہ خطرناک ہں-
الام کے ان کھلے اور میں سے تعاقات ایمان کے مناٹی بھی تے اور
مالس سیاسی نول ۂ نر ےبھی بے عد ہلک او اکن تے۔ ال سے اسلائی ریاست
۲۱۸ غیر مسلموں سے عدم تعلق کے احکام کا پس منظر
عگین خط رات سے دوچار ہلک یتھی۔ ا ں کا حزظ ضروری تھا۔ ونیا ک یکوگی بھی حلومت
7 سے تعلقات اخ مکھرنے+ آں سے رازدارانہ معاعطا تکرنےء اے خفمعلومات
فراہ مکرنے اور پالواسطہ یا لا واسیلہ ال کی سمازشوں بل شریک ہون ےکی ہرگ اجازت
نہیں و ےکی مسلانو ںکو اپے ان مزانن ےق نہ رک ےکا ق رن مجی کی جن
آیات می گم دیاگیا ان کے آکے تییے اور اوقات ان بی آ بات شیں ال ںکا
یں متظرصاف موجود ہے۔ ا ططر کی چن دآیات ضرددیی تقر کے ساتھ یہاں یی
گی جاری میں:
0 الِّیْنَ آمَنُوْا لَ تَتَخذُوا بطَانَةً اے ایمان والو! ا لوگوں سے سوا درو ں کا
نی او لی خی ا اف یر لم فو رازدار نہ بنا2۔ وہ تجھارے اگاڑ می سکوتابی نہیں
ن ڈونکم لا پالونکم خبالا وُدڑا ٌ
ا ا 6 ا
مہ عم یت ابْغضاء من ےی ں لیف پیج ان کے مہ ےففإض وعداوت
فا ہهم وَمما فی صْْزْکم اکب نخاہرےاورجھ پان کےسینوں یش اپشیدہ ے دہ
ھا یکا لم اللایت ان نیم <َقل نَ انا سے مگ زیادہ ہے۔ تم نے سح اتی آیات
مر فی وو ہو سر ڈرو کول کر با نکردی ہیں اگرتم عفل سس ےکا ملو۔
کی ایا ہر یر و ُسِْنُم دیھوقم ان سے عححب تمرتے ہواور ووٹم ےے ممگبت
وَتؤمنوٰنَ بالکتب کلہ و اذا ل مم نی ںکرے اورتم تام 1 سالی کنابویں برکھی ابان
فَلّوْا آمنا وَإِذَا عَلَوْا عَصُوْا عَلَيْكُمْ رکھے ہو۔ جب ووتم سے للتے ہیں 2 سکیتے ہی ںکہ
اَل من العَيظ قُل مُوتُوْا مك ھمبھی ایمان ل ےآ ے اور جب تھائی ٹس ہوتۓے
7 7-- " ہیں تو تمہارے خلاف خصے ایال چانے گے
اِنْ الله عَلیم بذاتِ الصَذُورِہ ان ہیں۔ الن ےک وکہ مر اپنے خصہ سے۔ بے تنگ
تنم سن موم و ان ال نکی با ںک جاۓ ولا ے۔ اگ رن میں بھ
ٹنم سَینڈ پر شزا یف و بن تال پچ یس لیف مولی ہ اود کر می
کر یں کور او درو معیبت سے دوچار ہو دوخ ہوتے ہیں۔اگرتم
تجہرو' روا ہا حرم نم صب رکرو او رق گی اخقیا کرو ا نک یکوئ چا لتجیں
شپھا ال ِا عون ممعحیْع بچھونتصان نیس چپ گی۔ بے کک اللہ جب
(آل عمران:۰-۱۱۸٣۱) بیکگرر ہے ہیںہ اسے اعاٹ میں لیے ہوئے ہے۔
غیر مسلموں سے عدم تعلق کے احکام کا پس منظر کے
ود ضاریٰ اور میا نین کم اگروار
ان آباات مل بیو دکا ذکرے۔ منانقین پروطب الع کے ساتھ ھے۔ بہود
گی آبادگی ینہ سے گیا ہوئی تھی ان کے قرائل اس کے اطراف موجود تے۔مازرائوں
کے ان سے ریم تعلقات لے آرسے تھے دوقی اود مسا یی ءککاردبار اور لن 7-
ھا معاہرے تھے ال د؛جر ے ؛ہت رے 2 اور ہادہ ول مسلمان ان کا سازشو ںکو
مو نی ںکرہا رے مہ آھیں پرتواہ اود و ن ھٹا ان 2 لیے مضکل 000 تھا۔
مالین خورمسلرانوں مس گے لے تہ ان سے ان کے خولی رشن اور لف تم سے
سای اود معا شی نعاقات تے_ بی مننقین صرانوں کے اندد بی کر بیہو وکا کردار اد اکم
رہے تھے۔قران نے ان دفوں کے نا اک عز ام سےآ گا ٥کیا اود بت کہ ا نکی عداوت
اورخالفت ڈعی گی یں ہےء ان کے قول نل سے نمایاں ہے۔تہاری کامیالی سے
ان کے سیتوں پر ساپ لوٹ کت ہیں ادرصمات کے پہاڑ ان پرڈٹ پڑے ہیںم
ناکائی سے دواد ہوتے ہو ان س ےگھروں میں مسرت کے شادرانے نے گگتے
ہیں۔ ائ اعداء دی سے ہنی ونگی وامتگی, یس خی رخواۃمچھنا اور آھیں اپٹا راژدار بٹانا
تہارے یے جج نہیں جع ان بات یس می آبیت کا یں منظ رحظرت عبد اللہ بی
عحبائ اوراانع کے شا اکر میاہران الفاظ می جیا نکرتے ہیں:
نزلت فی قوم من المؤمنین کانوا یآ یت اٹل ایمان جس سےلعھض ان لوکوں کے
یصافون المنفقین و َراصَازت سلملہ میں نازل ہوئی جومزاین سے خلژں اور
ا 0ی مہم جس
: اس وجہ سے رکھے ےکہ ان کے درمیان
القرابة و الصداقة والجصوار وت 00 اود
الرضاع والصلف فنھسوا من بورعلیف ہونے کے رواہ تھے ان ے پان
مباطنتھم٭ رواہا سے (یہاں )اض کیا گیا ے۔
لا این جوزگیء زاد سی :ا /۴۴۷۔ این جر رش یرردای سی ق رق ہے۔ جا ابیان:ے/١۸٠۱
۲۸۰ غیر مسلموں سے عدم تعلق کے احکام کا پس منظر
ان آیات شی بہودکی عدادوت اور مخاصمت کا ذکر ہے۔ نصارکا کا ردب گی
فی الہ اس ے ملف نہ تھا مشرلشن و ان سب سے آ گے تے۔ ان سب نے لکر
عالات قی الییے پیداکردیے ےک مسلمانو ںکو ان سے ق ری تعلقات ا مکرنے سے
ت خکرنا پڑا۔ چناں چر ایک مہ ارشادے:
نَا الدِيْنَ آمَنوْا لا تمَجذُوا الیْهُوْةَ اے ایمان والہ بیہود و نصارگ یکو ولی تہ :نا5
و التصتاریٰ الہ بَضهُم اَولِيا دہ شس ایک دوس رےکے و ہیں ستم ٹش
بغض و من موم مم فان نم سے چکگ ا نک ول ہنائے تھ وہ انی
1 الله لأَيَهُدِی القَوْمَالشَلِمیْنَہ سے ہے۔ بے قنک الد الو ںکو راو رات
(المائد۵۱:3) ضل دھاتا۔
ای سمل بیان مم سآ کے ارشادے:
ھا الدب آممُا لَ وا الِْنَ اےایمان واواتم سے پیلے ج کاب دکاکئی
الْعذزا دِيتَکم ہمزوا و لوا من حشیء ان میں سے جن لووں نےتہارے دن
الذِیَْ آونُوا التب من قَبلُِمْ و کو نراقی اورھیل بنارکھا ےہ ا نک ادرکافریں
الف اَوْليتاء وَ انّْکُوا اللّ٤ ا کواناوی اوردست تہ بنا اوراللد سے ڈرے
-نم مُومبیْہ و اِذا ایم لی رہہ گرم صاحب ایمان ہو جب ت نماز کے
السُلوة انحدُوْمَا مُزُوَا و لصا لے بلاتے ہو (اذان دتے 7٠ وہ ایں ک۷
ذلک بأنهمْقوْم لفن اق او دکھیل بنا لیے ہیں۔ ا لک وج ہر ہے
(ارائرۃ:ے۵۸۰۵) ک وہمفح٠ یں رکتھت۔
اس نار ک گی اور دی صورت عال میں ای ککروار وہ ھا جو مزاضقن بن یکر
رے جھے اور دو کردا رئش ائل ایمان کا تھا۔ قرآن جیر نے ان دفو گا بر پور
توریتٹ یکی ہے۔ مزنقین کے بارے میں بایاکہ ان کے ول فور ایمان سے خالی ہیں٠
دی نکا ناقی اڑانے میس ای ںکوئی حا لکییس ہوتاء وہ تذیز بکا شکار اور سوئی سے محروم
غیر مسلموں سے عدم تعلق کے احکام کا پس منظر ۲۸
ہیں ہی مقصد کے لے ایثار وقربالٰی کا تضور ان کے سسیےگراں ے وہ بھوٹی سی بھوئی
1زنشی کے لے تیارس ہیں۔ وہ تمہارے ساج کنل تمہارے جھنوں کے ساتھ ہیں
نکوئی :ارک موقع ک ےگا تو وہ ا ن کا بھی ساتھ سچھوڑ میں گے۔ منانقی نکی ہے
تصورقرآن کے مخلف مقامات میں موجود ے۔ یہاں سورء نما کی ہن آیات
ٹپ کی جاری ہیں:
َفْر الین باؤ لهمْ عذباً
ایم الَلِیْنَ يََخِذُوْنَ الْكَفِرِینَ
ولتاء مِن دن الْمُومِيیْنَ اََتعُوْنَ
ِندَھُم اِزةفٍِن از لہ مِیعاہ
وَفَد نول عَلَيْكُم فی التب أَْ فا
آ-- آیتِ الله 08
ُسهراً ھا فا تفعُڈُوا مَعَهْمْ عَتَی
یُوْصُوْا فِیْ عَدِیْثٍ عَیْرہ اِكُم اذا
َالْكِرِیَ فی جَهَم جَمْعان الدِينَ
ََرَلُصُوْنَ بَكُمْ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ فَعْحْ
اللٰه زا الم لن معكُمْ و إِنْ
ان لِلکِرینَ تَصیْبَ قَالوا اَم
الو فَالله يعکُم بَْكُم يَوَ
القیَة وَل يُععلَ الله لِلكفریَ
َلی الْمُوْمِييْنَ سأ ان الَمِقِیْنَ
منافنتو ںکو خیش خبرکی سنا ددکہ ان کے لے ورد
اک عذاب ے ج ایل اما نکو چو ڑکر
کافرو ںکو اپنا رف بناتے ہیں ءکیا دہ ان کے
پا عزت ملا لکرتے ہیں ءعمزت و سارک الد
کے ہاتھ میس ے۔ الد تھا ی ا سکتاب مم
پیل نہیں ىہ ہدایت دے کا ےک جب تم
سفوکہ ایل کی آیا تکا انگار ہو رپا ے اور ان کا
خماقی اڑایا جا را ے نے تم ان کے ساتھ ن یھو
تپ ت کک وہ دوککی بات مل یس نان جانھیں
ورنہتھہارا شا رجھی ان ہی یش ہوگا۔ بے کیک
ایر منانقن او رکفا کو جم مس ایک سات جع
کرے گا۔ ان منانقین کا عالے ےک وہ
تہارے پارے میں امن ظار مین 2 بہوۓے
ورک کرت سے ا
حاصل ہوف و وکیا میں ےک کیا ہ متمہمارے ساتھ
نہ تے اور اگ رکافرو کو اس کا پچجھ حصہ لے تو
کہیں ےک کیا ہم ن تی کی نیس لیا تھا اور
اٹل ایمان سے بپچایا نیس تھا؟ اللر قیامت کے
روز ان کے درمیان فص کر ےگا اور الد ہگ
کافرو ںکوائل ایمان بر خل کی زاین د ےکا
مالین ا کو رعوکا دےرے ہیں اور( قیقت
۲۸۲ غیر مسلموں سے عدم تعلق کے احکام کا پس منظر
حون اللہ وَ ہو حَايشهُم و إِا س کہ ال آئیس جوکے میں ڈائے ہوے
فاھڑا ای الشوق فمائزا شی ے۔ جب دہ از کے لیےکڑے ہوتے ہیں
ویر پگ و قنور سط سے ے سقا اود بے ادلی کے ساتھ لوگو ںکودکھانے
یراو الناس وَلا یرون الله ا کے سی ےکھڑرے ہوتے ہیں ۔ ال دکو بہ تک یاد
یلاہ مَُبْذَبِيْنَ بَْنَ ڈلک لا لی کرتے ہیں۔ ہے (حن و پال) کے ورمیان
ملا ول لی ولا وَمَن تل تزیزب مس ہیںہ نہاس طرف ہیں اورتہاں
اللَهقَلْ تَجد لَاسِیْلا رف ج ال تھا یگم را ہکردے ہس کے لے
(اقماء:۸ )۱٣٣-۳ تم ہرک کوئی راستنئیں پاسکت۔
مان یدض وی ھ جو مفادا کا خا الھب یں رک
ہوۓ ےہ شمنوں سے ا نکی سمازہازشیء ا نکا تناون ائئیں حاصل تھاء وہ ہت کے لے
جھ اس وقت فرش ہو ی نیہ آمادہ نہ تھہ اسلام سے ان کا رشنرٹوٹ چکا تھا اسلائی
ریاست پرکوئی خطروک یگھڑیی 1 جاۓ و وہ شنو ںکی صف می نظظ رت ۔قرن نے ان
ےکھت تل ق کم اوران کے خلاف وت ضرور تگواراٹھا ےکا عم دیا ۔الشمادے:
ا لم فی الین تن واللڈ شی ںکیا ہدیا ےکہماششن کے بارے می
تہارے دوگردہ بن گئے ہیں٠ عالا لکہ ان
ا رَُكمَھُمْ کَسَبُوا ا ان
٦ ما ون کے ان اعما لکی وجہ ےہ جو اھوں نے سے
تھُدُرْا مَ اَصَلَ الله وَمَن بُصْيِل الله ہیںہ الد نے ای الٹا بر دیا ہے ۔کیا تم
فنْ تجد ل سَبْلا وُدُوا ۳ ات ہوکہ ہے اللہ نگم دا کر دیا اے راہ
درکھا2۔ جے الد راہ سے بھلکا دے اس کے لے
تَكفُرو گمتَا ۱ 2 : 5
1ت اس سی :ہآ تم پل کوئی راہ نہ پاگے۔ دہ سے جات ہیں
سَوَاةفََتتَُِوا مم موا ححتی سرت بھی کافر ہو الہ یے دہ خودکافر ہیں اور
جوا فی سَبیلِ اللهہ فی تَولَوْ نان و سو
2 فوپبرر ےر تق وروی وی ھجاؤھٹ ندال راہ یں ارت
فخذ افت حیٹ 7 سے :
٦ پونا .:۔ 7 کے (ینہ) نہ جائئیں۔ اگر وہ روکرداٹ یکر سی
وجدتموظم ولا تنجنڈوا ینلم ولا 2 بیس لڑواور جہاں ھی پا مار ڈالو۔ نیس
وَلأََصِیْرّہ (ااضاء:۸۸ء۸۹) اپتاولی اور مردگار تہ بتاک
غیر مسلموں سے عدم تعلق کے احکام کا پس منظر ۲۳۰۳
سور مچاولہ میں من کا رو ڑپ ب٠ٹ ےکم وہ ۴ کے نون سے
تعلقات استوارکر رسے ہیں او سی ںکھاکھاکر اپے ایمان کا شموت فراہ مکرنا چاتے
ہیں۔ یی کےبھ یناف نچیں ہیں۔جس مال ددوات کے لی ےآ دہ اپنا دن دایمان
رے ہیں ءکل وہ ان کے بلح کم نہ تے گا۔ شطان ان کے سروں برصلط ے اور
یہاکی کےگروہ کے افراد ہیں۔ ال کے بعد ان لوگو ں کاکردار ان ہوا ہے جو ایمان و
ا لان کی ووالت سے الا ال ہیں اورشنی کے ولوں میں ای ذات پر لقن اور
1رت کا خوف جاگزیںی ہے ان کے لے پیک ننیں ہ ےک دہ ان لوکوں سے خقیہ یا
علاثے لعلقات ر“ اللد اور ال کے رسول سے بص پیکاد ہیںہ جاسہے وہ ان کے
قرب تین ائ ٴہ اورخول رشن دار بیگیوں ثہ ہولں۔ ال کا گردار وی ہوک اور وی ہونا
اہیے جوی غیرت مندملت اور ای نصب تن کے حائ لگرد ہکا بہوتا ہے۔ ان کا
تومرشی ان الفاط مم لک یکئی ے:
ا تج فو يُْمنوٰن باللہ الیم ت یہ نہ دکھوگےکہ جن لوگوں ک الل اور بیم
آخرت پہ اھان ے وہ ان لوگواں ے موورت
کے نتعاقات رککت ہیں جو الد اور اس کے رسول
ای ڑھٹھ بب رر رر رس رر دج
اخوانھم او عغشیرتھم الیک ہیں یا ٹے یا بھائی یا ان کے نائدان والے, ہے
كتبَ فی ُلْيهمٰ الاْمَانَ ایم وہ لیک ہیں جن کے ولوں میں اللہ نے اییان
بزح من وَ لم بت تر یٰ گھ دا سے اعد اپی طرف سے ایک رو کے
. تَخْيهَا النھَار 2 ذدلچہ ا نکی مدکی ہے۔ وہ ا کو ای جنتوں
" ا و 2 یش دش لکبر ےگا جن کے نے خہریں ہہتی
رُضی الله غتھم ز رضوا غَنةُ اون تق سیف ڈدن گے زان
ولیک جرب اللِ الا 3 جرب سے راشی ہوا اور وہ ان سے داشیا ہوئے۔ ہے
الله هُمْ الُْفْْکُوُوْہ اٹ کےگروہ کے لوک ہیں۔ یادرکھو اید کےگروہ
(امجادلت:٢۲) دائنے ہی کامیاب ہوں گے-_
الآخر يٰوَاڈُوْنَ مَنْ حَا٥ٌ اللَ وَرَسُوْلَهَ
لو كلُوْا آبَاء ھُم او ابَاءَ هُم َو
۲۰۰۲ غیر مسلموں سے عدم تعلق کے احکام کا پس منظر
اس
یمان اود اخلا کے پاوجداں پا تکا امکان بہرعال ےکم دی نکی محبت پے
رشتوں ناطوں اورساتی تعاقا تک ہت غاابآ جاۓے اور آر یکِئی ایا ندم اٹھادے
شس کے ماع امت کےعموٹی مفاد اود اسلائی ریاست کے لے خطرناک ہوں۔ ای
طر گی یک فروگزاشت پرقرآن یر نے تی کی اود دین وایمان کے نان واتم
بے ا سک یتھوڑی سی تفصیل ہدے:
تر کہ نے اسلام ایرملمانوں کے ساتھ پرطر کی زیادتا لکیں٠ء
ارت حرینہ کے بحعد بار بار ینگ مسا کی مسلمانوں نے عمرہ کا ارادہکیا ذ خدا ک ےگحم
عبت ال دی زیادت سے دتا۔ پالأخ رس عدییے ہوئی اس می ویں سال کے لیے
جنگ بنری کا معاہدہ ہوا۔ ای معاہد ہی ایک شقن رش یکہ جو قیلر فرل کا چاے
علیف بن سا ہے۔ چناں چہ اش کے تحت ہنونح زا مسلرانوں کے اور بن جک ر ریش
کےعلیف ےنب لین جلدی بنوبر نے بنوتحزاعہ پر لی شکردگی۔تھریشی نے ا نکیا ء
اسمراود افراد کے ذرلیہ پشت پنائ یکی اور معاہر ہکونو کر بنوخزاص کے سات عم و زیادلی
یں شریک ہوگئے۔ یہ ین الاقوائی ضا ہکی ص رر خلاف ودزیتشی۔ اں کے بعر رسول
انلد مکل نے نا نی سے جن ککی مار رو ںکردی نت
نحخرت حاطب من ائی باتع ہکا واقعہ
تیارکی کے ایس مرعلہ یش ححضرت حاطب مین ای جلاع نے جن کے اخلائش
1 پریتنحیل کے لیے ملاحظہ ہو۔ این جشامء سیر إفی: ۳۵۵/۳ اور کے کےصفحات اور گر
کب یرت۔
24 معاہ دس کےئن کے لیے ملاحظہ ہو۔ این چرام :۷۷/۳
بنونحزاعہ پر تل اود ال کے اسباب اور بعد کے واقعات کے لیے کی جاے۔ ابع بشامء
سی ال یم / ١۵-١
غیر مسلموں سے عدم تعلق کے احکام کا پس منظر ۲۰۵
ںکوگی ش نی ںکیا جاسکنا تھا اود جھ بدری ععالی تہ خط کے ذر یج مکی نکو
رسول اش یپ کی اس تیار یک الا دے دی ىہ خط ایک عورت نے چا زاین
نے مرینہ سےتھوڑا ہی فاصلہ ٹکیا تھاکہ وی کے ذدر بی ےآ پکو ا لک خج ہیی آپ
نے حضرت مل اوزگن گر صحاہہکوگئ ےکر ال عورت سے بی خط بآ ھکرالیا۔ جب
عاطب جن الپی باتع سے ال کے بارے میں ددیاف تکیا گیا نے تھوں نے خ اکا اعتزاف
کیا اور لکیاکہقرمیش سے می راکوئی خولی رشنییں ہے۔ میرک حیقیت ان کے علیف
1 جن کک صورت ٹیش ہاج رین کے نے رشن داد ہیں ہ ال نکی وجہ سے الع کے اٹل
دعیال اود مال و اسبا بکی حفاظت بوجائ ۓےگیاء ین میرے یوں اور عمزیزو ںک یکوئی
مات نہ ہو ےگیء اں لیے یس نے سوچ اک ہق ری لکواگر بیس ا کی پل سے اطلاغً
دے روں لو و رۓش رلزار ہیں و می ےن یا ولس گے ومے
بے لقن ہےکہ میرک اس اطلاع ےکوئی فرق وا ہونے والانییس ہے ری کی
قوت ببرحالل ا بک بارحم ہوکر رہ ےگی۔ بہرحال ب تھا مرا مقصد۔ میرے اند رکوئی
تب یی یں ہنی ے میں نے تن ھکف رکا راستہ اخقیارکیا سے اور ند مر ہوا ہہویں۔حقرت
عاطب نے جو بات تا ؛ ٹیک کریک با نکردی۔ رسول الم کن نے ان کا عزر قول
فرمایا اس م وخ سب زی لآیات نازل ہیں
بی الِّیْنَ موا لا تَعَخذُوْا عَدُوِیْ اے لو جھ ایمان لا بو! میرے اور ا
و غدوّشُمْ اَوْليَاءَ تلقُوْنَ اِلَيْهمم شنوں کو اولیا اور دست نہ با5 تم ان ے
بالْموَد و قد كکوذا بِمَاتاء مم من دو کاتعلق فا مکرتے ہو ج بک وہ ا تی ک۷
ما بفادگ کاب الجہادہ باب الاسیں۔ نز کاب المغازکیہ باب زوۃ 2 اری۔صل ماب
لفضائلء جا ب من فضال عاطب بن ال بلتعوڑد ال برد۔ اس سلسل ہکی رید روایات کے لیے بیکھی
جاے۔ ای نکی رتخیر: ۳۴۷/۴ قرٹھیء پا لا ام القرآن: ۵۲-۰۸۰ تی دیر یش
کم زور روایات کے حوالہ سے اس خ کا مضمون پھینفل ہوا سے جوحضرت حاطب بین ال بلح
نے مکی نک کوکھا تھا
2 غیر مسلموں سے عدع تعلق کے احکام کا پس منظر
لح يُخْرجُوْنَ الرّسُولَ وَإَِكُمْ ان انکارکر گے ہیں جوکھمارے پا ںآیا ے۔ وہ الد
9 و 2 میں میں کے رسو لکو او میں یں وجہ ے ہکا لے ہیں
تؤمنوا بالله : ان کنٹم خر جت 6 1
کا کا موق یپ قرب با کت
چہادا فی سبیلیٰ وابغاء مرضاقی (س رح تعلق چت مکرنا جج نہیں ے) گرم
تَِرُوْنَ ِلَيْهھم بالْمَوَذٌةِ و آنا اغْلم ممیرے راستہ میں چاد اور مری شا گی طلب
با ایم ما الیم ومن بقع مم گے ہوست ان کے پاں دقق کا خخیہ پغام
مور کر ےھ ہے .مر کگھیجے مواودٹ خب جاتا ہوں جوتم چچھپاتے
مِنكُمْ فَقَد ضل سَوَاء السبیلہ ان "٠ے 5
منگم ضل سو لپ اورجوقم ظاہرکرتے ہو تم یس سے جو کر وہ
ققوُكُم َکُونُوٍ لع َغْدذاءَ و سیدت راستہ سے بھل کگیا۔ ا ن کا عال یہ ے
شا اِلَیکمم اَيْدَِهُم و اليسعم کہاگ ہیں پای حھارے شن بن جائیں
بالسشُویِ و وڈوا لو تَکفروئم آغ او تماد خاف اپنے بعد اور زان چلانے
تشخ رعفغم ز1 2(1 سر و کہا کیا
الْقِيمَة یَفصل بَْنكُمْ وَالله ِمَا او رھاریی اولا دھارے بن ھکام نہ ۓگیا۔
َعْمَلُوْنَ بَصِیٔرہ اللہ تقا یھارے ددمیان جدالی ڈال د ےگا۔
(اامت:۱-) جو یج مکرتے ہواللد اسے درا ہے۔
ان آیات میس ائل ائ مان سے خطاب ےکم نے الک رضا جوئی میں اور
ا لکی راہ یل جائن و مال لٹانے کے ہبہ سے اپناگھ با کچھوڑا اود ہر تکیاء چرم ان
لوگو ںک و کے اپنا وی اور دوست بنا سے ہوجخھوں نے اور کے رسو لکو اورخو ھی ںعجضش
ال وجہ ےک کی سرزشن پر رٹ ےنیس د کرت الشد داحدکا نام لے ہو اود اس کے دن
گی لوت دے رے ہو ۔آ بھی ا نکی مگوارسی ام ے باہراورتہارے خو نکی پیاھا
ہیں۔ دوصرف موٹع کی جاک میس ہیں۔ ا نکیا زہانیںگاگ اگل دی ہیں۔ جب اور
بچفی ای تکھیں پا کت ہیں پیا رہے ہیں۔ ا نکی خوائش اورکوششل ےک یں
عبات و اطاعح تکی راہ سے پگ رک محصی تکی راہ پر ڈالی دہیں۔ اس طرح کے شنوں
سے تم خی تعاقات تق مک رسے ہو اورعکوصت کے راز ان بکھول رے ہو یں نے
غیر مسلموں سے عدم تعلق کے احکام کا پس منظر ۲۸۸٤
حقیقت فرا مل نی ںکرنی اپ ےکہ اللہ ےکی بات چپ ینھیں رومگتی۔ ظاہرو نین
شی ان پعیاں سے تم نے بی اقدام ال وا باب اور لیش و اقظار بکی عبت
می سکیا ےه عالا لکہ قیامت میں یہ رشت نال چھرجاتیں کے اور ہہ وانتنگیاں تم
ہوجائمی گی وہاں فو صرف اود ےعلق او رحبت ہکا مآ ت ۓگیا۔
مرکا نکی عہرجنی اور چہا ام
سور فبہ چا دکی سودہ ہے۔ ال میں مشرلی نکی عپ رکنیا اود ان حالا تکاء
جن میں چہادکا عم دا گیاہخصیل سے ذکر ہے۔ جہاد کے جوا زکا ذکرکرتے ہوم ے فرمایا:
”ان لوکوں کے ساتھعبد و پیا ن کیسے باتی روسکتا ہے جو گرم پہ
خلبہ پا جائئیں تو تہارے سلسلے ٹیل نکی رشن اورقراب ت کا خیال
کیل اور نہ عہد و پان کا۔ دہ ذ اپی زان سےصعھیں خی کر
رہے ہیں ہ ج بمہ ان کے دل اس کےخلاف ہیں۔ ان مل ے
یی تر بدرکردار ہیں تھوں نے ال'د تال ی کی آیات کےعیس دنا
کی تھوڑیی گی خریدی ے۔ الد کے داستہ سے لوگو یکو روک
رہے ہیں۔ عالا کہ بہت برا ہے جو ہک رسے ہیں۔ وی
من کے سمل میں نہ رش ہکا خی لکراۓ یں اور نہد و پعان
کا۔ دی (ہرمعاممہ یل ) زیادئی ککرنے والے ہیں گر وہ (اتی
ہکن ںکو تو ڑکر) ایمان لے یہ نماز مان مکرمیں اود زکوۃ دی
ووتہارے ونی بای یں گے(ان ےت مکح ہوجاۓ
گیا ہم چان والوں کے لی ےک1 ہی کھو لک بیا نکرتے ہیں۔
06 چا نكرنے کے بعد اپیتممو ںکوتوڑ دی اور
تمہارے رین میس طعن ز یکریں تو ان ائ کفرے جن کک رو
ان کے عبدو پان کاکوئی اختبارنیں ہے۔ اس رح ہوسکتا ےک
۲۰۸۸
غیر مسلموں سے عدم تعلق کے احکام کا پس منظر
دہ اپنی 7ل ے انآ جائئیں کیا ان لوگیں سے جن ککیں
کرو گے جنھوں نے جہراوڑے اور ول کے اخرا رج کا فھدکیا۔
یں نے ہی (عہ رج یبر کے) پیلہ جک چھیاری ہے کیا تم
انی سے ڈرتے وہ عالا لکہ الد تھا ی ال ںکا زیادہ لق داد ےکہ
ان سے ڈددہ گر من ہو“ (آت:۳-۸)
اللل اور رسو لک محبت ہ رمحبت پر ال بآجائۓے
ان عالات یل وش نکی مرکول کی ضردر تتھھی۔ ال راہ مل
رشتوں, ناطوںء
اتی عن اور ویو مفادا کا رکاوٹ بنا 1 اور سای وت کے پ می تھاء اس ے
ارشاد ہوا:
ابا الَذِیْنَ آمَُوا لا تَخذوْا آبَءَ كُم
و وَ اِخْوَانكُمْ اوْلِيَاءَ اِن اسْتخَبُوْا
الكفْر عَلی الإِیْمَان و مَنْ يتوَلَهُم
مز لیک مُم الشْيِمرْدَہ قُرْ
لغ کان آباؤؤٹُمْ و ببتَاؤْكُم و
رك ز اَرَاجُکُم وَعَبیَنكُمْ
و آَمُوَال تمُا و تِجَارۃ
تَعْفُوْن كُسَافقا ومک تَرْضَونَھ
اب إِلَيكُم مٌيَ اللہ و رَسُولہ وَ
جھاد فی لہ ََرَتصُوْا می بای
الله بآرہ و الله لإَ يَهُدِیٰ الْقَوْمْ
الْفْيِقِیْنَہ (التوبة:۲۳,۲۳)
اے ایھان والو! اپنے باپال اور اپ بھائو ںکو
ھی اولیاء اور دوست ٹہ 0 ایمان ے
متقابلہ مم لکف کو بین دکرتے ہوں۔تم میس سے
جھ ا نکو ولی ہنائئیں گے دی نلم ہیں۔ اے
مجر انی سےکہہ دوکہ اگ رتھارے پاپ اور
تہارے بے اور تمہارے بھائی اور تہاری
بیویاں ادرتہارے نماندان اورنکھارے مال جم
ن ےکا ہیں اور ارت جس کے مان پڑجانے
ےمم واج ہواور کا نا ت نی تم پرارۓے
ہوہ اگ بس ب نہیں اللہ اود ال کے رسولی سے
اوراں کے راسترمیں چباد سے زیادہگھوب یں
8 انظا رکرہہ یہاں کہ اللد اپنا فصلہ ناذز
گردے اور اللّر فاستوں کو راو ہدایت یں
بھاتا۔
قرآئن یر کے ان جیانات سے ان مین حالا ت کا انداز ٥کیا جاسکتا سے جھ
غیر مسلموں سے عدم تعلق کے احکام کا پس منظر ۲
مشرکین, یبور و أصاریٰ اور مالین کر پی ڑاگ درے تے۔ مان پری طرں
عالتِ 2 سےگزررے ہے عبرو پان ٹڈڑڈے چا رن اش جار خیں,
خطرات کے پاول ریاست پر منڑلا رے تھے بللہ ہرطرف سے وی نکی بافارتی اور
ا نک یکوئی صور ت نی ہگن تھی اس صصورت عال می کسی فردکا لت اور ریاس تک
ریف طاقوں سے عبت کا رشن استوا رکرنا اورخف تعلقات رکھنا غداری اور بذاو یں مھا
جاتا ہے۔ دنا یکوئی قوم ا لکی اجاز نیش دہت۔ پھر اسلام سے ا لکی ت تع کی ےکی
انت ےکہ دہ لی اورگگی عالات سے آنھیں بنرکر کے اپنے مان والو یکو پش یکی
سازشوں کا شکار اور ا سک تقوی تکا پاعقث ےکی اجازت د ےگا اور ریاس تکوخطرہ
یس ڈا لگا اسے بیک وت بیروثی شنو ںکا بھی اور اندروٹی نو ں کا بھی سامنا تا
ای نے ال دفول یا سے ہوشیار رب ےک ہدای کا کم تھا اور اور بروقت مم تھا کہ
مشرکین اور بیبود و نصارکی کے ساتجھ منافتوں ےکبھی تعلقات شر رکے ای ال 4
اعتزاسل دی سکرکنا ہے ج سای چیوکیوں سے ناواتف ہے۔ یہ تعلقاتگ یا
سای نقطہنظرعی سےککیلء دین و ایمان کے ہاو سے بھی تا دکن ہیں ۔کآدئی اکر ان
لوکیں سے قرب تعقات رھ ین نکی دین سے عداوت ونفرت پلک لکھی ہوئی ہے, جھ
ال کے غخلاف بصر پییاد میں اود جھ ال کی تن کا جات ہیں تق خد اس کا یمان
سلاص نہیں رو سکماءصھی نشی ھرعلہییش اس کے ق مم ضرور ڈگگا جانئیں گے_ منانقن
سے دوری او رمع دگی اں لیے ضرور یت کہ ج ب بج یکوئی نل کگھڑیی کی ء الد اور ای
کے رسول رم احخادکا اظہار ا کا در مین چا تھا۔ نکی پر یکڑل ہوئی کک ماشرہ
ٹش ریب وتذیذ بک فضا پداکردیں اورملمان ایمان و شی نکی دوات سے محریم
بوائیں۔ ا نکیا بے فی لو تکی ار یکی طرح کیل سی تھی ق ری تببات نے
ال سے تقو رکھا_
+۲ غیر مسلموں سے عدم تعلق کے احکام کا پس منظر
یجاب داروں کے ساتی رن سلوک
بای ک تو صورے عال ہے۔ جہاں برصورت حالی ضہ ہو خرآن مجیر نے
مین اورغی لین سے ہروا رک اوران کے سراتھ وحن لوک ےش نمی ںکیا
سے چناں ج سر نہ کے شروع مس ائل ایمان سے م کہا گیا ےک جولوک ال تع
کے اورخووقہارے وشن ہیں, جوں ن ےتحوارے ساتھ ہرطرح يٰ زیادتی کا آئیں انا
ول او
اں کےاورا بعد ارشادے:
کا نم ال غن الین کم از شال نہیں تن سکرتا ان لوگوں کے ۔اتھ
: ر. "ن سلول اور عرل و اتصاف اور اصان کا
الوِیْن وَ لم بُخْرِجُو
فُ ژَمْ وم 2 رومہ اخقیارکرنے سے جخھوں نے تم سے دن
َِاِكُم ا روم وَنَقْسِطراِلَهمْ کا وجہ سے جن گنی ںکی او ری ںتھارے
اك الله يُحب الْمْقُيِطِیْنَہ ِنَمَا گھروں سے ہے ڈ لکمی سکیا۔ اد تعالی نگ
َنهْكُمْ الله عَن الَدِینَ قَاتلوْكُمْ فی کر سے ان لوگوں کے ساتمھ موت کے
الین وََحْرَجْوْحُم مَنْ وِيَارِكُمْ وَ تلقات سے جخھوں نے تم سے دی نکیا وج
: 0 رر رے گھروں سے کالما
ظَامَرُوْا لی ِمْرَاحِكم ان تَََزُمْ وی ںگروں ے ہیا لے میں مدد کت ان
وَ مَنْ برَلَهُمْ فاولیک مُم کواپنا وی اور دوست بتاک جو اش اپنا دوصت
الظْلِمُوْنَہ 1۸ا بنگئیں کے ودی الم ہیں
ىہ,صاف ورگ ہدابیت سے ال با تک یک اك بی لوگوں سے عد تلق
ےت کیا یا سے جتھوں نے مملمانوں کے ساتھھ زیادتی کیہ اھیں ش مکرنے اود
میا ےک یاشش میس گے رہے اور اسلائی ریاست کے خلاف سانشنی ںکرتے رہے۔
7 آ ات کا ال ال سے پل سی بت می گر چکا ے۔
ا نآیات بر پش اعام انسالی تعاقا کے تح تگزرچگی نے
غیر مسلموں سے عدم تعلق کے احکام کا پس منظر ۲۹
جن غی رسلسو ں کا رومہ ال کے خلاف ہو اورسجن سے مسلمانو ںک یکوئی جنگ شہ ہوہ ان
کے سای جن سلوک. عدل و انصافہ مضدافحت اور جعدردی کا ریہ اختیا رکرنا اسلا مکی
نقایرات کے غلا ف نہیں ہے۔ اللہ تعالی و انصا فکرنے والوں سے محب تکرتا ے۔
قرآن ید نے اشن اورشنوں کے ساقح جس دوک ہدای تکی سے اسے غی رم سلموں
کے بارے شی ایک عام رو پقراد دای طرع ددستنجیں ہے۔ ایک طر کیا ھی
ہے جو نیرک نہیں دےگی۔
درم علق کے ذی لکی لتض اصطلاحات
".نے ھی سر جک گن سے والک الات می بی اشن ٹیا
ہکم کے تعلقات سے کیا گیا ہےہ یا مامت خائ سم کے تھا کیا ہے؟ اس کے
لیے زھہ بن تآبتوں کے ا ن سو الفاظ رو رکرنا ہوگا جن سے اس عمالع تکی نوحیت
ظاہرہول ہے۔ ان یس ایک لفظطانۃ ہے (آ گل عران:۱۷۸)
بطانة کا ہوم
طانے کا ادہ یھن ہے۔ ج ہرک سحا مل ہےکہ 'بطانة الثو ب۲پڑے
کے انددوٹی ح ہک کہا جاتا ہے۔ ا کی ضد ہے 'ظھارة الثوبۂ۔ ال کےمعق ہیں
کپٹڑ ےکا ہیردٹی حص ہآ دٹی کے اص لو ںکوء جن بر دہ اختادکرتا ے؛'بطانة الرجل
کھاجاتا سے
امام راغب فرماتے ہیں:
البطانة خلاف الظھارة ... و تستعار 'بطانۃ' کا لفظ 'ظھارۃک) ضر ے۔ پےمستمارلیا
البطانة لمن تختصّه بالاطلاع علی جا ہے نخس کے لے جےتم اپ پشیدہ
باطن امرک امور کے اظجار کے لیے خمائ کر کھت ہہو۔
ای ونھ را ا ئل بن حماد الج ہرکیء جاع اللغۃ وسحا الحری: ۲ /ے ۳۵
12 راخب مفردات الق رآن۔ مادہ لن
۲۲ غیر مسلموں سے عدم تعلق کے احکام کا پس منظر
ہمارے ایک ق دم تین مفس رعلامہ این جرب طبریی نے ا سک قشع اس طرح
کیے:
انما جعل البطانة ملاً لخلیل آ دی کے نماض دوس تکو بطورعثال بطات قرار دیا
07 میسو وس
ٹیایہا لحلولهَ منة فی اطلاعه علیٰ اسں ل کہ اس رع کا دوس تآدی کے اسرار و
اسرارہ و ما یطویه عن اباعد٥ و رہوزے اوران چڑیں ہن نین ود رین
کثیر من اقاربہ محل ما ولی جسد٥ سےادر بہت سے اپ عزیزویں سےگھی اید
من فیابہِ رکتا سے واقف بھتا ے۔ اسے وہ مقام حاصل
2 سے جو مقا مآ ری کےا ن پپٹرو ںکا بتاے
جواں کے ےے کے ہوۓے ہیں۔
موی کےسیی
ان میں سے نآ بوں میں شنو ںکو اولیاء بنانے سے تع کیا گیا ے۔
(مامد۴٭:۵۱ے۵۔ نماء:۸۸, ۴۸۰۸۹ وبرہ) اولیاء ول کی ہے۔ ا مین انی
قریتءفصرت دحمایت اورم رالی وس رپبت یکا سور پایا جانا سے
ای مادہ سے ”موی کا لفظ لیا ے۔ اس کے متعدد استعالات ہیں: رپ؛
الیک سردارہ/ضعم وشسنء خلا مآ زادکرنے والاء عددکرنے والا مب تکرنے والا ابع داری
گر والاہ پڑڑیء 2 زاو الیء خلیف جن سے عہد و انا ہو قراہمت دار (داماو)
خلامءآ زادکردہ خلامء جس پہ اتا کیا جائے۔ علامہ این اشیرفرماتے ہی ںنکہحدیث میں
ان یس سے یش تر استعالات موجود ہیں سیاقی وسباقیسے ا کا جم تین ہوتا سے
ابع جزبہ جامم البیا نگ نکی رآ ي القرآن:ے /۱۳۸
راب مفردات الق رن مادہ وی
س٣ این اشیرء النبایۃ فی خریب الد یۓے: ۲۳۱/۳
غیر مسلموں سے عدم تعلق کے احکام کا پس منظر ۲۳
ان الفاظ پرغفو رکرنے ے معلوم ہوت ےک اسلام ے اعداء دی ےن
تلق ری اورکھیں انا : بنا درد سریرست اور بددگار بنااۓے سے کیا ے۔ دن چاتا
ایل کے ان وانے مان سے بڑے رہیں ۔ جو لوک ا نکی جمڑ کے میں گے
ہو ہیں ان سے وو قرب ہوتے لے جاتیں, یں اپنا لی اور خی رخواہ تو رک ریہ
انا سےگزن و او ررش دارو نکی طرح ان کےےتلقات ہوں+ا نک ہوردا ہی خواو
کچ ےکرخفیہ امورمملل بجی ان پرکھول دبکی۔ اسلا مکی اس ہدایت پرکوئی اعتزا نہیں
کیا جا سک اس لی ےکہ اس طرح کے تعلقات کاکوئی اخلاقی اور قانوی جوا زنٹیں ے۔
آں سے ہم ٹکر جہاں تک عام انمالی کرد تین سلویں اور ان کے دکھ درد می ںککام
آ نے کائلتی ہےہ اس سےا نآیات م ئن نی سکیا میا ے۔
موز کی تشرح
ای ذیلی شس ۳عودت سےگچھی شع کیا گیا ہے۔ (السمقن:ا) علامہ مازن کت
یں
فان قلت قد اجمعت الامة علی انه گرم یےسوا لکروکہ ام تکا ال پر ماع ے
سئیڑ تمالم و ساماتھمو وھ حور جو یو
مفاق تق اق اث الا اود مان نعلقات رٹنا جات سے فو ہہ وہکونی
٭َ ة ٥ کت کی مودت ہے جس سےئ نکیا کیا ہے؟ دہ
نیس بد اھ اف ہےکہالنا ک ےکر کے پاوجود ان کے سماتھ دبین
مناصحتھم و ارادةۃ الخیر لھم دینا ودنا کے پپہلو سے افلائ اور خر خواتی کا روہے
و دنیا مع کفرھم فاما ما سوی افقیارگیا جہاے۔ ااں کے علاوہ سرے نام
ڈلک فلا حظر فیە ب معاملات یل ان سے موالاتممنو نیل ہے_
اں کا مطلب ہہ کہ بہکوئی اخقلائی منلنٹیس ےک ہکغار سے تعاقات
گے نخازنء لباب التتاویل ٹی معائی تر ل:۱ /۷م
لانی غیر مسلموں سے عدم تعلق کے احکام کا پس منظر
ر کے جائیںہ با نہر کے جامیں۔ ان سے ہرطرع کے تعلقات ر کے جاسکتے ہیںء البت
ایک مسلمان دی سے بیکئل چا کا اوراییا روییش اخقیارک کنا جٹس سے ان کےکفرو
شٹر کک تار ہو اس لی ےک ان کے ساتھ اغلاس وج رخوات یکا تقاضا بی ےک یں راو
نی دکھائی جاۓ اور اسلا مکی صداقت ان ہوک عالی رے۔
چا نے
۲۵
کاب میں قر1آن ید آیات کے یچ سورتوں کے نام او رآیات کک زوا نے
گے ہیں۔ دوسرے ماخ کے جوالے حوائی میس ہیں۔ وہاں ان کے صقن مطائع اورسینِ طباع تک
تی لکیں د یکئی ہے۔ بیہاں موضوں کے اط سے ا لک یتیل دی چا ردی ےہ اک مرایتعت
میس سال ی ہو۔ الہت عدی کی مج نکتابوں کے جوا ل ےکتب د ابوا بک صراحت کے ساتھھ دبے گے
یں ان کے مطائع کے وک کر ےکی ضرور تی ںکھ یکئی۔
تن
آلییء شہاب الدین السی مود لبفدادیہ روح امعانی نی تیر القرآن انیم د اس الثالی,
ادارۃ الطباعتۃ اگنر یت ؛ءمصم_
ان جوزیہ اب الفرج جمال الین بد الین ب نمی بن دہ التشی البندادی؛ زاوامسر فی علم
نخیں ات الاہاگل برت:ے۲۰اوا ے۰ ء
اہ نکشرہ ابوالفد اء تماد الد بن سیل خی القرآن اتظی مع مصطفیٰ رمع ۵۷ ٣اد
ابواسحو در بن مر ی ننصضفیٰ اہماری: ارشاد انف لسم لی زایا اککتاب اگرم.
بر حاشیاشی اک رللرازئی۔ ( دی :۸)
بخوری, ابوش ین بن مسحودالنفراء۔ معالم انقز لہ برعاشیہ نمازن (د ب2 )۷٦
ازع علاء الین می جن مھ بین ابرائیم البفد ادیء لباب التاویل فی معالی امت یلی: مطبیۃ
تق رم لعل( ۳۲۹۶ھ
رید رضایفی را الترآن گرم رھے النار) دار الناں عم ۱۳۷۵ھ
رازیءتھرالدین شھ بین عرہ مفاچع الغیب (اشفی راککی) المط ہہ العامرۃ لٹرفیۃ+م۰۸,.۶ ٣ھ
و۲
کتابیات
شش ریہ ابو اقاسم جار اود بن عرہ اکا من حا تل رشع مصطلی ابی ھی م
۹۳ء
شوکانی, مر بن علی بن مہ النقرر البائع ٹین فی الرولی والدرلیۃ میم فی ر تین رر
السلامء داراکتب العلمی ربت, ۲۱۵ ای/ ۱۹۹۳
طرری, ابو تتف مر بن جربیہ جائ الا نعن اویل کآی القرآنء لطعت بکمبرکی مصر کے ریم
نہ ۳٣۹ مکی خی طباعت دار الع رف بریتہ نان ۱۳۹۸م ۹2۸ا ء۔گن جدید:حت گور
اکر اص شر کرہ دار المعارف مع ۱۹۷۹ء ۔ نامھلل۔ ابدائی سولہجلد یں بین نظ رہیں۔
قرلی, ابوعبد ایر بن ات الانصاریء الا لاحکام القرآن: اہی مھ رپ العامء د۱۹۸ء
باوردگیء اون علی من جیب ابص ر کیہ لت ولحون رت الاوردی)تقن غرم رخس
مطالق انت ى الرہے, ۴۰۳م ۵۲ء
امام الترآن
-۳
-۵
ان الرلیء بکرم بن بد اللہ لی اماکیء ا|کام القرآن, مطبید المارةۃ ص ۱٣۳۳ھ
اص الوکر ام ب نی 27 ا ہبی :٣ص ے ٣۳ھ
مر یٹث
-۷
-٢٢
-۲٢
ان ماجہ الوب اڈ جن بزید بن بد اللہ القرزد یی مض این ماجہ
الوداوو سلیمان بن اشحث متا لین الی داد
اج بن قبل لشیانمی, او رطع قریم: امطنۃ یدنہ ص۴٣٣ ٣۰ش جدیدنشرح وشن
ات حرش اکر دار العارف مم ۸أ ۱۹۴۹ء۔ اگصمھل۔ ابقدائی یس جلدیں بین نظ رہیں-
بخاریء ال وعبد اھ بن اس ائیلء الام اح سن رن احادیث رسول الد ہچ و ایام
بای ابو عبد ایر بن اسائیل, الدب امفرومحع اشرح (فضل اوہ الصصد) امطرۃ الف و
مکی القاہر3ء ۸ك۱۳ھ
پفوی, بی نین بن مسحود الفرام شرح الن شی زہیب رااشاویش وشحیب الارنا دق اہ اتب
الاسلائ ہروت, ۲۰۳ ام/ ۱۹۸۳ء
لی ابکراحر بن نین بن علی, سفن بب یہ (این الترکانی کیاشخیصس کے ساتھ شال ہوئی
سے کہ دائرۃ الحارف لیت ء حید رآ پادونء ۱۳۵۵ھ
کتابیات ك۲
۳۔ ت نیہ الوش کی ھب نمکیہ جائ الترنذھیی۔
۳۴ حاکمء اب وعبد اڈ رجہ بن بد اہ لیس بوریء لمت رک لی ١ شسین دائرۃ العارف العمایۃء
حیر رآہاں رن ٣۱۳۳ھ
۵- وشن ء اوس نعلی بن مر بن اھ بن مبدگی الحالیء اشن ,شع الانصاری :د۰٣۳۱ھ
٢ داریہ عبد ال بن عبد الین اھر قتی رسضن الداری بختن: ادا ائزمریہ خامد أسع شھیء
دار تاب الحرلی ورمت: ے٠ ۳او ی۱۹۸ء
ے۲۔ زعلگی٠ جمال الد ین الوثرعپر 02-7 ارت ٹف احادیث الہدلیۃء دار اٹ
القار8۔
۲۸- عمبدالرزاقیء ایوس رعبدالرذاقی بین ہیام الصدوانی ,لصف تین : عبیب الین الاشھیء اننب
الاسلائی ہروت, ۲۰۳٢ ام| ۱۹۸۳ء
۹- مالک بین ال الاصیحی_ لوا
۳۰۔ مجر بن لن الخیبالی کاب الا خار مض اسلائی لاہودء ۱۹۱۱ء
مسلم بن واج شی ی السا بور انلم
٣۳۔ زماکیء الوعپد لی اص رع شیب بین عی٠ سفن الضسائی
ش وں صریث
۴۔ این رای علاءالدرین, لو لی علی اسخن بر تی (خیص) برحا شی تق (دسھےہ
+م٢۲)
۴۔ ابین ججرہ الیافط اتد بن علی بین مر الا لی جن الباری بشرح سج انغاری :مع مصسضفی ابی
گی ,بص ۰۳٣۳م/ ۲ے۱۹ء
۵۔ این دش العیدہ ابو ا فی لدبن مھ ین لی أققیرى, امام الاحَام شِح جرۃ الا ام٠ ادارۃ
ےو سس
۳٣۷ خطالیء ابوسلیمان اص ین دہ معالم إُضنء اط اعلی“ علب۳۵۱ام/ ۱۹۳۲ء
ے۳۔ زرقانی, جھ بن عبد الباقی جن لصف بن اج شہاب الدبنء شرع الزررقانی لی لموطاء المطہید
ایی ١٣٣ھ
۸۔ شوکالیء شر بن لی بن دہ نیل الا وطارشرح شض الاخٰالء ازارۃ راع آمنیر مع ۴۴٣ھ
۹١۔ کی 1 نی عون امووشرں سن ای راؤَ دیع انصاری دللء ۳٣۱۳ھ
۲۰۸ کتابیات
٭١۔ یہ بدد اللدین ای وش ھگود بین اجد عة النقاری شر 3 الطاری رمع مصضیٰ الیل کی مم
۹۲ھ ۱۹ء
ام۔۔ فف دوثہ اون نل اولہ راد نی تو الدب فدہ مطرید ااسلفی القاہرۃء ۸ے ۳<
۲ منادی: دیو بعر ااروف نیل النقزی شرب البا اصخرو در احیاء التت لحوییء ۳۵ط
۸ء
۳ فووئیءگی الدبین ابوزکر یا سی شرح مسلمء داد الریا نللتراٹ قاہرہہ ے* ۴اا ے۱۹۸ء
تہ
۳۴۔ این رشدہ ابو الوی مھ بن ام بن مجر بن اتد القرنجیء بی اد ونہلیے اص تن عق
علی م رمتیش, جم عاول اجمرعبد الودود دارالکتب التلمیتء بیروت, لبنانء ۲۱٦ اط/ ۱۹۹2ء
۵ این عابد بن ئھ این می نی عمری نعبد الحزیء رد ات ری الدر الا اآمطبید لاب۶ كع ٣۲٤۳ھ
٢۔ این قرامہ اون رعبد اللہ اج بن مھ امنقزی, مض ع یق ال رقیحق: انز رعبد ال بین عبر
کی الت ریہ الدکتز رعید الفتاج ٹر الو اکلو القاہر3 مع بعد الآیۃء ١٠١ ام/ ۱۹۹۳ء
ے۔ ایی ھن الین ابوعبد ابر بین ال یکر ا سنیلی ال شتیء احکام ال الذمۃ شش اوبراء
یسف بن اھ النکر کی و ابو اص شاکر بن نی العاروریء رمادیی نرہ الدمامء کت العریۃ
سح وی ۱۹۹2ء
۸۔ این ببیر ہہ عون الین اہم رھ نع سنلیء لصاح عن موائیاصحاں, امو
اریت الرماضصل۰ ۱۳۹۸ھ
۹- ان ہام رھ جن عبدالواعد سای ای ء القدیہ اأمط ہت اککبریی الامی ری معرء ۱۵٤۱ھ
۵۰۔- الوعبیدہ لاحم بن سلام ااہرگی ءکتتاب الاموالیء وار لگ ظا ہرء ۱٭ ۱/۱۳ ۱۹۸ء
۵۱- الو یسفہ تقوب من ابرائیم بن عیب پلکوٹی لبفد وی ءکتتاب اہ دارالمح یت بروتە لبنان
۵۲۔ انف مھ علاء الدین الدد ای شر تو الابصار برحاشیہردلمتار (دیکم ر۵ م)
۵۳۔ المدردیء ابو الہرکات اض بن ھ بین اجدہ الش رع اص خریكی اقرب السا نک الی مب الامام ما ک٠
رار العار: ۳۹۲ەم| ۲ے۱۹ء
۴ھ۔ الیٹوٹیء جلال الدرین عبدالڑگی ین ال یج انیرکیء الاشباہ والنظائرہ دارالکتب امعلمیۃ بیروت۔
۵- مرفینلیء بران الدین اوس نعلی بین ا یجکرہالہدای شرع البدایۃ (خظمرالقدوریٰ) تب خانہ
رپ دگل۳۵۸|۰ھ
کتابیات ۲۹
یرت وتارً نزو
-٦
اع الات ۶زال دی اون کی بن مد الجزریء اسد الخلی: ٹیٰ محر-ۃ اصصولبتء دارالشحب القاہرۃء
۰"'“ِا/۱۹+۰ء
ے۵۔ این ججرہ الیافظط بصر بن علی بن جج ماسقا لی الاصایت فی تسیز اصحلیتء ادارۃ لطبامۃ ےہ
القاہرةء
۸ این سسعدہ الوعبد الڈ ھ بن سعد بین نز ہریء اطبقات اھبرکیء دارصادر ببروت۔
-۵۹
این عبد البرہ ابوعمر بیسف بن عبد اللہ بن مہ القری المگگی۔الاستعاب فی اسماء الاصحاب بر
عاشیہالاصابۃ ( دی ۓل ر۵۷)۔
بن تیم ہٹس المین اود اڈ بن الیک ری الرشیء زادالعادئ ری نیر ابا ختن:
شیب الارنا وط کبد القادد الارناوۂطٌُ ریت ك۱۹۸ء
ای کشر الو الفداء ماد الدین اس اعتلہ گر ة ادو یہ تحقن: فی عپد الواحں دار حرف
پروت, ۱۴۰۳م ۱۹۸۳ء
ان ہشام وش عبد الللک, سی ال یتقن: می الدین عبد اید الکتبۃ اریت الکبرکی٠
ر۵۷ ۳او ۱۹۳۶ء
.- طبری, ابوجتفرئ بن جری مار ال وا موک تقین: مھ اوو أفضل ابرائیمء دار العارف
القارۃ لن قام۔
لقت
۳۴- ان الاشیر مھ الد بن الو اسعادات المبارک بن مھ الجزریی۔ النہلیۃ فی خرجب الد یٹ دالا-
امط ہہ اتا :٣۳۱ھ
۵- این معطفظوں و |نضخل عمال الد یی ھ می ن گرم بن منظور الاف یی امصر یہ لان الپ
-۷
وار یر وت للطبپای۔ ولنٹر ء ٣ے ٣او/ ۱۹۵۵ء
الصفہالیء ابو انقائم ا تسین بن مر بن أفضل لراغب, المفردات فی خریب القرآنء المطبی
ارت مص ۳۲۳ھ
ے٦- الجوہریء الونھ راس اتیل ماد اع مہ وصحاح الھری ٹن معرِ ۱۳۸۲ھ
فان روز بدنی: ماشہ القاموں امیا ء دا اشک بیریتہ لنانء ۱۴۱۵ط/ ۱۹۹۵ء
۳٣ کتابیات
۹۔ وویء ا زکر یا گی الدین گا بی شرف ء تیب ا(ااء واللقات ادارة الطہاء ریخ ص
ہے-۱؟ لیا ۔ وار ِفکمص_
ادابپ
اے۔ اع عبد رب؛ الع رات بن ھ بلئ بد رہہ الائ ی٠ العقر الفریر مطہود جن اتالیف والترع
لنٹ ۳۸۸ام/ ۱۹۷۸ء
۳۰۱
اسارے
آڈاز کاب ب میں کور صرف مس تحفیا ت کا ہے اس ش خی لم تحفیا ت کا ذکرہیں
ے و ام میا کان یں نشار یش آئ رین ضمون کے سیا وسبای سے اکن
-٦
ے۔
۸۔-
ای کیک ے۔
(الف)
آلوی: (ۓ۱٢۱-٭ے۲٤جھ) شہاب المدی نگھود بی پر اللّر یی البفد اوئی ش۱ حرث, ااب۔
آ پک تعددتصائیف ہیںء جن یں سب سے زیادو شر نی روخ العا یکو حال ہوگی-
ابرائیم ین پچ : مار رقبطیہ سےآں ححخرت پچ کے صاحب زارے۔ستہ ۸ھ ٹل ولاوت ہی
اور اٹھارہ او بعد وفات ھائی۔
این ای عدرڈ: (م ےئ ) ای رول۔ نا مکہر اللہ -
ان ال شِب: (۲۳۵-۱۵۹ھ) الک رمبد اللہ بن شر بن الی شی ای الکوٹ۔ حافظو عدی۔آ
کی تحددحلیذات یں جن ین مین 1 الاعادیۓ والآار بہت شور ہوئی۔
این ای ھی ١۱۴۸ھ ) شر بن عبد لن یی ای لی ییار ین ہلال الانضاری بونج تی
اریہ نو امی اور بنوعپاس کے دور یں ۳“ سالیج ککوفہ کے تقاصی رہے۔
ان الاخیر: ( ۹۰۹-۵۳۳“ ) الو السحادات مد الد بن السبارک بن مہ الجزریی۔ مؤسل کے پاشتوہ۔
قرانء حدیثہ فقہ اوھ کے زبروست عم ۔ عدیث تل جا ااصول 1 اعادیث ال اور
لخات عدیث مال ہی نغرب ار یۓ دالاث آ آ پکی مور تصایف ہے۔
ان الائ: (۵۵۵ ۷۳۳ھ) عز الین الو ان می مور موررغ۔ الال نی التارح“ اور اسرالقل
پی محرفۃ اصحلبت ءآی پک اہم تصانیف ہیں۔
ان بطال: (م۴۴۹-) اد ان علی بن خلف بین بد الیک القرٹھی۔ مہو محرث ۔آپ ےھ
با کی شر تصنی کی ے۔
آززت
×طات
”بات
-۵
-۲۰
اشاریه شخصیات
ان جرت: (م ۱۵۰ھ ) عبد الیک بین عبدالعزیز بین جری لی ۔مشبورفتہ جا بی
ان الجوزگی: (۵۰۸-ے۵۹م) ابو ارح خر اتی بن لی بن حم القرتی البفعد ادگی۔ اتئے عبد یل
جار ایر حدبیث کے لام لف علوم می ںآ پک تقر با تین س دکنائیں ہیںء جن میں زاد مسر کی
2 فی میس ائیٹس کاب ااضعفاء ولمترولین, نہ الاین النواظر نی علم الوجوہ واتظا2ٌ اور
ا وضوعات فی الاحادیث الرفوعا تکوشبرت حال ہوئی_
اگى حبان: (م ۳۵۴ھ) ابوحاتم ر ین ان صتی۔ بجعان کے باشندہ۔ فقہ عریثہ طب اور
یم کے عالم۔ نر اب ء التار َء روضت لتقلاء وخزبیۃ الفضرا ءا نکی مشبورتصانف ہیں-
این جمر: (سےے-۸۵۲") الیافظط ار ین لی بن ج رأقوا لی ۔مصر کے پاشندو۔ حدبیث اورعلوم
حدیث میں سن دکی حیثیت رکھتے تھے مارںخاورفق ش انی می بھی شب تتھی۔ ۵۰ا سے زائ در تصائیف
ہیںء جن میس چن الباری شب 7 انخاریی اودالاصاب ٹثٰتیز اصحب کو بڑی شبرت حا بولی-
این ھزم: (۵۷۳۸۴-) ابو مجر لی بین ا بین سعید بن زم مظاہریی۔ انس کے مشہور
صاحب رہب فقہ۔ ملف علوم میں یہر سی تسائیف ہیں, جن می أفصل نی مکل والاہواء
واقحل,ألی, جواٹع لیر اور الا ام پٰ اصول الا ہکا شر ت دی ہیں۔
این خویز منداد اگی: (م ۳۹۰ھ ) عراقی کے می فقیہ۔ ا نکی تصائیف مم سکاب ٹی اصول الفقہ
اور انختیارات ل الف قائٹل ذکریں۔
این تق العید: (۵ ٢-٦٣ ےھ )اا ات تی الین مھ بین لی ین وہب مین مع لتشیرىی۔ بجر
فقہ۔مصرمیں منصبِ قضاء پر فال7 رے۔ عدیثٹ وفقہ وغیرہ میں متعدد تصایف ہیں جن ش
احکام الاحکام اور الالمام باحادیث الاعکام ایت رصن ہیں
ابع رشر (م۱۱۹۸ء) ابوالولیرشھ بن اھ بن ئ بن اد۔ انس کےمش بورغ فی اورطبیب۔ فقہ
میس بد انید ففہمیں ققافت توافت اورطب م سکاب الکلیا تکوخی جم وی شہرت ٹی۔-
این زید: تالھی نام مج حفرت عبد الد جن عم کے لوتےء امام امش کے استاد
ان سعر: (۱۹۸-٭ )-۲٣ الوعبد الڈ بن سعد بن مض الزہری۔ مع رمور اور حافظ عدمث-
واننرک یی حبت ٹم ر ےک وجہ کاپ وانزی کے لپ سے شور ہوے۔7 پل اتاپ
بات ابر شور ے۔
ایع سب رین:(م+۱۱ھ) اکر بن سی ین لب ری الانصساری ۔ "یل القدرجالھی رت اس :2
مالک کے1 زاوگردہ غاام ۔ححضرت 1 ای نگمراور الو ہرگ نرہ ے اعادیث رداع تک گیں۔
ایی شر: (م ۱۳۳ھ ) عبر اللہ بن شر من اطفیل کرٹ القاضی ۔ فقی اہ لکوفہ ابچی ۔حطرت
انس بین مالک سے دوایت حدی کی۔ مغیان فرکء سفیان بن عی/ٗ شع “او رعبد الڈر بن الباَل
اشاریه شخصیات ۳
-۲۳
-۳
-۵
۷-۔
۔٢۲ع۰
-۲۸
ویر نے ان سے زوابی تک ے۔
این عابدین: (۱۲۵۲-۱۹۸-) حم اشن بین عمر من عبد اتی عابدرینی الشتی۔ فتغام, اپنے
وت میں ف تی کے امام فقہ وقماوئیء اصولء بلاخت,فراض او ری می ںآ پکی محددتصائیف
ہیں۔ درمتار ہآپ کے عاشیزردائتا کو خی رسمولی شب ت کٹی۔
این عبد البر: (۳۷۸- ۴۷۳“ ) اموعربیسف مین عبد اید بن جم بن عبد الہ را اخری القرٹی ال گی۔
تیم حافظ حعدیثہ مورغ ادیب۔ فقہ ترائمء یرت :عم قرات اور اناپ ویر 7 پل بہت
کی تصاخف ہیںء جن میں الددد ٹپ انار المغازیی دلسیر ہ الاستیعاب ٹم فۃ الامسحاب. جا
بیانا الم وفضلہاہمی ت کسی ئیں۔
ایع بد رپ: )-٣۲۸-۲۳( ا وعمررات بن مج بن عمبد ریہ اماندیی۔ قرطبہ کےمشہور ادیپ اور
شاع رآ پکیتصفیف العقد الفریدع لی اد بک مشمبورتری نکایں بیس سے ہے۔
ان عدگی: (ۓےے 2٤۹۵-۲ ) الد ام رکبز الله :لئ عدگ .کن کبد الد بن ٹر :لن مبارگ جن التطان
ار جانی۔ حدریث اود اساء الررجال میں ماہرتے۔ اف ن می سآ پک متحددتصائیف ہیں :جن میں
00 مرف ااضعفاء وأھتر ومن الرواۃ اویل الیریث شہور ہژں_
این اھر ام کی: (۵۳۳-۲۷۸۔) ااو رم بن عبد ال بن السعاف یی الاشیلی ال اگی- حافظ عدیثء
اشیلیہمبش منصب فضا پر فائز رہے۔ حدیثہ فقہ اصول یرہ اوب اورجا رق بہت یتال
تی سکیس جن میں الع وع من القو ایم احکام النقرآنء عارضۃ الاح ذئی فی شرع الترغری ام ہیں۔
ان عیینز: (ے۱۹۸-۱۰ن) الوشھ سغیان بن عیین بین میمون الہلا ھی الوٹی ۔ تابیء امام زہری کے
اگکرد۔ امش ثوری شب شال اور اھ وشیرہ ےآپ سے دوایت عدی ٹک ے۔
این ثرامے: (۱ ۰-۵۳ ٣٦ھ) الوش می الد یع عبد اش بن ات جن مج بن فعرامہہ مور : نت-
حریث, فقہ و اصول فقہہ اصصول دینء لقت اور انساب دشیبرہ بیس بب تکی تصائیف ہیں ء جن مش
خی :تع , لعمد 7 اورالان یکو بہت شبرت عاصل ے۔
این قیم الو : (۹۱٦-اے۵-) الو عبد الد بن ای بجر جن ایب من سعد الزری نٹ۔ این
تبیہ کےمشپور شاگروںمحخلف اسلائی علوم میں تقائل در اود اہم تصائیف آر پکا یادگار ہیں۔ ان
زادالعادث بر خرالاه اعلام وین ء امام الل الذمۃءدارت 7- امیان نی اقام
رن اور ہیاک نی لردی الیہود واتصارکی بہت ایت تی ہیں۔
ای نکر (ا+ے۔ ٤ےے-) تماد الد ٗی او الد اء اسائیل بین عمرم نکش الم ش فی حافظ عدمٹ٠
مورخغء فق مغ الب ددیت والت لی ہتفر القرآن اتفیمء جامح المسانیدہ اختقمارعلوم اللدی ٹآ پکگا
انم اور شپورتصائیف ہیی
- اگی: (م۷٤جھ) ابو أنفر بن سنابنیٹ جن اق مك ام العرب اور انساب کے عالم
۳٣۴۴ اشاریه شخصیات
۴د
-۳۹
-۔٢۲۰
-۱١
7٭7ت۔
۴۳۔-
تے۔ ردایت عدیث مل ضیف بے جات تے۔
این ماجر: (۰۹ ۲- ۱ے ۲-ھ) الوحبد اش بن ببزید شور محرث ۔آ پک کاب سطن ائلن ماج ہکا
شمارسحاب ست مل ہوتا ے۔
این منذر: ( ۲۴۴۔۱۹٤“ ) ابوبگ رم بن ابرائیم جن المنز ر الغیسابوریی۔ فدہ حافیا عدبیث۔
تیر حدیث اور فقہ یل متعددکزائ ںتعز فلیں_
ین لور ١( ۱-۹۳اےث) ابو أفضل جال الد بن ھ بی نکرم بن لی الافصاری ال فی الافریٰ-
مشبور ماہرلغت۔حخلف علوم وفون بی بب تکیکمابوں کے اختصارپے تیار سے ۔آ پک یتعنیف
لمان العر بکوخائ شبرت عاصل ہوئی-
- 72 : (٭ ۷۴-- ۹۸۳ھ ) ناص رالد بین اد بن عم الاسکندررگی ال گی آ پکا ار انکندریہ کے
علاء و ادہاء یل شار ہہوتا ہے۔ منصبِ فقضا بر فان ہے۔ الانصاف فیا تفم اللتاف لن الاکتزال
کے نام ےکحاف پآ پکا ماش علی علتوں یں شہرت رکتا رع
ابی وہب: (۱۳۵-ے۱۹ھ) الوشجھعپر الل بن وہپ بن سم برہی۔ می فقے ہمد حائظ
حدریث-حدےث اورفقہ میں تعر رای ںتھز یلیں_
ای دہبا نف : (م ۹۸ >-) اشن اللدینع عبد الدہاب مین اھ من دہبان الا اف ار
ادیبہ قاشی۔آ پکی متحددتصایف یں۔
این مبیرہ: (م۰٦۵ھ) عون الد یی ابو انظفر گی بن می پیل ی فت_ الافصاع ئن معالیٰ ااصحاب
آ پک مبورتصنیف ے۔
این ہشام: (م ۳٣۱٣-ھ) الوش ھعبد ملک مین جشام جن ایب ری العافری۔ موررغ۔ لقتِ اخپار
رپ اودالسابپ کے عالم ہیں۔آ پکی متعددتصائیف ہیں,ءشن میں الس رة الضوی کو (سیرت این
ہشام کے نام سے) غمی سم ول شب تی۔ ۱
این امام: (۹۰ے-۸۹۱-) کمال الدین مج بن عبد الواحد بن عبد امیر بن مسحود۔ ذ تہ جخی کے
مضبو ردام متلف علوم وفنون کے ماہر۔ فقہ مل ہای٦ش 2 القر اور اصول فقہ یں اق یآپ
کی مشبورتصایف ہیں۔
الدامامہالباطی:(م۸۷-) صا رسول-
ااوبکرصد یق (م٣م) ول 7 کے پار یّارء غلیق/اولء نا م ید ال تھا_ دال کا نام عخَان اور
کنیت الوقاذتی-
ابو شش :(م ۵ے ) صحالی سول۔ نام جرہم بین ناشب_:یعتہ رضسوان میں شیک سے
ابوٹور (م۰٣٣ھ) ارائیم بی مال جن ای الیمان ھی لبفد ادئی۔ فز غالق 22 نقل
اشاریه ش خ شخصیات ۳۰۰۵
--+
اورورغ دفو کے بلندمرجے پر فائز تھے تمددکائیں :ای فگیں_
ااوجضدل(م۱۸ھ) ن کل مین عمردالفرٹی العامرکی۔ صحلی رسولء خلافت فاروقی ٹم ونات ہوئی-
الوڈم نی دن العددیالشری۔ام عام تھا سحالی ورلطزریمی دک وزظلذ تل نات لد
وفع پمیک ىی: (م ۳۹ ھ) علماۓ حتابلہ می ے تہ عبد اللہ بن ات :نیل سے عحدیی ٹکیا روای تگا-
الوقیر الماعد: صحالی رسولءحضرت معا وی وو رخلافت مل وفات ل۔
ااوعذیزہ: (۱۵۰-۸۰ح) نعمان بن خابت۔ فق نی کے بالیء امہ ارہعہ یس سے ہیں۔حماد جن ای
سلیمانء عطا ین ای رہائ ھ بن الد رہ نان اور ہشام بن عردہ وغیبرہ ےم عائ لکیا۔کد اللد
بن مارک وق اضی ابو یسف اوراما مجر ونبرہ ن ےآپ تاکن ب انل گیا۔
ابو الاب (۵۱۰-۴۳۲-) مفوظ بن احج اشن الو اتی لبخدادیی۔ اپ عہد میں فۃ لی کے
امام تھے فقہ وف اض می کہ پکی تحددتصانیف ہیں-
الوداوو: (٢٢۵-۲٤٤ھ) سلیمان بن الاشدتث۔ مشبور محرثہ آ پ کی تاب سط ن ال دا وکا
صحابج ستہ میں شار ہوا ے۔
او اللدردائ: (م ٣٤ھ ) صعالی رسولہ انصار کے فیرح ا
اوذرخغفار: ٣( ۳ع ) مضبورصیالی رسول۔عباات وزہر یل ضشپور تھے_
الو سو ر(۹۸۲-۸۹۸نھ) مر بن مر بن صطفی اہمادگی۔ تکی کے الم مفسراورشائر۔ فتضاء کے
منصب پر فا رہے۔عریء ناری ار ری میں انفتاءکا جواب رت تے۔ ارشاد ا ڈ ال
میا اکتاب اریم آ پک مشبو فی رہے۔
الوسعید خدر: (م ے2“ ) نام سعد جن مالک الانصاری۔ حا ی ول
فیا بن جرب اموئی: (م ٣٤ھ ) صعالی سو ۔اشراف ق رین میں سے تے۔
الوصا: ابی ام المونشن رت جوبیبہ بنت الفارٹ کے آزادکردہ غلامء نضرت ابو ری اور
حخرت الوسعیڈ سے ردایت عدی ٹکی۔ مل الات
او العالیہ: (م۹۰ھ) نام رٹ بن مبران۔ تی ضرت عمربن الاب اور حضرت الی بی نعب
ے اعادیٹ روا ٹک ہیں۔
او حبیر: (ے۱۵- ٣٣٤ج“ ) القائم جن سلام اابردکی امازدئی۔ حدریثہ فقہ اود اب کے بڑے عا لم
منصب قضا پر فات: رے۔ نحریب الف ران تراء تہ حدیث اور دنر موشومات بر تعدراصایف
ہیںءشن می سکاب الاموالء الخرجب ا مصف او راب الامشالمشہور ہژں_
الوحبیدرہ بن الجراغًٌ: (م۱۸ھ) صصحالی رسول .شر مجشرہ میس سے حے۔
انز (م۱۰۷ھ) لاق بن حمید مد دکی۔ تا ھی ء رات صحابہ: این حر این عائء ال او موی
لان
-۳
-۳
-۷۸۷
-۵
-۸
اشاریه شخصیات
اشعر یع ویرہ سے سامح تکی۔ ابکن سی رنہ ایی ب خختقانی اورقادہ وغبرہ کے استاد تے_
ابو موی اشعری: (م ۵۲ھ ) صحالی سول٠ نام مب اللھب نتیں۔
ابو میسرہ: د بے عرد بن ش رہل :
وٹیم ۰-۳۳٣٣( ۴۳ھ ) اص بین عبد اللہ الاصفبانی۔ مشا عدیث مل سے تھ۔ آ پکا
تنعل الاولیاء' پور ے۔
ابو وائل: دیھتےشقؾ من ایس
ال ہریڈ (مے۵ھ) حا ی ہرل- سیل اشن کی اعادبیث محابگرام مل سب ے زیادہ
ابو شتایع: (۰ ۵۸-۳۸ ۴-“) تج بن سن بن مج بن خلف این الفرا لی تہ بفدادیٹش اپ
عہر کے بڑڈے یا م_ نصب تا 207 رہے۔ محخاف علم وقون میں مہارت رکھیت تے فو
اصول فقہ اورپ اورطپب ویر میں متعددنصاف ہیں جن ُء الاحکام ااسلطاعیۃ اور اللفای لق
اصول لف ہکوشبرت حا ہوئی-
او یسف: ( ۱۸۳-۱۳ ) تقوب بین ابا میم بن حبیب الکوٹی البفقد ادی۔ امام ابوحفیفہ کے شاگرد
رید فقہہ حافط عدیے۔ طو بل عر ےکک إقرار کے ماضی رے۔ سب سے پا اصول قش نے
موضسوغ پ رکا مکیا۔ آ پک متحدتصائیف ہیں ہ جن م سکاب الخراع او رکتاب الآخار .بہت
مشبوراوراہم ہیں۔
ات الارردرے ۱۱۳-ا٭ ۱۴ھ ) ابو الات اتد بن عم بن امھ العدوکی۔ مع رکےمشہور مکی فقیہہ ازہر
میم ال٠ اقرب الس ان کلمذہب الام مالک اود قد یآ پک مشبو رکنائیں ہیں۔
اج بن تکبل: )-٣۱-۱۹۴( ابوعبد اللہ اصر بن مر بن ت٘بل ایا ی ااواگی۔ ف لی کے پالی٠
ائنہ ارتعہ می سے ہیں۔ گی مین سعیں سغیان من عیرد اود امام شانتی یرہ سےعلم حا لکیا۔
اریم سکمء ابو رح اور ابو داد وبرہ کے استاد-
اح مھ خکر: (۳۰۹اےے ۱۳ح ) معری ناد عالم۔ صند اح دکی شرع اوزتفمیر ای نکی کی نخییص
کی۔تحددعراقع اورامبا تک بک تی کی۔
اذینہ العبدری: تالحیء تا کے زہانے میں بصرہ کے تاضی تھے حضرتت عم ےنت احادیٹ
رواٹ کی ٹیں۔ الع سے انا کے بے عبد انی نے روایت ے۔
اروی نت ربیجنءن اارٹ : نکر امطلب : حابی رسول-
ازہرسی (٢۸٣-۔ہے ۳ھ ) ابو مصو رھ بن ام جن الاز ہرالہردگی۔لخت و ادب کے امام۔ نراسان
کے پاشندہ فقہ می بھی ہار ت تھی ۔ تیب الاو خیب الالفاظط القی مع ملا افقباءٗ آپ
اشاریه شخصیات ص77۲
کی مضوو رکماہیں ہیں
ے۔ اسامہ بن زیڈ (م ۵۳-ھ) رسول الل یچ کے1 زادکردہ غلامء حضرت زید بن عار کے بے اور
۲ ۱
ھے۔ اسحاق من راہوے: (۱١۲۸-۱ھ) الو تقوب احاتی مین ابرائم بن مد نل ھی مشہور
تالحی۔حدیث اورفقہ کے چائحع لب _لم می خلل ف مان ککا سفرکیاء چلرنیسا رٹ اقامت انقیار
کی۔ اج ہفارگی سکم نکی نسائی لود در محدشین ن ےآپ سے دوانت کی ہیں۔
ے۔ اسحاقی ین عبد اللہ بن حارث: (م۳۲٢-) الانصارگی۔ م ینہ کے فققہ تالگیء امام مانک کے استاد-
نام مالک ان سے زیادک کو ای تین دتۓے جے۔
۵ے۔ اساء بنت ال رذ (م ےھ ) فرت اب ومرصدلِ کی بڑگی صاحب زاوئیء حضرت عبد ال بی
زی والرہہ ذات اتطا نآ پکا لب ھا۔
٢ے ا ئیل بن اسحاقی: (۲۰۰- ۲۸۲ھ ) بین اس اتل ۳۲م+02( الازدیی۔ گی خٍ_ إقراد
و اکن غیرہ کے تاضی رہے۔ فقہ یو سآ پکی متعددتصایف ہیںء جن میں الموطاء احکام القرآنء
و اہ الا صاع پالقرآن (دوجلدریں ) اورشواہرالموطا ۱١( جلد یں ) شبرت کعتی ہیں۔
ےے۔ ا اتیل بن مر: (م ۱۳٣ ) جالقی,مشبورصھالی رسول حضرت سعد بن وقاض کے ہیوت ء حضرت
ا رایت سی فک ناف اقاء ورگ چوتھے ثبق میں ہوتا ہے۔سفیان جن عیب
ابع جرتک ایک اور ز رک ونبرہ نے النع سے ردای تکی ے۔
۸ءے- اشہب: (۵ )“-٤۰۷ ۱٢ ا وعمرد بن عبد العزیز نع داو زگ العامری ابری۔ ای نیہ اپنے
عہدد کے زبروصت عالم دین۔مصرسے پاشترہ_
۹ے۔ ام پا (م مابعد ٣ ۳ھ ) اہی رسول+ححفرتہلی جن الی الب ےکی جین۔
۰۶ ۔ امیمہ بت اش صحاہی ول٤ انصار کے فبیلہ ایل ےۓنعلقی تو رحضرت "ہل ینعی فک زوج-
۸- اس بن مائلن:(م۹۱ھ)الانصاری۔ نماد رسول پچ قیل خزرح تلق تاد
۸۴ ۔ زوزائی: (۱۵۸-۸۸ھ) ابوعردعبد لن بین عرد بن سحمدہ شام کےمشمپورفقہ عہدر٤ قضا کیا نی
کروی اد ام بد کی بکا شاف یں۔
رب
۳ بخاری: (۲۵۷-۱۹۴-ھ) ا وعبد الیل مم بن اسمائیلی۔ مشورمحرث۔آ پک کاب الائ 7 7
صحار ست یں شر ہونا ہے۔ ام تک اکثریت نے اسے ائ کتاب بع دکتاب الل (قرآن کے
بعد زی نکتاب )کہا ے۔
۳۲۴۰۸
۳۴كنہ۸-
-۵
-ہ٦
ۓے۸۔-
-۸
-۹
اشاریه شخصیات
ات ورقاء ای٠ عحالی رسول 1ع نو ی مل وذات ای جے۔
ریگ (م ٤٤ھ) من احثصیب الالھیء حا ی رسولء غزوةٴ بدر سے نل اسلام قو لکیا۔ ہیعتِ
رضوان بیں شیک تے-۔
بزار: (م ۲۹۲ھ ) الوکر اتد بن عمرد بن عبد الال لصرہ کےمشہورمحرت۔ حدییث لآ پک
جالیف مد ہزارشہور ے۔
بش رین براٹ: (مے“) صعھالی رسولء انصار کے فبی رح ےتعلق تھا۔ بیعت عق اور بزر و مر
یکن ریف رے۔غزوة تیر سےموح پرونات ال۔
بفوئی: (م۱۷دم) الوش اسان بن مسحودالفراء۔ فقہ و عدیث کے امام ۔آ پکی تصائیف میں عدیٹ
سکتاب الصاع اورشرح الٹء فقہ سکاب لیذ جب اورنیرمیں معالم انز لی شبر تکڑتی ہیں۔
بلاذریی: (م2۹ ٣ھ ) ات بن کی بن جابر جن داد الد اوگی۔ مودرخء جخرافیہدالہ ماہرانساب۔
فو الہلدان اور انماپ الاٹرا فآ پک مہو رکناہیں یپ
بلال بن رباج: (م٣٤ھ) حخرت الو کے آ زادکردہ لام موذان رسول پچ ححضرت عڑ نے
یس سید بلا لکہا ے۔
نی : )“-٤۵۸-۳۸۴( اب ومکر اص بن صسین۔ عدیث کے ام۔ ان اکھبرٹی آ پکی مشہور
تالیف بط
(ت)
ترنری: (۹٢۹-۲۰ے ۲ھ ) الوسئی مر ب نکی ۔ شور حرث ہآ پکیکتاب جائع الترندی کا غار
صا تل متا ے۔
تیم دار: صحالی رسول۔ پیل حیسائی تھے سنہ ۹ ھ میں اسلام قو لکیا۔
37
ا(ٹثٹ)
امہ بن أُخال: صھالپی رعولء بیمامہ کے سردار-
ری: (ے۱۷۱-۹-) ابوعبد الد مفیان بین سعید بین مرو قکوفہ کے مشبور جا بگی_ حربیث اور فقہ
کے جائع۔ امام مالک اوزاگیء این جع سفیان بن عیدنہہعھ اورشعبہ وفبرہ نے آپ ے ردامتِ
عدمٹکا ہے۔
ٹم بن الی فاضن: رت ام پالی بت الا الاب کےآ زادکردہ غلام۔ وشن نے اہی ضیف
اورمتروک تار دیا ے۔
اشاریه شخصیات 80
(ج(
ے۹- جار بن عبد اید الانصارگی: (م ٤ےھ ) صحالی رسوگی۔ تام غمزودات یں رت تگا۔
۸- چارود بن ا 2 الجری (بث م: گرو) سن ۹ھ ڈُل وڈ رگہر ا ان کے ساتجھھ خدمت نبویی میں حاضر
وک اسلام قبو لکیا۔ ٣ھ یل خلافتِ فاردثی مجش شبید ہو ۓ-
۹ جاص:( ٣۰٣٠م ) الک ا ہا علی الرازی۔ رےکےمشہو تی فقہہ بداد می قام رہا۔ عہد؟
تنا ٹل کیاگیاہگر ار ے قبو لک سکیا ۔آ پک یکتابوں میس احکام القرآ نکو خائصس شبرت عاص٥ل ہے۔
٥ جو ہری: (م ۹۳٤-ھ) ابو فص راس ائیل بین حماد۔مشبور ماہرلخت۔ اصحاح آ پکی مشورتھنیف ے_
8
٭۱۔ عارث من ال ربیجہ: رت عبد الد بن الا رہز وٹ کے صاحب زادےہ تا ہی ء رت عپر
الد بن ز ہیر نے بعر ہکا عائل بنایا تھا
۲ عازئی: (۵۸۴-۵۳۸) اک رم بن موی بن عخثان بن حازم ۔مشہورحرث۔ لقداد ٹس وفات پالی-
حریث و اصول عدریث ث اور الاب پآ پکی متعددتصایف یں ون میں حریث میں الاختپار ٹی
بان النا وامضسورخ من الخار اود اصول حدبیث میں شروط الائمت امس شبرتکتی ہیں۔
٣ عاطب مجن ای بلعڑ: (م ٭ ٤ھ ) ہدرک حا ی-
٣۴ اکم (۱ ۵١۲ ٭ ۴ھ ) ابوعبد رھ بن بد ال بن قدودیہب ]یم النیسا بوریی۔ حافظ حديیثہ قاشی
نیسااور۔ حربیثہ اصمولی حدییث اور اساء اارجال کے ماہر۔ المستر رک گی الصحیحین, الہنل اور
مع ۃ اصول ایی ٹآ پک مشجو رکتنائیں ہیں_
۵۔ ضذافٹے رن الیمان: (م ۳۵ھ ) حا ی ول ہں حفرت جک کے رازدار_ دورفانی ےمتتعلقی ہوں
حر کی بش نگووں سے سب سے (یادہ وائف سے_
٢۔ ان بن شاب : (م ۵۳ھ ) شاعرسول٠ افصار کے فی نخزرج ےعلق ھا۔
ے۔ وخ بن عی: (٣۹-۳٤-ھ) رسول اش ہک کے نواسے۔ حضرت می بین ابی طالب کے پڑے
صاحب زارے۔
۸-۔ مین بھری: (۰-۴٤ھ) ایوسخیراشن ٦ بارلمری تل انقددجاىیم 7 اورزہر و ور ٹل
امام وت ۔حضرت ابو موی اشع رق اس بن مالک این عیاک وغیرہ سے اعادیث روای تک ہیں-۔
۹- نین بن علی: (٣٠-٠٦ھ) رسول الم کک کے نوا ححضرت لی 0:1 ال طاب کے بچھوے
صابزارے۔
۳۴۱
٭اا-
-٢
-۳
-۳
-۵
-٦
ےاا۔-
-۸
-۹
-١
-۔٢١۱
-٣
اشاریه شخصیات
رع)
نمازن: (۸ے۹-ا ٣ے“ ) علاء الین می بن مھ بن ایرائیم ٹھی۔شام کے لی فتہ تو فک بھی
ذوق اور تما ن تھا-آآپ کاتیربب اتناویل نی معانی لربل فی غازن کے نام سے شور ے۔
خمالد بین سیر بن العاع: (م ۱۳ ) صھالی رسولیء ریم الاسلامء ہاج رعش رسول ادڈد یچ کےکاب۔
خامد بن عبد ا تس ری: (۷٦-۱۲۷ی) عرب کےمشہورخطیب اور شسوار۔ امو غلیقہ ویر ہ نکپر
الیک نک کا دای مقر کیا تھا۔ پچھر ہشام نےکوفہ و بصرہ کا دای بنایا ۔آخر میں ان پر زن دق کا
رام لہ ج سک ہنا بر ٹین یکر دیاگیا۔
خاللد بن مماجر: جالگیءحرت خالد بین ولیک ہرتے۔حفرت ابع حا اود ای ن گر سے رواہتِ
حدی گا این شہاب ذ برق نے ان سے روای تک رکا
خاللد بین ولیڈ: (م۱٣-ھ) صحالپی رسول۔کہں ححقرت نے سیف ال کا قب مرجمت فرمیا تھا
غات جن للارت نیی: (م ے -ھ) حا رسول۔ السایقون الاولون یل سے تے-_
خبیب بن اساف: الانصاری الف ری ءصمالی رسول۔خمزوء بدر کے مو تے پر اسلام قو لکیا۔حضرت
عثان کے عہرخلافت جل وفات پالی-
خرتی (م ۴٣۳م ) ابو لقاع عم رین تین بن عبد اڈ کُ,لی فقیہ بقداد کے پاشندہ۔ فقہ می آپ
کی ای ککاب فضرے, ج وق الفرتی کے نام سے شور ہے۔ ا یکیا شر علامہائکن فکرامہ نے
انی کےنام ےکی ے۔
خطالی: (م۳۸۸-) ابوسلیمان اص بن شھھ۔ فقہء عدیث اور ایپ کے امام۔ معام نہ اعلاء
ان اورخریب الیدی ٹآ پک ام تصانف ہیں۔
خلال: (م۳۱ھ) الدگر ات بن بن پارولن۔ لقداد کے اشند فی فز لئیں حریث اورالخت
بھی مہارت رکھتے تھے ۔آ پکی متعددتصائیف ہیں-
ر)
ررتی: (٭. ۳۴۸۵-۳ھ) او سن عی ین عم ین ا بن مدکی النافی- اپ عبد ٹل عدیٹ
کےامام۔عدیث اور احاءاچال ہیسآ پکی متعددتصائیف ہیں جن میں ض نمشپورے۔
دازٹی: (۲۵۵-۱۸۱ع ) الون گر اللّر بن مب اشن مشمپو یرت ۔ ایام سم اداد اور مگ اود
اتک نین کے استا فآ پک یکتاب سطن الدارل ےم سے شہورے۔
ریگئ: (م۵٤-ھ) صحالی رسولء غزدہ اعد اور بعد کے غزدات ٹیل شریک رہے۔ سنہ اھ می
کھوب نبوکی ل ےکر قیصررروم کے پا تقریف لے مے تھ۔ جرنل این لی اوقا تآ پکا
اشاریه شخصیات انس
صورت یل وی نل ےک رآ تے تھے۔
(ر)
-٣ رازی: (۵۰۴-٦۰٣ھ) او عبد ال خر الدین ھ ین عمر ین لن بن مین ھی ا ری۔
متقوزات ومنقولات کے امام کر اتصانیف۔ 1 پک فی رما الغی پ تفی یر ے نام عظ
معروف ہے۔ دن تصائیف میس الباحث الش رہ ہلت الا ییاز فی علم التجاز ہل اور تقد ین
وامتا خرن شبرت رکیتی ہیں
۳۴- راخب اصفہالی: (م ۵۰۳ھ ) ابد القائم تسین بن مھ بن مفضل اوب ولقت کے لام ۔آ پک
تصایف میں امفردات 1 خمریب لقن کے علادہ محاضرات الادہاء اور ال ریعد ای مکام الثرید
کوشرت عاصھل ے۔
۵- ریہ بن الی مبد ال ن: (م۳۷ھ) یل النقدرتابئی۔فقہاء ودنہ میں شار ہتا ہے۔حفرت اس می
مال اورخرت ساب من یز سے ساح تکیا۔ امام ورک امام مانک بن ال کے استاد تے۔
۲٢ ۔ رشمد رضا مع ریی: )“-۳٤۵۳-۱۲۸۲( مد رج النارمر چچٍ جزخبزم کے شاگرزرڈرں جرمے
اب تارںن ای ر کے عالم ۔آ پکی تصائیف مم فی رالمنارکوسب سے زیادہ شر تگی۔ ا لکا
مل جلروں شش اپ استارث غپرہ کے افادات اورنوٹش بی ی نظ ررے۔ بعر یچ پیر
ف ش رد گیا۔ بادہجلوں می ہارہ ارہ ںکاتفیرگھی مل تک رگے۔ الوی ائمد یلاہ
ذکرکی المولدالتو یی شجہات اصارگ و الاسلا مآ پکی چنداہم تصانف یں۔
ار
ے۴ زیر بن الحوا: (م۳۷") صعالی رسولی, آں حضرت لگ کے پھھی زاد بھائی۔ حضرت خد بن
ے کیئیے۔
۸- زرتالی (۱۱۲۲-۱۰۵۵ھ) الو عبد الد تر بن کپر البائی بن بیسف مین اص بین علوان ری
الا ز ہرگ الم اگی۔ محر شش اپنے عہعد کے یم محرث۔ عدیٹ اور اصولٍ عریث میں تعددنصاغف
ہیں جن میں شرع المواہب لیلد میۃ اورشر) موطا امام مالک شبرت رلصتی ہیں۔
۱۹- زفر: (۱۵۸-۱۱۰ھ) من ابمل من تی الحممری۔مشہو تن فقہ.۔ اتی بھر
۳٣ ۔ شش ری: (ے۵۳۸-۴۹ھ) ابد القاحم جار لیڈ شود بن عمربن مھ ین اد النوارزی تی رہ لقت اور
ادب کے اام۔ مخز ۔حخلف موضصوعات پر بہ کی تصایف ہیںء جن مس الکشا فعن خالی
از ملیء الخاكن فی خرجب الیدبیثہ اساس البلاقۃ براضل کوغی مو شر تٹی-
۴۰٣ اشاریه شخصیات
۳۱- زہریی (م ۱۲۲“ ) اکر بن مبد انل جن شہاب ہیل القدرجا بھی ۔ ححرثہ فقہہ متحددضحابہ سے
روالی کی ۔حضرت قادہ اورامام مالک کے اتاد
٣۔ زنٹعی: (م ۴٤۷ےن ) الو جمال الین عبد الل بن لیسف مین مرف محرث۔نصب الرلیۃ ٹف تج
احادیث ااہدایۃ آ پک مضبورتصنیف ہے رم اعادیت الشا فبھ یآ پکیتحنیف ے-
(س)
۳- سبیعہ بنت الارٹ اسکمریز: صحابی حطرت سعد بن خولےگی بیوگی-
٣۔ سد بن الی قاع : (م ۵۵ھ ) صھالی رسول کشر معشرہ یں سے تھے یمم سپرسالادى
۵۔ سح بن عباوڈ: (م ۱۵ ) شلیل القدرصحالی رسول۔ انصار کے قیلنخزرج ےک٥لق تھا۔ ان بارونقباہ
کات جےتجھیں ہول کل 9 بیعت عق کے موق پر نام زدفرمایا تھا
۷-۔ سعد بن معاڈ: (م۵ھ) عییل القدرحالیل۔ افصار کے قبیلۂ او سکی شاغ نوعب اایشمل ےعلق
تھا۔ عق کی دوفوں جیتنوں میں شیک سے
ے۳ مسعید بن یر (م۹۵ھ) پل القدر جا لی ۔ حفرات صا الومسحوء ایی شیا ء این گر این
اا۸ عتامعرتت ان
۸۔ سعی بن العاش: (م۵۹ھ) صحالی رسوگی۔ بی سالار خر ت ان ن ےگوزن مقر رف مایا تھا
۳۹- سعیر بین مسب : (م ےھ) صحالی رسول٠ بت رضوان بی شیک تے_
٭۰۔ سلمماع انفاری: (م ۵ھ ) صعالی سول۔
۳۱- لم بن اکوں: (م مے“) سحا ی سوہ بیعت رضوان بیس شریک تے-۔
۲- سلمان اایمم: (۱۴۸-۹۰ھ) الو شس مان جن مبران الاسدگی۔ ابی ۔ عم حد یت قرآت اور
فافش کے ماہر۔ ہنوکائل کےآ زا دکردہ لام ۔کوفہ یل قیام رہ
۳- ملسمان بن مس وی: (م۱۹ھ) او اق رین بالاشدقءغشام کے شورف
۳۴- سلیمان بن ییار: ( ۴س ے۱۰“ ) ابو ایب تالتیء ام الموشن حضرت میموں کے آ زا دکردہ خلام×
مدیعہ کے فا سبعہ ٹل ال کا شر ہوتا ے۔
۵۔ کل بن حدیں: (م۳۸ھ) صعالی ولیہ انصا رکے قبیلایں ےتک تھا۔ تام غخزدات یں
شیک رے۔ ۱
۷ -۔ ستتیل م نع حر 2م ۱۳ھ ) صحا ی سولء ہے مکہ کے موق باعل قو لکیا۔
ے۴ ۔ کی: (۵۸۱-۵۰۸-ھ) عبد لی بن عبد اد بن ام القشحسی۔ حافظاء لت اود یی ر کے انام۔
یرت ابن جشا مکی آ پکی شر الرپ الان کو بہت مقبولیت عاصل ہوئی-
اشاریه شخصیات سے
۸ سی ربیع: ماد قعل یگ مجن۔حضرت حسان جن شاب کے پا رہیں-
۹ سییڑگی: (۹۱۳-۸۴۹ھ) جال الدین مبد ان بن ال یج بن مھ ین سالق الین خی ۔مفسر محرثء
موررعخء اجب ملف علوم می تقر یج سے کناڈیں جالی ےی :تن میں الدرامفو رن ایم پاممائوں
الاتقان ثیٰ علوم ال رآ ن فی رجلالنء الاشباہ والاءٌ اور لا لی اصوں۔ کی الاحادیث ام ضوع" ش پور میں -
ھ
(صس)
۰- شلق,: (۱۵۰- ۲۰۳-“) الوعبد ایل شھ مین اور ااباٹھی۔ فق شافق ے ی٠ اق ار نت
تے۔ فقہ تاب الامء اصصولی فقہ میس الرسالنۃ اور عد یٹ میس المسع رآ پکی اب مکمائیں ہیں-
۵۱- شر : (م[2۸ھ) جن اھارثٹ نقیس بین ایہم اککندیی۔ عہد اول کےمشبورتاشی۔ خلافت فاروثی
سے خلافت معاور یت ککوفہ کے قاضی رہے۔ حدیت مس نہ تے۔ دب وشع رم بھی مہارتتھی۔
۵۴۔ شعی: (۱۹- ۱۰۳ھ ) او عمرد عاھر بن شر شرشیل بن عبد زی بہار شی ای یتیل القددجالی۔
تقرم 2 صوعابہ سےآ پکوشرف ماقات عاگل ہے۔کوفہ کےمشپور اصوا عم وففل نع
آ پکاشار ہ×ڑاے۔
۵۳ شقق من الی سلہ: (م۹۹ھ) جالنی۔ می مک کا زان پیا نین شرف حابیت سے ببرہ ور تہ
ہو کے نت عمرجن النطاب اور مضرت عبد اش بن مسموڈوغیبرہ سے احادیث ددای تک ہیں-
۴- شوکالی (۳ع۱۱- ۱۲۵ح ) مھ ب نمی بین بن عمبد اللہ الشوکاٹی ۔ بین کے مجچندفقں, منصب ققا پہ
فائر ے۔ فقہ بوال روز در وضوومات بر۷ سے زان نصاغف ہیں جن میں ہل الاوطار
من اسرانعحی الاخبار اور قد بہت ش پور ہیں۔
(ص)
۵- صاغ: (م ما بعد ٣۴ ٤٤ھ) (ی نکیسان المدلیٰ) تابقیء حخرت این عڑ سے روای تکی۔ نفرت عمر
بن عبدالزیز کے ہچوں کے اجالیقی اور این جن ءسعھمراورامام ماک کے اتاد تے۔
۹٦ ۔ عفوان ین امی: (م ٣٤ھ ) صوالی رسول, غزوء نین کے بعد اسلام تو لکیا۔
ے۵2- صفیہ نت گی بن اخطب: (م۵۰ھ)م المؤنیشن۔ غزوۂ خر کے بعد رسول اللہ چٹ ھکی زوحیت
یس میں۔
(ض)
۸- فمم وبن جندٹأ: صلی رسول۔ا نکا نامع سوا خگاروں نے ضر وم نمردالخزائی بیا نکیا غیت
۳۴۰٣ اشاریه شخصیات
(ط)
۹- اوس ی نکیسان الخولای: (م ۱۰۵ھ ) ای امام زہرئی کے استاد
٭۷۰- طرا ی (۰-۷۰+سے) ااوالقام سلٔمان بن ات بن الپ نکی النائی۔م ہوریرث-
آ پک یکاپ المعجم الصغی رش پور ے_
۷۱۔ طبری: (۴۷۴۔۱۰سی) ال وشتف رین جرب من بزید لطر یمورںغ فص امامء مد منصب تق ا کی
پگ شک یگئی ہم رتو لنمی ںکیا۔ جا میں1 پک کاب اخبار ال واملوک (جارں طبری) اور
تی می جائع المیا نعگن ماوی لآ یی النقرآن (تقی رطری ) دوفو ںکوخیرمعموی شبرت عصل ہوئی-
۷۲۔ طیاوی ٣-۲۳۹( ۳ھ ) ابوشتفراجھ بین شر ین ساس ین سلرت الازدگی۔ مصر کےمشہو رض ی فتیہ۔
پکی تصائیف میں شر معالی الا ر, مکل الآخارہکاب الطفعۃ اور بین النۃ شور ہیں-
۳۴ ظلی بن عبی الڈڑ: (م ۳۷ھ ) صوالی رسول شر ہمشرہ میں سے تھے جنکعل میں جشبید ہوۓ۔
۶۴- شی (م ۳٤ےھ) شرف الین نین ھ بن عد الیل حد یرت تفہ او لم ان کے اہ شر
کمشاف: شرع مقکوۃ الصائعء الفلافۃ ادرمح فۃ لی ٹآ پک مشبورتصانف ہیں-
(0
۵ عاھرین مالک ہنتف رالعامری انال ی۔ طاعب الانۂ کے انقب سےمشہور تھے صرف خلیفہ بن خیاط
نے ا ن کا شارسحابہ می لکیا ہے۔ بقیہقام اصحاب سیرکے نویک ا نکا قول اسلام غاب ت نیل وپ
۷- عائٹڑ نت ا بر ضر (مے۵ھ )ام اون
ے۷ا۔ عبادہ بن صامت: ل(م ٣٤ھ ) صحالی رسولیء ہبیعت عقبہ ٹیس شیک تے۔
۸ عاس ین عبدلمطلبے: (م ۳٣ ) صحالی رسولہں حضرت نال کے پیا
۹۔- عبرالگنی بن ابویکڑ: (م ۵۳ ) صعالی رسولء ام الین حضرت عائشہ کے بھائی-
٭ےا۔ عبد انی ین عوف: (م۱ ۳ھ ) صالی رسول شر ہمشرہ بیس سے تے۔
اےا- عبد الرزاق: (۲۱۳-۱۴۷-) اکر بن جام بن نان نیری اصنعای۔ تق عافظ عدیث۔ آ پگ
کتا بل مصتف' مشہورے_
ىےا۔ عبد ال جن ای زکریا: (م۱۶ھ) الو گی افزاگی الشابی۔فقماء شی میں سے تھے مج بن سحد
نآ پ کا ارتا مین شام کےتیسرے مق میس کیاے۔
ےا عبد الد بن روا ح(م۸-) صعالی رسولہ انصار کے فمیلہ زرنجخ سے تلق تھا۔ شاعررسول۔ غزدة
مو شہادت پل
٠کےا- عیاش بجع زیلام ے-“ ) صحالی رول-
اشاریه شخصیات ۰۵
۵ کےا عبد الد ب نیک بن حیف الانصاری: حا ول-
ےا عبد اللہ جن عبا سح (م ۸٦ھ ) صحالی رسول ٥ حر الامۃ-
ے ٤ےا عبد ال بن گر (م ےھ ) صحالی رسولء ضر تعمرجن لخظا ب٣ کے صاحب زارے۔
۸ےا عبد ال جن عمرد بن العاضٔ: (م ٤٤ھ ) صحا ی رولں۔ہہں حرت اللہ سےنشزرت سے احادیث
و
۹ا- برا بن مردان: مخ جابقیءحضرت ار کفار
٭۰-۔ عبد اود بین مستوڈ:(م۲ ٣ نیل انقد رما ی۔صاحب مس 0 -
۸۱۔ عبراثر ین مل امرب (م ۹۰ھ ) صعالی رسولء بیعت رضوان یس شریک تھے۔
۲۴- عبیدہ ین عرد السدالی: (م٤2-“) ابھی۔ من ش کہ کے زائے میں اعلام قو لکیاہ لین
یل ال کی کا دیدار نہکر گے حر تک راردق کے زہانے نع دید فثر تکیا۔ فقہ وحدمٹ
یں ہار تتھی۔ تضاء یں قاضی شرع کے ہم پلہ تے۔
۳۔- عثان بن عفالع: (م ۵ ۳ھ ) صھالی رسولء خلیف<م-
۳۴۔ عثان عق: (م ۱۳ث ) مین صسلم ابوعمروامبصرىی الخقیہ ابھی۔حضرت لئ سے روای تکی۔شم
اور کے استاد تے_۔
۵۔- عخان بن او الع ای : (م۵۱۷ھ) صعالی رسولیء سنہ ٭ اھ یس وف یف کے ساتھ غدمت وی
میس حاض ہوک اسلا قبو لکیا تھا تضور نے طاان فکا عائل بنا تھا
۹۔ عز الین مین سلام:(ے۹۰-۵٦-) عبد الھزی: بین عبد السلام بین الی القاہمم بن ھن سی
اتی مشبور شی فقیہ مھ میں عبدۂ تضا یر فائ رہے۔ عو قرآ نیہ فقہ و فدٹی اور توف میں
متحددصانیف ہیںء جن می تواعد لاح کام اور الاشارۃ ال الا ییاز پٴ مھ انواغ اھجاز اہم ہیں۔
۸2 - عطا بن ال ربا: ڑے ۱۴-۲-ھ) عطا بن اسلم بن مفوان۔ فتباء جاتشن میں شار ہوتا ہے۔
رات صحابہ: ائن عبا کم ء الد ہر اود الو سی سے اعادیث ددای تک ہیں-
۸- علیہ ب نتیس -۱۳۱٣( )ا الرین مز یوئ۔ تالی ہم قراّت کے ماہ۔
۹۔ عق بین عام انی : (م ۵۸ھ ) صحالی رسول ۔حضرت معاو نے مع کامگورنر بنایا تھا
0۰ گرم بن الج بن ہشام ین امفیر انی ازوی: ابی صول:ثن کہ کے بعد اسلام ول
کیا۔ مک یاجناد بن جس شہادت پل
8۹۱۔ حکرمہ: (۱۰۵-۴۵ج) ابوعبد الڈتکرمہ ینعمب ایند ال برکی الد لی ۔ححخرت این عبا کے رادکردہ
لام ازفا لز کہ کے فتماء جا تین میں ار ہوتا سے تفیراورمفازق میں مہارت رک تھے۔
۹۴۔ علق بن تں: (م ۳٢ے) وش بن عحبد اہین مان کی اد ای۔ تابھی۔ فقہع اق۔ دام مالک
ں۳ اشاریه شخصیات
ئے الع سے روای تگا ہے۔ععہ وی مل ولات پل شرف مابیت ہے بر ور لد ہو ئے۔
۴۳۔ تی بین الی الب : (م ۴۰ح ) صعالی رسولں۔خلیفہ چھاہم
۴۳۔-۔ لی بن زید بن جدعان (م۱۳۹ھ) حخرت الس ین مالک سے روای تکی۔ یش تز حدشین نے
ضف ار یۓ تراردیاے-
۵۔- عارہ بن زاذان: لصید لاٰیٰ: ابوسلمہ امبصربی۔ حضرت الہ عبت المزانی اورحول وظیبرہ سے
رایت گا الوداؤَدہ ت نکی اور این ماجہ نے انا ےق اعادیث روای کی ون :ین متحرر
حرشین ے میں ضیف اورناقائٹل اتفاع آراردیاے۔
۷۔ تین انطاب: (م ٣٣ھ ) صلی رسول, غلفیدم-
ے۹ عمرین عبد العزیز: (م۱۰۱ھ )مشبور اموی غلیفہ گج لوگوں نے پانچواں خلیف راشدقرار دیا ہس
ری اور اکر ایام نے اع سے روای تک ون
۸- عمران ی ن تع اف ائی : (م ۵۳ھ ) صھالی رسول۔-
۹-۔ عمرو ین امفع ری: (م ۵۵ تر ببا) صعالی رسول شباعت میں مشہور تے_
٤۰٠۔ عمرد بن شرنئیل : (لہمد ای الکوئی) تا بھی حضرت مزر یفن حضرت این مسحوڈ حضرت کل او رحضرت
عمرین نطاب دغمبرہ سے روای تکیا۔ عبید الد بن زیاد کے عہد دلایت مل وفات الی۔
٢۲۔ عرو بن شعیب: (م۱۱۸-ھ) الو ابرائیم عمرو بن شعیب مین ر ا" الفرتی۔ تا بھی۔ اپے اپ
شیب اور ائن سیب او طاوِ دشیرہ سے احادیث روای تکیا یں اور ان سے تہ راہ اب
تر اورعطا دنہ نے روای تک نات
-٠٢ عمرد بن عینت ھی : صعالی رسولء حر تی کے عہرخلافت مل وفات الی۔
۳ ۔- عمرد جن میمون: (م ٤ےھ“ )کوفہ ک ےکمارتائتان بیس سے ہیں۔ چاہلی تکا زمائہ ایا می مپپٹکی
نگ میس اسلام قجو لکیاء من شرف مامیت سے بجر ور نہ ہو گے نخرت عم جن اقطابہ معاز
ن ا اؤزائین سو ڈوف وسے اح از رغای ت کنل -
۳۴٣۔ عییمر بن وہ بنے: صحالی رسولء غزدہ بدر کے بعد اسلام قو لکیا-۔
۵'۵۔ عون مین عبد الڈ: (م ۵اا تقر بآ جن عقبہ جن مسحود الہ ی۔ خطابتہ شاعریی اورعم الا ساب ٹں
شمرتکھی حر عمربن عبداعزیز کے قری رفقاء میس تے۔
٢٠۔ عویاض: (ے ۴۔۴ ۵۴ی) ابو أفحضل عیاش بین موی بین عیاش بن عرون ضی آی۔پے
عہد کےمشہورمحرثءعربوں کےکلامء انساب او ایام عرب کے عالمء سیب خرن طہ بیس منصب
قفا بر فائز رے۔ الشذاء تع ریف حقوق امصضفیٰ, مشارق الانوار اور الال ما ای محرقۃ اصول الرولی: و
اشاریه شخصیات ے٣۳
ے٢ عیائص من مار - الیاٹی :سال ی ہول۔
۸۔ عواض ی تفم ل(م ٣٣ھ ) صعالی سول ا عدییب نل الام قو لکیا۔
٥۹ مپنی: (۹۴ے-۔۸۵۵-) بدد الدی نود بن اتد بن موکیا بن اھد۔ مورخغ محرث ضف ی فقہہ قاہرہ
میں قضاء اور گُرغرون پیر فا رہے۔آخ عم ر میں جرٹ وھزیںی میں ریف ہوجئے تھے۔
حدۃ القای شر الفاریء لیت پی شر الہدمی:ء رز اکن شر حکنز الک آ پکی لس
مشبورتصانف ہیں۔
(ف)
٢۱٣۔ اط ں بت مھ پچ : (مااھ) رسول اللہ پچ کی صاحب زادئی حضرت ٹ٦ کی زوج۔
ا۱-۔ فطالہ من عیل: (م ۵۳ھ) صحا ی رسولء انا رکے قیلہ ایل نی تھا۔ بعت رخضوان
شیک تھ۔
(ق)
۲٣۔ تقو : (ا۱۱۸-۷ھ) الو نطاب جن دعامۃ بن قادة جن ۶ز الددی ابصر بی لیل اتقددجاىی۔
تیر عدیث,لفت اور انماب کےایام۔
۳-۔ ترطی: (م2۱٤“) ابوعبد اللہ بن ال یجکر بن فرح الانصاری اخزرگی الاندری۔ قرطہہ کے
رئے والے تھے مص میں سرت انقیاریء بڑے عابد و زابر تھے ۔آ پک انتفیر ایا لاضام
القرآان (تضی رقرٹھی )کو خی “موی شبرت عاصل ہوئی-
۳۴۔ خی بن سعڑ: (م ۷۰ھ ) صعالی ولیہ انصار کے قیل رج سےیتعلق تد
(م)
۵۔ مار یقعلیڈ* (م۱۹۷ھ) مق شاو مرن ہں حضرت کی خدمت مس جیا تھا۔ انی سے
ور کے صاحب زادے ابرائیم پییرا ہوئۓ-
-٦ الین أن: (۹-۹۵٤۱ح) الوگپر ال الک بن لن جن مالک لی یں ام دارال ر5
فقہ ماگ کے بای ا ارجعہ میس سے تھے زہرکیء گا بن سعیدہ نافع مھ بین سد رہ ہشام
عروہ اور رہہ بن ال عبد این وغیرہ سےعلم حاص لکیا۔ امام شافثی کے استادہ موطا آ پک
مورتھیف ے۔
ےا۲- اوردمی: ۵۰-١۷۴( ۴ھ )الد اس نکی بن مھ بن حبیب۔ اپنے عبیدر کےنشبورقاشی, شای قب
عبای خلیفہقائم بامرائند نے پکوقاصی القعناۃ ہنا دیا تھا ۔آ پک تصانف جم اوب الدنیا
والینہ الاحکام اسلطامیدہ لنکت والحد ن (تقی رالماوردیی) اور اعلام الضو قےمشہور ہیں_
۳۴۱۸
۸-۔-
-٥۹
۴۴۰۶۔-
-۲٢۱
-٣٣
سر
-۳٣
-۷٥۵ص
-۲
ے۲ل
-۸
-۹٤۹
ومے
اشاریه شخصیات
الد: (م ٣۴٠۱ھ) بن سعیر بی نگیر بن اسطام اعد ای الکوئی_ عامشی ے روای تگی۔
رشن نے میں ضی فتراریاے۔
عابر: (م١٠۱ھ) ابو احجاج بین جب رامگی۔ تا بی ۔حضرت عبد الشد بن السا ب مخزدئی ےآ را کردہ
غلام رت عبد اللہ بن عپا کے شاگرد .لم قرات ونقی کے ایام کہ کے فقہاۓ تاین
میں شار ہوتا ہو
- بن جن شدبالی: (۱۸۹-۱۳۱ھ) ال وگپر اللہ ایام الوعلیقہ اور امام مالک کے شاگرہ وی
کے ایآ بڈے اام۔ پارون 2 کے عپ میں منصب قضاء پر فائت رہے۔ فقہ و اصول فقہ مل
متحد ہکنابی ںتصنی فکیس جوفۃیتل یکی اساس ہہ ان میں جا حکیرہ جائع صف رءکتتاب الآخارء
کتاب السیر اور الموطامشپور ہیں-
مج بن حنفی.: (۸۱-۴۱-ھ) الو القائم جم من لی بن ای طااب ا شی الفرشی۔ حا می, حضرت کل
بن ا ی طااب کےصاحب زادے۔صاحبم نل حیاعت میں مضبور تے_
ری نکع برگی: :(۸م) جالچی۔ متتدددسحابہ سے اعادیٹ رواب تکیل_
مور شاکر: ( ے۳۲ -۱۸٢۱ھ) مشہو رص ری عام مر وی آ پاب 4 ۹۰۷۰۲
٣ھ میں می ش, تمل اپارڈ برایۓ اب۶ لی نے اقم مفدائ یفن
کی سے جن می خی طبر یکوزیاددشی رت گی۔
مرو جال (م۷ےب) بن شراقیل لک کون مضجورالچی ۔حضرت عذیفہ ین الیم انز
2 ء این مسموڈاور در متح دوسا کرام فا تاد
منی: (۵ے۱- ۴۷۴ھ ) او ابراقیم اسمائیل بین مک بین اسائیل مص رھی۔ امام شانتی کے شا 7
ف شافتی کےامام۔ الام ا یہ لپائع اصغرء أفترء انیب نی اع مآ پک مو رنایں ہیں۔
مم بن یاع: (۲۷۳-۳۲۰۳ھ) اتٹری انی پوسی۔م پور محرث, حا س مس بٹارلی
کے بعدآ پک ی تا بکا شار ہوتا ہے
مصحب بی نگحیر: (م ۳ی ) صعالی رسول۔ بعت عقبہ کے بع رحضور نے ائل مین یل ذگوت و
23 گے ےھچا تھا۔ غزوۂ اعد جن شارت لی
معاو یجن الی سفیان: (م٠٤-) صحالی رسول اتب وتیا۔-
مصعمربن راشد: (۱۵۳-۹۵-) ابوعردومصعمر ین راشمد بن الی مر لا زدیی العدانی۔ فقہ: حافظ
حریث۔ لعصرہ کے رب والے تھے ھن میں سکونت انققیا کی سن می ںآ پکی تاب ا ئن
کوشبرت ع۔اصل ے-
مقائل من سمان: (م۰٥۱ھ) او سن مقائتل ین سلیمان بن شی رلوزری فی رمشپورمضر
اشاریه شخصیات 819
-۳٣۲
۲۳۳
-۳۴
-۵
-٣
ےك۲۳-۔
-٢۸
-۳۹
-۰٥+
منروک الیریٹ عمق وق رت پآ پکی متعددکتائیں ہیں۔
مقدام بن محر ن: (م ے۸ ) صلی رسول ۔وں حضرت حپيلکی خدمت میں حاضر ہونے
وانے فیپ ینہ ہے وفد میں شال جے۔
ھول: (م ۱۳ھ ) ابو عبد الد بن ال مس لم شراب بن شاذل الہ کی۔ تالیء فقیہ ظامء عافظ
حدیث۔طلب عدیت می ںلل فعمال ککا سف کیا ۔1آخ می وش میں سکونت افخقیاری-
مناویی: (۱-۹۵۳ ۱۰۳ ) جح رعبد الروف بن جا العارشن ۔متلف علوم وفنون میں تقر تی
کی ںتصنی فگیں_ ان میں حدیث می سکنوز اتکی فی القدبرشرح الیائ اصخر اتسیر
ار شرع شال ت ری شر تک عائل ہیں۔
موی بن عقبہ: (ما ۱۳ھ ) الوشحہ موی بن عقبہ جن الی عیاش الاسدگی۔ مشہور سیرت نڈگارہ محدث٠
لت ماہ جم وتحدیلی۔ مغازی پآ پک یکتاب شہور ےکن رتا ب نہیں ے۔
بلب بن ای عفر:: (ے- ۸۳ھ ) الو سیر الازدی اض بین بصصرہ کے طبقہ اول میں شار
بنا ے۔خارح کے خلا فجگوں یس شیک رے حطر تکح رہ اورتخرت ا ن گر سے رواہت
گی۔
میمون بن مبران: (ے ۳ ا۱ھ ) ابد الوب ۔کوفہ ٹس پرورش پائی۔ بڑے عباد تگزارہ حدمٹ
میں ڈیہ اور فقہ میں مشہور تھے حطرت عمربن عبد الحزیز کے ٹٹے کے االیقی تھے منصب قضاء
بنا اي
(ن)
.-١ (۹۹-۴۷-) ابوگمران ابرائیم ین یز بک تی بن الاسود ۔کپارجا تین میں سے تے۔
نائی: (م ۳ہ مھ ) ابوعبد این ات ہل نمی بن شعیب ب نمی بن سنان بن بن دینارمشہور
محرثہ الو القاً ام طرالی اور ابوشچنف رطماوی کے اتاد ۔آپ کیب سن المائی کا صحاج سر
میں ار رتا ے۔
نووی: )“٤2۹-۷۳۱( الو زکریا گی الدین كْٗ بن شرف ین عربی بن تن الفرائی الشافی_
فی محرٹ۔ حدیث یل ریا اصالن اور الا ذکا رآ پک مضشبو رکنائیں ہیں ۔آ پک شرب
مسل مکو خی موی شبرت حصل ہوئی-
رو(
وانکرئی: (٭ ۳ ے۰ ٣-ھ) ا وید الڈ رج من عمربن وانْدگی 1ی ااٗی۔ترم تین اور شہورترین
صودرسٔ اسلام٠ حافظ حدیثہ پارون رشید کے زمانے میں بفدار میں منصبِ فا پر فان رے۔
۳۴۲۰٤
-٢۱
-۴۴۴۳
-٣۳٣
فزیرا۔
-۵٥۵
۱۔-
ہئس۔
اشاریه شخصیات
جا یرت برمتحد دکنائی تھی گی جن ین کاپ رفا زی یکوخ ا طور پرشمرتکگی۔
وید بن عبد اللد: (م ٤ے۱ح) بن الپی ٹور ہمد ای الھرزچی ۔کوفہ کے رب وانے تھ۔ مح رشن
نے آمجیں ضیف اور نا قائل احقاح آراردیاے۔
(م()
ہدک ای ن: (۲۹9۸-۲۲۷۰ھ) گّٰ بن ین بن القائم بی رای این _ ھن ین
فرقوزیدیہ کے ائمہ یں شا ہوتا ہے تحد ہکنائی ںتعی فلیں_
ہشام مین عروو: (۱۳۷-۷۱ج) الو الممیز رشام بن عردہ بن الفرپی رن العوام لی الاہدگی۔ م۸ یھ
کے اجلی تا ین میں ار ہہوتا ہے۔ رت عپ الد بن زی حضرت ابع گر وغیرہ ے روایت
گا۔ ان سے روای تکرنے والوں می امام ما لیکو ری این عیغیرو شی حفصیات ہیں-
ری)
کی بن سلام: (۳۱۴۴٣٣۴ھ) ین الیل نی لبعری ۔مفسر: فی حرثہ ماہراخت ۔تقریا
میں مالتان ے روی تکی ہے۔ ملف علوم وتون مس آ پک تصاف ہیں جن م تیر
7 نء اخنیارات 1 الفقہ اور الا خکوشبرتٹی-
۳ بین شچھر: (م۹٣۱ھ) ایوسلیمان ااؤقی اکعددائی۔ تالہی۔ حدریثہ فقہ اورلقت کے باہر۔ مر
کے ہی رہے وش ااوالا سد الد یٰ ےچیازرسں سے پ لصف پر لاے۔
زید بن الی سفیان: (م۱۹ھ) صوالی رسول٤حضرت معاوی کے بھائی کہ کے موتع پہاسلام
تقو لکیا۔
یتقوب مین عتب: (م۱۴۸-) ین یرہ بن انس ۔ تاھی۔ حضرت ابان ین خفانء سلیمان مین
ص0 جج یرہ نے روا گی اباب بر نے ان کا ار اٹ زی کے چو سے 22
مج سکیاے۔
۶08